🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْهِجْرَةِ
کتابُ الہجرة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4303
حدثنا إسماعيل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحزامي، حدثنا حُسين بن زيد، عن شِهاب بن عبد ربّه، عن عمر بن علي، قال: مَشَيتُ مع محمد بن علي، فقال: أشهدُ أنَّ أبي حدثني، عن أبيه، عن علي: أنَّ الله ﷿ عَمَّر نَبيَّه ﷺ بمكةَ ثلاثَ عشرةَ سنة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفقت الروايات على هذه مع الروايات التي أخرجاها عن عبد الله بن عبّاس ﵄ (2) ، فأما خبرُ أنسٍ ومعاوية (3) ، وإن صحَّت أسانيدُها في عشر سنين، فليس عليها القولُ والعمل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4257 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں تیرہ سال کا عرصہ (قیام) عطا فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ روایت ان روایات کے مطابق ہے جو شیخین نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں، جہاں تک سیدنا انس اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی دس سال والی روایات کا تعلق ہے تو اگرچہ ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن علمی و عملی طور پر (جمہور کے نزدیک) ان پر اعتماد نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4303] [ترقيم الشركة 4280] [ترقيم العلميه 4257]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4304
أخبرنا القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا عيسى بن عُبيد الكِنْدي، عن غَيلان بن عبد الله العامِري، عن أبي زُرْعة بن عمرو، عن جَرير (1) ، أنَّ النبي قال:"إِنَّ الله ﷿ أوحَى إليَّ: أيَّ هؤلاءِ البلادِ الثلاثِ نزلْتَ، فهي دار هِجْرتِك: المدينةِ، أو البحرَينِ، أو قِنَّسْرِينَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4258 - صحيح
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ (ہجرت کے لیے) ان تین شہروں میں سے آپ جس میں بھی قیام فرمائیں گے وہی آپ کی ہجرت گاہ قرار پائے گی: مدینہ، یا بحرین، یا قنسرین۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4304] [ترقيم الشركة 4281] [ترقيم العلميه 4258]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4305
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا جَرير، عن قابُوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عبّاس، قال: كان رسولُ الله ﷺ بمكةَ، فأُمِر بالهجرة، وأُنزل عليه: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4259 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم تھے جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] اور آپ دعا کیجیے کہ اے میرے رب! مجھے جہاں بھی داخل فرما سچائی کے ساتھ داخل فرما اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنی جناب سے ایسا غلبہ و اقتدار عطا فرما جس کے ساتھ تیری نصرت ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4305]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4305] [ترقيم الشركة 4282] [ترقيم العلميه 4259]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4306
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا حسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة: قوله: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} فأخرجه الله من مكة إلى الهجرة بالمدينة مُخرَجَ صِدْقٍ، وأدخله المدينة مُدخَلَ صِدْقٍ، قال: ونبيُّ الله صلى الله عليه وسلم قد عَلِم أنه لا طاقةَ له بهذا الأمر إلا بُسلطان، فسأل {سُلْطَانًا نَصِيرًا} لكتابِ الله وحُدودِ الله ولفرائض الله، ولإقامة كتاب الله، وإنَّ السُّلطان عِزةٌ من الله جعلها بين أظهُر عِبادِه، لولا ذلك لأغارَ بعضُهم على بعضٍ، وأكلَ شديدُهم ضعيفَهم (2) .
قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے نکالا تو وہ سچائی کے ساتھ نکلنا تھا اور مدینہ میں داخل کیا تو وہ سچائی کے ساتھ داخل ہونا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوب معلوم تھا کہ آپ میں اس عظیم مشن کی تکمیل کی طاقت تبھی پیدا ہوگی جب آپ کو سیاسی قوت و اقتدار حاصل ہو، چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب، اس کی حدود، اس کے فرائض اور احکامِ الہیہ کی اقامت کے لیے سلطان نصیر (مددگار قوت) کی دعا کی، اور حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ عزت ہے جسے اس نے اپنے بندوں کے درمیان نظم و ضبط کے لیے رکھا ہے، اگر یہ (خوفِ سلطانی) نہ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے پر غارت گری کرتے اور طاقتور کمزور کو ہضم کر جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4306]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4306] [ترقيم الشركة 4283]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4307
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن عبد الله، قالا: أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو موسى الأنصاري، حدثنا سعد بن سعيد، حدثني أخي، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"اللهمّ إنك أخرجْتَني من أحبِّ البلاد إليَّ، فأسكِنّي أحبَّ البلادِ إليك"، فأسكنه اللهُ المدينةَ (1) .
هذا حديث رواته مَدنيُّون من بيت أبي سعيد المَقْبُري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4261 - لكنه موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ التجا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَخْرَجْتَنِي مِنْ أَحَبِّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، فَأَسْكِنِّي أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيْكَ» اے اللہ! تو نے مجھے اس شہر سے نکالا ہے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، اب مجھے اس شہر میں مستقل سکونت عطا فرما جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ منورہ میں بسا دیا۔
اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان کا تعلق ابوسعید مقبری کے خاندان سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4307] [ترقيم الشركة 4284] [ترقيم العلميه 4261]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَارَ الْهِجْرَةِ
نبی کریم ﷺ کا دارِ ہجرت کا خواب دیکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4308
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سُليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة، قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم للمسلمين:"قد أُرِيتُ دارَ هِجْرتكم، أُريتُ سَبْخَةً ذاتَ نَخْلٍ بين لابَتَينِ"، وهما الحَرّتان (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4262 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: مجھے تمہاری ہجرت گاہ دکھا دی گئی ہے، میں نے کھجوروں کے باغات والی ایک شوریدہ زمین دیکھی ہے جو دو سیاہ پتھریلے میدانوں ( «لابتين») کے درمیان واقع ہے اور «لابتين» سے مراد مدینہ کے دو «حرّه» (سیاہ لاوے والی زمینیں) ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4308] [ترقيم الشركة 4285] [ترقيم العلميه 4262]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَيْتُوتَةُ عَلِيٍّ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ خُرُوجِهِ لِلْهِجْرَةِ
ہجرت کے وقت حضرت علیؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4309
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس قال: شَرَى عليٌّ نفسَه ولبس ثوبَ النبي ﷺ، ثم نام مكانَه، وكان المشركون يَرمُون رسولَ الله ﷺ، وقد كان رسولُ الله ﷺ ألبَسَه بُرْدَه، وكانت قريش تريدُ أن تقتلَ النبيَّ ﷺ، فجعلوا يَرمُون عليًا، ويُرَونه النبيَّ ﷺ وقد لبِسَ بُرْدَه، وجعلَ عليّ يَتَصَوَّرُ، فإذا هو عليٌّ، فقالوا: إنك لَلَئيمٌ، إنك لَتتضوَّر وكان صاحبُك لا يَتضوَّر، ولقد استَنْكرناه منكَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھ کر آپ کی جگہ سو گئے، مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر (پتھر) پھینک رہے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر پہنا دی تھی، قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے درپے تھے، وہ مسلسل علی رضی اللہ عنہ پر پتھر مارتے رہے اور یہی گمان کرتے رہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے اپنی چادر اوڑھ رکھی ہے، اس دوران علی رضی اللہ عنہ (تکلیف کی وجہ سے) کروٹیں بدلتے اور تڑپتے رہے، پھر جب مشرکین کو معلوم ہوا کہ یہ تو علی ہیں، تو انہوں نے کہا: تم تو بہت کم ظرف نکلے، تم تڑپ رہے تھے جبکہ تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) تو کبھی نہیں تڑپتے تھے، اور ہمیں تمہاری اس حالت پر شک تو ہوا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، اسے ابو داؤد طیالسی وغیرہ نے بھی ابو عوانہ سے بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4309]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه مقال من أجل أبي بَلْج - واسمه يحيى بن سُليم، ويقال: ابن أبي سُليم - كما سيأتي بيانه برقم (4702) حيث رواه من طريق يحيى بن حماد عن أبي عوانة - وهو الوضّاح بن عبد الله اليَشْكري - ضمن حديث طويل. عمرو بن ميمون: هو الأَوْدي.» [ترقيم الرساله 4309] [ترقيم الشركة 4286] [ترقيم العلميه 4263]

الحكم على الحديث: إسناده فيه مقال من أجل أبي بَلْج - واسمه يحيى بن سُليم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
وقد حدّثَنا بَكْر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عُبيد بن قُنفُذ البَزّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمّاني، حدثنا قيس بن الربيع، حدثنا حَكيم بن جُبَير، عن علي بن الحسين، قال: إِنَّ أَوّل من شَرَى نفسَه ابتغاءَ رضوان الله عليُّ بنُ أبي طالب، وقال عليٌّ عند مَبِيتِه على فِراش رسول الله ﷺ: وَقَيتُ بنفسي خيرَ مَن وَطِئ الحَصا … ومَن طافَ بالبيتِ العَتيقِ وبالحِجْرِ رسولَ إلهٍ خافَ أن يمكُروا به … فنجَّاه ذو الطَّول الإلهُ من المكْرِ وباتَ رسولُ اللهِ في الغارِ آمِنًا … مُوَقًّى وفي حفظِ الإلهِ وفي سَتْرِ وبِتُّ أُراعِيهم وما يتمنَّونني … وقد وَطَّنْتُ نفسي على القَتْلِ والأَسْرِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن حسین سے روایت ہے کہ بے شک اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان پیش کر دینے والے سب سے پہلے شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، اور علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر اس پرخطر رات میں یہ اشعار کہے: میں نے اپنی جان کے ذریعے اس ہستی کی حفاظت کی جو کنکریوں پر چلنے والوں اور بیتِ عتیق و حجرِ اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بلند مرتبہ ہے، یعنی اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )، جن کے متعلق اندیشہ تھا کہ دشمن مکر کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے جو صاحبِ فضل ہے انہیں اس مکر سے نجات دے دی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو غار میں مکمل امن کے ساتھ رہے جہاں اللہ کی حفاظت اور پردہ ان کے ساتھ تھا، جبکہ میں ساری رات دشمنوں کی نگرانی کرتا رہا اور وہ میری موت کی تمنا کر رہے تھے، حالانکہ میں نے اپنے نفس کو قتل ہونے اور قید ہونے کے لیے بالکل تیار کر لیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مَن بَين عُبيد بن قُنفذ وعلي بن الحسين، وجهالة عبيد، وهو مرسل أيضًا.» [ترقيم الرساله 4310] [ترقيم الشركة 4287] [ترقيم العلميه 4264]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف مَن بَين عُبيد بن قُنفذ وعلي بن الحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. كَسْرُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصَّنَمَ الْأَكْبَرَ فَوْقَ الْكَعْبَةِ
حضرت علیؓ کا کعبہ پر نصب سب سے بڑے بت کو توڑنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن موسى القُرشي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا نُعيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم الأَسَدِي، عن عليٍّ، قال: لما كان الليلةُ التي أمرني رسولُ الله ﷺ أن أَبِيتَ على فراشِه، وخَرَج من مكة مهاجرًا، انطَلَقَ بي رسولُ الله ﷺ إلى الأصنام، فقال:"اجلِسْ" فجلسْتُ إلى جنبِ الكعبة، ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ على مَنكِبِي، ثم قال:"انهَضْ" فنَهَضْتُ به، فلما رأى ضعفي تحته، قال:"اجلس"، فجلستُ، فأنزلته عني، وجلس لي رسول الله ﷺ، ثم قال لي:"يا علي، اصعد على منكبي" فصَعِدتُ على منكبه، ثم نهض بي رسولُ الله ﷺ، خُيل إليَّ أني لو شئتُ نِلْتُ السماء، وصَعِدتُ إلى الكعبة وتَنحَّى رسول الله ﷺ، فألقيتُ صنمهم الأكبر، وكان من نُحاس مُولَّدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال رسول الله ﷺ:"عالجه" فعالجت، فما زلت أعالجه ورسول الله ﷺ يقولُ:"إيه إيه" فلم أَزَلْ أُعالجه حتى استَمْكَنْتُ منه، فقال:"دُقَّهُ" فدقَقْتُه فكسَرتُه، ونَزلتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کے لیے روانہ ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتوں کی طرف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور فرمایا: کھڑے ہو جاؤ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑا ہوا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے نیچے میری کمزوری کو محسوس کیا تو فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر سے اتار دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خود) میرے لیے بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: اے علی! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہوئے تو مجھے ایسا گمان ہوا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کو چھو لوں۔ میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف ہو گئے۔ پھر میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا جو پیتل کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی میخوں کے ذریعے زمین میں مضبوطی سے جڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اکھاڑو۔ میں اسے اکھاڑنے لگا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «إيه إيه» شاباش، جاری رکھو۔ میں اسے اکھاڑتا رہا یہاں تک کہ میں نے اسے پوری طرح قابو میں کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے توڑ دو۔ چنانچہ میں نے اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور نیچے اتر آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4311] [ترقيم الشركة 4288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. هِجْرَةُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ جَمِيعِ أَمْوَالِهِ
حضرت ابو بکرؓ کا اپنا سارا مال لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
حدثنا علي بن محمد الحمادي بمَرُو، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم السَّرْخَسي، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المروزي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن شُعبة ومسعر، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البختري، عن علي: أنَّ النبي ﷺ قال لجبريل ﵇:"مَن يُهاجِرُ معي؟" قال: أبو بكر الصديق (2) .
هذا حديث صحيح غريب الإسناد والمتن، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4266 - صحيح غريب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ انہوں نے جواب دیا: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ۔
یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے صحیح غریب ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، علي بن محمد الحمادي - وهو علي بن محمد بن عبد الله بن محمد بن حبيب أبو أحمد الحبيبي - قال الدارقطني: يحدث بنسخ وأحاديث مناكير، ونعته الحاكم نفسُه مرةً بالكذب ومرةً قال فيه: هو أشهر في اللِّين من أن يُسأل عنه. انظر "تاريخ الإسلام" 7/ 909 و 8/ 35.» [ترقيم الرساله 4312] [ترقيم الشركة 4289] [ترقيم العلميه 4266]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں