سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ الثَّلاَثِ
باب: تین طلاق کے بعد رجعت کا اختیار باقی نہ رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ سورة البقرة آية 228 الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَنُسِخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن» ”اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کر دیا ہے اسے چھپائیں“ (سورۃ البقرہ: ۲۲۸) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور ارشاد ہوا «الطلاق مرتان» یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2195]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت کریمہ: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور انہیں حلال نہیں کہ وہ وہ چیز چھپا لیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے۔“ اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا تو وہی اس کی طرف رجوع کرنے کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا تھا، خواہ تین طلاقیں ہی دے چکا ہوتا۔ اس کو منسوخ کر دیا گیا اور فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] ”(قابل رجوع) طلاق دو بار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 54 (3529)، 75 (3584)، (تحفة الأشراف: 6253) ویأتی ہذا الحدیث برقم (2282) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3584 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3584 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَجُلَسَائِهِ:" أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ، وَفُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ يَزِيدَ:" طَلِّقْهَا"، فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ:" رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ"، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ، رَاجِعْهَا"، وَتَلَا: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ، لِأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ إِنَّ رُكَانَةَ، إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: ”کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟“، لوگوں نے کہا: ہاں (ملتی ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: ”اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو“، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» (سورۃ الطلاق: ۱) ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت (حدیث نمبر: ۲۲۰۶) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2196]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد یزید جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا والد تھا، اس نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ پھر یہ (مزنی عورت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”یہ میرے کام کا نہیں، جیسے یہ بال“ اور اس نے اپنے سر سے بال پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی نامرد ہے) ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا اور پھر رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوایا، اور حاضرین سے کہا: ”کیا دیکھتے ہو کہ فلاں بچہ اس سے کس قدر مشابہ ہے؟“ یعنی عبد یزید کے ساتھ، ”اور فلاں اس سے کتنا مشابہ ہے؟“ سب نے کہا کہ جی ہاں (یعنی جب پہلے اس کی اولاد موجود ہے تو اس عورت کا دعویٰ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”اس کو طلاق دے دو۔“ چنانچہ اس نے (طلاق) دے دی۔ اور فرمایا: ”اپنی (پہلی) بیوی سے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں ہے، رجوع کر لو۔“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے، اس سے رجوع کر لو۔“ اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت کے وقت طلاق دیا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی روایت ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ «بَتَّةً» دی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو اس پر لوٹا دیا تھا، یہ روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ یہ اس آدمی کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے متعلق زیادہ باخبر ہو سکتے ہیں، یعنی رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ «بَتَّةً» دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک بنا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/265) (عندہ ’’داود بن حصین‘‘ مکان ’’بعض بنی أبی رافع‘‘ (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث حسن ہے، اور مؤلف نے جس حدیث (نمبر: ۲۲۰۶) کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضعیف ہے، نیز اولاد رکانہ واقعہ کے بیان میں خود مضطرب ہیں، یاد رہے کہ عہد نبوی میں ”تین طلاق“ اور ”طلاقہ بتہ “ ہم معنی الفاظ تھے، عہد نبوی و عہد صحابہ کے بعد لوگوں نے ”طلاق بتہ“ کا یہ معنی بنا دیا کہ جس میں ایک دو، تین طلاق دہندہ کی نیت کے مطابق طے کیا جائیگا (تفصیل کے لے دیکھئے تنویر الآفاق)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بعض بني أبي رافع: مجهول
وأشار ابن حجر في التقريب (ج 4 ص 391) كأنه الفضل بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع والفضل ھذا : مقبول (تق : 5408) يعني مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
إسناده ضعيف
بعض بني أبي رافع: مجهول
وأشار ابن حجر في التقريب (ج 4 ص 391) كأنه الفضل بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع والفضل ھذا : مقبول (تق : 5408) يعني مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2، وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ، فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا، عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ أَيُّوبُ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، كُلُّهُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ:" أَنَّهُ أَجَازَهَا"، قَالَ:" وَبَانَتْ مِنْكَ" نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ". وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، هَذَا قَوْلُهُ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَجَعَلَهُ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن»، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہو گئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے (یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی) تو وہ ایک شمار ہو گی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2197]
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ چنانچہ وہ خاموش رہے حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اس عورت کو اس پر واپس کر دیں گے (رجوع کرنے کا فتویٰ دے دیں گے)۔ پھر بولے: ”تم میں سے ایک اٹھتا ہے اور حماقت کا ارتکاب کرتا ہے، پھر کہتا ہے: ابن عباس! ابن عباس! تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بھی پیدا فرما دیتا ہے۔“ تو نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا، لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بیوی تجھ سے جدا ہو گئی۔“ اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] یعنی «فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» ”ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔“ ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔“”(اس سند کی متابعات کا بیان) (1) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو (الف) حمید اعرج وغیرہ نے بواسطہ مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ب) شعبہ نے عمرو بن مرہ سے بواسطہ سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ج) ایوب اور ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے بواسطہ سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (د) ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے بواسطہ عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ھ) اعمش نے بواسطہ مالک بن حارث، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (و) ابن جریج نے بواسطہ عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ سب روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کو نافذ کیا اور کہا: ”عورت تجھ سے (بائنہ) جدا ہو گئی“ جیسے کہ «إِسْمَاعِيل عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ» ”اسماعیل نے ایوب سے، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے“ کی سند میں آیا ہے۔“ (2) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”حماد بن زید، ایوب سے بواسطہ عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کہنے والے نے ایک ہی مرتبہ کہا کہ ”تجھے تین طلاق ہے“ تو یہ ایک طلاق ہے۔ اور اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے بواسطہ عکرمہ اسے نقل کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا بلکہ اس کو عکرمہ رحمہ اللہ کا قول بنایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داودٔ (تحفة الأشراف: 6401)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ التفسیر (11602) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے، وہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے۔
۲؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
۲؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3293)
مشكوة المصابيح (3293)
حدیث نمبر: 2198
وَصَارَ قَوْلُ وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، فَكُلُّهُمْ قَالُوا:" لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ". قالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ حِينَ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَا: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ سَاقَ هَذَا الْخَبَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ هُوَ:" أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ تَبِينُ مِنْ زَوْجِهَا مَدْخُولًا بِهَا وَغَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ". هَذَا مِثْلُ خَبَرِ الصَّرْفِ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ.
ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2198]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بدل گیا تھا جیسے کہ ہمیں احمد بن صالح اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا اور یہ روایت احمد بن صالح کی ہے اور ان دونوں کی سند یوں ہے «حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» (دوسری سند) «مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان، محمد بن ایاس سے بیان کرتے ہیں کہ حضرات ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ "کنواری لڑکی کو اگر اس کا شوہر تین طلاقیں دے دے (قبل از مباشرت) تو؟" سب نے کہا: ”یہ شوہر کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ کسی اور سے نکاح کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے بہ سند «يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ» روایت کیا (معاویہ نے کہا) کہ ”میں اس قصے کا گواہ ہوں، محمد بن ایاس بن بکیر، ابن الزبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آیا اور ان دونوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس چلے جاؤ، میں نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں چھوڑا ہے۔“ پھر یہ قصہ بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ”عورت تین طلاق سے اپنے شوہر سے بائنہ (جدا) ہو جاتی ہے، خواہ شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو، وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔“ ان کا یہ فتویٰ ایسے ہی ہے جیسے کہ انہوں نے بیع صرف (سونے چاندی کی بیع) کے بارے میں فتویٰ دیا تھا، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6434)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازی 10 (3991 تعلیقًا) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح وہ نقدی کو نقدی سے بیچنے کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں ربا صرف ادھار کی صورت میں ہے نقد کی صورت میں نہیں پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس سے بھی انہوں نے بعد میں رجوع کر لیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الزھري صرح بالسماع في المصنف عبد الرزاق (11070)
الزھري صرح بالسماع في المصنف عبد الرزاق (11070)
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو الصَّهْبَاءِ، كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" بَلَى، كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا، قَالَ: أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ".
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2199]
طاؤس کہتے ہیں کہ ابوالصہباء نامی ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ سوال کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا: ”کیا آپ کو علم ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تھا تو ایسی طلاق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اوائل دورِ عمر رضی اللہ عنہ میں ایک ہی بنایا (شمار) کرتے تھے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں! آدمی جب اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تھا تو عہدِ رسالت، عہدِ ابی بکر اور ابتدائے عہدِ عمر میں اس کو ایک ہی بنا دیتے تھے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ لوگ مسلسل طلاقیں دینے لگے ہیں تو انہوں نے کہا: ”انہیں ان پر نافذ کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5763) (ضعیف)» (اس سند میں غیر واحد مبہم رواة ہیں، مگر اس میں «غیرمدخول بہا» کا لفظ ہی منکر ہے باقی باتیں اگلی روایت سے ثابت ہیں)
وضاحت: ۱؎: مگر عمر رضی اللہ عنہ کا یہ حکم واجب العمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ حدیث صحیح سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تین طلاق کا ایک طلاق ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ غير واحد ‘‘ لم أعرفھم،و موقوف ابن عباس يؤيد ھذا الحديث،انظر نيل المقصود (2197) وتلخيصه لمزيدالتحقيق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
إسناده ضعيف
’’ غير واحد ‘‘ لم أعرفھم،و موقوف ابن عباس يؤيد ھذا الحديث،انظر نيل المقصود (2197) وتلخيصه لمزيدالتحقيق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتْ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَعَمْ".
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2200]
ابن طاؤس اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد اور عمر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ابتدائی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنایا (شمار) کیا جاتا تھا؟“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں!“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 2 (1472)، سنن النسائی/الطلاق 8 (3435)، (تحفة الأشراف: 5715)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/314) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ائمہ حدیث اور علما ظاہر کا اسی پر عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1472)
11. باب فِيمَا عُنِيَ بِهِ الطَّلاَقُ وَالنِّيَّاتُ
باب: اشارہ کنایہ سے طلاق دینے کا بیان اور یہ کہ احکام کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ:سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2201]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی ہو۔ سو جس نے ہجرت کی اللہ اور اس کے رسول کی طرف تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس نے دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی یا کسی عورت کے لیے کہ اس سے شادی کر لے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (1)، الایمان 41 (54)، العتق 6 (2529)، مناقب الأنصار 45 (3898)، النکاح 5 (5070)، النذور 23 (6689)، الحیل 1 (6953)، صحیح مسلم/الإمارة 45 (1907)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 16 (1647)، سنن النسائی/الطھارة 60 (75)، الطلاق 24 (3467)، الأیمان والنذور 19 (3825)، سنن ابن ماجہ/الزھد 26 (4227)، (تحفة الأشراف: 10612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25، 43) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1) صحيح مسلم (1907)
حدیث نمبر: 2202
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَسَاقَ قِصَّتَهُ فِي تَبُوكَ، قَالَ:" حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ.
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ ۱؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2202]
جناب عبداللہ بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے قائد تھے جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے۔ کہتے ہیں کہ ”میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے تبوک والا واقعہ بیان کیا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ ”جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے تو اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام بر آیا اور اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جاؤ۔“ میں نے پوچھا: ”اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟“ اس نے کہا: ”نہیں، بلکہ اس سے علیحدہ رہو، اس کے قریب مت ہونا۔“ چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: ”اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہی کے پاس رہو، تاآنکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس معاملے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 26 (2757)، والجھاد 103 (2947)، 198 (3088)، وتفسیر سورة البراء ة 14 (4673)، 17 (4677)، 18 (4677)، 19 (4678)، والاستئذان 21 (6255)، والأیمان والنذور 24 (6691)، والأحکام 53 (7225)، صحیح مسلم/التوبة 9 (2769)، سنن النسائی/المساجد 38 (732)، والطلاق 18 (3453)، والأیمان والنذور 36(3854)، 37 (3857)، (تحفة الأشراف: 11131)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة التوبة (3101)، مسند احمد (3/455، 457، 459، 6/388)، سنن الدارمی/الصلاة 184 (1561) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہوں نے اپنے اس قول سے طلاق کی نیت نہیں کی تو اس سے طلاق نہیں مراد لی گئی، اگر وہ طلاق کی نیت کرتے تو طلاق واقع ہو جاتی، کنائی الفاظ سے اسی وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب اس کی نیت کی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2757) صحيح مسلم (2769)
12. باب فِي الْخِيَارِ
باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2203]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا تھا، چنانچہ اس کو کچھ بھی شمار نہ کیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179)، سنن النسائی/النکاح 2 (3204) والطلاق 27 (3474)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2052)، (تحفة الأشراف: 17634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 47، 171، 173، 185، 202، 205، 239)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2315) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑ جائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5262) صحيح مسلم (1477)
13. باب فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ
باب: عورت سے یہ کہنا کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ:" هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ؟" قَالَ:" لَا، إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ". قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ. فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ. فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2204]
حماد بن زید نے بیان کیا کہ میں نے ایوب سے پوچھا: ”کیا آپ کو کسی کا علم ہے جو «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» ”تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔“ کی تفصیل میں حسن (بصری) کی طرح کہتا ہو؟“ (ان کا بیان اگلی روایت میں آ رہا ہے۔) ایوب نے کہا: ”نہیں، مگر وہی جو ہم کو قتادہ نے بہ سند کثیر مولیٰ ابن سمرہ سے، ابوسلمہ سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند بیان کیا۔“ ایوب نے کہا: ”پھر کثیر مولیٰ ابن سمرہ ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے (اس روایت کے متعلق) پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے یہ کبھی بیان نہیں کیا۔“ پھر میں نے ان کی یہ بات قتادہ سے کہی تو انہوں نے کہا کہ ”بیان تو کیا ہے مگر بھول گئے ہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 3 (1178)، سنن النسائی/الطلاق 11(3439)، (تحفة الأشراف: 14992) (ضعیف)» (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1178) نسائي (3439)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
إسناده ضعيف
ترمذي (1178) نسائي (3439)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83