🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. ذِكْرُ نَبِيِّ اللهِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَمَا آتَاهُ اللهُ مِنَ الْمُلْكِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
اللہ کے نبی حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام کا ذکر اور وہ سلطنت جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب إملاءً بانتِقاء أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا حسين بن زيد بن علي، حدثني شِهاب بن عبدِ ربِّه، عن عمر بن علي بن حسين، قال: مَشَيتُ مع عمي محمد بن علي بن الحسين (2) فقلتُ: زَعَمَ الناسُ أنَّ سليمان بن داود سألَ ربَّه أن يَهَبَ له مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ مِن بعده، وأَنْهى العِشْرين، فقال: ما أَدري ما أحاديثُ الناس، ولكن حدثني أبي عليُّ بن الحسين، عن أبيه، عن علي، عن النبي ﷺ، قال:"لن (3) يُعمِّرَ اللهُ مَلِكًا في أُمّةِ نبيٍّ مضى قبلَه ما بَلَغَ ذلك النبيُّ من العُمُر في أمّتِه" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے چچا محمد بن علی بن حسین کے ہمراہ سیدنا جعفر کے پاس گیا، میں نے ان سے کہا: لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہی مانگی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے اور بے شک وہ 20 ہیں۔ آپ نے کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ تاہم میرے والد علی بن حسین نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ان کی امت میں اتنی لمبی حکومت کسی نے نہیں کی، جتنی لمبی حکومت اس نبی نے اپنی امت میں کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4182]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4183
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا أبو يحيى زكريا بن داود، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المُحاربي، عن أشعثَ، عن أبي إسحاق، عن مُرّة، عن ابن مسعود، في قوله ﷿:? ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [الأنبياء: 78] ، قال: كَرْمٌ قد أَنبتَتْ عناقيدُه فأفسدَتْه، قال: فقضى داودُ بالغنم لصاحب الكَرْم، فقال سليمان: غيرُ هذا يا نبيَّ الله؟ قال: وما ذاك؟ قال: تدفعُ الكَرْمَ إلى صاحب الغَنَم، فيقومُ عليه حتى يعودَ كما كان، وتدفَعُ الغنمَ إلى صاحبِ الكَرْم فيُصيب منها، حتى إذا كان الكرمُ كما كان، دفعتَ الكَرْمَ إلى صاحبِه، ودفعتَ الغنمَ إلى صاحبِها، قال الله ﷿: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4138 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ (الانبیاء: 78) اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے کے بارے میں فرماتے ہیں: ایک انگوروں کی بیل تھی جس پر گچھے آ چکے تھے۔ اس کو بکریوں نے خراب کر ڈالا۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ یہ بکریاں انگوروں کی بیل کے مالک کے حوالے کر دی جائیں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ اس فیصلے پر نظرثانی فرمائیں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیا فیصلہ کیا جائے؟ آپ نے فرمایا: انگور کی بیل بکریوں کے مالک کے حوالے کر دیں تاآنکہ دوبارہ برآور ہو جائیں اور اس وقت تک بکریاں انگور کے مالک کے حوالے کر دیں۔ جب انگور کی بیل دوبارہ اسی حالت پر آ جائے گی جس پر تھی تو بکریاں، بکریوں کے مالک کو دے دی جائیں اور انگور کی بیل اس کے مالک کو دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ وَ کُلًّا ٰاتَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا (الانبیاء: 79) ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4183]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. تَسْخِيرُ سُلَيْمَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - الْإِنْسَ وَالْجِنَّ وَالْوُحُوشَ وَغَيْرَهَا
حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے انسانوں، جنوں، درندوں اور دیگر مخلوقات کو مسخر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4184
أخبرنا أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا الحسين بن علي السُّلَمي، حدثني محمد بن حسّان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: أُعطيَ سليمانُ بن داود مُلكَ مَشارِقِ الأرض ومغارِبِها، فمَلَكَ سليمانُ بن داود سبعَ مئة سنة وستةَ أشهر، مَلَكَ أهلَ الدنيا كلَّهم من الجنِّ والإنسِ والشياطينِ والدوابِّ والطيرِ والسِّباع، وأُعطيَ عِلْمَ كلِّ شيءٍ ومَنْطِقَ كلِّ شيء، وفي زمانه صُنِعَت الصنائعُ المُعجِبةُ التي سمعَ بها الناس، وسُخِّرتْ له، فلم يزل يُدبِّر أمرَ اللهِ ونُورَه وحِكمتَه، حتى إذا أراد اللهُ أن يَقبضَه أوحى إليه: أنِ استودِعْ علمَ اللهِ وحِكْمتَه أخاه وولدَ داود، وكانوا أربعَ مئة وثمانين رجلًا أنبياءَ بلا رسالةٍ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4139 - هذا باطل
سیدنا جعفر بن محمد کا بیان ہے کہ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو زمین کے مشارق اور مغارب کی حکومت دی گئی تھی۔ چنانچہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے جنات، انسان، شیاطین، جانوروں، پرندوں اور درندوں تمام دنیا پر سات سو سال اور چھ مہینے حکومت کی۔ آپ کو ہر چیز کا علم دیا گیا تھا اور ہر چیز کی بولی سکھائی گئی تھی۔ آپ کے زمانے میں بڑی عجیب و غریب ایجادات ہوئیں، جن کے متعلق انسان نے کبھی سنا تک نہ تھا اور تمام چیزیں آپ کے زیرنگین تھیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے نور اور حکمت کے ساتھ حکومت کی تدبیر فرماتے رہے حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ کیا تو ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ اپنا علم و حکمت اپنے بھائی اور داؤد علیہ السلام کے بیٹے کے سپرد کر دیں۔ چنانچہ ان میں 480 افراد ایسے ہیں جن کو رسالت نہیں ملی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4184]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن الشَّعْبي، قال: أرَّخَ بنو إسحاق من مَبعَثِ موسى إلى مُلك سليمان بن داود، قال: ووَرِثَ سليمانُ داودَ، قال: أحدَثَ إليه النبوةَ وسأله أن يَهَبَ له مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ من بعدِه، فسَخَّر له الجنَّ والإنسَ والطيرَ والريح (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4140 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امام شعبی کہتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کی حکومت تک بنو اسحاق نے تاریخ رقم کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ (النمل: 16) اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا۔ آپ فرماتے ہیں: ان کو نبوت و رسالت کے ہمراہ ایسی حکومت ملی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہیں ملی۔ چنانچہ ان کے لئے جنات، انسان، پرندے اور ہوائیں مسخر کر دی گئی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4185]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4186
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثني حجّاج، عن أبي مَعْشَر، عن محمد بن كعب، قال: بَلَغَنا أنَّ سليمان بن داود كان عسكَرُه مئة فَرْسَخٍ: خمسة وعشرون منها للإنس، وخمسة وعشرون للجِنّ، وخمسة وعشرون للوَحْش، وخمسة وعشرون للطَّير، وكان له ألفُ بيتٍ من قَواريرَ على الخَشَبِ، فيها ثلاث مئةِ صَرِيحةٍ، وسبع مئةِ سُرِّيّة، فأَمر الريحَ العاصِفَ فرفَعَتْه، فأَمر الريحَ فسارتْ به، فأوحى اللهُ إليه وهو يسير بين السماء والأرض: إني قد زِدْتُ في مُلكِكَ أنه لا يَتكلَّمُ أحدٌ من الخلائق بشيءٍ إلّا جاءت الريحُ فأخبرتْكَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4141 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کا لشکر ایک سو فرسخ تک پھیلا ہوتا تھا (اور ایک فرسخ آٹھ کلو میٹر کا ہوتا ہے) ان میں سے 25 فرسخ انسانوں کے لیے، 25 جنات کے لیے، 25 درندوں کے لئے اور 25 فرسخ پرندوں کے لئے تھا۔ آپ کے لکڑی پر شیشے کے ایک ہزار محل تھے۔ ان میں سے تین سو ظاہر تھے جبکہ 700 چھپے ہوئے تھے۔ پھر آپ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان کو اٹھا لیا، پھر ہوا کو حکم دیا تو وہ اس کو لے کر چل پڑی۔ ایک دفعہ آپ زمین اور آسمان کے درمیان سیر کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی فرمائی۔ میں نے آپ کی حکومت میں یہ اضافہ بھی کر دیا ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی، جو بھی بات کرے گا، ہوا اس کی خبر آپ تک پہنچا دے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4186]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. سَيْرُ سُلَيْمَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْغَدَاةِ الْوَاحِدَةِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ
حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک ہی صبح میں ایک مہینے کی مسافت طے کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4187
حدثنا محمد بن إبراهيم بن الفضل، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا سَلْم بن جُنَادة القرشي، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: كان سليمانُ بن داود يُوضَع له ستُّ مئة كرسي، ثم يَجيءُ أشرافُ الإنس فيَجلِسُون مما يَلِيه، ثم يَجيءُ أشرافُ الجنِّ فيَجلِسُون مما يلي أشرافَ الإنس، ثم يدعو الطيرَ فتُظِلُّهم، ثم يدعو الرِّيحَ فتَحمِلُهم، قال: فيسيرُ في الغَدَاةِ الواحدةِ مسيرةَ شهرٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4142 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لئے 600 کرسیاں رکھی جاتی تھیں پھر سرکردہ انسان آ کر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے سب سے قریبی کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر سرکردہ جنات آتے اور انسانوں سے پیچھے بیٹھتے۔ پھر پرندوں کو بلایا جاتا وہ ان سب پر سایہ کرتے، پھر ہوا کو بلایا جاتا وہ ان سب کو اٹھا لیتی تو یہ لوگ ایک دن میں پورے مہینے کا سفر کر لیتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4187]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. مَلَكَ الْأَرْضَ أَرْبَعَةٌ
زمین پر حکومت کرنے والے چار بادشاہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا إسماعيل بن أبانَ الأزدي، حدثني يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن أبيه، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن عبد الله الوادِعي، قال: سمعت معاويةَ يقول: مَلَكَ الأرضَ أربعةٌ: سليمانُ بنُ داود، وذو القَرْنَين، ورجل من أهل حُلْوان، ورجلٌ آخرُ، فقيل له: الخَضِر؟ فقال: لا (1) . ذكر زكريا بن أدن النبيّ ﵇
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4143 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چار آدمیوں نے پوری روئے زمین پر حکومت کی ہے: (1) سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام۔ (2) ذوالقرنین۔ (3) اہل حلوان کا ایک آدمی۔ (4) ایک اور آدمی ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: (کیا وہ چوتھے آدمی) سیدنا خضر ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ (تفسیر خازن، تفسیر حقی، زادالمسیر اور تفسیر بغوی میں مجاہد کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ ملک الارض اربعۃ مؤمنان و کافران فالمؤمنان سلیمان و ذوالقرنین و الکافران نمرود و بخت نصر چار آدمیوں کو پوری روئے زمین کی حکومت دی گئی تھی ان میں سے دو مومن تھے اور دو کافر۔ مومن سیدنا سلیمان اور ذوالقرنین تھے اور کافر نمرود اور بخت نصر تھے۔ شفیق) [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. ذِكْرُ زَكَرِيَا بْنِ آدَنَ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -
اللہ کے نبی حضرت زکریا بن آدن علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4189
حدثنا محمد بن إسحاق السُّلَمي، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حمّاد القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس. وعن السُّدِّي، عن مُرّة، عن عبد الله، قالوا: كان آخرَ أنبياء بني إسرائيل زكريا بنُ أدن بن مسلم، وكان من ذُرّية يعقوب، قال: ﴿يَرِثُنِي﴾ مُلْكي ﴿وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ النبوةَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے آخری نبی سیدنا زکریا بن آدن بن مسلم علیہ السلام ہیں۔ یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی اولاد امجاد میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: مجھ سے میری حکومت کا وارث ہو اور آل یعقوب علیہ السلام سے نبوت کا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4189]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4190
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"كان زكريا نجارًا" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. ذكر يحيى بن زكريا نبيِّ الله ﵇
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4190]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بِشَارَةُ وِلَادَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی ولادت کی بشارت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4191
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك وأبي صالح، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّةَ الهَمْداني، عن عبد الله، قال: ﴿دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ﴾ [آل عِمران: 38] سرًّا، فقال: ﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ [مريم: 4 - 5] وهم العَصَبة، ﴿وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ يقول: يَرِثُ نبوَّتي ونبوَّة آلِ يعقوب ﴿وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ [مريم: 6] ، وقوله: ﴿هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً﴾ يقول: مباركة: ﴿إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عمران:38] وقال: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ [الأنبياء: 89] ﴿فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ﴾ وهو جبريلُ ﴿وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ﴾ [آل عِمران: 39] ﴿بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 7] لم يُسمَّ قبله أحدٌ يحيى، وقالت الملائكةُ: ﴿أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ يُصَدِّقُ بعيسى ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [آل عِمران:39] ، والحَصُور: الذي لا يُريد النساءَ، فلما سَمِعَ النداءَ جاءه الشيطانُ، فقال له: يا زكريا، إن الصوتَ الذي سمعتَ ليس من الله، إنما هو من الشيطان سَخِرَ بك، ولو كان من الله أوحاهُ إليك كما يُوحي إليك غيرَه من الأمر، فشكَّ مكانَه، وقال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ﴾ يقول: من أين ﴿وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ [آل عِمران: 40] ﴿وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [مريم: 19] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4146 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آ گئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ (قریبی مرد رشتہ دار) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہو اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد، بے شک تو ہی دعا سننے والا۔ اور کہا: اے اللہ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی۔ یہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے، اس وقت سیدنا زکریا علیہ السلام اپنی نماز کی جگہ نماز پڑھ رہے تھے (یہ آواز دی) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحیی علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔ اور فرشتوں نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحیی علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا اور سردار اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا۔ جب آپ نے یہ آواز سنی تو آپ کے پاس شیطان آیا اور بولا: اے زکریا! تم نے جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی۔ تو سیدنا زکریا علیہ السلام کو شک پیدا ہو گیا اور کہنے لگے: میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4191]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں