المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ الْهِجْرَةِ
کتابُ الہجرة
حدیث نمبر: 4303
حدثنا إسماعيل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحزامي، حدثنا حُسين بن زيد، عن شِهاب بن عبد ربّه، عن عمر بن علي، قال: مَشَيتُ مع محمد بن علي، فقال: أشهدُ أنَّ أبي حدثني، عن أبيه، عن علي: أنَّ الله ﷿ عَمَّر نَبيَّه ﷺ بمكةَ ثلاثَ عشرةَ سنة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفقت الروايات على هذه مع الروايات التي أخرجاها عن عبد الله بن عبّاس ﵄ (2) ، فأما خبرُ أنسٍ ومعاوية (3) ، وإن صحَّت أسانيدُها في عشر سنين، فليس عليها القولُ والعمل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4257 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفقت الروايات على هذه مع الروايات التي أخرجاها عن عبد الله بن عبّاس ﵄ (2) ، فأما خبرُ أنسٍ ومعاوية (3) ، وإن صحَّت أسانيدُها في عشر سنين، فليس عليها القولُ والعمل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4257 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکۃ المکرمہ میں 13 سال رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی شیخین رحمۃ اللہ علیہما کی نقل کردہ احادیث کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت ساری احادیث ہیں جو اس مذکورہ حدیث کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں۔ اور جہاں تک تعلق ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ میں رہے تو (علمائے امت کا) ان پر عمل نہیں ہے (یعنی علمائے امت نے ان کو قابل عمل قرار نہیں دیا ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4303]
حدیث نمبر: 4304
أخبرنا القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا عيسى بن عُبيد الكِنْدي، عن غَيلان بن عبد الله العامِري، عن أبي زُرْعة بن عمرو، عن جَرير (1) ، أنَّ النبي قال:"إِنَّ الله ﷿ أوحَى إليَّ: أيَّ هؤلاءِ البلادِ الثلاثِ نزلْتَ، فهي دار هِجْرتِك: المدينةِ، أو البحرَينِ، أو قِنَّسْرِينَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4258 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4258 - صحيح
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم مدینہ، بحرین یا قنسرین میں سے جہاں بھی چلے جاؤ، وہی آپ کا دارالہجرت (یعنی ہجرت کا مقام) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4304]
حدیث نمبر: 4305
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا جَرير، عن قابُوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عبّاس، قال: كان رسولُ الله ﷺ بمكةَ، فأُمِر بالهجرة، وأُنزل عليه: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4259 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4259 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] ” اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4305]
حدیث نمبر: 4306
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا حسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة: قوله: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} فأخرجه الله من مكة إلى الهجرة بالمدينة مُخرَجَ صِدْقٍ، وأدخله المدينة مُدخَلَ صِدْقٍ، قال: ونبيُّ الله صلى الله عليه وسلم قد عَلِم أنه لا طاقةَ له بهذا الأمر إلا بُسلطان، فسأل {سُلْطَانًا نَصِيرًا} لكتابِ الله وحُدودِ الله ولفرائض الله، ولإقامة كتاب الله، وإنَّ السُّلطان عِزةٌ من الله جعلها بين أظهُر عِبادِه، لولا ذلك لأغارَ بعضُهم على بعضٍ، وأكلَ شديدُهم ضعيفَهم (2) .
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب حق کے ساتھ نکالا، اور حق کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں داخل فرمایا۔ اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی جانتے تھے کہ مددگار کے بغیر وہ یہ کام نہیں کر پائیں گے، اس لیے انہوں نے کتاب اللہ، حدود اللہ، فرائض اللہ اور اقامت کتاب اللہ کے لیے مددگار مانگا۔ اور مددگار (سے یہاں پر مراد) اللہ تعالیٰ کی طرف سے غلبہ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نافذ فرماتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں، غارت گری کریں اور طاقتور اپنے سے کمزور (کے مال) کو کھا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4306]
حدیث نمبر: 4307
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن عبد الله، قالا: أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو موسى الأنصاري، حدثنا سعد بن سعيد، حدثني أخي، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"اللهمّ إنك أخرجْتَني من أحبِّ البلاد إليَّ، فأسكِنّي أحبَّ البلادِ إليك"، فأسكنه اللهُ المدينةَ (1) .
هذا حديث رواته مَدنيُّون من بيت أبي سعيد المَقْبُري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4261 - لكنه موضوع
هذا حديث رواته مَدنيُّون من بيت أبي سعيد المَقْبُري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4261 - لكنه موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: ” اے اللہ! تو نے مجھے اس شہر سے اذن سفر دے دیا ہے جو شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، اب تو مجھے اس شہر میں آباد کر جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے “ تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ میں آباد فرمایا۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4307]
2. رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَارَ الْهِجْرَةِ
نبی کریم ﷺ کا دارِ ہجرت کا خواب دیکھنا
حدیث نمبر: 4308
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سُليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة، قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم للمسلمين:"قد أُرِيتُ دارَ هِجْرتكم، أُريتُ سَبْخَةً ذاتَ نَخْلٍ بين لابَتَينِ"، وهما الحَرّتان (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4262 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4262 - على شرط البخاري ومسلم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے ارشاد فرمایا: مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھا دیا گیا ہے۔ مجھے سیاہ پتھروں والے دو خطوں کے درمیان کھجوروں والی دلدلی زمین دکھائی گئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4308]
3. بَيْتُوتَةُ عَلِيٍّ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ خُرُوجِهِ لِلْهِجْرَةِ
ہجرت کے وقت حضرت علیؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونا
حدیث نمبر: 4309
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس قال: شَرَى عليٌّ نفسَه ولبس ثوبَ النبي ﷺ، ثم نام مكانَه، وكان المشركون يَرمُون رسولَ الله ﷺ، وقد كان رسولُ الله ﷺ ألبَسَه بُرْدَه، وكانت قريش تريدُ أن تقتلَ النبيَّ ﷺ، فجعلوا يَرمُون عليًا، ويُرَونه النبيَّ ﷺ وقد لبِسَ بُرْدَه، وجعلَ عليّ يَتَصَوَّرُ، فإذا هو عليٌّ، فقالوا: إنك لَلَئيمٌ، إنك لَتتضوَّر وكان صاحبُك لا يَتضوَّر، ولقد استَنْكرناه منكَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی بازی لگا دی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھ کر ان کی جگہ لیٹ گئے۔ (اس سے قبل) مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں دیا کرتے تھے۔ (ہجرت کی رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر اوڑھا دی تھی۔ جبکہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (معاذاللہ) شہید کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے اذیت دینا شروع کیں، (ان کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچ و تاب کھانے لگے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس کیفیت سے) ان کو اندازہ ہوا کہ یہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں بلکہ یہ تو) علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ تب وہ بولے: تم کمینے ہو، تم تڑپ رہے ہو، جبکہ تمہارا ساتھی تو اس طرح نہیں تڑپا کرتا تھا۔ اور ہمیں اصل دشمنی اسی سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوداؤد طیالسی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے بھی ابوعوانہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4309]
حدیث نمبر: 4310
وقد حدّثَنا بَكْر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عُبيد بن قُنفُذ البَزّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمّاني، حدثنا قيس بن الربيع، حدثنا حَكيم بن جُبَير، عن علي بن الحسين، قال: إِنَّ أَوّل من شَرَى نفسَه ابتغاءَ رضوان الله عليُّ بنُ أبي طالب، وقال عليٌّ عند مَبِيتِه على فِراش رسول الله ﷺ: وَقَيتُ بنفسي خيرَ مَن وَطِئ الحَصا … ومَن طافَ بالبيتِ العَتيقِ وبالحِجْرِ رسولَ إلهٍ خافَ أن يمكُروا به … فنجَّاه ذو الطَّول الإلهُ من المكْرِ وباتَ رسولُ اللهِ في الغارِ آمِنًا … مُوَقًّى وفي حفظِ الإلهِ وفي سَتْرِ وبِتُّ أُراعِيهم وما يتمنَّونني … وقد وَطَّنْتُ نفسي على القَتْلِ والأَسْرِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جان کا سودا کرنے والے سب سے پہلے شخص سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے ہوئے (درج ذیل) اشعار کہے: وَقِيتُ بِنَفْسِي خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَا ... وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَبِالْحَجَرِ رَسُولَ إِلَهٍ خَافَ أَنْ يَمْكُرُوا بِهِ ... فَنَجَّاهُ ذُو الطَّوْلِ الْإِلَهُ مِنَ الْمَكْرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْغَارِ آمِنًا ... مُوقًى وَفِي حِفْظِ الْإِلَهِ وَفِي سِتْرٍ وَبِتُّ أُرَاعِيهُمْ وَلَمْ يَتَّهِمُونَنِي ... وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي عَلَى الْقَتْلِ وَالْأَسْرِ میں نے اپنی جان کو اس ذات کے صدقے بچا لیا ہے جو ان سب سے افضل ہے جنہوں نے کنکریوں کو روندا اور جنہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور جنہوں نے حجر اسود کو چوما۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول علیہ السلام ہیں، خدشہ تھا کہ مشرکین ان کے خلاف سازش کرتے لیکن احسان کرنے والے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی سازشوں سے بچا لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں محفوظ مقام پر پوشیدگی میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں بے خوف ہو کر رات گزاری۔ میں نے انجام پر نگاہ رکھے ہوئے رات گزاری اور انہوں نے مجھ پر بدگمانی نہ کی جبکہ میں تو قتل اور قید کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4310]
4. كَسْرُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصَّنَمَ الْأَكْبَرَ فَوْقَ الْكَعْبَةِ
حضرت علیؓ کا کعبہ پر نصب سب سے بڑے بت کو توڑنا
حدیث نمبر: 4311
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن موسى القُرشي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا نُعيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم الأَسَدِي، عن عليٍّ، قال: لما كان الليلةُ التي أمرني رسولُ الله ﷺ أن أَبِيتَ على فراشِه، وخَرَج من مكة مهاجرًا، انطَلَقَ بي رسولُ الله ﷺ إلى الأصنام، فقال:"اجلِسْ" فجلسْتُ إلى جنبِ الكعبة، ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ على مَنكِبِي، ثم قال:"انهَضْ" فنَهَضْتُ به، فلما رأى ضعفي تحته، قال:"اجلس"، فجلستُ، فأنزلته عني، وجلس لي رسول الله ﷺ، ثم قال لي:"يا علي، اصعد على منكبي" فصَعِدتُ على منكبه، ثم نهض بي رسولُ الله ﷺ، خُيل إليَّ أني لو شئتُ نِلْتُ السماء، وصَعِدتُ إلى الكعبة وتَنحَّى رسول الله ﷺ، فألقيتُ صنمهم الأكبر، وكان من نُحاس مُولَّدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال رسول الله ﷺ:"عالجه" فعالجت، فما زلت أعالجه ورسول الله ﷺ يقولُ:"إيه إيه" فلم أَزَلْ أُعالجه حتى استَمْكَنْتُ منه، فقال:"دُقَّهُ" فدقَقْتُه فكسَرتُه، ونَزلتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور خود ہجرت کر کے تشریف لے گئے، اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے (کعبہ میں موجود) بتوں کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ تو میں کعبہ کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر چڑھ گئے، پھر آپ نے مجھے کہا: اٹھو۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جب آپ نے میری کمزوری پر توجہ کی تو فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں سے اتر گئے اور خود نیچے بیٹھ کر مجھے فرمایا: اے علی! میرے کندھوں پر بیٹھ جاؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھ گیا اور آپ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے (اس وقت) میں اپنے آپ کو اتنی اونچائی پر محسوس کر رہا تھا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو ہاتھ لگا سکتا تھا۔ پھر میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے سے ہٹ گئے تو میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا، یہ بت تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین سے بندھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اس کو ہلاؤ، میں نے اس کو ہلایا اور پھر مسلسل ہلاتا رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: اس کو اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ جب وہ بہت زیادہ ہلنے لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لڑھکا دو، میں نے اس کو لڑھکا دیا تو وہ ٹوٹ گیا اور میں کعبہ سے نیچے اتر آیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4311]
5. هِجْرَةُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ جَمِيعِ أَمْوَالِهِ
حضرت ابو بکرؓ کا اپنا سارا مال لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حدیث نمبر: 4312
حدثنا علي بن محمد الحمادي بمَرُو، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم السَّرْخَسي، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المروزي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن شُعبة ومسعر، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البختري، عن علي: أنَّ النبي ﷺ قال لجبريل ﵇:"مَن يُهاجِرُ معي؟" قال: أبو بكر الصديق (2) .
هذا حديث صحيح غريب الإسناد والمتن، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4266 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح غريب الإسناد والمتن، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4266 - صحيح غريب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: میرے ہمراہ کون ہجرت کرے گا؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ ٭٭ اس حدیث کی سند اور متن دونوں صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4312]