سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فِي الظِّهَارِ
باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ.
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2215]
ابن اسحاق نے اسی سند سے مذکورہ روایت کی مانند روایت کیا مگر کہا کہ: ” «العَرَقُ» وہ ٹوکرا ہوتا ہے جس میں تیس صاع کھجور آتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت یحییٰ بن آدم کی (مذکورہ بالا) روایت سے زیادہ صحیح ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15825) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله والعرق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2214)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2214)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: يَعْنِي بِالْعَرَقِ زِنْبِيلًا يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ «عرق» سے مراد ایسی زنبیل ہے جس میں پندرہ صاع کھجوریں آ جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2216]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا: ” «الْعَرَقُ» سے مراد ایسا ٹوکرا ہوتا ہے جس میں پندرہ صاع کھجور آتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19586) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةِ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ".
سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں صدقہ کر دو“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے یہ خبر بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی، آپ نے یہ اسے دے دی جو پندرہ صاع کے قریب تھی اور فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو۔“ تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ فقیر لوگوں پر صدقہ کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھا لو اور تمہارے گھر والے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2213)، (تحفة الأشراف: 18790) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
حدیث نمبر: 2218
قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَ عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَوْسًا.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2218]
جناب عطاء، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پندرہ صاع ”جَو“ عنایت کیے تھے، یعنی ساٹھ مسکینوں کا کھانا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”عطاء کی اوس سے ملاقات نہیں ہے، اور یہ (اوس) اہل بدر میں سے تھے، ان کی وفات بہت پہلے ہو گئی تھی اور یہ حدیث مرسل ہے۔“ محدثین اسے اوزاعی سے بواسطہ عطاء اور وہ اوس سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1743) (صحیح)» (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ منقطع ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
قَالَ أَبو دَاود:
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
قَالَ أَبو دَاود:
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ رَجُلًا بِهِ لَمَمٌ، فَكَانَ إِذَا اشْتَدَّ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ".
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2219]
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جمیلہ رضی اللہ عنہا، سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور اوس رضی اللہ عنہ میں جنسی شہوت کا مادہ زیادہ تھا، جب ان پر اس کا غلبہ ہوتا تو وہ اپنی بیوی سے ظہار کر لیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے مسئلے میں ظہار کے کفارہ کا حکم نازل فرمایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16884) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (2220)
انظر الحديث الآتي (2220)
حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2220]
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اسی کے مثل روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16884) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنَّ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ:" فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
جناب عکرمہ (مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہو گیا، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ لی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اب اس سے دور رہنا حتیٰ کہ اپنا کفارہ دے لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065)، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)» (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3302)
انظر الحديث الآتي (2223)
مشكوة المصابيح (3302)
انظر الحديث الآتي (2223)
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر چاند کی چاندنی میں اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی تو اس سے مجامعت کر بیٹھا، تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) (سابقہ روایت دیکھئے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (2223)
انظر الحديث الآتي (2223)
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ.
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2223]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل بیان کرتے ہیں، مگر اس میں (اسماعیل راوی نے) ”پنڈلی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1199 وسنده حسن) والنسائي (3487 وسنده حسن) وابن ماجه (2065 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (1199 وسنده حسن) والنسائي (3487 وسنده حسن) وابن ماجه (2065 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ الْمُخْتَارِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
اس سند سے بھی عکرمہ سے سفیان کی حدیث (نمبر: ۲۲۲۱) کی طرح روایت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2224]
جناب عکرمہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ”جیسے کہ سفیان (بن عیینہ) کی روایت میں ذکر ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2221، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2223)
انظر الحديث السابق (2223)