🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب فِي نَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ
باب: تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ. وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً، فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَهَا"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ.
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ (خرچ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نفقہ نہیں ہے“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2285]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”ابوحفص بن مغیرہ نے مجھے تین طلاقیں دیں۔“ اور پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید اور بنو مخزوم کے اور بھی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! ابوحفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور بہت تھوڑا سا خرچ اس کے لیے چھوڑ گیا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی خرچہ نہیں ہے۔“ اور حدیث بیان کی، اور مالک رحمہ اللہ کی (مذکورہ بالا) روایت اس سے زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تین طلاق دی ہوئی عورت کے لئے نہ نفقہ ہے، اور نہ سکنی (رہائش)، نفقہ و سکنی رجعی طلاق میں ہے، اس امید میں کہ شاید شوہر کے دل کے اندر رجوع کی بات پیدا ہو جائے، اور رجوع کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2286
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو،عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَخَبَرَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَال: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَلَا مَسْكَنٌ"، قَالَ فِيهِ: وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش“، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2286]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اور حدیث بیان کی اور خالد بن ولید کی بات بھی۔ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے خرچہ نہیں ہے اور نہ کوئی سکنیٰ ہے۔“ (شوہر کے ذمے نہیں ہے۔) اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ”اپنے بارے میں میرے مشورے کے بغیر جلدی میں کوئی فیصلہ نہ کر لینا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 2284، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مجھ سے پوچھے بغیر شادی نہ کر لینا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2285)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ فِيهِ:" وَلَا تُفَوِّتِينِي بِنَفْسِكِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَ الْبَهِيُّ وَ عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَاصِمٍ وَ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، كُلُّهُمْ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ”انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی“ (نہ کہ طلاق بتہ)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2287]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”میں بنی مخزوم کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی تو اس نے مجھے طلاق «بَتَّةً» دے دی (تین طلاقیں)“ اور (اس باب کی پہلی حدیث) مالک کی روایت کی مانند بیان کیا۔ اس روایت میں کہا: ”مجھے بتائے بغیر اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر لینا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعبی بھی اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور اسی طرح ابوبکر بن ابی جہم ان سب نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی تھیں۔ (ان حضرات کی روایت میں «بَتَّةً» کا ذکر نہیں ہے۔)“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2284)، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (2284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ،" أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا، اور نہ ہی رہائش دلائی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2288]
شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ ”ان کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے کوئی خرچہ اور رہائش (شوہر پر) لازم نہیں کی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 6(1480)، سنن الترمذی/الطلاق 5 (1180)، سنن النسائی/الطلاق 72 (3581)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 10 (2036)، (تحفة الأشراف: 18025)، وقد أخرجہ: دی/الطلاق 10 (3220) ویأتی ہذا الحدیث برقم (2291) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1480)
انظر الحديث السابق (2284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَأَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَاسْمُ أَبِي حَمْزَةَ دِينَارٌ وَهُوَ مَوْلَى زِيَادٍ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا ۱؎۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2289]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ ابو حفص بن مغیرہ کی زوجیت میں تھی تو اس نے اسے آخری تیسری طلاق دے دی۔ پھر وہ کہتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”کیا وہ اپنے گھر سے چلی جائے (شوہر کے گھر سے)؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”ابن ام مکتوم نابینا کے گھر منتقل ہو جائے۔“ مگر مروان نے فاطمہ کی اس بات کی، کہ ”مطلقہ اپنے گھر سے نکل سکتی ہے،“ تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس پر انکار کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”صالح بن کیسان، ابن جریج اور شعیب بن ابی حمزہ سب زہری سے اسی طرح روایت کرتے ہیں (جیسے عقیل نے کی ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”شعیب کے والد ابوحمزہ کا نام دینار ہے جو زیاد کا مولیٰ تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2284)، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلقہ کا عدت گزارنے کے لئے گھر سے نکل کر کسی اور جگہ رہنا درست نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت لاحق ہو جائے مثلا کرائے کا مکان ہو، اور کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو، یا مکان گر پڑے، یا مالک مکان جبرا نکال دے، یا علاج و معالجہ کی ضرورت ہو، یا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى فَاطِمَةَ فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْنِي عَلَى بَعْضِ الْيَمَنِ، فَخَرَجَ مَعَهُ زَوْجُهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ لَهَا، وَأَمَرَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَنْ يُنْفِقَا عَلَيْهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا"، وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: أَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ"، وَكَانَ أَعْمَى، تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يُبْصِرُهَا، فَلَمْ تَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى مَضَتْ عِدَّتُهَا فَأَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ، فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ، فَسَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّه، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ حَتَّى لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1، قَالَتْ: فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَأَمَّا الزُّبَيْدِيُّ، فَرَوَى الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا، حَدِيثَ عُبَيْدِ اللهِ بمَعْنى مَعْمَرٍ، وَحَدِيثَ أَبي سلَمَةَ بمَعْنى عَقِيلٍ. قال أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ مُحمَّدُ بنُ إِسْحاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ، بِمَعْنًى دَلَّ عَلَى خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حِينَ قَالَ: فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور آپ سے دریافت کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو“، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے“، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ تو قبیصہ ۱؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے «فطلقوهن لعدتهن»، «لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» ۲؎ تک ”یعنی خاوند کا دل مائل ہو جائے اور رجوع کر لے“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی؟ ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2290]
عبیداللہ (بن عبداللہ بن عتبہ) سے مروی ہے کہ مروان نے فاطمہ (بنت قیس) رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور ان سے پوچھوایا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص کی زوجیت میں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کے کچھ حصے کا عامل بنایا، تو ان کا شوہر بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا اور ان کو طلاق کا پیغام دے گیا، وہ طلاق جو ان کی باقی تھی (تیسری طلاق) اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو کہہ گیا کہ ان کو خرچ دینا، تو ان دونوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اس کے لیے کوئی خرچہ نہیں الا یہ کہ حاملہ ہو۔“ تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کوئی خرچہ نہیں الا یہ کہ تو حاملہ ہو۔“ پھر انہوں نے اجازت چاہی کہ (اس گھر سے) منتقل ہو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ کہنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول! میں کہاں رہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ امِ مکتوم کے ہاں۔“ اور وہ نابینا تھے (کسی وقت) یہ اپنے کپڑے اتار بھی دیتی تو دیکھ نہ سکتے تھے۔ پھر وہ ان کے ہاں رہیں حتیٰ کہ ان کی عدت پوری ہو گئی۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا۔ قبیصہ، مروان کے پاس واپس آیا اور یہ ساری خبر بتائی۔ تو مروان نے کہا: ”ہم ایک عورت سے یہ حدیث سن رہے ہیں اور ہم وہی محفوظ اور قابل اعتماد بات قبول کریں گے جس پر لوگوں کا عمل ہے۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: ”میرے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ فیصل ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] حتیٰ کہ ﴿لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ [سورة الطلاق: 1] ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”بھلا تیسری طلاق کے بعد کون سا نیا معاملہ ہو گا؟“ (رجوع کا موقع ہی نہیں رہا تو نیا معاملہ کیسے ہو سکتا ہے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت یونس نے بھی زہری سے اسی طرح بیان کی ہے۔ اور (محمد بن ولید) زبیدی نے دونوں روایتیں بیان کی ہیں۔ عبیداللہ کی روایت معمر کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی عقیل کے ہم معنی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: محمد بن اسحٰق نے زہری سے روایت کی ہے مگر اس میں قبیصہ بن ذویب نے اس کو بالمعنی نقل کیا ہے۔ اس کی دلیل عبیداللہ بن عبداللہ کی روایت ہے جس میں ہے کہ ”پھر قبیصہ، مروان کے پاس واپس آیا اور یہ ساری خبر بتائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/414) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ آگے اس کی تصریح آ رہی ہے۔
۲؎: انہیں ان کی عدت میں یعنی طہر کے شروع میں طلاق دو، اور مدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے، اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ تعالی کوئی نئی بات پیدا کر دے۔
۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نہ نکلنا یا نہ نکالنا صرف پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1480)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2291
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ مَعَ الْأَسْوَدِ، فَقَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا كُنَّا لِنَدَعَ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي أَحَفِظَتْ ذَلِكَ أَمْ لَا".
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ (اصل بات) یاد بھی ہے یا بھول گئی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2291]
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ (کوفہ کی) جامع مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کے بیان پر نہیں چھوڑ سکتے، نہ معلوم اس نے یاد بھی رکھا ہے یا نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2288) (تحفة الأشراف: 10405، 18025) (صحیح موقوف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کتاب اللہ سے مراد سورہ طلاق کی آیت «لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» ، اور سنت سے مراد عمر رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ مطلقہ ثلاثہ کو نفقہ اور سکنی ملے گا، لیکن یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1480)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَقَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2292]
ہشام بن عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت پر بہت سخت عیب لگایا ہے (انکار کیا ہے) یعنی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر اور کہا کہ ”فاطمہ بنت قیس ایک خالی مکان میں رہائش پذیر تھی اور اس طرف سے کوئی خطرہ سا بھی تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو (گھر تبدیل کرنے کی) رخصت عنایت فرمائی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطلاق 41 (5326)تعلیقاً، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2032)، (تحفة الأشراف: 17018) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2032 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قِيلَ لِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ؟ قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2293]
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ ”کیا آپ کو فاطمہ کی بات معلوم نہیں ہوئی؟“ تو انہوں نے کہا: ”اس بات کو ذکر کرنے میں اس کے لیے خیر نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود،، (تحفة الأشراف: 16380) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5325، 5326) صحيح مسلم (1481)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ، قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ".
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں: یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2294]
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے گھر تبدیل کرنے کے سلسلے میں سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”یہ اس کی بدخلقی کی وجہ سے تھا۔“ (زبان کی تیز تھیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18023) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ روایت مرسل ہے، سلیمان بن یسار تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل مع عنعنة الثوري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں