سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ لَهُ:" اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا"، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ:" إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي"، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ:" أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟" فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ"، فَقَالَ مَرْوَانُ:" إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ، فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ".
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے (اپنی بیوی عمرہ) بنت عبدالرحمٰن بن حکم کو طلاق دے دی، «طَلَاقُ الْبَتَّةِ» ”طلاقِ بتہ“ (تین طلاقیں)، تو عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کو (اپنے گھر) منتقل کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور وہ ان دنوں مدینہ کا حاکم تھا، کہ ”اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔“ مروان نے کہا (بالفاظِ سلیمان): ”عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گیا ہے۔“ اور (بالفاظِ قاسم) مروان نے کہا: ”کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا احوال نہیں پہنچا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اگر آپ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہ ہو گا۔“ (اس کو ایک خاص وجہ سے اجازت دی گئی تھی) مروان نے کہا: ”اگر آپ ایک شر کو انتقال کی وجہ جواز سمجھتی ہیں تو ان زوجین کے درمیان موجود شر بھی اس کی وجہ جواز ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق (5321)، صحیح مسلم/الطلاق 6 (1481)، (تحفة الأشراف: 16137، 17560، 18022، 18035)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 22 (63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5321، 5322)
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ:" فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا"، فَقَالَ سَعِيدٌ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى".
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی (ایسا کیوں ہوا؟) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2296]
میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے ہاں پہنچا، میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق ہوئی تو وہ اپنے گھر سے منتقل ہو گئی تھی، تو سعید رحمہ اللہ نے کہا: ”اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا، بہت زبان دراز تھی، تو اسے ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا کے ہاں رہائش دی گئی۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18021) (صحیح)» (لیکن ابن المسیب کا یہ بیان خلاف واقعہ، یعنی، فاطمہ کی منتقلی تین طلاق کے سبب تھی)
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
السند حسن إلي سعيد بن المسيب ولكنه لم يذكر من حدثه بھذا فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
ضعيف
السند حسن إلي سعيد بن المسيب ولكنه لم يذكر من حدثه بھذا فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
41. باب فِي الْمَبْتُوتَةِ تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ
باب: تین طلاق دی ہوئی عورت دن میں باہر نکل سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلًا لَهَا، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا:" اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي مِنْهُ أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہو سکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2297]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دے دی گئیں تو وہ اپنی کھجوریں کاٹنے کے لیے نکلیں، انہیں ایک آدمی ملا جس نے انہیں منع کیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلی جایا کرو اور اپنی کھجوریں کاٹا کرو، تم اس سے صدقہ یا کوئی خیر کا کام ہی کرو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 7 (1481)، سنن النسائی/الطلاق 71 (3580)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 9 (2034)، (تحفة الأشراف: 2799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/321)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2334) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1483)
مشكوة المصابيح (3441)
مشكوة المصابيح (3441)
42. باب نَسْخِ مَتَاعِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِمَا فُرِضَ لَهَا مِنَ الْمِيرَاثِ
باب: جس عورت کا شوہر مر جائے اس کو آیت میراث کے حکم سے ایک سال کا خرچ دینا منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے“ (سورۃ البقرہ: ۲۴۰) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2298]
آیت کریمہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو (انہیں چاہیے کہ) اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں خرچ دینا ہے اور گھر سے نہیں نکالنا ہے۔“ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”یہ حکم آیتِ میراث سے منسوخ ہے اور انہیں چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا، اور ایک سال کی مدت بھی منسوخ ہے اور اب اس کی مدت (عدت صرف) چار ماہ دس دن ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 69 (3573)، (تحفة الأشراف: 6250، 19114)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50(5344) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3573 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3573 وسنده حسن)
43. باب إِحْدَادِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: شوہر کی وفات پر بیوی کے سوگ منانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے“۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ”کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے“۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا: ”نہیں“، پھر فرمایا: ”تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کر سکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی“۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کر سکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کر سکتی تھی، جب سال پورا ہو جاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «حفش» چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2299]
سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا (یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ تھیں) نے یہ درج ذیل تین حدیثیں بیان کیں۔ (پہلی حدیث) زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی جبکہ ان کے والد ابوسفیان کی وفات ہو گئی تھی تو انہوں نے خوشبو منگوائی جس میں زردی تھی، وہ خلوق تھی یا کوئی اور، انہوں نے یہ لونڈی کو لگائی پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے رخساروں پر مل لیا اور کہا: ”قسم اللہ کی! مجھے خوشبو کی کوئی طلب اور ضرورت نہیں ہے مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، فرماتے تھے: ”کسی خاتون کے لیے حلال نہیں، جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو، کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کا اظہار کرے (اور زیب و زینت چھوڑے رہے) سوائے شوہر کے (کہ اس کے لیے) چار مہینے اور دس دن ہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 30 (1281)، والطلاق 46 (5336)، 47 (5338)، 50 (5345)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1488)، سنن النسائی/الطلاق 55 (3530)، 59 (3557)، 63 (3563)، 67 (3568)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1196)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 34 (2084)، (تحفة الأشراف: 15876، 18259)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (101)، مسند احمد (6/325، 326)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2330) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1281، 1282) صحيح مسلم (1486)
44. باب فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا تَنْتَقِلُ
باب: کیا شوہر کی موت کے بعد عورت دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ قُلْتِ؟" فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَتْ: فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ"، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (وہاں چلی جاؤ)“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2300]
سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور یہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ آپ سے اجازت لے کر اپنے خاندان بنی خدرہ میں چلی جاؤں کیونکہ میرا شوہر اپنے ان غلاموں کی تلاش میں گیا تھا جو بھاگ گئے تھے۔ وہ مقام قدوم کے اطراف میں تھے کہ میرے شوہر نے ان کو جا لیا مگر انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینے کے لیے آئی تھی کہ مجھے اپنے اہل میں لوٹ جانے کی اجازت دیں، کیونکہ اس نے مجھے اپنے مملوکہ مکان میں نہیں چھوڑا تھا اور نہ کوئی خرچ ہی بچا گیا تھا۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر (پہلے تو) اجازت دے دی۔ پس میں آپ کے پاس سے نکلی حتیٰ کہ جب میں حجرے یا مسجد نبوی میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا یا بلوایا اور فرمایا: ”تو نے کیسے کہا ہے؟“ تو میں نے اپنا قصہ یعنی شوہر کا واقعہ دوبارہ دہرایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے (شوہر کے) مکان میں اقامت رکھ، حتیٰ کہ کتاب اللہ کی (بیان کی ہوئی) مدت پوری ہو جائے۔“ کہتی ہیں: پھر میں نے اسی مکان میں اپنی عدت پوری کی، یعنی چار ماہ دس دن۔ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھ سے اس مسئلہ کی تفصیل دریافت کی اور میں نے انہیں (تفصیل سے) خبر دی۔ چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن النسائی/الطلاق 60 (3558)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 31 (2031)، (تحفة الأشراف: 18045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 31 (87)، مسند احمد (6/370، 420)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2333) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3332)
أخرجه الترمذي (1204 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3332)
أخرجه الترمذي (1204 وسنده صحيح)
45. باب مَنْ رَأَى التَّحَوُّلَ
باب: عدت میں نقل مکانی کو جائز کہنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:"نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240". قَالَ عَطَاءٌ:" إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240"، قَالَ عَطَاءٌ:" ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» (سورة البقرہ: ۲۴۰) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» ”اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں“ کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آیت کریمہ «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے عورت کے لیے شوہر کے اہل میں عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے، سو جہاں چاہے عدت گزارے۔“ عطاء نے (اس قول کی وضاحت میں) کہا: ”چاہے تو شوہر کے اہل میں عدت گزارے جیسے کہ اس کے لیے وصیت ہے اور چاہے تو وہاں سے رخصت ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] ۔“ عطاء کہتے ہیں کہ پھر آیت میراث نازل ہوئی، پس وہ سکنیٰ منسوخ ہو گیا تو جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50 (5344)، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (5725)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5344، 4531)
46. باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا
باب: عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ". قَالَ يَعْقُوبُ مَكَانَ عَصْبٍ:" إِلَّا مَغْسُولًا". وَزَادَ يَعْقُوبُ:" وَلَا تَخْتَضِبُ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے“۔ راوی یعقوب نے: ”سفید سیاہ دھاری دار کپڑے“ کے بجائے: ”دھلے ہوئے کپڑے“ کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2302]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی (میت) پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، سوائے شوہر کے۔ اس کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرے، کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے مگر وہ کپڑا جس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے ہو (یمنی دھاری دار چادر وغیرہ) نہ سرمہ لگائے نہ خوشبو استعمال کرے مگر حیض سے طہارت کے وقت معمولی قسط یا اظفار کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔“ یعقوب نے «عَصْب» کی بجائے «مَغْسُولًا» کا لفظ استعمال کیا اور «وَلَا تَخْتَضِبْ» کا اضافہ بھی کیا (مہندی نہ لگائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 12 (313)، الجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339)، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن النسائی/الطلاق 64 (3564)، 65 (3566)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2087)، (تحفة الأشراف: 18134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/65)، سنن الدارمی/الطلاق 13 (2332) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5342، 5343) صحيح مسلم (938)
مشكوة المصابيح (3331)
مشكوة المصابيح (3331)
حدیث نمبر: 2303
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ الْمِسْمَعِيُّ: قَالَ يَزِيدُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِيهِ:" وَلَا تَخْتَضِبُ". وَزَادَ فِيهِ هَارُونُ:" وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ ”خضاب نہ لگائے“ اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ: ”رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2303]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی (مذکورہ بالا) حدیث بیان کرتی ہیں مگر یہ روایت پوری طرح مذکورہ بالا رواۃ کی روایت کی مانند نہیں ہے (ابراہیم بن طہمان اور عبداللہ سہمی کی روایت کی طرح) مسمعی نے کہا: ”یزید نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ اس میں «وَلَا تَخْتَضِبْ» ”مہندی نہ لگائے“ بھی ہے“ جبکہ ہارون نے اضافہ کیا کہ ”رنگین کپڑا نہ پہنے الا یہ کہ اس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے ہو۔“ (جیسے کہ یمنی دھاری دار چادریں ہوتی تھیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18134) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5342، 5343) صحيح مسلم (938)
حدیث نمبر: 2304
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ نہ زرد اور گیروے رنگ کا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے، نہ خضاب (مہندی وغیرہ) لگائے، اور نہ سرمہ لگائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2304]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، وہ «عُصْفُر» (زعفران) یا گیرو رنگ کے کپڑے نہ پہنے، نہ زیور استعمال کرے، نہ مہندی لگائے اور نہ سرمہ۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 64 (3565)، (تحفة الأشراف: 18280)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/302) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ تمام کام بناؤ سنگار کے ہیں، اس لئے عدت میں ان سے پرہیز ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3334)
أخرجه النسائي (3565 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3334)
أخرجه النسائي (3565 وسنده حسن)