سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فِي اللِّعَانِ
باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، يَقُولُ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ (عذاب کو) واجب کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2255]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لعان کرنے والوں سے قسمیں کھانے کو کہا تو پانچویں قسم کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اس مرد کے منہ پر ہاتھ رکھو، اسے کہو یہ واجب کرنے والی ہے (اللہ کے غضب، لعنت اور عذاب کو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 40 (3503) (تحفة الأشراف: 6372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صرح سفيان بالسماع عند الحميدي (519 وسنده صحيح)
صرح سفيان بالسماع عند الحميدي (519 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عَشِيًّا، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنِهِ وَسَمِعَ بِأُذُنِهِ، فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهُمْ رَجُلًا، فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ سورة النور آية 6، الْآيَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَبْشِرْ يَا هِلَالُ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا"، قَالَ هِلَالٌ: قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَلِكَ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلُوا إِلَيْهَا"، فَجَاءَتْ، فَتَلَاهَا عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا، فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ كَذَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا"، فَقِيلَ لِهِلَالٍ: اشْهَدْ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهُ: يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يُجَلِّدْنِي عَلَيْهَا، فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ قِيلَ لَهَا: اشْهَدِي، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهَا: اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي، فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَضَى أَنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ، وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفَّى عَنْهَا، وَقَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْصِحَ أُثُيْبِجَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ"، فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جَمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْأَيْمَانُ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". قَالَ عِكْرِمَةُ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مُضَرَ، وَمَا يُدْعَى لِأَبٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے (ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے (سب کچھ) دیکھا، اور کانوں سے (سب) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم» ”اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو“ (سورۃ النور: ۷، ۶) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”ہلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے“، ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بلواؤ“، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: ”آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے“۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان لعان کراؤ“، چنانچہ ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چنانچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چنانچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا (نطفہ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے“، چنانچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا“۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2256]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (اپنے گھر میں) آئے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہیں (جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تھی۔ یہ اپنی زمین پر سے رات کو گھر آئے تو اپنی اہلیہ کے پاس ایک آدمی کو پایا۔ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا مگر اس کو دوڑایا نہیں حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں عشاء کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو میں نے ان کے پاس ایک آدمی کو پایا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بہت گراں گزری۔ پھر یہ آیتیں نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ﴾ [سورة النور: 6] آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہلال خوش ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسانی فرما دی ہے اور اس الجھن سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی ہے۔“ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”تحقیق مجھے اپنے رب سے اسی کی امید تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو بلواؤ۔“ وہ آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو نصیحت فرمائی اور انہیں بتایا کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب کے مقابلے میں انتہائی سخت ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے۔“ وہ کہنے لگی: ”یقیناً جھوٹ کہتا ہے۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے مابین لعان کراؤ۔“ تو ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ”شہادت دو“ تو اس نے چار دفعہ کہا: ”اللہ کی قسم! میں البتہ سچا ہوں۔“ جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اسے کہا گیا: ”اے ہلال! اللہ سے ڈر، بلاشبہ دنیا کی سزا آخرت کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ اور یہ (پانچویں) قسم تجھ پر اللہ کے عذاب کو واجب کر دینے والی ہے۔“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ مجھے اس پر عذاب نہیں دے گا جیسے کہ اس نے مجھے اس پر (جھٹلایا نہیں اور) کوئی سزا نہیں دی ہے۔“ چنانچہ اس نے پانچویں قسم اٹھائی اور کہا: ”مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔“ پھر عورت سے کہا گیا کہ ”قسمیں اٹھاؤ“ تو اس نے چار قسمیں اٹھائیں کہ ”اللہ کی قسم! یہ آدمی یقیناً جھوٹا ہے۔“ جب پانچویں کی باری آئی تو اسے کہا گیا: ”اللہ سے ڈر جا، بلاشبہ دنیا کی سزا آخرت کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ اور یہ (پانچویں) قسم واجب کرنے والی ہے جو تجھ پر عذاب کو لازم کر دے گی۔“ تو وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی اور توقف کیا، پھر بولی: ”اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کر سکتی“ اور پانچویں قسم بھی اٹھا گئی کہ ”اللہ کا غضب ہو مجھ پر اگر یہ شخص سچا ہو۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور فیصلہ فرما دیا کہ بچہ باپ کی طرف منسوب نہیں ہو گا، نہ اس عورت کو تہمت لگائی جائے اور نہ اس کے بچے کو کوئی طعنہ دیا جائے۔ جس کسی نے اس عورت کو تہمت لگائی یا بچے کو طعنہ دیا تو اس پر حد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے خاوند پر نہ سکنی (رہائش) لازم ہے نہ نفقہ (خرچہ) کیونکہ یہ دونوں طلاق کے بغیر علیحدہ ہو رہے تھے اور نہ خاوند فوت ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کا بچہ قدرے سرخ بالوں والا، ہلکے سرینوں والا، ابھری کمر والا اور باریک پنڈلیوں والا ہوا تو یہ ہلال کا ہو گا اور اگر وہ گندم گوں، گھونگھریالے بالوں والا، کھلے اور بڑے اعضاء والا، بھاری پنڈلیوں اور سرینوں والا ہوا تو یہ اس کا ہو گا جس کے ساتھ اس پر الزام لگایا گیا ہے۔“ چنانچہ اس نے بچہ جنا تو وہ گندمی رنگ، گھونگھریالے بالوں والا، کھلے اور بڑے اعضاء والا اور بھاری پنڈلیوں اور سرینوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ اٹھائی گئی ہوتیں تو میں اسے حد لگاتا (یا نشانِ عبرت بنا دیتا)۔“ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ بچہ بعد میں قبیلہ مضر کا سردار بنا تھا مگر باپ کی طرف نسبت نہ کیا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وانظر حدیث رقم (2254)، (تحفة الأشراف: 6139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 245) (ضعیف)» (اس کے راوی عباد بن منصور کی اکثر ائمہ نے تضعیف کی ہے اس لئے ان کی اس روایت کے جن بیانات کی متابعت سابقہ حدیث سے ہو جاتی ہے انہیں کو لیا جائیگا اور باقی منفرد بیانات سے قطع نظر کیا جائے گا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عباد بن منصور ضعيف مختلط مدلس و عنعن
وتفرد بھذا اللفظ و أصل الحديث صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
إسناده ضعيف
عباد بن منصور ضعيف مختلط مدلس و عنعن
وتفرد بھذا اللفظ و أصل الحديث صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ:" لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی (مرد سے فرمایا) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں“، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کر چکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2257]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کو کہا: ”تمہارا حساب اللہ کے پاس ہے۔ تم دونوں میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ اور (شوہر سے کہا کہ) تجھے اس پر کوئی حق حاصل نہیں رہا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا مال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کوئی مال نہیں۔ اگر تو سچا ہے تو وہ اس کا بدل ہے جو تو نے اس کی عصمت کو حلال کیا۔ اور اگر اس پر جھوٹ بولا ہے تو وہ تیرے لیے اور بھی بعید تر ہے۔“ (ایک طرف تہمت لگائے اور اس پر مزید یہ کہ مال بھی مانگے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 32 (5312)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1493)، سنن النسائی/الطلاق 44 (3506)، (تحفة الأشراف: 7051)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق 22 (1202)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2066)، مسند احمد (2/12)، (4587)، سنن الدارمی/النکاح 39 (2277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5312) صحيح مسلم (1493)
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ:" اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کہا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ۱؎ کو (اس صورت میں) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2258]
جناب سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے ایک جوڑے میں تفریق کرا دی تھی (عویمر اور اس کی بیوی میں) اور فرمایا تھا: ”اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کر رہا ہے؟“ آپ نے اپنی یہ بات تین بار دہرائی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ آپ نے ان میں تفریق کرا دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 32 (5321)، 52 (5349)، صحیح مسلم/اللعان 1(1493)، سنن النسائی/الطلاق 43 (3505)، (تحفة الأشراف: 7050)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/57، 2/4، 37) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد عویمر اور ان کی بیوی ہیں، اور دونوں کو «تغلیبا اخوین» کہا گیا ہے، اور ان دونوں پر «اخوة» کا اطلاق «إنما المؤمنون اخوة» کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5311) صحيح مسلم (1493)
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مَالِكٌ، قَوْلُهُ:" وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ". وقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي حَدِيثِ اللِّعَانِ،" وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور بچے کو عورت سے ملا دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ «وألحق الولد بالمرأة» کا جملہ ہے، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس (عورت) کا بیٹا اسی (عورت) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2259]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور بچے کا انکار کیا تو آپ نے ان کے مابین علیحدگی کرا دی اور بچے کو عورت کی طرف منسوب کر دیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”امام مالک رحمہ اللہ یہ جملہ روایت کرنے میں متفرد ہیں یعنی «وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ» ”اور بچے کو عورت کے ساتھ ملحق کر دیا“ اور یونس بواسطہ زہری، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ شوہر نے اس کے حمل کا انکار کر دیا تو بچے کو عورت کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 35 (5351)، الفرائض 17 (6748)، صحیح مسلم/اللعان 1(1494)، سنن الترمذی/الطلاق 22 (1203)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 22 2069)، (تحفة الأشراف: 7050)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13 (35)، مسند احمد (2/7، 38، 64، 71)، دی/ النکاح 39 (2278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے نسب اور وراثت میں ماں سے ملا دیا لہٰذا وہ ماں ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا اور ماں اور بیٹا دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے برخلاف باپ کے نہ تو اس کی طرف وہ منسوب ہو گا اور نہ وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5315) صحيح مسلم (1494)
28. باب إِذَا شَكَّ فِي الْوَلَدِ
باب: جب بچے کے متعلق شک ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟" قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى تُرَاهُ؟" قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: ”کون سے رنگ کے ہیں؟“ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟“ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر یہ کہاں سے آ گیا؟“، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بھی ہو سکتا ہے (تمہارے لڑکے میں بھی) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2260]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ”میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے جو کالے رنگ کا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی «أَوْرَقُ» ”گندم گوں“ (یا سیاہی مائل) بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، ان میں سیاہی مائل بھی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے وہ کہاں سے آئے؟“ اس نے کہا: ”شاید «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ”ان کو کسی رگ نے کھینچا ہو“۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بچے کو بھی شاید «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ”کسی رگ نے کھینچا ہو“۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3580)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، الحدود 41 (6847)، الاعتصام 12 (7314)، مسند احمد (2/234، 239، 409) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس وقت کسی رگ میں سے جس میں کالا پن زیادہ تھا نطفہ میں سواد (کالا رنگ) زیادہ مل گیا ہو، اور اس کی وجہ سے لڑکا کالا اور سیاہ رنگ ہو تو اس قسم کے اختلاف سے اس کے نسب سے متعلق دل میں شبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1500)
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2261]
زہری نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا: ”وہ شخص اپنی بات کہتے ہوئے بچے سے انکار کا اشارہ کر رہا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3509)، (تحفة الأشراف: 13273)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1500)
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ. فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2262]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: ”میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے جو کالے رنگ کا ہے اور مجھے اس پر تعجب ہے۔“ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتصام 12 (7314)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، (تحفة الأشراف: 15311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7314) صحيح مسلم (1500)
29. باب التَّغْلِيظِ فِي الاِنْتِفَاءِ
باب: بچے کے نسب سے انکار پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لعان کے متعلق آیت اتری تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم میں کسی غیر کو داخل کر دے، جو ان میں سے نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں کوئی مقام نہیں رکھتی، اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ اور جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا جبکہ بچہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس سے حجاب فرما لے گا اور اولین و آخرین کے روبرو اسے رسوا کرے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 47 (3511)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 13 (2743)، (تحفة الأشراف: 12972)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ النکاح 42 (2284) (ضعیف)» (اس کے راوی عبد اللہ بن یونس مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: حاصل یہ ہے کہ نہ عورت کو چاہئے کہ حرام کا بچہ کسی غیر سے جن کر اس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کرے اور نہ مرد کو چاہئے کہ دیدہ و دانستہ اپنے بچے کا انکار کرے اور عورت پر زنا کی تہمت لگائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3316)
أخرجه النسائي (3511 وسنده حسن) عبد الله بن يونس حسن الحديث علي الراجح
مشكوة المصابيح (3316)
أخرجه النسائي (3511 وسنده حسن) عبد الله بن يونس حسن الحديث علي الراجح
30. باب فِي ادِّعَاءِ وَلَدِ الزِّنَا
باب: ولد الزنا کے مدعی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2264
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سَلْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّيَّادِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں اجرت پر بدکاری اور زنا نہیں ہے، جس نے زمانہ جاہلیت میں بدکاری اور زنا سے کمائی کی، تو زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اپنے عصبہ (مالک) سے مل جائے گا اور جس نے بغیر نکاح یا ملک کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو نہ تو (بچہ) اس کا وارث ہو گا اور نہ وہ بچے کا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2264]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں زناکاری کا کوئی تصور اور مقام نہیں، جس کسی نے ایامِ جاہلیت میں یہ عملِ بد کیا ہو تو بچہ اس کے عصبہ ہی سے ملحق ہو گا۔ اور جو کوئی نکاحِ صحیح کے بغیر کسی بچے کا دعویٰ کرے (زنا کی وجہ سے) تو نہ وہ باپ اس بچے کا وارث ہو گا اور نہ وہ بیٹا اس باپ کا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/362) (ضعیف)» (اس کے سند میں ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ بعض أصحابنا ‘‘ لم أعرفه وقال المنذري :’’ في إسناده رجل مجهول ‘‘ (عون المعبود 247/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
إسناده ضعيف
’’ بعض أصحابنا ‘‘ لم أعرفه وقال المنذري :’’ في إسناده رجل مجهول ‘‘ (عون المعبود 247/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86