🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب فِي ادِّعَاءِ وَلَدِ الزِّنَا
باب: ولد الزنا کے مدعی ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ أَشْبَعُ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ، فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ بِهِ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جس لڑکے کو اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس باپ سے ملایا جائے جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اور باپ کے وارث اسے اپنے سے ملانے کا دعویٰ کریں تو اگر اس کی پیدائش ایسی لونڈی سے ہوئی ہے جو صحبت کے دن اس کے ملکیت میں رہی ہو تو ملانے والے سے اس کا نسب مل جائے گا اور جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گیا ہے اس میں اس کو حصہ نہ ملے گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا ہے اس میں اسے حصہ دیا جائے گا، لیکن جس باپ سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے (اپنی زندگی میں اس کے بیٹا ہونے سے) انکار کیا ہو تو وارثوں کے ملانے سے وہ نہیں ملے گا، اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ اس کا وارث ہو گا گرچہ جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اسی نے (اپنی زندگی میں) اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ زنا کی اولاد ہے آزاد عورت سے ہو یا لونڈی سے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2265]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”ایسا بچہ جس کے متعلق باپ کی وفات کے بعد دعویٰ کیا گیا ہو، جبکہ باپ اپنی زندگی میں اس کا مدعی رہا ہو اور بعد میں اس کے وارثوں نے بھی اس کا دعویٰ کیا ہو، تو اگر بچہ ایسی لونڈی کے بطن سے ہو کہ مباشرت کے روز وہ اس مدعی کی ملکیت میں تھی، تو یہ بچہ اس کے ساتھ ملحق ہو گا جس کے ساتھ الحاق کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اور مالِ وراثت جو الحاق سے پہلے تقسیم ہو چکا، اس میں اس بچے کا حق نہ ہو گا مگر باقی ماندہ میں اپنا حصہ پائے گا۔ لیکن اگر اس باپ نے، جس کی طرف لاحق کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہو، اس کا انکار کیا ہو تو اس کے ساتھ ملحق نہ ہو گا۔ اور اگر بچہ کسی ایسی لونڈی سے ہو جو اس مدعی باپ کی ملکیت نہ تھی یا کسی آزاد عورت سے ہو جس کے ساتھ اس نے زنا کیا تھا، تو بھی اس کے ساتھ اس بچے کو ملحق نہ کیا جائے گا اور نہ وارث ہو گا، اگرچہ جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے وہ اس کا مدعی بھی ہو۔ ایسا بچہ «وَلَدُ الزِّنَا» ”ولد الزنا“ ہو گا، کسی آزاد عورت سے ہو یا لونڈی سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفرائض 14 (2746)، (تحفة الأشراف: 8712)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 181، 219)، سنن الدارمی/الفرائض 45 (3154) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3318)
أخرجه ابن ماجه (2746 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2266
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ:" وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً، وَذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى".
اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکا اس سے کچھ سروکار نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2266]
محمد بن راشد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس مذکورہ حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا: ”یہ ولد الزنا ہو گا اور اپنی ماں کے اہل کی ملکیت ہو گا خواہ کوئی ہوں، آزاد عورت ہو یا کوئی لونڈی۔ اور یہ فیصلے اسلام کے اولین دور میں ہوئے تھے۔ اور جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکے، وہ ہو چکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8712) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2265)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب فِي الْقَافَةِ
باب: قیافہ جاننے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ وَ ابْنُ السَّرْحِ: يَوْمًا مَسْرُورًا، وَقَالَ عُثْمَانُ: يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيْ عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَ أُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا؟" فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس (مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے (اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2267]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بڑے خوش خوش میرے ہاں تشریف لائے۔ عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا کچھ معلوم ہوا کہ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کو دیکھا جبکہ وہ دونوں ایک چادر سے اپنے سر ڈھانپے (لیٹے) ہوئے تھے اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو مجزز نے کہا: «إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ» ”بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں۔ (باپ بیٹے کے ہیں)““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا اسامہ سیاہ رنگ کے تھے اور سیدنا زید سفید رنگ کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 23 (3555)، وفضائل الصحابة 17 (3731)، والفرائض 31 (6770)، صحیح مسلم/الرضاع 11 (1459)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 51 (3523، 3524)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 21 (2349)، (تحفة الأشراف: 16433)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/82، 226) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خوشی کی وجہ یہ تھی کہ لوگ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں ایسی باتیں کہتے تھے جنہیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکلیف ہوتی تھی، زید گورے چٹے آدمی تھے اور اسامہ کا رنگ کالا تھا اس لئے لوگ شک کرتے تھے کہ اسامہ زید کے بیٹے ہیں یا کسی اور کے جب اس قیافہ شناس مجزز مدلجی نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ان دونوں کے پیر ملتے جلتے ہیں تو آپ کو اس سے بے حد خوشی ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6771) صحيح مسلم (1459)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ، لَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَسَارِيرُ وَجْهِهِ هُوَ تَدْلِيسٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ، إِنَّمَا سَمِعَ الْأَسَارِيرَ مِنْ غَيْرِ الْزُهْرِيِّ. قَالَ: وَالْأَسَارِيرُ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ، يَقُولُ: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ شَدِيدَ السَّوَادِ مِثْلَ الْقَارِ، وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ مِثْلَ الْقُطْنِ.
اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے، ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے «أسارير وجهه» کے بجائے «لأسارير من غير» کے الفاظ سنے ہیں اور «أسارير» کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ۱؎ اور زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2268]
ابن شہاب نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دھاریاں چمک رہی تھیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اسامہ سیاہ اور زید رضی اللہ عنہ سفید رنگ کے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «أَسَارِيرُ وَجْهِهِ» کا لفظ ابن عیینہ نے یاد نہیں رکھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «أَسَارِيرُ وَجْهِهِ» کے الفاظ ابن عیینہ کی تدلیس ہے، جو کہ انہوں نے زہری سے نہیں سنے بلکہ کسی اور سے سنے ہیں، یہ الفاظ لیث وغیرہ کی روایت میں آئے ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”احمد بن صالح کہا کرتے تھے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ انتہائی کالے رنگ کے تھے جیسے کہ تارکول ہو اور زید رضی اللہ عنہ سفید رنگ کے تھے جیسے کہ روئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16581) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ان کی والدہ جن کا نام برکۃ تھا اور کنیت ام ایمن تھی بہت کالی اور حبشی خاتون تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6771) صحيح مسلم (1459)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب مَنْ قَالَ بِالْقُرْعَةِ إِذَا تَنَازَعُوا فِي الْوَلَدِ
باب: ایک لڑکے کے کئی دعویدار ہوں تو قرعہ ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ وَقَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمَا: طِيبَا بِالْوَلَدِ، لِهَذَا فَغَلَيَا، ثُمَّ قَالَ لِاثْنَيْنِ: طِيبَا بِالْوَلَدِ، لِهَذَا فَغَلَبَا، ثُمَّ قَالَ لِاثْنَيْنِ: طِيبَا بِالْوَلَدِ، لِهَذَا فَغَلَبَا، فَقَالَ:" أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَمَنْ قُرِعَ فَلَهُ الْوَلَدُ وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ"، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلَهُ لِمَنْ قُرِعَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ أَوْ نَوَاجِذُهُ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر (پاکی) میں جماع کیا تھا، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”تم تو باہم ضد کرنے والے ساجھی دار ہو لہٰذا میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام کا قرعہ نکلے گا، لڑکا اسی کو ملے گا اور وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے گا“، آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کا نام نکلا اس کو لڑکا دے دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں یا کچلیاں نظر آنے لگیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2269]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ یمن کا ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ تین یمنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کا ایک بچے کے بارے میں تنازع تھا۔ وہ تینوں کسی عورت پر ایک ہی طہر میں واقع ہوئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا: ”اپنی خوشی سے اس تیسرے کے حق میں دست بردار ہو جاؤ“، تو وہ دونوں چیخ پڑے (اور راضی نہ ہوئے۔) پھر انہوں نے دوسرے دو آدمیوں سے کہا: ”اپنی خوشی سے اس تیسرے کے حق میں دست بردار ہو جاؤ“، تو وہ راضی نہ ہوئے۔ پھر انہوں نے دوسرے دو آدمیوں سے کہا کہ ”اپنی خوشی سے اس تیسرے کے حق میں دست بردار ہو جاؤ“، تو انہوں نے بھی انکار کر دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم باہم ضد رکھنے والے شریک ہو۔ میں تمہارے درمیان قرعہ ڈالتا ہوں، جس کے نام کا قرعہ نکل آیا بچہ اسی کا ہو گا اور اس پر واجب ہو گا کہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو دیت کا تیسرا تیسرا حصہ ادا کرے“۔ چنانچہ انہوں نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اس کو دے دیا جس کے نام کا قرعہ نکلا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بہت) ہنسے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں نمایاں ہو گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطلاق 50 (3519)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2348)، (تحفة الأشراف: 3669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/473) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الأجلح حسن الحديث وثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِثَلَاثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، حَتَّى سَأَلَهُمْ جَمِيعًا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ، قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی (ایک لڑکے کے لیے جھگڑا لے کر) آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا اسے (تیسرے کو) دے سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس طرح آپ نے سب سے دریافت کیا، اور سب نے نفی میں جواب دیا، چنانچہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور جس کا نام نکلا اسی کو لڑکا دے دیا، نیز اس کے ذمہ (دونوں ساتھیوں کے لیے) دو تہائی دیت مقرر فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ آیا تو آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2270]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں کا معاملہ لایا گیا جبکہ وہ یمن میں عامل تھے، وہ تینوں ایک عورت پر ایک طہر میں واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے دو سے پوچھا: ”کیا تم اس تیسرے کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں!“ حتیٰ کہ انہوں نے سب سے پوچھا۔ جب بھی دو سے پوچھتے، وہ نفی میں جواب دیتے تو انہوں نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اس کو دے دیا جس کے نام کا قرعہ نکلا اور اس پر دو تہائی دیت بھی لازم کر دی۔ چنانچہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ اس پر ہنسے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطلاق 50 (3518)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2348)، (تحفة الأشراف: 3670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/373) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2269)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْخَلِيلِ، أَوْ ابْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ:" أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلَاثَةٍ، نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ، وَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ".
خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور نہ (علی رضی اللہ عنہ کے) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے (تیسرے کو) دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2271]
خلیل یا ابن خلیل سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس نے تین مردوں سے بچہ جنم دیا (تینوں نے اس سے صحبت کی تھی) اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا۔ اس روایت میں یمن کا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں اور نہ یہ ہے کہ ”خوشی خوشی بچے سے دست بردار ہو جاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2269)، (تحفة الأشراف: 3669) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی الخلیل لین الحدیث ہیں، ان کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2269)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب فِي وُجُوهِ النِّكَاحِ الَّتِي كَانَ يَتَنَاكَحُ بِهَا أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ
باب: زمانہ جاہلیت والوں کے نکاحوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَكَانَ مِنْهَا: نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا: أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِنْ أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَيَالٍ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدْتُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلَانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا، كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ يَكُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ، ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَهُ، وَدُعِيَ ابْنَهُ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلَّا نِكَاحَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ الْيَوْمَ".
محمد بن مسلم بن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں چار قسم کے نکاح ہوتے تھے: ایک تو ایسے ہی جیسے اس زمانے میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی بہن یا بیٹی وغیرہ کے لیے نکاح کا پیغام دیتا ہے وہ مہر ادا کرتا ہے اور نکاح کر لیتا ہے۔ نکاح کی دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے حیض سے پاک ہونے کے بعد کہہ دیتا کہ فلاں شخص کو بلوا لے، اور اس کا نطفہ حاصل کر لے پھر وہ شخص تب تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کرتا جب تک کہ مطلوبہ شخص سے حمل نہ قرار پا جاتا، حمل ظاہر ہونے کے بعد ہی وہ چاہتا تو اس سے جماع کرتا، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ لڑکا نجیب (عمدہ نسب کا) ہو، اس نکاح کو نکاح استبضاع (نطفہ حاصل کرنے کا نکاح) کہا جاتا تھا۔ نکاح کی تیسری قسم یہ تھی کہ نو افراد تک کا ایک گروہ بن جاتا پھر وہ سب اس سے صحبت کرتے رہتے، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچے کی ولادت ہوتی تو ولادت کے کچھ دن بعد وہ عورت ان سب لوگوں کو بلوا لیتی، کوئی آنے سے انکار نہ کرتا، جب سب جمع ہو جاتے تو کہتی: تمہیں اپنا حال معلوم ہی ہے، اور میں نے بچہ جنا ہے، پھر وہ جسے چاہتی اس کا نام لے کر کہتی کہ اے فلاں! یہ تیرا بچہ ہے، اور اس بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا جاتا۔ نکاح کی چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہو جاتے اور ایک عورت سے صحبت کرتے، وہ کسی بھی آنے والے کو منع نہ کرتی، یہ بدکار عورتیں ہوتیں، ان کے دروازوں پر بطور نشانی جھنڈے لگے ہوتے، جو شخص بھی چاہتا ان سے صحبت کرتا، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچہ جن دیتی تو سب جمع ہو جاتے، اور قیافہ شناس کو بلاتے، وہ جس کا بھی نام لیتا اس کے ساتھ ملا دیا جاتا، وہ بچہ اس کا ہو جاتا اور وہ کچھ نہ کہہ پاتا، تو جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا تو زمانہ جاہلیت کے سارے نکاحوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اہل اسلام کے نکاح کے جو آج رائج ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2272]
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ”جاہلیت میں چار طرح کے نکاح ہوتے تھے۔ ایک یہ جو آج (اہل اسلام میں) معروف ہے کہ ایک انسان دوسرے کو اس کی زیر تولیت لڑکی کے لیے پیغام بھیجتا ہے، اسے حق مہر ادا کرتا اور پھر اس سے نکاح کر لیتا ہے۔ دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے کہتا، جبکہ وہ حیض سے پاک ہوتی: ”فلاں کو پیغام بھیج دو اور اس سے جا کر ہمبستر ہو۔“ پھر اس کا شوہر اس سے علیحدہ رہتا اور اسے ہاتھ نہ لگاتا حتیٰ کہ اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے جا کر یہ عورت ہمبستر ہوئی ہوتی۔ جب حمل نمایاں ہو جاتا تو پھر شوہر بھی اگر چاہتا تو اس سے مباشرت کر لیتا۔ اور یہ اس لیے کیا جاتا تھا کہ بچہ شجاع، زکی اور ہونہار پیدا ہو۔ اس نکاح کو «نِكَاحُ الِاسْتِبْضَاعِ» ”نکاحِ استبضاع“ کہا جاتا تھا۔ تیسری قسم یہ تھی کہ ایک جماعت، دس افراد سے کم، اکٹھے ہوتے اور ایک عورت کے پاس جاتے، ہر ایک اس سے صحبت کرتا، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچہ جنتی اور بچہ جننے کے بعد چند راتیں گزر جاتیں تو وہ ان سب کو بلواتی، اور ان میں سے کوئی بھی آنے سے انکار نہ کر سکتا تھا۔ جب وہ اس کے پاس جمع ہو جاتے تو وہ کہتی: ”تمہیں اپنے معاملے کا علم ہی ہے اور میں نے بچے کو جنم دیا ہے تو یہ بچہ اے فلاں! تیرا ہے۔“ وہ ان میں سے جس کا چاہتی نام لے دیتی اور پھر بچہ اس مرد کے ساتھ منسوب ہو جاتا۔ چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہوتے اور عورت پر داخل ہوتے، وہ کسی کو بھی انکار نہ کرتی اور یہ طوائفیں ہوتی تھیں، انہوں نے اپنے خواہش مندوں کے لیے بطور علامت اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے ہوتے تھے جو بھی ان کا خواہش مند ہوتا ان کے پاس چلا جاتا تھا، جب کوئی حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو ان لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا اور وہ لوگ اپنے لیے کسی قیافہ شناس کو طلب کرتے، پھر وہ اس بچے کو جس کے (مشابہ) دیکھتا، ملحق کر دیتا اور وہ اس کے ساتھ منسوب و ملحق ہو جاتا اور اس کا بیٹا پکارا جاتا، وہ اس کا انکار نہ کر سکتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو اہل جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل کر دیا، صرف اہل اسلام کا موجودہ اندازِ نکاح باقی رکھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 36 (5127)، (تحفة الأشراف: 16711) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5127)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ
باب: بچہ صاحب فراش کا ہو گا (یعنی جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی بچہ اسی کو ملے گا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، فَإِنَّهُ ابْنُهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ". زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ:" هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا جھگڑا لے آئے، سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں تو اس کو لے لوں کیونکہ وہ انہیں کا بیٹا ہے، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور میرے والد کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے ساتھ کھلی مشابہت دیکھی (اس کے باوجود) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے، اور زانی کے لیے سنگساری ہے، اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو“۔ مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں کہ ”آپ نے فرمایا: عبد! یہ تیرا بھائی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2273]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ (یہ ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں) اپنا ایک تنازع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جو کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے (کی تولیت) سے متعلق تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں (سعد) جب مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھوں اور اسے اپنی تولیت میں لے لوں، بلاشبہ وہ میرا ہی بیٹا ہے۔“ جبکہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بچے اور عتبہ کے مابین واضح مشابہت ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور اے سودہ (رضی اللہ عنہا)! اس سے پردہ کر۔“ مسدد نے اپنی روایت میں کہا: ”اے عبد! یہ تیرا ہی بھائی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 3 (2053)، 100 (2218)، الخصومات 6 (2421)، العتق 8 (2745)، الوصایا 4 (2745)، المغازي 53 (4303)، الفرائض 18 (4749)، 28 (6765)، الحدود 23 (6817)، الأحکام 29 (7182)، صحیح مسلم/الرضاع 10 (1457)، سنن النسائی/الطلاق 49 (3517)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2004)، (تحفة الأشراف: 16435)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 21 (20)، مسند احمد (6/129، 273)، سنن الدارمی/النکاح 41 (2281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون الزيادة وعلقها خ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2421) صحيح مسلم (1457)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا ابْنِي عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2274]
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں بچہ میرا بیٹا ہے، میں نے جاہلیت میں اس کی ماں سے بدکاری کی تھی،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں چلتا، جاہلیت کے امور سب ختم ہیں، بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں (یا محرومی ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8687)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 207) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں