🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. قِصَّةُ وِلَادَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی ولادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4202
حدثني علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن محمد بن الأزهر، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا علي بن مُسْهِر، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن جابر: أنَّ وَفْد نَجْرانَ أتَوا النبيَّ ﷺ، فقالوا: ما تقولُ في عيسى ابن مَريم؟ فقال:"هو رُوح اللهِ وَكَلِمَتُه وعبدُ الله ورسولُه" قالوا له: هل لك أن نُلاعِنَك أنه ليس كذلك؟ قال:"وذاك أحبُّ إليكم؟" قالوا: نعم، قال:"فإذا شئتُم" فجاء النبيُّ ﷺ وجَمَعَ ولدَه والحسنَ والحُسينَ، فقال رئيسُهم: لا تُلاعِنُوا هذا الرجلَ، فواللهِ لئن لاعَنْتُمُوه لَيُخسَفَنَّ بأحدِ الفريقَين، فجاؤوا، فقالوا: يا أبا القاسم، إنما أرادَ أن يُلاعِنكَ سُفهاؤُنا، وإنَّا نُحِبُّ أن تُعْفِيَنا، قال:"قد أعفَيتُكُم". ثم قال:"إنَّ العذابَ قد أظَلَّ نَجْرانَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4157 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے عرض کیا: آپ عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کی روح، اس کا کلمہ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ انہوں نے آپ سے کہا: کیا آپ کو منظور ہے کہ ہم اس بات پر آپ سے ملاعنہ (مباہلہ) کریں کہ وہ ایسے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہی زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس جب تم چاہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے اپنی اولاد اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو جمع کیا۔ تو ان (نجرانیوں) کے سردار نے کہا: اس شخص سے ملاعنہ مت کرو، اللہ کی قسم! اگر تم نے ان سے ملاعنہ کیا تو دونوں گروہوں میں سے ایک کو ضرور زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ چنانچہ وہ آئے اور کہنے لگے: اے ابوالقاسم! آپ سے ملاعنہ کرنے کا ارادہ تو ہمارے بے وقوفوں نے کیا تھا، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس سے معاف کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً عذاب نجران پر سایہ فگن ہو چکا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن الأزهر، والصحيح أنه عن الشَّعْبي» [ترقيم الرساله 4202] [ترقيم الشركة 4179] [ترقيم العلميه 4157]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن الأزهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. طَعْنُ الشَّيْطَانِ لِكُلِّ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا
ہر انسان کے بچے کو شیطان کا چھونا، سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4203
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله المَدِيني، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن [عبد الله بن] (1) يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"كل وَلَدِ آدمَ الشيطانُ نائلٌ منه تلك الطَّعْنةَ، ولهذا يَستَهِلُّ المولودُ صارخًا، إلّا ما كان من مريمَ بنت عِمران وابنها"، فإنَّ مريم حين وضعتْها - يعني - أمُّها، قالت: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [آل عِمران: 36] فضُرب دونَها الحِجابُ، فطَعَنَ فيه، ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾ [مريم:36] وهَلَكَتْ أمُّها، فضَمّتْها إلى خالتِها أمِّ يحيى (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4158 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بنی آدم کو (پیدائش کے وقت) شیطان وہ کچوکا ضرور لگاتا ہے، اور اسی وجہ سے پیدا ہونے والا بچہ چیختا ہوا روتا ہے، سوائے مریم بنت عمران اور ان کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کے۔ پس جب مریم کی والدہ نے انہیں جنم دیا تو کہا: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ تو ان کے سامنے ایک پردہ حائل کر دیا گیا اور شیطان نے اس پردے پر کچوکا لگایا۔ ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾ [سورة آل عمران: 37] پس ان کے رب نے انہیں حسنِ قبول کے ساتھ منظور فرمایا اور انہیں بہترین انداز میں پروان چڑھایا۔ اور ان کی والدہ وفات پا گئیں تو انہیں ان کی خالہ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ کی کفالت میں دے دیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، ومن قوله: "فإن مريم" إلى آخر الخبر مُدرَج من قول أبي هريرة موقوفًا عليه، كما سيأتي بيانه، وهذا إسناد حسنٌ من أجل عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، فقد روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد تابعه عليه دون ذكر هلكة أم مريم ...» [ترقيم الرساله 4203] [ترقيم الشركة 4180] [ترقيم العلميه 4158]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4204
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبَهاني، حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن مَيْسرة، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"فيأتُون عيسى بالشفاعةِ، فيقول: هل تَعلَمُون أحدًا هو كَلِمةُ اللهِ ورُوحُه، ويُبرئُ الأَكْمَهَ والأبْرصَ ويُحيي الموتَى غَيري؟ فيقولون: لا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4159 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) لوگ سفارش کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے: کیا تم میرے علاوہ کسی اور کو جانتے ہو جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہو، اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو ٹھیک کرتا ہو اور مردوں کو زندہ کرتا ہو؟ لوگ کہیں گے: نہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه خبر شاذٌّ لم نقف عليه مخرَّجًا عند غير المصنف، والمحفوظ في الشفاعة أنَّ الناس يأتون عيسى ﵇ فيقول لهم: إني لست هناكم، ثم يدلُّهم على رسول الله محمد ﷺ فيذهبون إليه، وليس فيه ذكره لهذه المعجزات الدنيوية، هكذا هو في حديث علي بن زيد بن جدعان عن ...» [ترقيم الرساله 4204] [ترقيم الشركة 4181] [ترقيم العلميه 4159]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. ذِكْرُ أَفْضَلِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
دنیا کی افضل ترین عورتوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4205
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا داود بن أبي الفُرات، حدثنا عِلْباء بن أحمرَ، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"أفضلُ نساءِ العالَمين خديجةُ بنتُ خَوَيلِد، وفاطمةُ بنتُ محمدٍ، ومريمُ بنت عِمران، وآسيةُ بنت مُزاحمٍ امرأةُ فِرعَون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4160 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام جہانوں کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4205]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4205] [ترقيم الشركة 4182] [ترقيم العلميه 4160]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4206
حدثنا أبو الطَّيِّب محمد بن محمد الشَّعِيري، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا جَرير بن حازم، حدثنا محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لم يتكلّم في المَهْد إلّا ثلاثةٌ (2) : عيسى ابن مريم، وشاهدُ يوسف، وصاحبُ جُرَيج، وابنُ ماشِطَةِ بنتِ فِرعَون" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4161 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پنگھوڑے (بچپن) میں صرف تین لوگوں نے کلام کیا ہے: عیسیٰ ابن مریم، یوسف علیہ السلام کا گواہ، جریج کا ساتھی (یعنی وہ بچہ جس نے جریج کی بریت کی گواہی دی) اور فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی کا بیٹا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن ذكر شاهد يوسف وابن ماشطة بنت فرعون فيه شاذٌّ، والصحيح ذكر عيسى وصاحب جريج وصبي آخر من بني إسرائيل كان يلتقم ثدي أمه دعا بخلاف ما دَعَتْ به أمُّه، كذلك رواه البخاري (3436) عن مسلم بن إبراهيم، وكذلك رواه وهب بن جَرير بن حازم عند أحمد 13 ...» [ترقيم الرساله 4206] [ترقيم الشركة 4183] [ترقيم العلميه 4161]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. هُبُوطُ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَقَتْلُ الدَّجَّالِ وَإِشَاعَةُ الْإِسْلَامِ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دجال کا قتل اور اسلام کا غلبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4207
أخبرني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الحِيْرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عطاء مولى أم صُبيّة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لَيَهبِطَنّ عيسى ابن مريم حَكَمًا عَدْلًا، وإمامًا مُقسِطًا، ولَيَسلُكنَّ فَجًّا حاجًّا (1) أو مُعتَمِرًا، أو لَيُثنيِّهما، ولَيأتِيَنَّ قَبْري حتى يُسلِّم عَلَيَّ، ولأَرُدَّنَّ عليه". يقول أبو هُريرة: أيْ بَنِي أخي، إن رأيتُمُوه فقولوا: أبو هريرة يُقرِئُك السلامَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
ام صبیہ کے آزاد کردہ غلام عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ ابن مریم ضرور ایک عادل منصف اور انصاف پرور امام بن کر نازل ہوں گے، اور وہ حج یا عمرہ، یا ان دونوں کو ملا کر کرنے کے لیے ضرور کسی راستے سے گزریں گے، اور وہ ضرور میری قبر پر آئیں گے یہاں تک کہ مجھ پر سلام بھیجیں گے اور میں ضرور ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (اپنے بھتیجے سے) فرماتے ہیں: اے میرے بھتیجے! اگر تم ان سے ملو تو کہنا: ابوہریرہ نے آپ کو سلام کہا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق (ترتیب) کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطَّلبي - فيه، لكن تُغتفر عنعنته هنا، فقد تابعه على بعض حديث هذا الليث بن سعد عند أحمد 16/ (10404)، ومسلم (155)، وابن حبان (6816) إلّا أنَّ الليث سمى في روايته التابعيَّ: عطاء بن ميناء، وهذا يؤيد أنَّ عطاء ...» [ترقيم الرساله 4207] [ترقيم الشركة 4184] [ترقيم العلميه 4162]

الحكم على الحديث: إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطَّلبي - فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4208
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة والحسن بن الفضل، قالا: حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا همّام، حدثنا قَتَادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"إنَّ رُوحَ اللهِ عيسى ابنَ مريم نازِلٌ فيكم، فإذا رأيتُمُوه فاعرفُوه: رجلٌ مربُوعٌ إلى الحُمْرة والبَياض، عليه ثَوبانِ مُمَصَّران، كأنَّ رأسَه يَقطُر وإن لم يُصِبْه بَلَلٌ، فيَدُقُّ الصَّليبَ، ويَقتُل الخِنزيرَ، ويَضعُ الجِزيةَ، ويَدعُو الناس إلى الإسلام، فيُهلِكُ اللهُ في زمانِه المسيحَ الدَّجّال، وتقعُ الأمَنَةُ على أهلِ الأرض، حتى تَرْتَعَنَّ (1) الأسُودُ مع الإبِل، والنمُورُ مع البقر، والذئابُ مع الغَنَم، ويَلعبَ الصبيانُ مع الحيَّات، لا تَضرُّهنّ فيَمكُث أربعين سنةً، ثم يُتَوَفَّى ويُصلِّي عليه المُسلِمون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4163 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی روح عیسیٰ ابن مریم تم میں نازل ہونے والے ہیں، پس جب تم انہیں دیکھو تو پہچان لینا: وہ میانہ قد، سرخی و سفیدی مائل رنگت والے مرد ہوں گے، ان پر ہلکے زرد و سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوں گے، ان کا سر ایسا معلوم ہوگا کہ گویا اس سے قطرے ٹپک رہے ہیں حالانکہ اسے تری نہیں پہنچی ہوگی، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے، اللہ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور زمین والوں پر ایسی امن و سلامتی نازل ہوگی کہ شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، وہ زمین پر چالیس سال قیام فرمائیں گے، پھر ان کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لكن نَفَى ابن مَعِين سماع قتادة من عبد الرحمن بن آدم مع أنه محتمل، فإنهما كانا بالبصرة متعاصِرَين.» [ترقيم الرساله 4208] [ترقيم الشركة 4185] [ترقيم العلميه 4163]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. ذِكْرُ عُمْرِ مَرْيَمَ وَعِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی عمروں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4209
حدثنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: تَوفّى اللهُ عيسى ابنَ مريم ثلاثَ ساعاتٍ من نهارٍ حين رفعَه إليه، والنصارى تزعُم أنه تَوفّاه سبعَ ساعاتٍ من النهار ثم أحياهُ، قال وهب: وزعمَتِ النصارى أنَّ مريم وَلَدَتْ عيسى لِمُضيِّ ثلاث مئة سنة وثلاثٍ وستين مِن وقتِ وِلادة الإسكندر، وزعَمُوا أنَّ مَولِدَ يحيى بن زكريا كان قبلَ مَولِد عيسى بستةِ أشهرٍ، وزعَمُوا أنَّ مريم حَمَلَتْ بعيسى ولها ثلاثَ عشرةَ سنةً، وأنَّ عيسى عاش إلى أن رُفع اثنتين وثلاثين سنةً، وأنَّ مريم بقيت بعد رفعِه ستَّ سنين، فكان جميعُ عُمرِها نَيِّفًا وخمسين سنةً، وكان زكريا بن بَرْخِيا أبُ يحيى بن زكريا وعمران (1) بن ماثان [أبو مريم متزوِّجين بأختين، إحداهما عند زكريا، وهي أم يحيى، والأخرى منهما عند عمران بن ماثان، وهي أم مريم، فمات عمران بن ماثان] (2) وأمُّ مريم حاملٌ بمريم، فلما وَلَدَت مريمَ كَفَلَها زكريا بعد موتِ أُمِّها، لأنَّ خالتَها أختَ أمِّها كانت عندَه، واسمُ أم مريم حَنَّة بنت فاقود بن قبيل (3) . قال الحاكم: قد اختلفت الروايات في عدد المُرسَلين من الأنبياء وسائر الأنبياء، والذي أدّى إليه الاجتهادُ من لَدُنْ آدمَ إلى أن بَعَثَ اللهُ نبيَّنا المصطفى ﷺ فقد ذَكَرتُهم. وقد ذكر المُرسَلين منهم وهبُ بن مُنبِّه في الحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4164 - عبد المنعم بن إدريس ساقط
وہب بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھایا تو انہیں دن کے تین گھنٹوں کے لیے وفات دی، جبکہ نصاریٰ کا یہ گمان ہے کہ اللہ نے انہیں دن کے سات گھنٹے وفات دی اور پھر انہیں زندہ کر دیا، وہب کہتے ہیں: نصاریٰ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو سکندر کی پیدائش کے تین سو تریسٹھ سال گزرنے پر جنم دیا، اور ان کا گمان ہے کہ یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی پیدائش عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوئی، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جب مریم علیہا السلام عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حاملہ ہوئیں تو ان کی عمر تیرہ سال تھی، اور عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے تک بتیس سال زندہ رہے، اور مریم علیہا السلام ان کے اٹھائے جانے کے بعد چھ سال تک زندہ رہیں، اس طرح ان کی کل عمر پچاس سال سے کچھ زیادہ تھی، اور یحییٰ علیہ السلام کے والد زکریا بن برخیا اور مریم علیہا السلام کے والد عمران بن ماثان نے دو بہنوں سے نکاح کیا ہوا تھا، ایک زکریا علیہ السلام کے پاس تھیں جو یحییٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں اور دوسری عمران بن ماثان کے پاس تھیں جو مریم علیہا السلام کی والدہ ہیں، عمران بن ماثان کا انتقال اس وقت ہوا جب مریم علیہا السلام کی والدہ ان کے ساتھ حاملہ تھیں، پس جب مریم علیہا السلام پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ کی وفات کے بعد زکریا علیہ السلام نے ان کی کفالت کی کیونکہ ان کی خالہ (ان کی والدہ کی بہن) ان کے نکاح میں تھیں، اور مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام حنہ بنت فاقود بن قبیل تھا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: رسولوں اور دیگر تمام انبیاء کی تعداد کے بارے میں روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک جن انبیاء کے بارے میں اجتہاد نے رہنمائی کی ان کا تذکرہ میں نے کر دیا ہے، اور ان میں سے رسولوں کا ذکر وہب بن منبہ نے اس حدیث میں کیا ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في عدة مواضع من "تلخيصه"، وذلك لأجل عبد المنعم بن إدريس، فهو ساقط كما قال الذهبي.» [ترقيم الرساله 4209] [ترقيم الشركة 4186] [ترقيم العلميه 4164]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في عدة مواضع من "تلخيصه"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. ذِكْرُ حِرَفِ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ -
انبیاء علیہم السلام کے پیشوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4210
حدَّثَناه الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، عن عبد الله بن عبّاس: أنه قال لرجلٍ جالسٍ عندَه وهو يُحدَّث أصحابه: ادْنُ منّي، فقال له الرجلُ: أبقاك اللهُ، والله ما أُحسِنُ أن أسألك كما سأل هؤلاء، فقال: ادْنُ منّي فأُحدّثَك عن الأنبياء المذكورين في كتاب الله، أُحدِّثُك عن آدمَ أنه كان عبدًا حَرّاثًا، وأحدِّثُك عن نوح أنه كان عبدًا نجّارًا، وأحدِّثُك عن إدريس أنه كان عبدًا خَيّاطًا، وأحدِّثُك عن داود أنه كان عبدًا زَرّادًا، وأحدّثُك عن موسى أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن إبراهيم أنه كان عبدًا زَرّاعًا، عظيمَ الضِّيافة، يُؤثِرُ المساكين على نفسه، ويَجبُرهم في ماله، وأحدِّثُك عن شعيب أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن لوط أنه كان عبدًا زَرّاعًا، وأحدِّثُك عن صالح أنه كان عبدًا، تاجِرًا، وأحدِّثُك عن سليمان أنه كان عبدًا آتاه الله المُلكَ وكان يَصومُ في أول الشهر ستةَ أيام، وفي وسطِه ثلاثةَ أيام، وفي آخره ثلاثةَ أيام، وكانت له تسعُ مئة سُرِّيّة، وثلاثُ مئة مَهْرِيّة (1) ، وأحدِّثُك عن ابن العَذْراء البَتُول عيسى ابن مريم أنه كان لا يَخبَأُ شيئًا لِغَدٍ، ويقول: الذي غَدَّاني سوف يُعشِّيني، والذي عَشَّاني سوف يُغدِّيني، يَعبُدُ الله ليلتَه كلَّها، يُصلِّي حتى تَطلُعَ الشمسُ، وهو بالنهار سائِحٌ، ويصوم الدهرَ كلَّه، ويقوم الليلَ كلَّه. وأحدِّثُك عن النبي المصطفى ﷺ أنه كان يَرعى غنمَ أهل بيتِه بأجيادٍ، وكان يصومُ فنقول: لا يُفطِر، ويُفطِر، فنقول: لا يصومُ، قَلَّما (2) رأيناهُ صائمًا، ويصومُ من كل شهر ثلاثةَ أيام، وكان ألْينَ الناس جانبًا، وأطيَبَهم خَبَرًا، وأطولَهم علمًا، وأُخبِرُك عن حَوّاء أنها كانت تَغزِلُ الشعرَ فتحوّلُه بيدِها، فتَكسُو نفسَها وولدَها، وأنَّ مريم بنت عِمران كانت تَصنعُ ذلك (3) . قال الحاكم: فأما الحديثُ المُسنَد العالي الذي يَدلُّ على الجُملة مُفسّرًا فهو الذي:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے کہا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کر رہے تھے: میرے قریب آ جاؤ، اس شخص نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، اللہ کی قسم میں ان لوگوں کی طرح آپ سے سوال کرنے کا سلیقہ نہیں رکھتا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے قریب آ جاؤ تاکہ میں تمہیں ان انبیاء کے بارے میں بتاؤں جن کا ذکر اللہ کی کتاب میں ہے؛ میں تمہیں آدم علیہ السلام کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ کھیتی باڑی کرنے والے بندے تھے، نوح علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ بڑھئی تھے، ادریس علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ درزی تھے، داؤد علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ زرہیں بنانے والے تھے، موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ چرواہے تھے، اور ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ کاشتکار تھے، وہ بہت مہمان نواز تھے، مسکینوں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے تھے اور اپنے مال سے ان کی ضرورت پوری کرتے تھے، شعیب علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ چرواہے تھے، لوط علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ کاشتکار تھے، صالح علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ تاجر تھے، سلیمان علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ ایسے بندے تھے جنہیں اللہ نے بادشاہت عطا فرمائی، وہ مہینے کے شروع میں چھ دن، درمیان میں تین دن اور آخر میں تین دن روزہ رکھتے تھے، ان کے نکاح میں نو سو حرم اور تین سو بیگمات تھیں، اور کنواری و پاکدامن مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ کل کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ جس نے مجھے صبح کا کھانا دیا وہی شام کا بھی دے گا اور جس نے شام کا کھانا دیا وہی صبح کا بھی دے گا، وہ اپنی پوری رات اللہ کی عبادت میں گزارتے، سورج طلوع ہونے تک نماز پڑھتے اور دن میں سیاحت کرتے اور ہمیشہ روزے رکھتے اور تمام رات قیام کرتے تھے، اور نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ وہ اجیاد کے مقام پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے، وہ (نفل) روزے رکھتے تو ہم کہتے کہ اب افطار نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے تو ہم کہتے کہ اب روزہ نہیں رکھیں گے، ہم نے انہیں مسلسل روزہ دار کم ہی دیکھا، وہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ نرم خو، بہترین اخلاق والے اور علم میں سب سے بلند تھے، اور میں تمہیں حوا علیہا السلام کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ اون کاتی تھیں اور اسے اپنے ہاتھوں سے بنتی تھیں، پھر اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے لباس تیار کرتی تھیں، اور مریم بنت عمران بھی یہی کام کرتی تھیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک اس عالی سند والی حدیث کا تعلق ہے جو اس تمام بحث کی مفصل تشریح کرتی ہے تو وہ یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ كسابقه،» [ترقيم الرساله 4210] [ترقيم الشركة 4187]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات و اوصاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4211
حدّثَناه أبو الحسن علي بن الفضل بن إدريس السامِرِيّ ببغداد، حدثنا الحسن بن عَرَفة بن يزيد العَبْدي، حدثني يحيى بن سعيد السَّعْدي البصري، حدثنا عبد الملك بن جُريج عن عطاءٍ، عن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبي ذَرٍّ قال: دخلتُ على رسول الله ﷺ وهو في المسجد، فاغتنَمْتُ خَلْوتَه، فقال لي:"يا أبا ذَرٍّ، إنَّ للمسجدِ تحيةً" قلت: وما تحيتُه يا رسول الله؟ قال"ركعتان" فركَعْتُهما، ثم التفتُّ إليه فقلتُ: يا رسول الله، إنك أمرتَني بالصلاةِ، فما الصلاةُ؟ قال:"خَيرُ موضوعٍ، فمن شاء أقَلَّ، ومن شاء أكثَرَ" قلت: يا رسول الله، أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ قال:"الإيمانُ بالله"، ثم ذكر الحديثَ، إلى أن قال: فقلتُ: يا رسول الله، كم النبيُّون؟ قال:"مئةُ ألفِ نبيٍّ وأربعةٌ وعشرون ألفَ نبيٍّ" قلت: كم المرسَلُون منهم؟ قال:"ثلاثُ مئة وثلاثَ عشرةَ"، وذكر باقيَ الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4166 - السعدي ليس بثقة
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کی تنہائی کے موقع کو غنیمت جانا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! بے شک مسجد کا ایک تحیہ (سلامی) ہے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا تحیہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پس میں نے وہ دو رکعتیں ادا کیں، پھر میں آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے، تو نماز کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز ایک بہترین موضوع ہے، اب جو چاہے (نفل کے ذریعے) اس میں کمی کرے اور جو چاہے زیادتی کرے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا پھر انہوں نے حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی کل تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں نے عرض کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین سو تیرہ اور انہوں نے باقی حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سعيد السَّعْدي، فقد قال عنه الذهبي في "تلخيصه": ليس بثقة. وأنكر حديثَه هذا ابن عدي والذهبيُّ في "تاريخ الإسلام" 5/ 478، وقال العقيلي: لا يتابع عليه. وقال ابن حبان: لا يحلُّ الاحتجاج به إذا انفرد.» [ترقيم الرساله 4211] [ترقيم الشركة 4188] [ترقيم العلميه 4166]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سعيد السَّعْدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں