🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. بِشَارَةُ وِلَادَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی ولادت کی بشارت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4192
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببُخاري، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعيّ، عن أبي عِمران الجَوْني، عن نَوف البِكاليّ، قال: دعا زكريا ربَّه، فقال: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عِمران: 38] ﴿إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾ الآيات [مريم: 4] ، ثم قال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ … وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9) قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً﴾ أعلمُ أنك قد استجبْتَ ﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ قال: فخُتِم على لسانِه ثلاثةَ أيامٍ ولياليَهن وهو صحيحٌ لا يَتكلَّمُ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (11) يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12) ﴾ الآيات إلى ﴿يُبْعَثُ حَيًّا﴾ [مريم: 11 - 15] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4147 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نوف البکالی فرماتے ہیں: سیدنا زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا مانگی: رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ (آل عمران: 38) اے میرے رب! دے مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد، بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا اِنِّیْ وَ ھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا (مریم: 4) عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہو گئی اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا)۔ پھر کہنے لگے: قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ کَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا (مریم: 8) عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہو گا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا قَالَ کَذٰلِکَا قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَکُ شَیْئًا (مریم: 9) فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا: وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہیں تھا قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ اٰیَۃً قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا (مریم: 10) عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہو کر چنانچہ آپ کی زبان سیل کر دی گئی، آپ بالکل صحیح سلامت ہونے کے باوجود تین دن اور تین راتیں کسی سے بات نہ کر سکے۔ فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا ٰییَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ وَ اٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا (مریم: 11، 12) تو وہ اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو، اے یحیی کتاب مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی یہ آیات یبعث حیا تک نازل ہوئیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4193
حدثني محمد بن حَمْدُون الوَرّاق، حدثنا علي بن سعيد العَسْكري، حدثنا الفضل بن غانم، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال كان زكريا وعِمران تزوَّجا أختَين، فكانت أم يحيى عند زكريا، وكانت أمُّ مريم عند عِمران، فهَلَك عِمران وأمُّ مريم حاملٌ بمريم، وهي جنينٌ في بطنها، وكانت فيما يَزعُمون قد أَمسكَ اللهُ عنها الولدَ حتى أيِسَتْ وكانوا أهلَ بيتٍ مِن الله بمكانٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4148 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا زکریا علیہ السلام اور عمران علیہ السلام دونوں کی بیویاں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ چنانچہ یحیی علیہ السلام کی والدہ زکریا کی بیوی تھیں اور مریم کی والدہ عمران علیہ السلام کی بیوی تھی۔ عمران کا انتقال ہو گیا، اس وقت سیدنا مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ حاملہ تھیں۔ ان کے پیٹ میں مریم رضی اللہ عنہا تھی۔ ان کے بارے میں لوگوں کا یہ موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد نہیں دی حتیٰ کہ یہ سن ایاس کو پہنچ گئیں جبکہ ان کے گھر والے اللہ تعالیٰ کے مقرب لوگ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4193]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4194
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان وأبو سلمة، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيبِ بن الشَّهيد ويونس بن عُبيد وحُميد، عن الحسن، عن النبي ﷺ. وعليِّ بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ قال:"ما مِن آدميٍّ إلّا وقد أخطأَ أو هَمَّ بخَطيئةٍ أو عَمِلَها، إلّا أن يكونَ يحيى بنُ زكريا، لم يَهُمَّ بخطيئةٍ ولم يَعْمَلْها" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4149 - إسناده جيد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر آدمی سے خطا ہوئی ہے، یا خطا کا ارادہ کیا ہے یا اس پر عمل کیا ہے۔ سوائے سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کے کہ انہوں نے نہ کبھی گناہ کا سوچا اور نہ عملاً گناہ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4194]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. حِلْيَةُ يَحْيَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وضع قطع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4195
أخبرني أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد، حدثني مروان بن جعفر، حدثني حميد بن معاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: كان يحيى بن زكريا سيِّدًا وحَصُورًا، وكان لا يَقرَبُ النساءَ ولا يَشتَهِيهنَّ، وكان شابًّا حسنَ الوجْهِ والصورة، لَيِّنَ الجَناح، قليلَ الشَّعرِ، قصيرَ الأصابع، طويلَ الأنفِ، أقْرَنَ الحاجَبَين، دقيقَ الصوتِ، كثيرَ العبادةِ، قويًّا في طاعةِ الله (2) .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یحیی بن زکریا علیہما السلام سردار تھے اور عورتوں سے بچنے والے تھے، یہ عورتوں کے قریب بھی نہیں جاتے تھے، نہ ان کی خواہش کرتے تھے۔ حالانکہ آپ خوبصورت نوجوان تھے، نرم بازوؤں والے، کم بالوں والے، چھوٹی انگلیوں والے، لمبی ناک والے، ملی ہوئی ابروؤں والے، باریک آواز والے۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور طاعت الٰہی میں بہت طاقتور تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4195]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. قِصَّةُ قَتْلِ يَحْيَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4196
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا سَلْم (1) بن جُنادة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: بَعَثَ عيسى ابن مريم يحيى بنَ زكريا في اثني عشر ألفًا من الحَوارِيِّين يُعلِّمون الناسَ، قال: وكان فيما يَنهَونهم عنه نكاحُ ابنةِ الأخ، قال: وكانت لملِكِهم ابنةُ أخٍ تُعجِبُه يريد أن يَتزوّجها، فكانت لها كلَّ يومٍ حاجةٌ يقضيها، فلما بلغَ ذلك أمَّها قالت لها: إذا دخلتِ على الملِكِ فسألَكِ حاجَتَك، فقولي: حاجتي أن تَذبَحَ لي يحيى بنَ زكريا، فلما دخلتْ عليه سألها حاجتَها، فقالت: حاجتي أن تَذبَحَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِيني غيرَ هذا، فقالت: ما أسألُك إلّا هذا، فقال: فلما أبَتْ عليه دعا يحيى بنَ زكريا ودعا بطَسْتٍ، فذبَحَه فنَدَرَت (2) قَطرةٌ من دَمِه على الأرض، فلم تَزَلْ تَغلي حتى بعثَ اللهُ بُخْتنَصَّر عليهم، فجاءتْه عجوزٌ من بني إسرائيل، فدلَّتْه على ذلك الدم، فألقى اللهُ في قلبِه أن يَقتُل على ذلك الدمِ منهم حتى يَسكُن، فقتل سبعين ألفا منهم من سِنٍّ واحدةٍ حتى سَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اور سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو بارہ بارہ ہزار حواریوں میں مبعوث فرمایا۔ یہ لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق بھائی کی بیٹی یعنی بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا حرام تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جس کو بادشاہ پسند کرتا تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو وہ ہر دن اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ یہ بات اس لڑکی کی ماں تک پہنچی تو اس نے اپنی لڑکی کو سمجھاتے ہوئے کہا: جب تو بادشاہ کے پاس جائے اور وہ تیری حاجت پوچھے تو تو کہنا: میری حاجت یہ ہے کہ تم میری خاطر یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ذبح کر دو۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی، اس نے اس سے حاجت پوچھی، تو اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ تم یحیی بن زکریا کو ذبح کر دو۔ اس نے کہا: اس کے علاوہ کوئی فرمائش کرو۔ اس نے کہا: میری اس کے علاوہ آپ سے اور کوئی فرمائش نہیں ہے۔ جب یہ اپنی ضد پر اڑ گئی تو بادشاہ نے سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو بلوایا اور ایک بڑا تھال منگوایا اور اس میں آپ کو ذبح کر ڈالا، اس تھال میں سے خون کا ایک قطرہ زمین پر گر گیا تو وہ مسلسل تڑپتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط فرمایا۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی خاتون نے بخت نصر کو اس خون کی کہانی سنائی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان سے انتقام لے گا، جب تک اس خون کو قرار نہیں آتا اس وقت میں ان کو قتل کرتا رہوں گا۔ چنانچہ صرف ایک سال میں اس نے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ تب کہیں اس قطرہ خون کو سکون ملا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4196]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4197
فحدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافِعي من أصل كتابه، حدثنا محمد بن شَدَّاد المِسْمَعيّ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى محمد ﷺ: إني قَتلْتُ بيحيى ابن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابنِ ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (1) . وقد رواه حميد بن الربيع الخَزّاز عن أبي نُعيم. ذكر نبي الله ورُوحه عيسى ابن مريم صلوات الله عليه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب وحی فرمائی کہ میں نے یحیی بن زکریا علیہما السلام کے بدلے ستر ہزار لوگ قتل کئے تھے اور بے شک میں آپ کے نواسے کے بدلے اس سے دگنے لوگ قتل کروں گا۔ ٭٭ اس حدیث کو حمید بن الربیع الخزاز نے ابونعیم کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4197]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا
اللہ کے نبی اور اس کی روح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4198
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا سُريج بن النعمان الجَوْهَري، حدثنا فُليح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا أَولَى الناسِ بعيسى ابن مَريم في الدنيا والآخرة، الأنبياءُ إخوةٌ لِعَلّاتٍ أمهاتُهُم شَتَّى ودِينُهم واحِدٌ، وليس بَيني وبينَ عيسى ابن مريم نبيٌّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4153 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا اور آخرت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اور تمام انبیاء علیہم السلام باپ کی طرف سے بھائی ہیں جبکہ ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان سب کا دین ایک ہی ہے اور میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4198]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4199
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المُثنَّى، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن المُغيرة بن حَبيب، عن شهر بن حَوْشَب، عن أبي هريرة، قال: حَنَّةُ وَلَدَتْ مَريمَ، ومَريمُ وَلَدَتْ عيسى (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حنہ کے ہاں مریم پیدا ہوئیں اور مریم علیہا السلام کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4199]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. وُلِدَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی ولادت عاشوراء کے دن ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4200
حدثني علي بن محمد القاضي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا الحسين بن عمرو العَنْقَزي، حدثني أبي، حدثنا إسرائيل، عن جابر، عن زيدٍ العَمِّي، قال: وُلِدَ عيسى ابن مريم يومَ عاشُوراء (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4155 - سنده واه
سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عیسیٰ 10 محرم الحرام کے دن پیدا ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4200]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. قِصَّةُ وِلَادَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی ولادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4201
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العدل، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حمّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس. وعن مُرَّةَ، عن عبد الله، قالا: خرجتْ مريمُ إلى جانبِ المحرابِ بحَيضٍ أصابَها، فلما طَهُرَتْ إذا هي برجُل معها، وهو قوله: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [مريم:17] ، وهو جبريلُ ﵇، ففَزِعتْ منه، فقالت: ﴿إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (18) قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا﴾ الآية، فخرجتْ وعليها جِلْبابُها، فأخذ بكُمِّها فنَفَخَ فِي جَيبِ دِرْعِها - وكان مشقُوقًا من قُدّامها - فدخلت النَّفْخَة صَدْرَها فحَمَلَتْ، فأتتْها أختُها امرأةُ زكريا ليلةً تَزورُها، فلما فتَحتْ لها البابَ التزمَتْها، فقالت امرأةُ زكريا: يا مريم، أشَعَرْتِ أني حُبْلَى، فقالت مريم: أشعرتِ أيضًا أن حُبْلَى؟ قالت امرأةُ زكريا: فإني وجدتُ ما في بَطْنِي يَسجُد للذي في بطنِكِ، فذلك قوله ﷿: ﴿مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ [آل عِمران:39] فوَلَدَتْ امرأةُ زكريا يحيى، ولما بلغ أن تَضَعَ مريمُ خَرجَتْ إلى جانبِ المِحرابِ ﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ﴾ استحياء من الناس: ﴿يَالَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا (23) فَنَادَاهَا﴾ جبريلُ ﴿مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (24) وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ فهزته، فأُجريَ لها في المحراب نهرٌ، والسَّرِيّ: النهر، فتساقطت النخلةُ رطبًا جنيًّا، فلما وَلَدَتْه ذهبَ الشيطانُ فأخبر بني إسرائيل أنَّ مريم وَلَدَتْ، فلما أرادُوها على الكلام أشارتْ إلى عيسى، فتكلَّم عيسى، فقال: ﴿إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا﴾ فلما وُلِد عيسى لم يَبْقَ في الأرض صنمٌ يُعبَدُ من دون الله إلّا وقع ساجدًا لوجهِة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4156 - على شرط مسلم
ابومالک، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اور مرہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا مریم علیہا السلام حیض انے کی وجہ سے محراب کی طرف نکلیں۔ جب آپ پاک ہوئیں تو ان کے پاس ایک مرد کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا (مریم: 17) تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا وہ سیدنا جبریل تھے۔ آپ اس کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور بولیں: اِنِّیْٓ اَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا (مریم: 18) بولی میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے وہ بولے: اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا (مریم: 19) بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں آپ وہاں سے نکلیں اور آپ کے اوپر آپ کی بڑی چادر تھی۔ سیدنا جبریل علیہ السلام نے اس کا کنارہ پکڑ کر آپ کے دوپٹے میں پھونک ماری، یہ دوپٹہ آگے سے کچھ پھٹا ہوا تھا۔ یہ پھونک آپ کے سینے میں گئی، جس کی وجہ سے آپ حاملہ ہو گئیں۔ آپ رات کے وقت اپنی بہن زکریا کی بیوی کے پاس ملنے کے لئے گئیں۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ ان سے لپٹ گئیں۔ سیدنا زکریا علیہ السلام کی زوجہ نے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ میں حمل سے ہوں؟ سیدنا مریم علیہا السلام نے جواباً کہا: جی ہاں اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں بھی حمل سے ہوں۔ تو سیدنا زکریا علیہ السلام کی بیوی نے کہا: میں محسوس کر رہی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو ہے وہ اس کو سجدہ کر رہا ہے جو آپ کے پیٹ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مُصَدِّقًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ (آل عمران: 39) جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا تو سیدنا زکریا علیہ السلام کی بیوی نے یحیی علیہ السلام کو جنم دیا اور جب سیدنا مریم علیہما السلام کے ہاں بچے کے پیدائش کا وقت آیا تو آپ محراب کی جانب نکل گئیں۔ پھر دردزہ کی وجہ سے وہ ایک کھجور کی جڑ میں آ گئیں۔ لوگوں سے شرم کی ماری مریم علیہ السلام کہنے لگی: یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا فَنَادٰھَا (مریم: 23) ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تو اسے پکارا تو سیدنا جبریل نے نیچے کی طرف سے آواز دی: اَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا وَ ھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا (مریم: 24، 25) کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہا دی ہے، اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی سیدنا مریم علیہا السلام نے اس کو ہلایا تو ان کے لئے محراب میں نہر جاری کر دی گئی۔ السری نہر کو کہتے ہیں۔ تو کھجور کے درخت سے تازی پکی کھجوریں گرنے لگیں۔ جب ان کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہو گئی تو شیطان نے بنی اسرائیل کو خبر دے دی کہ مریم علیہا السلام نے بچہ جنا ہے۔ جب لوگوں نے سیدنا مریم علیہا السلام سے وضاحت چاہی تو آپ نے (بجائے اس کے کہ اپنی صفائی خود بیان کرتیں) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اشارہ کر دیا تو عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے: اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا (مریم: 30، 31) میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا نبی کیا، اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو روئے زمین کا ہر وہ بت جس کی عبادت کی جاتی تھی وہ سجدہ ریز ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4201]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں