سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِيمَا تَجْتَنِبُهُ الْمُعْتَدَّةُ فِي عِدَّتِهَا
باب: عدت گزارنے والی عورت کو جن چیزوں سے بچنا چاہئے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2305
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا فَتَكْتَحِلُ بِالْجِلَاءِ، قَالَ أَحْمَدُ: الصَّوَابُ: بِكُحْلِ الْجِلَاءِ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجِلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلِي بِهِ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَهُ بِالنَّهَارِ، ثُمّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟" فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ:" إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزَعِينَهُ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ"، قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ".
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ «جلاء» (سرمہ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ «جلاء» کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آ جائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ام سلمہ یہ کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: ”یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے“ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2305]
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کا شوہر فوت ہو گیا اور ان کی آنکھیں خراب رہتی تھیں اور انہوں نے (جلاء) سرمہ استعمال کرنا چاہا۔ احمد بن صالح نے کہا: ”صحیح روایت «كُحْل الْجَلَاءِ» ہے۔“ تو اس نے اپنی خادمہ کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور «كُحْل الْجَلَاءِ» ”روشنی دینے والا سرمہ“ استعمال کرنے کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: ”استعمال نہ کرے الا یہ کہ انتہائی مجبوری ہو تو رات کو استعمال کرے اور دن میں صاف کر دے۔“ یہ خبر بتاتے ہوئے پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ابوسلمہ کی وفات کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنی آنکھ پر ایلوا لگا رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ چہرے کو مزین کر دیتا ہے، لہٰذا صرف رات کو استعمال کرو اور دن میں اسے صاف کر دیا کرو۔ اور کسی خوشبو والی چیز کے ساتھ اور مہندی کے ساتھ کنگھی نہ کرو (سر نہ دھو) کیونکہ یہ خضاب ہے۔“ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر کس چیز سے میں کنگھی کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری (کے پتوں) سے، اسے اپنے سر پر چپڑ لیا کرو (بعد میں دھو ڈالا کرو)۔“” [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 66 (3567)، (تحفة الأشراف: 18300) (ضعیف) (اس کے راوی مغیرہ بن الضحاک لین الحدیث ہیں، اور ام حکیم اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3567)
أم حكيم بنت أسيد: لا يعرف حالھا (تق : 8724) والمغيرة بن الضحاك مجهول
انظر التحرير (6841)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
إسناده ضعيف
نسائي (3567)
أم حكيم بنت أسيد: لا يعرف حالھا (تق : 8724) والمغيرة بن الضحاك مجهول
انظر التحرير (6841)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
47. باب فِي عِدَّةِ الْحَامِلِ
باب: حاملہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2306
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،" أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ، أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ، أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً، لَعَلَّكِ تَرْتَجِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ، جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں (وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں بنی سنوری ہوئی دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم چار مہینے دس دن (کی عدت) گزارے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2306]
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ اس کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائے اور اس سے اس کا قصہ دریافت کرے اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا فرمایا تھا، جب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھ بھیجا کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ”وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی جو کہ قبیلہ بنی عامر بن لؤی میں سے تھے، غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہوئی تھی اور ان دنوں وہ حمل سے تھیں۔ ان کی وفات کے بعد چند ہی روز گزرے تھے کہ بچے کی ولادت ہو گئی۔ جب ایام نفاس سے پاک ہوئی تو نکاح کا پیغام لانے والوں کے لیے انہوں نے زیب و زینت شروع کر دی۔ چنانچہ بنو عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا اور اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے تو نے زیب و زینت کر رکھی ہے، شاید تو نکاح کرنا چاہتی ہے؟ اللہ کی قسم! تو اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔“ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”جب اس نے مجھے یہ کہا تو شام کو میں نے اپنے کپڑے لپیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب ولادت ہو گئی ہے تو، تو حلال ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر میں چاہوں تو نکاح کر سکتی ہوں۔““ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”وضع حمل کے بعد میں ایسی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ہوں خواہ خون کے ایام ہی ہوں، الا یہ کہ شوہر طہارت سے پہلے اس کے قریب نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 10 (3991 تعلیقًا)، الطلاق 39 (5320)، صحیح مسلم/الطلاق 8 (1484)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3518، 3519)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2028)، (تحفة الأشراف: 15890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/432) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلے یہ آیت اتری تھی: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا» یہ آیت سورہ بقرہ (آیت: ۲۳۴) کی ہے، اس میں حاملہ اور غیر حاملہ دونوں داخل تھیں، پھر سورہ طلاق والی آیت نمبر (۴) «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» نازل ہوئی تو حاملہ کی عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش) قرار پائی اور غیر حاملہ کی چار مہینہ دس دن پہلی آیت کے موافق برقرار رہی اکثر علماء کا یہی مذہب ہے اور بعض علماء کے نزدیک چونکہ دونوں آیتیں متعارض ہیں اس لئے دونوں میں سے جو مدت لمبی «أبعد الأجلين» ہو اسے اختیار کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م خ معلقا بتمامه وموصولا مختصرا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3991) صحيح مسلم (1484)
حدیث نمبر: 2307
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ۱؎ کر لے کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2307]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو چاہے میں اس سے مباہلہ کر سکتا ہوں کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) چار ماہ دس دن (کے سابقہ حکم) کے بعد ہی نازل ہوئی تھی“ (یہ حکم [سورة البقرة: 234] میں وارد ہوا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ تفسیرسورة الطلاق 2 (4909)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3552)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030)، (تحفة الأشراف: 9578) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے “، اور ”حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے “، اور ”حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2030)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة (انظر ضعيف سنن النسائي : 3552)
وحديث البخاري (4532) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2030)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة (انظر ضعيف سنن النسائي : 3552)
وحديث البخاري (4532) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
48. باب فِي عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ
باب: ام ولد کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:" لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةً"، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى:" سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ"، يَعْنِي أُمَّ الْوَلَدِ.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، (سنت یہ ہے کہ) جس کا شوہر فوت ہو جائے اس کی یعنی ام ولد ۱؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2308]
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو خلط ملط مت کرو۔“ ابن مثنی نے کہا: ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو۔“ (کہ) ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔“ یعنی ام ولد (ان کی مراد یہ تھی کہ عورت خواہ آزاد ہو یا ام ولد سب کے لیے حکم ایک ہی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطلاق 33 (2083)، (تحفة الأشراف: 10743)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/203) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک سے بچہ جنا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
سعيد بن أبي عروبة صرح بالسماع عند البيھقي (1558) وقبيصة بن ذؤيب صحابي صغير ومراسيل الصحابة مقبولة بالإجماع
سعيد بن أبي عروبة صرح بالسماع عند البيھقي (1558) وقبيصة بن ذؤيب صحابي صغير ومراسيل الصحابة مقبولة بالإجماع
49. باب الْمَبْتُوتَةِ لاَ يَرْجِعُ إِلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
باب: تین طلاق کے بعد عورت دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر پہلے شوہر کے پاس نہیں آ سکتی۔
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الْآخَرِ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2309]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی یعنی تین طلاقیں۔ پھر اس عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، وہ اس پر داخل ہوا مگر مباشرت سے قبل ہی اس کو طلاق دے دی، تو کیا یہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہے؟“ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عورت پہلے کے لیے حلال نہیں، حتیٰ کہ (عورت) کسی دوسرے (مرد) کی مٹھاس چکھ لے اور وہ مرد اس (عورت) کی مٹھاس چکھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 9 (3436)، (تحفة الأشراف: 15958)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 3 (2639)، والطلاق 4 (5260)، والساعة 37 (5792)، واللباس 6 (5825)، والأدب 68 (6084)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، سنن الترمذی/النکاح 27 (1118)، سنن النسائی/النکاح 43 (3285)، سنن ابن ماجہ/النکاح 32 (1932)، مسند احمد (6/34، 37، 192، 226، 229)، سنن الدارمی/الطلاق 4 (2313) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہم بستری اور صحبت کے بعد طلاق واقع ہونے کی صورت میں نکاح جدید سے وہ پہلے شوہر کی بیوی بن سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (5261) ومسلم (1433) وغيرھما
وله شواھد عند البخاري (5261) ومسلم (1433) وغيرھما
50. باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا
باب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ"، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا“، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو“، نیز کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ (سورۃ الفرقان: ۶۸) ”جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2310]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کے ساتھ اس کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”پھر کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا۔“ کہتے ہیں (میں نے کہا): ”پھر کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرے۔“ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”(رحمن کے بندے وہی ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے اور نہ اللہ کی حرام کردہ کسی جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ اور نہ بدکاری کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ تفسیر سورة البقرة 3 (4477)، والأدب 20 (4761)، والحدود 20 (6811)، والدیات 2 (6861)، والتوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الایمان 37 (86)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/380، 471، 424، 434، 462) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6001) صحيح مسلم (141)
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» (سورۃ النور: ۳۳) ”تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسیکہ ایک انصاری کی لونڈی تھی، وہ آئی اور کہا: ”میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے۔“ چنانچہ اس سلسلے میں یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [سورة النور: 33] ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2833) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ:" غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ".
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» (النور: ۳۳) ”اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے“ کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
معتمر اپنے والد (سلیمان تیمی) سے بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ ﴿وَمَنْ يُكْرِهُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة النور: 33] کی تفسیر میں سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ”مجبور کردہ لونڈیوں کے لیے غفور رحیم ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87