🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب مَنْ قَالَ كَانَ حُرًّا
باب: بریرہ کا شوہر آزاد تھا اس کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ، وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ"، فَقَالَتْ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2235]
اسود بن یزید، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ بریرہ کو جب آزاد کیا گیا تو اس کا شوہر بھی آزاد تھا اور بریرہ کو اختیار دیا گیا تو وہ کہنے لگی: ”میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی خواہ مجھے اس اس قدر (مال) بھی کیوں نہ دے دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15997) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیح یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے جیسا کہ متعدد صحیح روایتیں اوپر گزریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح خ وأشار إلى أن قوله كان حرا مدرج من قول الأسود
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1155) ابن ماجه (2074)
إبراهيم النخعي عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/35وھو عندنا من الثالثة) ولو ثبت عن الأسود لكان معللاً لمخالفة جمع من الرواة والعدد الكثير أولي بالحفظ (عند التعارض) من الواحد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب حَتَّى مَتَى يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ
باب: آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو کب تک اختیار ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَعَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهَا:" إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: ”اگر اس نے تجھ سے صحبت کر لی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2236]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کو آزاد کیا گیا تو وہ مغیث کی زوجیت میں تھی جو کہ آل ابی احمد کا غلام تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دے دیا اور فرمایا: ”اگر وہ تم سے قریب ہو گیا تو تمہارا اختیار باقی نہیں رہے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17184، 19260) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن وله متابعة مردودة،عند البيهقي (225/7) والدار قطني (294/3 ح 3733) من أجل محمد بن إبراهيم الشامي لأنه كذاب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب فِي الْمَمْلُوكَيْنِ يُعْتَقَانِ مَعًا هَلْ تُخَيَّرُ امْرَأَتُهُ
باب: جب میاں بیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو کیا بیوی کو اختیار حاصل ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ، قَالَ: فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ". قَالَ نَصْرٌ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2237]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک مملوک جوڑے کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، آپ نے حکم دیا: ”عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرنے سے ابتدا کرنا۔“ نصر بن علی کی سند اس طرح ہے: «أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ» ”مجھے ابو علی حنفی نے عبید اللہ سے خبر دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطلاق 28 (3476)، سنن ابن ماجہ/العتق 10 (2532)، (تحفة الأشراف: 17534) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبید اللہ بن عبد الرحمن“ ضعیف ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3200)
أخرجه النسائي (3476 وسنده حسن) وابن ماجه (2532 وسنده حسن) عبيد الله بن عبد الرحمن بن موھب حسن الحديث وثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2238]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ عورت بھی میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس (کے شوہر) کی طرف لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 42 (1144)، سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2008)، (تحفة الأشراف: 6107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 323) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سماک کی عکرمہ سے روایت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور یہاں بھی دونوں روایتوں میں اضطراب ظاہر ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1144،2008)
سماك عن عكرمة :سلسلة ضعيفة،وإليه أشار في التقريب (2624) وأما عن غير عكرمة فسماك : صدوق حسن الحديث،إذا روي قبل اختلاطه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2239]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور پھر نکاح کر لیا، بعد ازاں اس کا شوہر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بھی مسلمان ہو چکا تھا اور اسے میرے اسلام قبول کرنے کا علم تھا۔“ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوسرے شوہر سے چھین کر (اس کا نکاح فسخ کرا کے) پہلے شوہر کی طرف لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6107) (ضعیف) (سابقہ حدیث دیکھئے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب إِلَى مَتَى تُرَدُّ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهَا
باب: جب مرد عورت کے بعد اسلام قبول کرے تو کب تک عورت کو اسے لوٹایا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ:" بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ"، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ:" بَعْدَ سَنَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2240]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب کو (ان کے شوہر) ابوالعاص رضی اللہ عنہ پر پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا تھا، اور کوئی نیا (نکاح وغیرہ) نہ کیا تھا۔“ محمد بن عمرو نے اپنی روایت میں کہا کہ ”آپ نے چھ سال بعد (لوٹایا تھا)“ اور حسن بن علی نے کہا: ”دو سال بعد۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 42 (1143)، سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2009)، (تحفة الأشراف: 6073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 261، 351) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر السنين
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1143) ابن ماجه (2009)
داود بن الحصين ثقة ولكن قال ابن المديني : ’’ ما روي عن عكرمة فمنكر‘‘ (انظر الجرح والتعديل 409/3) والتقريب (1779) وغيرھما فالجرح (خاص) مفسر و مقدم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب فِي مَنْ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعٍ أَوْ أُخْتَانِ
باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ، ابْنِ عُمَيْرَةَ: وَقَالَ وَهْبٌ، الْأَسَدِيِّ: قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانُ نِسْوَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وحَدَّثَنَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: قَيْسُ بْنُ الْحَارِثِ مَكَانَ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: هَذَا هُوَ الصَّوَابُ يَعْنِي قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ.
حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا، میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو (اور باقی کو طلاق دے دو)“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2241]
سیدنا حارث بن قیس بن عمیرہ الاسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب میں نے اسلام قبول کیا تو میرے ہاں آٹھ عورتیں تھیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کو منتخب کر لو۔“” [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/النکاح 40 (1952)، (تحفة الأشراف: 11089) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليليٰ ضعيف
وانظر فتح الباري (143/13) وحميضة : مستور لا يعرف ولم يوثقه غير ابن حبان
وللحديث شواهد ضعيفة
وحديث الترمذي (1128) وابن ماجه (1953) والدارقطني (271/3272 ح3652،سنده حسن) والبيهقي (183/7 ح 14428،سنده حسن)يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
احمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ”ہم سے بکر بن عبدالرحمٰن، قاضی کوفہ نے بیان کیا، انہوں نے عیسیٰ بن مختار سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حمیضہ بن شمرذل سے، انہوں نے سیدنا قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11089) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1952)
انظر الحديث السابق (2241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ:" طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ".
فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2243]
سیدنا فیروز (دیلمی) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میری زوجیت میں دو بہنیں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 33 (1129)، سنن ابن ماجہ/النکاح 39 (1951)، (تحفة الأشراف: 11061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/232) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3178)
أبو وھب الجيشاني والضحاك بن فيروز صدوقان وثقھما الترمذي وابن حبان وغيرھما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الأَبَوَيْنِ مَعَ مَنْ يَكُونُ الْوَلَدُ
باب: ماں باپ میں سے جب ایک اسلام قبول کر لے تو بچے کس کے ساتھ ہوں گے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ، وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْعُدْ نَاحِيَةً"، وَقَالَ لَهَا:" اقْعُدِي نَاحِيَةً"، قَالَ:" وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا"، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوَاهَا"، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهَا"، فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا.
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گی) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے (اسے میں اپنے پاس رکھوں گا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اسے ہدایت دے“، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہو گئی تو انہوں نے اسے لے لیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2244]
سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، (جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی) پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے۔“ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بیٹی میری ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ایک طرف بیٹھ جاؤ۔“ اور عورت سے کہا: ”دوسری طرف بیٹھ جاؤ۔“ اور بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا، پھر ماں باپ سے کہا: ”تم دونوں اسے بلاؤ۔“ (انہوں نے بلایا) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اهْدِهَا» ”اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے۔“ چنانچہ بچی باپ کی طرف مائل ہو گئی تو اسی نے اس کو لے لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 52 (3495)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2352)، (تحفة الأشراف: 3594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/446، 447) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ باشعور بچے کو اختیار دیا جائیگا کہ ماں باپ میں سے جس کو چاہے اختیار کر لے، اور دودھ پیتا بچہ ماں کے تابع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
جعفر بن عبد الله صرح بالسماع من جده عند البيھقي (8/3) والحاكم (2/206) وھي رواية غريبة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں