المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. كَرَاهِيَةُ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَوْتَى
میت پر نوحہ کرنے کی کراہت
حدیث نمبر: 4401
حدَّثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدَّثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدَّثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثِي، حدَّثنا عَبْثَر، عن حُصَين، عن الشَّعْبي، عن النُّعمان بن بَشير قال: أُغمي على عبد الله بن رَوَاحة فجعلتْ أختُه عَمْرةُ تَبكي: وا أُخيّاهُ، وا كذا وا كذا، تَعُدُّ عليه، فقال حينَ أفاقَ: ما قُلتِ شيئًا إِلَّا قيل لي: آنتَ كذلكَ؟ (2) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4353 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4353 - صحيح
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں اور ان کی خوبیاں گنوا کر بین کرنے لگیں: ”ہائے میرے بھائی! ہائے تم تو ایسے تھے اور ویسے تھے“، جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے بتایا: ”تم نے جو بھی خوبی بیان کی، اس پر (فرشتوں کی جانب سے) مجھ سے بازپرس کی گئی کہ کیا تم واقعی ایسے ہی ہو؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4401]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عَبثَر: هو ابن القاسم، وحُصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلَمي، والشَّعبي: هو عامر بن شَراحيل.» [ترقيم الرساله 4401] [ترقيم الشركة 4378] [ترقيم العلميه 4353]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4402
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: سمعتُ خالد بن الوليد يقول: لقد اندقَّ في يَدِي يومَ مؤتة تسعةُ (1) أسيافٍ، ما بقيَ في يَدِي إلَّا صَفِيحةٌ يَمانِيَةٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتّفق الشيخانِ (3) على حديث حُميد بن هِلال عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ في غزوة مُؤتَة:"أخَذَ الرايةَ زيدُ بن حارثة أخَذَها فأُصِيبَ، ثم أَخَذَها جعفرٌ فأُصِيبَ، ثم أخَذَها عبدُ الله بن رَواحة فأُصِيبَ"، ثم إنَّ رسول الله ﷺ بعثَ خالد بن الوليد إلى مؤتة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4354 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتّفق الشيخانِ (3) على حديث حُميد بن هِلال عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ في غزوة مُؤتَة:"أخَذَ الرايةَ زيدُ بن حارثة أخَذَها فأُصِيبَ، ثم أَخَذَها جعفرٌ فأُصِيبَ، ثم أخَذَها عبدُ الله بن رَواحة فأُصِيبَ"، ثم إنَّ رسول الله ﷺ بعثَ خالد بن الوليد إلى مؤتة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4354 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تیغ باقی بچی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز شیخین نے حمید بن ہلال کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جو غزوہ موتہ کے متعلق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھنڈا زید بن حارثہ نے تھاما اور وہ شہید ہو گئے، پھر اسے جعفر نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اسے عبداللہ بن رواحہ نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے“، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو موتہ کی طرف روانہ فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4402]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز شیخین نے حمید بن ہلال کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جو غزوہ موتہ کے متعلق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھنڈا زید بن حارثہ نے تھاما اور وہ شہید ہو گئے، پھر اسے جعفر نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اسے عبداللہ بن رواحہ نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے“، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو موتہ کی طرف روانہ فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 4402] [ترقيم الشركة 4379] [ترقيم العلميه 4354]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 4403
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدّثني عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزْم، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أم سلمة: أنها قالت لامرأةِ سلمة بن هِشام بن المُغيرة: ما لي لا أرى سلمةَ يَحضُر الصلاةَ مع رسول الله ﷺ ومع المسلمين؟ قالت: والله ما يستطيعُ أن يَخرُجَ، كلّما خَرَجَ صاحَ به الناسُ يا فُرّارُ، أفَرَرتُم في سبيل الله؟! حتى قعدَ في بيتِه فما يَخرُج، وكان في غزوة مُؤتةَ مع خالدِ بن الوليد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4355 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4355 - على شرط مسلم
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ کی اہلیہ سے پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میں سلمہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتے نہیں دیکھتی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! وہ (شرمندگی کے باعث) باہر نہیں نکل سکتے، کیونکہ جب بھی وہ باہر نکلتے ہیں تو لوگ انہیں یہ کہہ کر پکارتے ہیں کہ اے فرار ہونے والو! کیا تم اللہ کی راہ سے بھاگ کر آ گئے ہو؟ اسی طعنے کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور باہر نہیں نکلتے“، واضح رہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں شریک تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4403]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن عامر بن عبد الله بن الزبير لم يسمعه من أم سلمة كما تُوهمه رواية الحاكم هنا، وقد ساق الحاكم إسنادَ هذا الخبر في رواية البيهقيّ عنه في "الدلائل" 4/ 374 بسياقةٍ أضبط مما ساقه هنا، حيث قال: عن عامر بن عبد الله بن الزبير أنَّ ...» [ترقيم الرساله 4403] [ترقيم الشركة 4380] [ترقيم العلميه 4355]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
حدیث نمبر: 4404
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا الواقِديّ، حدَّثنا خالد بن إلياسَ عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: لقد كان بيني وبين ابن عَمٍّ لي كلامٌ فقال: ألا فِرارَك يومَ مُؤتةَ، فما دَريتُ أيَّ شيءٍ أقولُ له (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میرے اور میرے ایک چچا زاد بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو اس نے (مجھے طعنہ دیتے ہوئے) کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جو غزوہ موتہ کے دن فرار ہو گئے تھے؟ اس کی یہ بات سن کر مجھے سمجھ نہ آیا کہ اسے کیا جواب دوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4404]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل الواقدي» [ترقيم الرساله 4404] [ترقيم الشركة 4381]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
27. لَا بُدَّ لِأَهْلِ الْعَسْكَرِ أَنْ يُطِيعُوا قَائِدَهُمْ
لشکر والوں کے لیے اپنے قائد کی اطاعت ضروری ہونا
حدیث نمبر: 4405
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن المُنذر بن ثَعلبة، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرو بن العاص في غزوة ذات السَّلاسل، وفيهم أبو بكر وعمر، فلما انتهَوا إلى مكانِ الحربِ أمَرَهم عَمرو أن لا يُنوِّروا نارًا، فغضبَ عمرُ وهَمَّ أن ينالَ منه، فنهاهُ أبو بكر وأخبره أنه لم يستعملْه رسولُ الله ﷺ عليكَ إِلَّا لِعِلْمِه بالحَرْب، فهَدَأَ عنه عمرُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4357 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4357 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا جبکہ اس لشکر میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو سیدنا عمرو بن العاص نے حکم دیا کہ کوئی شخص آگ نہ جلائے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور ان سے سختی سے نمٹنے کا ارادہ کیا، مگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور سمجھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تم پر محض اس لیے امیر مقرر کیا ہے کیونکہ وہ جنگی چالوں کے ماہر ہیں، تب جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4405]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم لكنه مرسلٌ، وقد وهم الحاكم ﵀ هنا في كتابه هذا في إسناد الخبر في موضعين، فذكر فيه ابنَ إسحاق، ووصلَه بذكر بريدة الأسلمي، وإنما يرويه يونس بن بكير عن المنذر بن ثعلبة مباشرة عن عبد الله بن بريدة مرسلًا، وقد رواه البيهقيّ في "سننه الكبرى" 9/ ...» [ترقيم الرساله 4405] [ترقيم الشركة 4382] [ترقيم العلميه 4357]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم لكنه مرسلٌ
حدیث نمبر: 4406
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزدي، حدَّثنا معاوية بن عمرو، حدَّثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن محمد بن أبي حَفْصة، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبّاس، قال: كان الفتحُ لثلاثَ عشرةَ خَلَتْ من شهرِ رمضانَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4358 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4358 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فتحِ مکہ رمضان المبارک کی تیرہ تاریخ کو ہوئی تھی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن وهم محمد بن أبي حفصة في جعله هذا من قول ابن عبّاس، إنما هو من قول الزُّهْري، فيما جزم به البيهقيُّ في "دلائله" 5/ 23، بدليل رواية معمر عن الزُّهْري عند عبد الرزاق (9738)، ومن طريقه أخرجه مسلم (1113) حيث روى قصة خروج النبي ﷺ ...» [ترقيم الرساله 4406] [ترقيم الشركة 4383] [ترقيم العلميه 4358]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
28. إِنْشَادُ أَبِي سُفْيَانَ فِي إِسْلَامِهِ وَاعْتِذَارُهُ مِمَّا مَضَى
حضرت ابو سفیان کا اسلام لانے کے بعد اپنا کلام پیش کرنا اور سابقہ اعمال پر معذرت کرنا
حدیث نمبر: 4407
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني الزُّهري، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عبّاس، قال: مضى رسولُ الله ﷺ وأصحابه عامَ الفتح حتى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْران في عشرة آلاف من المسلمين، فَسَبَّعتْ سُليمٌ وألَّفتْ مُزَينةُ، وفي كلِّ القبائل عددٌ وإسلامٌ، وأوعَبَ مع رسول الله ﷺ المهاجِرُون والأنصارُ، فلم يَتَخَلّف عنه منهم أحدٌ، وقد عُمِّيتَ الأخبارُ على قُريش، فلا يأتيهم خَبرُ رسولِ اللهِ ﷺ، ولا يَدْرُون ما هو صانعٌ. وكان أبو سفيان بن الحارث وعبدُ الله بن أبى أُميّة بن المغُيرة قد لَقِيا رسولَ الله ﷺ بثَنِيّةِ (1) العُقاب فيما بين مكة والمدينة، فالْتَمَسا الدخولَ عليه، فكلّمَتْه أمُّ سلمة، فقالت: يا رسول الله، ابن عَمِّك وابن عَمَّتِك وصِهْرُك، فقال:"لا حاجةُ لي فيهم، أما ابن عَمِّي فهَتَكَ عِرْضِي، وأما ابن عمّتي وصِهْري فهو الذي قال لي بمكة ما قالَ"؛ فلما خرج الخبرُ إليهما بذلك، ومع أبي سفيان بن الحارث ابنٌ له فقال: والله لَيأْذَنَنَّ رسولُ ﷺ أو لأخُذَنّ بيَدِ ابني هذا، ثم لَنَذْهَبنّ في الأرض حتى نموتَ عَطَشًا أو جُوعًا، فلما بلغ ذلك رسول الله ﷺ رقَّ لهما، فدخَلا عليه. فأنشدَه أبو سفيان قولَه في إسلامِه واعتذارِه ممّا كان مَضى منه، فقال: لَعَمرُكَ إني يومَ أحملُ رايةً … لتَغلِبَ خَيلُ اللَّاتِ خَيلَ محمدِ لَكالمُدْلِجِ الحَيرانِ أظْلَمَ لَيلُهُ … فهذا أَوانُ الحقِّ أُهدَى وأَهتَدِي فقُل لثَقِيفٍ: لا أريدُ قِتالَكم … وقُل لثَقِيفٍ: تلك عندي فأوعِدِ هدانيَ هادٍ غيرُ نفسِي ودَلَّني … إلى الله مَن طَرَّدتُ كلَّ مُطَرَّدِ أَفِرُّ سريعًا جاهدًا عن محمدٍ … وأُدعى ولو لم أَنتَسِبْ لمحمّدِ همُ عُصبةٌ مَن لم يَقُلْ بِهَواهُمُ … وإن كان ذا رأي يُلَمْ ويُفنَّدِ أريدُ لِأُرضِيهِمْ ولستُ بِلائطٍ (1) … معَ القومِ ما لم أُهدَ في كلِّ مَقعَدِ فما كنتُ في الجيش الذي نالَ عامرًا … ولا كَلَّ عن خَيرٍ لِساني ولا يَدي قَبائلُ جاءتْ من بلادٍ بعيدةٍ … تَوابِعُ جاءت من سِهامٍ وسُرْدَدِ (2) وإنَّ الذي أخرجتُمُ وشَتمتُمُ … سيَسْعى لكُم سَعْيَ امرئٍ غيرِ قُعْدُدِ قال (3) : فلما أَنشَدَ رسولَ الله ﷺ: إلى الله مَن طَرّدتُ كلَّ مُطرَّدِ، ضربَ رسولُ الله ﷺ في صَدْرِه، فقال:"أنت طَرَّدتني كلَّ مُطرَّدٍ". قال ابن إسحاق: ماتت أم رسول الله ﷺ بالأبْواء، وهي تَزُور أخوالَها من بني النَّجّار (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وأبو سفيان بن الحارث أخو رسول الله ﷺ من الرَّضاعة أرضَعَتْهما حليمةُ، وابنُ عمِّه، ثم عامَلَ النبيَّ ﷺ بمعامَلاتٍ قَبيحةٍ وهَجَاه غيرَ مرةٍ، حتى أجابه حسّان بن ثابت بقصيدته التي يقول فيها: هَجَوتَ محمدًا وأجَبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ الحديث والقصيدة بطولهما مخرّج في الصحيح لمسلم رحمه الله تعالى (1) ، وقد كان حسانُ بن ثابت يستأذنُ رسول الله ﷺ أَن يَهجُوَه، فلا يأذنُ له (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4359 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وأبو سفيان بن الحارث أخو رسول الله ﷺ من الرَّضاعة أرضَعَتْهما حليمةُ، وابنُ عمِّه، ثم عامَلَ النبيَّ ﷺ بمعامَلاتٍ قَبيحةٍ وهَجَاه غيرَ مرةٍ، حتى أجابه حسّان بن ثابت بقصيدته التي يقول فيها: هَجَوتَ محمدًا وأجَبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ الحديث والقصيدة بطولهما مخرّج في الصحيح لمسلم رحمه الله تعالى (1) ، وقد كان حسانُ بن ثابت يستأذنُ رسول الله ﷺ أَن يَهجُوَه، فلا يأذنُ له (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4359 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے یہاں تک کہ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ ”مر الظہران“ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، قبیلہ بنو سلیم کی تعداد سات سو اور بنو مزینہ کی ایک ہزار تھی، اور تمام قبائل میں قابلِ ذکر تعداد اور اسلام کی روح موجود تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام مہاجرین اور انصار جمع تھے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہا تھا، جبکہ قریش سے خبریں پوشیدہ رکھی گئی تھیں، لہٰذا ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خبر نہیں پہنچ رہی تھی اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرنے والے ہیں، اسی دوران ابو سفیان بن حارث اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ”ثنیہ العقاب“ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہوئے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے چچا زاد، پھوپھی زاد اور برادرِ نسبتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں، جہاں تک میرے چچا زاد ابو سفیان کا تعلق ہے تو اس نے میری ہتکِ عزت کی ہے، اور جہاں تک میرے پھوپھی زاد اور برادرِ نسبتی عبداللہ کا تعلق ہے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے مکہ میں مجھ سے وہ گستاخانہ باتیں کہی تھیں جو کہی تھیں“، جب یہ خبر ان دونوں تک پہنچی، اور ابو سفیان بن حارث کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا، تو ابو سفیان نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں گے یا پھر میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں نکل جاؤں گا یہاں تک کہ ہم پیاس یا بھوک سے مر جائیں، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ کے دل میں ان کے لیے نرمی پیدا ہو گئی اور انہیں حاضری کی اجازت دے دی، پھر ابو سفیان نے اپنے اسلام لانے اور ماضی کی باتوں پر معذرت پیش کرنے کے حوالے سے یہ اشعار پڑھے: ”تیری زندگی کی قسم! جس دن میں نے کفار کا جھنڈا اٹھایا تھا تاکہ لات کے شہسوار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسواروں پر غالب آ جائیں، تو میری مثال اس حیران و پریشان مسافر کی سی تھی جو اندھیری رات میں بھٹک رہا ہو، مگر اب حق کا وقت آ گیا ہے کہ مجھے راہ دکھائی جائے اور میں ہدایت پا لوں، قبیلہ ثقیف سے کہہ دو کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا اور ان سے کہہ دو کہ میرا یہ ارادہ تم پر واضح ہے، مجھے اللہ کی طرف اس ہادی نے راہ دکھائی جسے میں نے ہر جگہ سے دور بھگایا تھا، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور بھاگنے کی بھرپور کوشش کرتا تھا اور مجھے پکارا جاتا تھا حالانکہ میں نے اپنی نسبت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی تھی، وہ ایسی جماعت ہے کہ جو ان کی مرضی کے مطابق بات نہیں کرتا اسے ملامت کی جاتی ہے اور بے وقوف قرار دیا جاتا ہے چاہے وہ صاحبِ رائے ہی کیوں نہ ہو، میں انہیں راضی کرنا چاہتا ہوں اور میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں تھا جنہوں نے عامر پر حملہ کیا تھا، اور نہ ہی میری زبان اور ہاتھ کسی بھلائی سے تھکے ہیں، وہ قبائل جو دور دراز علاقوں سے آئے ہیں اور وہ لشکر جو سہام اور سردد سے آئے ہیں، اور یقیناً وہ ہستی جنہیں تم نے نکال دیا اور برا بھلا کہا، وہ تمہارے لیے ایسی جدوجہد کریں گے جو سست اور کاہل شخص کی نہیں ہوتی“، راوی کہتے ہیں: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ مصرع پڑھا کہ اللہ کی طرف اس ہادی نے راہ دکھائی جسے میں نے ہر جگہ سے دور بھگایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”ہاں! تم نے ہی مجھے ہر جگہ سے دور بھگایا تھا“۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ”ابواء“ کے مقام پر ہوا تھا جب وہ بنو نجار میں اپنے ننھیال کی زیارت کے لیے جا رہی تھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ابو سفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے کیونکہ حلیمہ سعدیہ نے ان دونوں کو دودھ پلایا تھا، اور وہ آپ کے چچا زاد بھی تھے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور کئی بار آپ کی ہجو بیان کی، یہاں تک کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے اس مشہور قصیدے میں انہیں جواب دیا جس میں وہ کہتے ہیں: ”تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اور میں نے ان کی طرف سے جواب دیا، اور اس کا بدلہ اللہ کے پاس ہے“، یہ حدیث اور قصیدہ طویل ہے اور امام مسلم کی صحیح میں مروی ہے، اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو سفیان کی ہجو کی اجازت مانگا کرتے تھے مگر آپ انہیں اجازت نہیں دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4407]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ابو سفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے کیونکہ حلیمہ سعدیہ نے ان دونوں کو دودھ پلایا تھا، اور وہ آپ کے چچا زاد بھی تھے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور کئی بار آپ کی ہجو بیان کی، یہاں تک کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے اس مشہور قصیدے میں انہیں جواب دیا جس میں وہ کہتے ہیں: ”تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اور میں نے ان کی طرف سے جواب دیا، اور اس کا بدلہ اللہ کے پاس ہے“، یہ حدیث اور قصیدہ طویل ہے اور امام مسلم کی صحیح میں مروی ہے، اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو سفیان کی ہجو کی اجازت مانگا کرتے تھے مگر آپ انہیں اجازت نہیں دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وقد صحَّحه الحافظُ ابن حجر في "المطالب العالية" (4301).» [ترقيم الرساله 4407] [ترقيم الشركة 4384] [ترقيم العلميه 4359]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
29. اسْتِجَارَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ وَشَفَاعَتُهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد اللہ بن ابی سرح کا حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لینا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کی سفارش کرنا
حدیث نمبر: 4408
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا أبو داود سليمان بن الأَشْعث، حدَّثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدّثني أحمد بن المفضّل، حدَّثنا أسباطُ ابن نَصْر، قال: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عن مُصعب بن سَعْد، عن سعدٍ قال: لما كان يومُ فتح مَكةَ اختَبأ عبدُ الله بن سَعْد بن أبي سَرْحٍ عند عثمان بن عفان، فجاءَ به حتى أوقَفَه على النبيّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، بايعْ عبدَ الله، فرفع رأسَه فنَظَر إليه ثلاثًا، ثم أقبَلَ على أصحابِه، فقال:"أما كان فيكُم رجلٌ رَشِيدٌ يقومُ إلى هذا حين رآني كَفَفْتُ يدي عن بَيعَتِه فيَقْتُلَه؟" فقالوا: ما نَدري يا رسول الله ما في نفسك، ألَا أَومأْتَ إلينا بعَينِك؟ فقال:"إنه لا يَنبَغي لِنبي أن تكون له خائنةُ الأَعيُنِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب مکہ کی فتح کا دن تھا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر سیدنا عثمان اسے لے کر آئے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تین بار اس کی طرف دیکھا، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی ایسا نہ تھا جو اس وقت کھڑا ہوتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس سے بیعت لینے کے لیے اپنا ہاتھ روک لیا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے، آپ نے ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ اس کی آنکھیں خائن یعنی اشارہ کرنے والی ہوں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4408]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسباط بن نَصْر والسُّدِّي: واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كَريمة. وهو في "سنن أبي داود" (2683) و (4359).» [ترقيم الرساله 4408] [ترقيم الشركة 4385] [ترقيم العلميه 4360]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4409
حدثناه بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدَّثنا إبراهيم بن هلال، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحُسين بن واقِد، عن يزيد النَّحوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عبدُ الله بن أبي سَرْح يكتب لرسولِ الله ﷺ، فأزلَّه الشيطان فلَحِقَ بالكُفّار، فأمر به رسولُ الله ﷺ أن يُقتل، فاستجارَ له عثمانُ فأجارَه رسولُ الله ﷺ (2) . صحيح على شرط البخاريّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (وحی) لکھا کرتے تھے، پھر شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کر دیا اور وہ کافروں سے جا ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4409]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال» [ترقيم الرساله 4409] [ترقيم الشركة 4386] [ترقيم العلميه 4361]
الحكم على الحديث: حديث قوي
حدیث نمبر: 4410
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني شُرَحْبيل بن سَعْد، قال: نزلتْ في عبد الله بن أبي سَرْحٍ: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [الأنعام: 93] ، فلما دخَلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ فَرَّ إلى عثمان بن عفان، وكان أخاه من الرَّضاعة، فَغَيَّبه عنده حتى اطمأن أهل مكة، ثم أتى به رسول الله ﷺ فاستأمَنَ (1) . قال الحاكم: قد صحّتِ الرواية في الكتابَين (2) أنَّ رسول الله ﷺ أمرَ قبلَ دخولِه مكةَ بقتلِ عبد الله بن سَعْد وعبد الله بن خَطَل، فمن نَظَر في مَقتَل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان وجِنايات عبد الله بن سَعْد عليه بمصر إلى أن كان من أمرِه ما كان، عَلِمَ أَنَّ النبيّ ﷺ كان أعرفَ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شرحبیل بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ ”اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا یہ کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو، اور جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کر دوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے“ [سورة الأنعام: 93] ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف بھاگ گیا، وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے اسے اپنے پاس چھپائے رکھا یہاں تک کہ اہل مکہ کو اطمینان ہو گیا، پھر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور انہوں نے امان طلب کی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پس جو شخص امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور مصر میں عبداللہ بن سعد کی ان کے خلاف کی گئی زیادتیوں پر نظر ڈالے گا یہاں تک کہ ان کا جو انجام ہوا سو ہوا، وہ جان لے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (کے شر) سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4410]
امام حاکم فرماتے ہیں: دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پس جو شخص امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور مصر میں عبداللہ بن سعد کی ان کے خلاف کی گئی زیادتیوں پر نظر ڈالے گا یہاں تک کہ ان کا جو انجام ہوا سو ہوا، وہ جان لے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (کے شر) سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف شُرَحْبيل بن سَعْد، وهو تابعي فخبره هذا مُرسَل، على أنَّ قصة ابن أبي سرح قد صحَّت من غير هذا الطريق كما في الحديثين المتقدمين قبله.» [ترقيم الرساله 4410] [ترقيم الشركة 4387] [ترقيم العلميه 4362]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف شُرَحْبيل بن سَعْد