🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. وَمِنْ كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
دلائلِ نبوت میں وارد رسول اللہ ﷺ کی نشانیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4267
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزَاميّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكيم، عن أبي صالحٍ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"بُعِثتُ لأتمَّمَ صالحَ الأخلاقِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4221 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں تاکہ صالح اخلاق کی تکمیل کروں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4267]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد - وهو الدَّرَاوردي - وابنِ عَجْلان - وهو محمد - فهما صدوقان لا بأس بهما، وصحَّحه ابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 334، لكن قد رواه عن ابن عجلان أيضًا يحيى بنُ أيوب الغافقي المصري، فجعله عن ابن عجلان مرسلًا، كما توضحه رواية عثمان بن سعيد الدارمي عند البيهقي في "شعب الإيمان" (7608)، ورواية إسحاق بن إبراهيم بن جابر القطان عند البيهقي في "الآداب" (153)، وكما تشير إليه رواية يعقوب بن سفيان عند الخطيب في "الفقيه والمتفقه" (884)، ثلاثتهم عن سعيد بن الحكم بن أبي مريم، عن يحيى بن أيوب الغافقي، وعلى أي حالٍ فله شواهد، ومعناه صحيح كما قال السخاوي في "المقاصد الحسنة".»

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذِكْرُ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن سعدِ بن هِشام: أنه دخل مع حكيم بن أفْلَحَ على عائشةَ، فسألَها فقال: يا أم المؤمنين، أنبِئيني عن خُلُقِ رسولِ الله ﷺ، قالت: أليس تَقرأُ القرآنَ؟ قال: بلى، قالت: فإِنَّ خُلُقَ نبيِّ الله ﷺ القُرآن (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4222 - على شرط البخاري ومسلم
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، تو سیدہ نے فرمایا: بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى بن سعيد: هو القطان. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24269).»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
حدثنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا حامد بن سهل الثَّغْري، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب ومعمر والنُّعمان بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما لَعَنَ رسولُ الله ﷺ مسلمًا من لعنةٍ بذكْرٍ (2) ، ولا ضَرَبَ بيده شيئًا قَطُّ إلَّا أن يضربَ بها في سبيل الله، ولا سُئل عن شيء قَطُّ فمنعَه إلَّا أن يُسأل مَأثَمًا، فإن كان مأثمًا كان أبعدَ الناس منه، ولا انتَقَم لِنفسِه من شيء قَطُّ يُؤتى إليه، إلَّا أن تُنتَهَكَ حُرماتُ الله، فيكونُ لله يَنتَقِمُ، ولا خُيِّر بين أمرَين قطُّ إلا اختارَ أيسرَهُما، وكان إذا أحدَث العهد بجبريلَ يُدارِسُه كان أجودَ الناسِ بالخَير مِن الرِّيحِ المُرسَلةِ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. ومن حديث أيوب السَّختِياني غريبٌ جدًّا، فقد رواه سليمان بن حَرْب وغيرُه عن حماد، ولم يذكروا أيوب، وعارِمٌ ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4223 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مسلمان پر (اس کا نام لے کر یا اسے خاص کر کے) لعنت نہیں بھیجی، اور نہ ہی کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو مارا سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے کبھی منع نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ وہ گناہ کا کام ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی حدود پامال کی جا رہی ہوں، ایسی صورت میں آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ آسان تر کو اختیار فرمایا، اور جب بھی جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات اور دورہ قرآن کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کی سخاوت میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ بڑھ کر ہوتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور ایوب سختیانی کی یہ روایت نہایت غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إلَّا أنَّ آخره في ذكر جوده وسخائه ﷺ لدى مجيء جبريل، الصحيح أنه عن ابن عبّاس كما سيأتي وليس عن عائشة، وأيوب - وهو ابن أبي تميمة السَّختياني - لم يذكر في إسناده عروة - وهو ابن الزبير - كما توضحه رواية ابن عساكر في "تاريخه" 4/ 25، ونصَّ عليه الدارقطني في "العلل" (3487)، وذكر الدارقطني أن أيوب زاد في آخره زيادة في ذكر جودة ﷺ وسخائه، وأنه وهم في زيادتها، لأنها من حديث الزُّهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عبّاس. قلنا: لكن الظن بأن يكون الذي زادها النعمان بن راشد هو الأقرب، وممّا يؤكد ذلك رواية عفان بن مسلم وحفص بن عمر الحوضي وغيرهما عن حماد بن زيد، حيث إنهما لم يذكرا أيوب، وذكرا هذه الزيادة، وقد رواه عن معمر بن راشد رجلان آخران، فلم يذكراها، فبقي أنها من زيادة النعمان بن راشد، وعنده مناكير وأغلاط كثيرة، وقد وعنده مناكير وأغلاط كثيرة، وقد نبَّه على خطأ هذه الزيادة النسائي في "المجتبى" (2096).»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4270
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يونس بن عمرو، عن العَيزار بن حُرَيث، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ مكتوبٌ في الإنجيل: لا فَظٌّ ولا غليظٌ، ولا سَخَّابٌ بالأسواق، ولا يَجزي بالسيئة مثلَها، بل يَعفُو ويَصفَحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4224 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان انجیل میں لکھی ہوئی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تند خو ہیں نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4270]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن عمرو»

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4271
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأدَمِي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أحمد بن نصر بن مالك الخُزاعي، حدثنا علي بن الحسين بن واقِد، عن أبيه، قال: سمعتُ يحيى بن عُقَيل يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي أوفى يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الذِّكْرَ، ويُقلُّ اللغوَ، ويُطيلُ الصلاةَ، ويَقصُر الخُطبةَ، ولا يَستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ حتى يَفرُغَ لهم من حاجتِهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے تھے، لغو باتوں سے بہت دور رہتے تھے، نماز لمبی پڑھاتے اور خطبہ مختصر فرماتے تھے، اور کسی غلام یا بیوہ کے ساتھ چلنے میں کبھی عار محسوس نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کی ضرورت پوری فرما دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن الحسين بن واقد، وقد توبع، وحسَّنه البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير" (670)، وقال: وهو حديث الحسين بن واقد تفرّد به.»

الحكم على الحديث: حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعْبة، عن قَتَادة، قال: سمعت عبد الله بن أبي عُتبة يقول: سمعت أبا سعيد الخُدْري يقول: كان رسول الله ﷺ يُكثر الذِّكر، ويُقِلُّ اللغوَ، ويُطيل، الصلاة، ويَقصُر الخُطبَة، ولا يستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ، حتى يَفرُغَ لهم من حاجتهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)[الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کرتے، لغو کلام کم کرتے، نماز طویل اور خطبہ مختصر فرماتے تھے، اور کسی غلام یا بیوہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ان کے ساتھ چلنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں فرماتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ کے متعلق یہ صحیح احادیث دلائل نبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی روشنی میں پیش کی ہیں: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الدخان: 32] اور ہم نے ان کو علم کی بنا پر جہان والوں پر منتخب کیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ [سورة الأنعام: 124] اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی ہے اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور یقیناً آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔ اب اس کے بعد مزید صحیح نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث: «هذا إسناد صحيح، لكن أحدًا في الدنيا لم يُخرّج هذا المتن بهذا الإسناد، سوى ما وجدناه في أصول "المستدرك" هنا، ويغلب على ظننا أنَّ هذا خطأ قديم، حصل فيه انتقال بصرٍ إلى متن الرواية التي قبل هذه، فذكر هذا الإسناد لذلك المتن، وإنما الذي أخرجه البيهقي في كتبه: "السنن الكبرى" 10/ 192، و "الدلائل" 1/ 316، و "الآداب" (149) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد نفسه حديث أبي سعيد الخُدري، قال: كان رسولُ الله ﷺ أشدَّ حياءً من العذراء في خدرها، وكان إذا كره شيئًا عرفناه في وجهه. وهذا موضعه هنا في باب شمائله ﷺ، وهو حديث أخرجه أحمد 18/ (11683) و (11833) و (11862) و (11874)، والبخاري (3562) و (6102) و (6119)، ومسلم (2320)، وابن ماجه (4180)، وابن حبان (6306 - 6308) من طرق عن شعبة بإسناده هذا.»

الحكم على الحديث: هذا إسناد صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حدثنا عَلي بن حَمْشَاذَ العَدْل إملاءً، حدثنا هارون بن العباس الهاشمي، حدثنا جَنْدَلُ بن والقٍ، حدثنا عمرو بن أوس الأنصاري، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى عيسى ﵇: يا عيسى، آمن بمحمدٍ، وأُمُر من أدركَه من أمتك أن يُؤمنوا به، فلولا محمدٌ ما خلقتُ آدمَ، ولولا محمدٌ ما خلقتُ الجنةَ والنارَ، ولقد خلقتُ العرشَ على الماء، فاضطربَ فكتبتُ عليه: لا إله إلّا الله [محمد رسول الله] (2) فسَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4227 - أظنه موضوعا على سعيد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: اے عیسیٰ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کے ان لوگوں کو حکم دو جو ان کا زمانہ پائیں کہ وہ ان پر ایمان لائیں، اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا، اور اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں جنت اور دوزخ کو پیدا نہ کرتا، اور جب میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ لرزنے لگا، پھر میں نے اس پر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں لکھا تو وہ ساکن ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث: «ضعيف منكر، عمرو بن أوس الأنصاري مجهول لا يُعرَف، ولم يَرِد ذكره إلّا في هذا الخبر، وقد انفرد به بهذا الإسناد، فقال الذهبي في "تلخيصه": أظنه موضوعًا على سعيد. قلنا: يعني سعيد بن أبي عَروبة. وقال في "الميزان" في ترجمة عمرو بن أوس هذا يُجهَلُ حاله، وأتى بخبر منكر.»

الحكم على الحديث: ضعيف منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. اسْتِغْفَارُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِحَقٍّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت آدم علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے استغفار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
حدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا أبو الحسن محمد بن إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، حدثنا أبو الحارث عبد الله بن مسلم الفِهْري، حدثنا إسماعيل بن مَسلَمة، أخبرنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عُمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا اقترفَ آدمُ الخطيئةَ قال: يا ربِّ، أسألُك بحقّ محمدٍ لَمَا غَفَرْتَ لي، فقال الله: يا آدمُ، وكيف عرفتَ محمدًا ولم أخلُقْه؟ قال: يا ربِّ، لأنك لما خلقَتني بيدِك ونفخْتَ فيَّ من رُوحِك، رفعتُ رأسي فرأيتُ على قوائم العرشِ مكتوبًا: لا إله إلَّا الله محمد رسول الله، فعلمتُ أنك لم تُضِفْ إلى اسمِك إلَّا أحبَّ الخلقِ إليك، فقال الله: صدقتَ يا آدم، إنه لأحبُّ الخلق إليَّ، وإذ سألْتَني (1) بحقه (2) فقد غَفَرتُ لك، ولولا محمدٌ ما خَلَقتُك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أولُ حديث ذكرتُه لعبد الرحمن بن زيد بن أسلَمَ في هذا الكتاب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4228 - بل موضوع
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم (علیہ السلام) سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے میرے رب! میں تجھ سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیسے پہچانا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اس لیے کہ جب تو نے مجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی، تو میں نے اپنا سر اٹھایا اور عرش کے پائوں پر لکھا ہوا دیکھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں، تو میں جان گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ صرف اسی ہستی کا نام جوڑا ہے جو تجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے سچ کہا، بے شک وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، اور جب تم نے ان کے واسطے سے مجھ سے مانگا تو میں نے تمہیں معاف کر دیا، اور اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یہ پہلی حدیث ہے جسے میں نے اس کتاب میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی روایت سے ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا لتفرد عبد الرحمن بن زيد بن أسلم به، وهو ضعيف باتفاق خاصة فيما ينفرد به عن أبيه، وما وقع في إسناد الحاكم من تسمية أبي الحارث الفِهْري بعبد الله بن مسلم وتسمية شيخه بإسماعيل بن مسلمة، فيغلب على الظن أنه حصل فيه تحريف في كلا الاسمين، وذلك أن جماعة غير محمد بن إسحاق الحنظلي قد رووا هذا الخبر، فقالوا: عن أبي الحارث أحمد بن سعيد - وهو ابن عمرو - عن عبد الله بن إسماعيل، عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، فهذا هو الصحيح، وأحمد بن سعيد بن عمرو المذكور روى عنه جماعة ووثقه مسلمة بن قاسم، وأما شيخه عبد الله بن إسماعيل - وقُيّد في بعض الروايات بأبي عبد الرحمن بن أبي مريم - فلم نتبينه، والظاهر أنه مجهول لا يُعرف، فهذه علة أخرى في الخبر، والله تعالى أعلم.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا لتفرد عبد الرحمن بن زيد بن أسلم به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4275
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا قُرادٌ أبو نُوح، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبي موسى، قال: خرج أبو طالبٍ إلى الشام، وخرج معه رسولُ الله ﷺ في أشياخٍ من قريش، فلما أشرفُوا على الراهِبِ هبَطُوا، فحوَّلُوا رحالَهم، فخرج إليهم الراهبُ، وكانوا قبلَ ذلك يَمرُّون به فلا يخرج إليهم ولا يَلتفِتُ، قال: وهم يَحُلُّون رحالَهم، فجعل يتخلَّلُهم حتى جاء فأخذَ بيدِ رسولِ الله ﷺ، قال: هذا سيّدُ العالَمين، هذا رسولُ ربِّ العالَمين، هذا يبعثُه اللهُ رحمةً للعالَمين، فقال له أشياخٌ من قريش: وما عِلْمُك بذلك؟ قال: إنكم حين أشرفتُم من العَقبةِ لم يَبْقَ شجرٌ ولا حجرٌ إِلَّا خَرَّ ساجدًا، ولا تَسجدُ إِلَّا لِنبيٍّ، وإني أعرفُه خاتَمُ النبوة أسفل من غُضروف كتفِه مثلُ التفّاحة، ثم رجع فَصَنَع لهم طعامًا ثم أتاهم، وكان رسول الله ﷺ في رِعْية الإبل، قال: أرسِلُوا إليه، فأقبلَ وعليه غَمامةٌ تُظِلُّه، قال: انظُروا إليه، غَمامةٌ تُظلُّه، فلما دنا من القوم وَجَدَهُم قد سَبَقُوه إلى فَيْء الشجرة، فلما جلسَ مال فيءُ الشجرة عليه، قال: انظُروا إلى فيء الشجرة مالَ عليه، فبينما هو قائم عليه وهو يُناشِدُهم أَن لا تَذْهَبُوا به إلى الروم، فإنَّ الرومَ إن رأوه عرفُوه بالصِّفة فقتلوه. فالتفتَ فإذا هو بسبعةٍ نفرٍ قد أقبَلُوا من الروم فاستقبَلَهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا، فإنَّ هذا النبيَّ خارجٌ في هذا الشهر فلم يَبْقَ طريقٌ إِلَّا قد بُعث ناسٌ، وإنا بُعِثْنا إلى طريقِه هذا، فقال لهم الراهبُ: هل خَلَّفتُم خَلْفَكم أحدًا هو خيرٌ منكم؟ قالوا: لا، قالوا: إنما أُخبرنا خَبَرَه، بُعِثنا لطريقك هذا، قال: أفرأيتُم أمرًا أراده اللهُ أن يَقضِيَه، هل يستطيعُ أحدٌ من الناس ردَّه؟ قالوا: لا، قال: فبايِعُوه، فبايَعُوه وأقامُوا معه، قال: فأتاهم الراهبُ، فقال: أنشُدُكُمُ الله أَيكُم وَليُّه، قالوا: أبو طالب، فلم يَزَلْ يُناشِدُه حتى ردَّه وبعثَ معه أبو بكر بلالًا، وزَوّدَه الراهبُ من الكَعْك والزيتِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طالب قریش کے چند شیوخ کے ہمراہ شام کی طرف نکلے اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، پس جب وہ راہب کے پاس سے گزرنے لگے تو وہ سواریوں سے نیچے اترے اور اپنے کجاوے کھولے، وہ راہب ان کی طرف نکل آیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے لیکن وہ کبھی باہر نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دیتا تھا، وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے کجاوے کھول ہی رہے تھے کہ وہ راہب ان کے درمیان چلتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں، یہ رب العالمین کے رسول ہیں، اللہ انہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمائے گا، تو قریش کے شیوخ نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا: جب تم لوگ گھاٹی سے نیچے اتر رہے تھے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں بچا تھا جو سجدے میں نہ گر گیا ہو، اور یہ چیزیں صرف نبی ہی کو سجدہ کرتی ہیں، اور میں انہیں ان کے کندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کے برابر مہرِ نبوت سے پہچانتا ہوں، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا اور ان کے پاس لے آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرا رہے تھے، اس نے کہا: انہیں بلاؤ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک بادل آپ پر سایہ فگن تھا، اس نے کہا: انہیں دیکھو، بادل ان پر سایہ کر رہا ہے، پھر جب آپ لوگوں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ لوگ پہلے ہی درخت کے سائے پر قبضہ کر چکے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی طرف جھک گیا، اس نے کہا: درخت کے سائے کو دیکھو وہ ان کی طرف جھک گیا ہے، پس جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو وہ انہیں قسمیں دے رہا تھا کہ اسے روم نہ لے کر جائیں، کیونکہ رومی اگر انہیں دیکھ لیں گے تو ان کی صفات سے انہیں پہچان کر قتل کر دیں گے۔ پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات رومی وہاں آ پہنچے ہیں، اس نے ان کا استقبال کیا اور پوچھا: تم یہاں کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس لیے آئے ہیں کیونکہ یہ نبی اسی مہینے میں نکلنے والا ہے، پس کوئی راستہ ایسا نہیں بچا جہاں لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور ہمیں اسی راستے کی طرف بھیجا گیا ہے، راہب نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی ایسا شخص ہے جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: ہمیں تو بس ان کی خبر دی گئی تھی، ہمیں تمہارے اسی راستے کے لیے بھیجا گیا ہے، اس نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ کسی کام کا فیصلہ کر لے تو کیا کوئی انسان اسے روک سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر ان کی بیعت کر لو، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی اور وہیں ٹھہر گئے، راہب ان کے پاس آیا اور پوچھا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ ان کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابو طالب، وہ مسلسل انہیں قسمیں دیتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے انہیں واپس بھیج دیا اور ابوبکر نے ان کے ساتھ بلال کو بھیجا، اور راہب نے انہیں زادِ راہ کے طور پر کچھ بسکٹ اور زیتون دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث: «خبر منكر جدًّا، قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 503: حديث منكر جدًّا، وأين كان أبو بكر؟! كان ابنَ عشر سنين، فإنه أصغر من رسول الله ﷺ بسنتين ونصف، وأين كان بلال في هذا الوقت؟! فإنَّ أبا بكر لم يشتره إلا بعد المبعث ولم يكُن وُلد بعدُ، وأيضًا فإذا كان عليه غمامة تُظِلُّه كيف يُتصوَّر أن يميل فيءُ الشجرة؟! لأنَّ ظل الغمامة يُعدِم فيء الشجرة التي نزل تحتها، ولم نر النبيّ ﷺ ذكَّر أبا طالب قطُّ بقول الراهب، ولا تذاكرته قريش ولا حكَتْه أولئك الشيوخ، مع توفّر هممهم ودواعيهم على حكاية مثل ذلك، فلو وقع لاشتَهَرَ بينهم أيَّما اشتهارٍ، ولبقي عنده ﷺ حِسٌّ من النبوة، ولما أَنكر مجيء الوحي إليه، أوّلًا بغار حراء وأتى خديجة خائفًا على عقله، ولما ذهب إلى شواهق الجبال ليرمي نفسه ﷺ، وأيضًا فلو أثَّر هذا الخوف في أبي طالب وردَّه كيف كانت تطيب نفسه أن يُمكِّنه من السفر إلى الشام تاجرًا لخديجة؟»

الحكم على الحديث: خبر منكر جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذِكْرُ شَقِّ صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کے سینۂ مبارک کے شق ہونے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4276
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح الحَضْرمي، حدثنا بقيَّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سَعْد، عن خالد [بن مَعْدان، عن] (1) ابن عَمرو السُّلمي، عن عُتْبة بن عَبْدٍ: أَنَّ رجلًا سألَ رسولَ الله ﷺ كيفَ - أو ما - كان أول شأنِك يا رسولَ الله؟ قال:"كانت حاضِنَتي من بني سَعْد بن بكر، فانطلقتُ أنا وابنٌ لها في بَهْمٍ لنا، ولم نأخُذْ معنا زادًا، فقلت: يا أخي، اذهَبْ فأتِنا بِزادٍ من عند أُمَّنا، فانطلَقَ أخي وكنتُ عند البَهْمِ، فأقبل طَيْرانِ أبيضانِ كأنهما نَسْران، فقال أحدُهما لصاحِبِه، أهُو هُو؟ قال: نعم، فأقبَلا يَبتَدِراني، فأخذاني فبَطَحَاني للقَفَا فشَقّا بَطْني، ثم استَخْرجا قلبي فشَقّاه، فأخرجا منه عَلَقَتين سَودَاوَين، فقال أحدهما لصاحبِه: حُصْهُ - يعني خِطْهُ - واختِمْ عليه بخاتَم النبوّة، فقال أحدُهما لصاحبِه: اجعلْه في كِفّةٍ واجعل ألفًا من أمتِه في كِفّة، فإذا أنا أنظُرُ إلى الألْف فَوقي أُشفِقُ أن يَخِرُّوا عليَّ، فقالا: لو أنَّ أمَّتَه وُزِنَتْ به لمالَ بهم، ثم انطَلَقا وتَرَكاني، وفَرِقْتُ فَرَقًا شديدًا، ثم انطلقتُ إلى أمي فأخبرتُها بالذي رأيتُ، فأشفَقَت أن يكون قد التُبِسَ بي، فقالت: أعِيدُك بالله، فرَحَلَتْ بعيرًا لها فجعلَتْني على الرَّحْل ورَكِبَتْ خَلْفي، حتى بَلَغْنا أمّي، فقالت: أدَّيتُ أمانَتي وذِمَّتي، وحَدَّثَتْها بالذي لَقِيتُ، فلم يَرُعْها ذلك، قالت إني رأيتُ خرج مني نُورٌ أضاءتْ منه قُصورُ الشام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4230 - على شرط مسلم
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی نبوت کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری پرورش کرنے والی خاتون کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا، میں اور ان کا بیٹا اپنے جانوروں کے ساتھ نکلے اور ہمارے پاس زادِ راہ نہیں تھا، تو میں نے کہا: اے میرے بھائی! تم جاؤ اور ہماری ماں سے کچھ کھانے پینے کا سامان لے آؤ، میرا بھائی چلا گیا اور میں جانوروں کے پاس ٹھہرا رہا، تو اچانک دو سفید پرندے آئے جو گدھ کی طرح لگ رہے تھے، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہ وہی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، پس وہ دونوں تیزی سے میری طرف بڑھے اور مجھے پکڑ کر پیٹھ کے بل لٹا دیا اور میرا پیٹ چاک کر دیا، پھر میرا دل نکالا اور اسے بھی چاک کیا اور اس میں سے دو سیاہ لوتھڑے نکالے، پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اسے سی دو اور اس پر مہرِ نبوت لگا دو، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھو اور ان کی امت کے ایک ہزار افراد کو دوسرے پلڑے میں رکھو، پس میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہزار افراد میرے اوپر ہیں اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ جائیں، تب ان دونوں نے کہا: اگر ان کی پوری امت کا وزن بھی ان کے ساتھ کیا جائے تو یہی ان پر بھاری رہیں گے، پھر وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور میں بہت زیادہ ڈر گیا تھا، پھر میں اپنی ماں کے پاس گیا اور انہیں وہ سب بتایا جو میں نے دیکھا تھا، تو انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں مجھ پر کسی چیز کا اثر تو نہیں ہو گیا، انہوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر انہوں نے اپنے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے اس پر بٹھا کر خود میرے پیچھے سوار ہوئیں یہاں تک کہ ہم میری والدہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے اور انہیں وہ سب بتایا جو مجھ پر بیتی تھی، لیکن میری والدہ اس سے بالکل نہیں گھبرائیں اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا تھا کہ مجھ سے ایک ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4276]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل بقية بن الوليد ففيه لين، وقد صرَّح بالسماع هنا من شيخه، وصرَّح عند الدارمي (13) بسماع خالد من ابن عمرو السُّلَمي - واسمه عبد الرحمن - وسماع ابن عمرو من عُتبة بن عبدٍ، فانتفت شبهة تدليسه للتسوية، ولعله لأجل ذلك صحّحه الذهبي من هذه الطريق في "تاريخ الإسلام" 1/ 498.»

الحكم على الحديث: إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل بقية بن الوليد ففيه لين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں