🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. تَعْزِيَةُ الْخَضِرِ عِنْدَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کی وفات پر حضرت خضر علیہ السلام کی تعزیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4441
أخبرني أبو بكر أحمد بن محمد بن يحيى الأشْقَر، حدَّثنا يوسف بن موسى المَرُّوذِي (1) ، حدَّثنا أحمد بن صالح، حدَّثنا عَنْبَسة، حدَّثنا يُونس، عن ابن شِهَاب، قال: قال عُرْوة: كانت عائشةُ تقول: كان رسولُ الله ﷺ يقولُ في مرضِه الذي تُوفِّي فيه:"يا عائشةُ، إني أجدُ ألمَ الطعامِ الذي أكلتُه بخَيبرَ، فهذا أوانُ انقطاعِ أَبْهَري من ذلك السُّمِّ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاريُّ، قال: وقال يُونس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4393 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کا وصال ہوا، فرمایا کرتے تھے: اے عائشہ! میں اس کھانے کی تکلیف (مسلسل) محسوس کر رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا، اور یہ وہ وقت ہے جب اس زہر کے اثر سے میری رگِ جان (ابہر) کٹنے والی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور امام بخاری نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4441]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن اختُلِفَ فيه على الزُّهْري، فرواه يونس - وهو ابن يزيد الأيلي - عنه عن عروة عن عائشة، كما في رواية المصنف هنا وعلَّقه عنه البخاريّ في "صحيحه" (4428) بصيغة الجزم. عنبسة: هو ابن خالد، ويونس عمُّه.» [ترقيم الرساله 4441] [ترقيم الشركة 4418] [ترقيم العلميه 4393]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. اتَّخَذَهُ اللَّهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا
اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بھی بنایا اور شہید بھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن عبد الله بن مُرَّة، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: لأن أحلفَ تِسعًا أنَّ رسول الله ﷺ قُتِلَ قَتْلًا، أحبُّ إليَّ من أن أحلفَ واحدةً أنه لم يُقتل، وذلك أنَّ الله ﷿ اتخذه نبيًا واتخذه شهيدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نو بار اس بات پر قسم کھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (زہر کے اثر سے) شہید کیے گئے ہیں، تو یہ مجھے اس بات پر ایک بار قسم کھانے سے زیادہ محبوب ہے کہ آپ شہید نہیں ہوئے، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ کو منصبِ نبوت کے ساتھ ساتھ مقامِ شہادت پر بھی فائز فرمایا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار، وقد توبع أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير والأعمش هو سليمان بن مهران وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشمي.» [ترقيم الرساله 4442] [ترقيم الشركة 4419] [ترقيم العلميه 4394]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
فحدثنا أبو أحمد بكر بن محمد المَروَزي غيرَ مرة، حدَّثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدَّثنا داود بن يزيد الأَوْدِي، قال: سمعت الشَّعْبي يقول: والله لقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصّدّيق، وقُتل عُمر بن الخطاب صَبْرًا، وقُتل عثمان بن عفّان صَبْرًا، وقُتل علي بن أبي طالب صَبْرًا، وسُمَّ الحسنُ بن علي، وقُتل الحسين بن علي صَبْرًا، فما نَرجُوا بعدَهم؟ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4395 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قید و بند کی حالت میں (اچانک) شہید کیا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، تو ان (عظیم ہستیوں) کے بعد اب ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث: «ضعيف لضعف داود بن يزيد الأودي، وسيتكرر برقم (4460) لكن بذكر السّري بن إسماعيل بدل الأودي، وهو متروك الحديث.» [ترقيم الرساله 4443] [ترقيم الشركة 4420] [ترقيم العلميه 4395]

الحكم على الحديث: ضعيف لضعف داود بن يزيد الأودي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت عن أنس: أنَّ فاطمةَ بنت رسول الله ﷺ بَكَتْ رسولَ الله ﷺ فقالت: يا أَبَتاه مِن رَبِّه ما أدناه، يا أَبَتاه إلى جبريلَ أَنْعاه، يا أَبَتاه جنةُ الفردَوس مأواه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4396 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (وصال پر) گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتی تھیں: ہائے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے ابا جان! میں جبریل علیہ السلام کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں، ہائے ابا جان! جنت الفردوس اب ان کا ٹھکانا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،معمر: هو ابن راشد الصَّنْعاني، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 4444] [ترقيم الشركة 4421] [ترقيم العلميه 4396]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَيِّبًا حَيًّا وَمَيِّتًا
نبی کریم ﷺ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی پاکیزہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4445
حدَّثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن نصر الرازي وإبراهيم بن دِيْزِيل، قالا حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا حماد بن زيد، عن معمر، عن الزُّهري، عن سعيد بن المُسيّب، عن علي قال: غسَّلتُ رسولَ الله ﷺ، فجعلتُ أنظرُ ما يكون من الميتِ، فلم أرَ شيئًا، وكان طيبًا حيًّا وميتًا ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4397 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو میں نے ان آثار کو ڈھونڈنا چاہا جو عام طور پر میت کے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں (جیسے تغیر یا ناخوشگواری) مگر میں نے ایسی کوئی چیز نہ دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں بھی نہایت پاکیزہ و معطر تھے اور وفات کے بعد بھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، ولكنه اختلف في وصله وإرساله، والصحيح إرساله كما تقدم بيانه مُفصَّلًا برقم (1355)، إذ تقدم هناك من طريق عبد الواحد بن زياد، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب، قال: قال علي بن أبي طالب … وهو على ثبوت إرساله يُعدُّ من أقوى المراسيل، لجلالة سعيد بن المسيّب.» [ترقيم الرساله 4445] [ترقيم الشركة 4422] [ترقيم العلميه 4397]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. غَسِّلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ
نبی کریم ﷺ کو غسل دیا گیا جبکہ آپ کے کپڑے آپ پر ہی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني يحيى بن عَبَّاد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة، قالت: أردْنا غَسْلَ رسولِ الله ﷺ، فاختلفَ القومُ فيه، فقال بعضُهم: أنُجرِّدُ رسولَ الله ﷺ كما نُجرِّدُ موتانا أو نُغسِّله وعليه ثيابُه؟ فألقى اللهُ عليهم السَّنَةَ، حتى ما منهم رجلٌ إِلَّا نائم ذَقَنُهُ على صَدْره، فقال قائلٌ من ناحية البيت: أما تَدْرون أنَّ رسولَ الله ﷺ يُغَسَّل وعليه ثيابُه؟ فغسَّلوه وعليه قميصُه، يَصُبُّون الماء عليه ويَدلُكُونه من فَوقِه، قالت عائشة: وايمُ اللهِ لو استقبلتُ من أمري ما استدبرتُ، ما غسَّل رسول الله ﷺ إلا نِساؤُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4398 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو لوگوں میں طریقہ کار پر اختلاف ہوا، بعض نے کہا: کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اسی طرح اتاریں گے جیسے ہم اپنے مردوں کے اتارتے ہیں یا انہیں لباس سمیت غسل دیں گے؟ اسی دوران اللہ نے ان پر ایسی غنودگی طاری کر دی کہ ان میں سے ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے پر لٹک گئی (یعنی سب سو گئے)، پھر گھر کے ایک کونے سے کسی غیبی پکارنے والے نے پکار کر کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لباس سمیت غسل دیا جانا چاہیے؟ چنانچہ صحابہ نے آپ کو قمیص سمیت غسل دیا، وہ آپ پر پانی ڈالتے تھے اور قمیص کے اوپر سے ہی جسم مبارک کو ملتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی (یعنی غسل کا یہ طریقہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ازواج کے سوا اور کوئی غسل نہ دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 4446] [ترقيم الشركة 4423] [ترقيم العلميه 4398]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ فِيمَنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى التَّرْتِيبِ
نبی کریم ﷺ کی وصیت کہ ان کے بعد لوگ باری باری ان پر نماز پڑھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
حدَّثنا حمزة بن محمد بن العباس العَقَبي ببغداد، حدَّثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدَّثنا سَلّام بن سليمان المَدائني، حدَّثنا سلّام بن سُليم الطويل، عن عبد الملك بن عبد الرحمن، عن الحسن العُرَني، عن الأشعث بن طَلِيق، عن مُرَّة بن شَراحِيل، عن عبد الله بن مسعود قال: لما ثَقُلَ رسولُ الله ﷺ قلنا: مَن يصلِّي عليك يا رسولَ الله؟ فبَكى وبَكَينا، وقال:"مَهلًا غَفَرَ الله لكم، وجزاكُم عن نَبيِّكم خيرًا، إذا غسلتُموني وحَنَّطْتُموني وكَفَّنْتُموني فضَعُوني على شَفِير قَبْري، ثم اخرُجوا عني ساعةً، فإنَّ أولَ مَن يُصلِّي عليَّ خَليلي وجَليسي جَبْرَائِلُ ومِيكَائِل، ثم إسرافِيلُ، ثم مَلكُ الموت مع جُنودٍ من الملائكة، ثم ليبدأْ بالصلاةِ عَليَّ رجالُ أهلِ بَيتي، ثم نِساؤُهم، ثم ادخُلُوا أفواجًا أفواجًا وفُرادَى، ولا تُؤذوني بباكِيَةٍ ولا بَرَنَّةٍ ولا بصَيحةٍ، ومن كان غائبًا من أصحابي فأبلغوه مني السَّلام، فإني أُشْهِدُكم على أني قد سَلّمتُ على مَن دَخَلَ في الإسلام ومَن تابَعَني على دِيني هذا منذ اليومِ إلى يومِ القيامة" (1) . عبد الملك بن عبد الرحمن الذي في هذا الإسناد مجهولٌ لا نَعْرِفُه بعَدالةٍ ولا جَرْحٍ، والباقُون كلُّهم ثِقاتٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4399 - عبد الملك مجهول
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ پر نمازِ جنازہ کون پڑھے گا؟ آپ رو پڑے اور ہم بھی رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرو، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور تمہارے نبی کی طرف سے تمہیں بہترین جزا عطا کرے، جب تم مجھے غسل دے چکو، خوشبو (حنوط) لگا چکو اور کفن پہنا چکو، تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا، پھر ایک گھڑی کے لیے مجھ سے دور ہو جانا، کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر نماز میرے خلیل اور میرے ہم نشین جبرائیل پڑھیں گے، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر ملک الموت فرشتوں کے لشکر کے ساتھ، اس کے بعد سب سے پہلے میرے اہل بیت کے مرد مجھ پر نماز پڑھیں، پھر ان کی عورتیں، پھر تم گروہ در گروہ اور فرداً فرداً داخل ہونا، اور مجھے رونے والیوں کے بین، چیخ و پکار یا آہ و بکا سے تکلیف نہ پہنچانا، اور میرے صحابہ میں سے جو یہاں موجود نہیں ان تک میرا سلام پہنچا دینا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ہر اس شخص پر سلام بھیجا ہے جو اسلام میں داخل ہوا اور جس نے آج سے لے کر قیامت کے دن تک میرے اس دین پر میری پیروی کی ہے۔
اس سند میں موجود عبدالملک بن عبدالرحمن نامی راوی مجہول ہے، ہم اسے نہ جرح کے حوالے سے جانتے ہیں اور نہ ہی تعدیل کے حوالے سے، جبکہ باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا ومتنُه منكر، سلّام بن سُليم الطويل وسلّام بن سليمان المدائني ضعيفان، لكنهما متابعان، وعبد الملك بن عبد الرحمن: هو الأصبهاني كما جاء منسوبًا في بعض روايات هذا الحديث، وبه جزم أبو نُعيم في "الحلية" 4/ 168، وليس هو الشامي الذي كذّبه الفلّاس كما ظنّه الذهبي في "تلخيصه" ...» [ترقيم الرساله 4447] [ترقيم الشركة 4424] [ترقيم العلميه 4399]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا ومتنُه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. رُؤْيَا عَائِشَةَ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِهَا وَتَعْبِيرُهَا
حضرت عائشہؓ کا خواب کہ تین چاند ان کے حجرے میں گرے اور اس کی تعبیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4448
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدَّثنا بشر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، قال: سمعتُ يحيى بن سعيد يُحدّث عن سعيد بن المسيّب، قال: قالت عائشة: رأيتُ كأنَّ ثلاثةَ أقمارٍ سقطتْ في حُجْرتي، فسألت أبا بكر، فقال: يا عائشةُ، إن تَصدُق رؤياكِ يُدفَنْ في بيتِك خيرُ أهلِ الأرض ثلاثةٌ، فلما قُبض رسولُ الله ﷺ ودُفن، قال لي أبو بكر: يا عائشةُ، هذا خير أقمارِك، وهو أحدُها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وقد كتبناه من حديث أنس بن مالك مسندًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4400 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ گویا تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں روئے زمین کے تین بہترین افراد دفن ہوں گے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور آپ کو دفن کر دیا گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! یہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے ان چاندوں میں سب سے بہتر ہیں اور یہ ان تین میں سے پہلے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4448]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذ إسناد رجاله ثقات لكنه مرسل، فقد رواه إسحاق بن موسى الخَطْمي عن سفيان - وهو ابن عُيينة - عند البيهقيّ في "الدلائل" 7/ 261 بلفظ ظاهر في الإرسال، حيث قال في روايته عن سعيد بن المسيب، قال: عرضتْ عائشة على أبيها رؤيا، وكان أعبَرَ الناسِ …» [ترقيم الرساله 4448] [ترقيم الشركة 4425] [ترقيم العلميه 4400]

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4449
حدَّثنا علي بن حَمْشاذَ، حدَّثنا جُنَيد بن حَكيم الدَّقاق، حدَّثنا موسى بن عبد الله السُّلَمي، حدَّثنا عمر بن سعيد الأبَحّ، عن ابن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أنس، قال: كان النبيُّ ﷺ يُعجِبُه الرؤيا، قال:"هل رأى أحدٌ منكم رؤيا اليومَ؟" قالت عائشة: رأيتُ كأنَّ ثلاثةَ أقمارٍ سَقَطْن في حُجْرتي، فقال لها النبيُّ ﷺ:"إن صَدَقتْ رُؤياكِ دُفِنَ في بيتِك ثلاثةٌ هم أفضلُ - أو خيرُ - أهلِ الأرض". فلما تُوفّي النبيُّ ﷺ ودُفِنَ في بيتها، قال لها أبو بكر: هذا أحدُ أقمارِك وهو خَيرُها. ثم تُوفّي أبو بكر وعمر فدُفِنا في بيتها (1) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے خواب پسند تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آج تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میں نے دیکھا ہے گویا تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں تین ایسی ہستیاں دفن ہوں گی جو روئے زمین کے تمام لوگوں میں سب سے افضل - یا بہترین - ہوں گی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور آپ کو ان کے حجرے میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: یہ تمہارے ان چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہترین ہے، اس کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا بھی انتقال ہوا اور وہ دونوں بھی ان کے حجرے میں دفن ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هو أحد الضعفاء، وتفرَّد به عنه موسى بن عبد الله السُّلمي، لا أدري من هو. قلنا: قد عرَفَه الذهبي في "تاريخ الإسلام 5/ 945، فقد ذكره وذكر جماعةً رووا عنه، فيبقى الشأن في ضعف عمر الأبحّ، وقد قال ابن ...» [ترقيم الرساله 4449] [ترقيم الشركة 4426]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4450
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا حماد بن أسامة، أخبرنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أدخُلُ بيتي الذي فيه رسولُ الله ﷺ وأبي، وأضَعُ ثوبي، وأقولُ: إنما هو زوجي وأبي، فلما دُفن عمرُ معهم، فواللهِ ما دخلتُ إلَّا وأنا مَشدُودةٌ عليَّ ثيابي حَياءً من عمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [كتاب معرفة الصحابة ﵃] أمّا الشيخان فإنهما لم يزيدا على المناقِبِ، وقد بدأنا في أول ذكر الصحابي بمعرفة نسَبه ووفاته، ثم بما يَصِحُّ على شرطهما من مَناقِبه مما لم يُخرجاه، فلم أستغنِ عن ذكر محمد بن عُمر الواقدي وأقرانِه في المعرفة. [أبو بكر بن أبي قُحافة ﵄] فمن فضائل خَليفة رسول الله ﷺ، أبو بكر بن أبي قُحَافة الصِّديق ﵁، ممّا لم يُخرجاه:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے اس گھر میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد (ابوبکر) مدفون ہیں، (پردے کی چادر اتار کر عام لباس میں) داخل ہو جایا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد ہی ہیں، لیکن جب وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن ہوئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی وہاں داخل ہوتی ہوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ کر ہی جاتی ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4450]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عروة: هو ابن الزبير بن العوام.» [ترقيم الرساله 4450] [ترقيم الشركة 4427]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں