🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ
رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی جبکہ آپ ﷺ کی عمر تینتالیس برس تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4259
كما أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، قال: أُنزل على النبي ﷺ وهو ابن ثلاثٍ وأربعين (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4213 - عبد العزيز بن أبي ثابت واه
قباث بن اثیم کی حدیث کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ سیدالتابعین (سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ) نے اس قول کو اختیار فرمایا ہے جیسا کہ یحیی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4259]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4260
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن خَديجة، أنها قالت: لما أبطأَ عن رسولِ الله ﷺ الوحيُ، جَزِعَ من ذلك جَزَعًا شديدًا، فقلت ممّا رأيتُ من جَزَعِه: لقد فَلَاكَ ربُّك لما يرى من جَزَعِكَ، فأنزل الله: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [الضحى:3] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لإرسالٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4214 - صحيح مرسل
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (کچھ دنوں کے لئے) وحی نہ آئی تو اس وجہ سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوئے۔ میں نے آپ کی یہ پریشانی دیکھ کر کہا: آپ کی پریشانی دیکھ کر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس میں ارسال کی وجہ سے شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4260]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذرٍّ [عن أبيه] (1) عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أن رسول الله ﷺ قال لجبريلَ:"ما يَمنعُك أن تَزُورَنا أكثر مما تَزُورُنا" فأنزل الله ﷿: ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4215 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: جس طرح تم اکثر ہمارے پاس آیا کرتے تھے، اب کیوں نہیں آتے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ …… وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا تک۔ ہم تو صرف آپ کے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4261]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4262
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن حسان، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: فُصِلَ القرآنُ من الذِّكر، فوُضِعَ في بيت العِزَّةِ في السماء الدُّنيا، فجعلَ جبريلُ ﵇ يُنزِّلُه على النبي ﷺ، يُرَتِّلُه ترتيلًا (3) . قال سفيانُ: خمسَ آياتٍ ونحوَها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4216 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قرآن کو ذکر سے الگ کر کے آسمان دنیا پر بیت العزۃ میں رکھا گیا۔ وہاں سے سیدنا جبریل علیہ السلام اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرتے تھے۔ (ارشاد ہے): وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا سفیان کہتے ہیں: پانچ کے قریب آیات اسی کے متعلق ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4262]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. تَأْلِيفُ الْقُرْآنِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں قرآنِ مجید کی ترتیب و تدوین
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4263
حدثنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيدَ بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن زيد بن ثابت، قال: كنا عند رسول الله ﷺ تُؤلِّف القرآنَ من الرِّقَاع (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه الدليل الواضح أنَّ القرآن إنما جُمع في عهد رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4217 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہوا کرتے تھے اور مختلف پرچیوں وغیرہ سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں یہ واضح دلیل موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن کریم جمع کر لیا گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4263]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4264
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا علي بن حَكيم، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، عن مُثنَّى بن الصَّبَّاح، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أنَّ النبي ﷺ كان إذا نزل جبريلُ ﵇ فقال: بسم الله الرحمن الرحيم، عَلِمَ أنها سورةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4218 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جبریل علیہ السلام آتے اور (وحی سے پہلے) بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تو آپ جان جاتے کہ یہاں سے نئی سورت کا آغاز ہو رہا ہے اور سابقہ سورت مکمل ہو چکی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4264]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور خرچ کی ابتدا اپنے زیرِ کفالت افراد سے کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4265
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا يزيد بن زياد بن أبي الجَعْد، عن جامِع بن شدّاد، عن طارق بن عبد الله المُحارِبي، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ مَرَّ بسُوق ذي المَجازِ وأنا في بيَاعةٍ لي، فمرَّ وعليه حُلّةٌ حمراءُ، فسمعتُه يقول:"يا أيها الناس، قولُوا: لا إله إلَّا الله، تُفْلِحُوا"، ورجلٌ يتبعُه يَرميه بالحجارةِ قد أدمى كَعْبَيه وهو يقول: يا أيها الناس، لا تُطيعُوا هذا، فإنه كَذَّاب، فقلتُ: مَن هذا؟ فقيل: هذا غلامٌ من بني عبد المطّلِب. فلما أظهرَ اللهُ الإسلامَ خرجْنا من الرَّبَذَة ومعنا ظَعِينةٌ لنا، حتى نزلْنا قريبًا من المدينة، فبَيْنا نحن قُعودٌ إذ أتانا رجلٌ عليه ثَوبانِ، فسلَّم علينا، فقال:"مِن أين القومُ؟" فقلنا: من الرَّبَذة، ومعنا جملٌ أحمرُ، فقال:"تَبِيعُونني الجَمَلَ؟" فقلنا: نعم، فقال:"بكم؟" فقلنا: بكذا وكذا صاعًا من تمر، قال:"أخذتُه"، وما استَقْصَى، فأخذَ بخُطام الجَمَل، فذهبَ به حتى تَوارَى في حِيطان المدينة، فقال بعضُنا لبعضٍ: تَعرفُون الرجلَ، فلم يكن منا أحدٌ يعرفُه، فلامَ القومُ بعضَهم بعضًا، فقالوا: تُعطُون جملَكُم مَن لا تَعرِفون، فقالت الظَّعِينةُ: فلا تَلاوَمُوا، فلقد رأينا وجهَ رجلٍ لا يَغدِرُ بكم، ما رأيتُ شيئًا أشبَهَ بالقمر ليلةَ البدرِ من وجْهِه، فلما كان العشيُّ أتانا رجلٌ فقال: السلامُ عليكم ورحمة الله وبركاتُه، أأنتُمُ الذين جئتُم من الرَّبَذة؟ قلنا: نعم، قال: أنا رسولُ رسولِ الله إليكم، وهو يأمرُكم أن تأكُلُوا من هذا التمر حتى تَشْبَعوا وتكتالُوا حتى تَستَوفُوا، فأكلْنا من التمر حتى شَبِعْنا، واكْتَلْنا حتى استَوفَينا، ثم قَدِمْنا المدينةَ من الغدِ، فإذا رسولُ الله ﷺ قائمٌ يخطُب الناسَ على المِنبَر، فسمعتُه يقول:"يدُ المُعطي العُلْيا، وابدَأْ بمن تَعُولُ: أمَّك وأباك، وأختَك وأخاك، وأَدْناك أَدْناك" وثَمَّ رجلٌ من الأنصار، فقال: يا رسول الله، هؤلاء بنو ثعلبة بن يَرْبُوع الذين قَتَلُوا فلانًا في الجاهلية، فخُذْ لنا بثأرِنا، فرفع رسولُ الله ﷺ يَدَيه حتى رأيتُ بَياضَ إبطَيه، فقال:"لا تَجْني أمٌّ على وَلَدٍ، لا تَجْني أمٌّ على وَلَدٍ" (1) .
هذا حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4219 - صحيح
سیدنا طارق بن عبداللہ الحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز بازار سے گزرتے دیکھا، اس وقت میں ایک سودا کر رہا تھا۔ آپ گزرے، آپ کے اوپر سرخ رنگ کا جبہ مبارک تھا۔ میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: اے لوگو! لا الہ الا اللّٰہ پڑھو کامیاب ہو جاؤ گے۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے پیچھے آپ کو کنکر مارتا آ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کے قدم مبارک سے خون بہہ رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! اس کی بات مت ماننا، یہ جھوٹا شخص ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر فرمایا تو ہم ربذہ سے نکلے اور ہمارے ساتھ ہماری عورتیں بھی تھیں۔ ہم نے مدینہ کے قریب آ کر پڑاؤ ڈالا۔ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے اوپر دو چادریں تھیں۔ اس نے ہمیں سلام کیا اور کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ربذہ سے۔ اور ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی ہے۔ اس نے کہا: تم یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے قیمت پوچھی تو ہم نے کہا: کھجور کے اتنے صاع۔ اس نے کہا: بغیر کسی بحث و تمحیص کے میں نے انہیں لے لیا۔ پھر اس نے اونٹ کی لگام پکڑی اور چلا گیا۔ حتیٰ کہ مدینہ کے باغات میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر ہم ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو۔ تو پوری قوم میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملا جو اس کو جانتا ہو۔ تو لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے آدمی کو دے دیا ہے جس کو تم جانتے نہیں ہو۔ عورت بولی: تم ایک دوسرے کو ملامت مت کرو۔ ہم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جو تم سے دھوکہ نہیں کرے گا، میں نے اس چہرے کے علاوہ اور کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو چودھویں کے چاند کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ شام کا وقت ہوا تو وہی شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تم ہی ہو جو ربذہ سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہاری طرف قاصد ہوں، آپ نے حکم دیا ہے کہ تم لوگ ان کھجوروں میں سے پیٹ بھر کر کھاؤ اور اپنی قیمت بھی پوری کر لو۔ چنانچہ ہم نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھجوریں کھائیں اور قیمت بھی پوری وصول کر لی۔ پھر اگلے دن ہم مدینہ شہر میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: دینے والا ہاتھ، اوپر والا ہے اور تو اپنی ماں، باپ، بہن، بھائیوں کی رشتہ داریوں سے قریب سے قریب تر لوگوں سے شروع کر۔ وہاں ایک انصاری آدمی بھی موجود تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں انتقام دلوائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بلند کئے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ نے کہا: ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کر سکتی، ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کر سکتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4265]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4266
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا أبو كُريب، حدثنا مُصعَب بن المِقْدام، حدثنا إسرائيل، عن عُثمان بن المُغِيرة، عن سالم، عن جابر، قال: كانَ رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ نفسَه على الناسِ بالمَوقِف، فيقول:"هَل مِن رجلٍ يَحمِلُني إلى قومِه، فإنَّ قريشًا قد مَنعُونِي أَن أُبَلِّغَ كلامَ رَبِّي؟" قال: فأتاهُ رجلٌ من بني هَمْدَان، فقال: أنا، فقال:"وهل عند قومِك مَنَعَةٌ؟" وسأله:"مِن أينَ هُو؟" فقال: من هَمْدَان، ثم إِنَّ الرجل الهَمْدَانيَّ خشيَ أن يُخفِرَه قومُه، فأتى رسولَ الله ﷺ فقال: آتِيْهم فأخبِرُهم، ثم ألْقاكَ من عامٍ قابِلٍ، قال:"نعم"، وانطلق، فجاء وَفْدُ الأنصارِ في رَجَب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب المبعث [كتاب المَسرى] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شوال سنة إحدى وأربع مئة: كتاب المَسْرى، وفيه أخبار بزيادات صحيحة الأسانيد، فلم أُخرجها؛ إذ الأصلُ في المِعراجِ قد خَرَّجاه بأسانيدَ كثيرة. [ [كتاب دلائل النبوة] ] ومن كتاب آياتِ رسول الله ﷺ التي هي دلائل النبوّة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4220 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موقف (میدان عرفات) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا: کوئی آدمی ایسا ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے احکام الٰہی کی تبلیغ سے روک دیا ہے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: بنی ہمدان سے ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تیری قوم کے پاس فوج ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے کہا: وہ بھی ہمدان کے ہی رہنے والے ہیں۔ پھر ہمدانی آدمی کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کے ساتھ بے وفائی نہ کر دے۔ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی قوم میں جا کر ان کو بتاتا ہوں پھر اگلے سال آپ سے ملوں گا۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ آدمی چلا گیا پھر انصار کا وفد رجب میں آیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4266]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں