🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. التَّرْهِيبُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ
بیوقوفوں کی حکمرانی سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8507
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن (1) خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابِطٍ، عن جابر بن عبد الله: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال لكعب بن عُجْرة:"أعاذَك اللهُ يا كعبُ من إمارةِ السُّفهاء" قال: وما إمارةُ السفهاءِ يا رسول الله؟ قال:"أمراءُ يكونون بعدي لا يَهدُون بهَدْيي، ولا يَستَنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكَذِبهم، وأعانَهم على ظُلمِهم، فأولئك ليسوا منِّي ولست منهم، ولا يَرِدُون عليَّ حوضي، ومن لم يصدِّقْهم بكذبِهم، ولم يُعِنْهم على ظُلمِهم، فأولئك مني وأنا منهم، وسَيرِدُون عليَّ حوضي. يا كعبَ بن عُجْرة، الصَّومُ جُنَّة، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئة، والصلاةُ قُرْبان، أو قال: بُرْهان. يا كعبَ بنَ عُجْرة، لا يَدخلُ الجنةَ لحمٌ نَبَتَ من سُحْت أبدًا، النَّارُ أَولى به. يا كعبَ بنَ عُجْرة، الناسُ غاديَانِ: فمبتاعٌ نَفْسَه فمُعتِقُها، أو بائعُها فَمُوبِقها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8302 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے کعب! اللہ تعالیٰ تجھے بے وقوفوں کی امارت سے بچائے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے وقوفوں کی امارت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری ہدایت کو قبول نہیں کریں گے، میری سنت پر عمل پیرا نہیں ہوں گے، جس نے ان کے جھوٹ کو سچ کہا اور ان کے ظالمانہ رویے پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں ہیں اور میں ان سے نہیں ہوں، یہ لوگ میرے حوض پر نہیں آ سکیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ کو سچ نہ کہا، جس نے ان کے ظالمانہ رویے پر ان کی مدد نہ کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ لوگ میرے حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ، روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہوں کو مٹاتا ہے، اور نماز قربان ہے، یا (شاید فرمایا) نماز برہان ہے، لوگ صبح کرتے ہیں، کوئی اپنے نفس کو بیچ دیتا ہے اور آزاد کر لیتا ہے اور کوئی اس کو ہلاکت میں ڈال لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذِكْرُ مَا أَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْفِتْنَةِ
فتنے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8508
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حَدَّثَنَا عَبْد الله (1) بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن [أبي] (2) هلال، عن أبانَ بن صالح، عن الشَّعْبي، عن عَوْف بن مالك الأشجعي قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوك ورسولُ الله ﷺ في قُبّةٍ من أَدَم، إذ مَرَرتُ فسمع صوتي فقال:"يا عوفَ بنَ مالكٍ، ادخُلْ" فقلت: يا رسول الله، أكلِّي أم بعضي؟ قال:"بل كُلُّك قال: فدخلتُ، فقال:"يا عوف، اعدُدْ سِتًّا بين يدَيِ السّاعة" فقلت: ما هنَّ يا رسول الله؟ قال:"موتُ رسولِ الله" فبكى عوفٌ، ثم قال رسول الله ﷺ:"قُلْ: إحدَى" قلت: إحدى، ثم قال:"فتحُ بيتِ المَقدِس، قُل: اثنتين" قلت: اثنتين، قال:"وموتٌ يكون في أمَّتي كقُعَاصِ (3) الغَنَم، قل: ثلاثٌ" قلت: ثلاث، قال:"وتُفتَحُ لهم الدنيا حتَّى يُعطَى الرَّجلُ المئة فيَسخَطُها، قل: أربع" قلت: أربع [قال] :"وفِتنةٌ لا يبقى أحدٌ من المسلمين إِلَّا دَخَلَت عليه بيتَه، قل: خمسٌ" قلت: خمس [قال] :"وهُدْنةٌ تكون بينَكم وبين بني الأصفَر يأتونكم على ثمانين غيات كل غَيايةٍ (4) اثنا عشرَ ألفًا، ثم يغْدِرون بكم حتَّى حَمْلِ امرأةٍ". قال: فلمّا كان عامُ عَمَواس زَعَمُوا أَنَّ عوف بن مالك قال لمعاذِ بن جبل: إنَّ رسول الله ﷺ قال لي:"اعدُدْ ستًّا بين يَدَي الساعة"، فقد كان منهنَّ الثلاثُ وبقي الثلاثُ، فقال معاذ: إنَّ لهذا مُدّةً، ولكن خمسٌ أظلَّتكم، من أدركَ منهنَّ شيئًا ثم استطاع أن يموت فليمت: أن يَظهرَ التلاعنُ على المنابر، ويُعطَى مالُ الله على الكذب والبُهْتان (1) ، وسَفْكُ الدماء بغير حق، وتُقطَعَ الأرحام، ويُصبِحَ العبدُ لا يدري أضالٌّ هو أم مُهتدٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8303 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے بنے ہوئے ایک خیمے میں تھے، جب میں وہاں سے گزرا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن کر فرمایا: اے عوف بن مالک، اندر آ جاؤ، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مکمل طور پر اندر آ جاؤں، یا تھوڑا سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر اندر آ جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں: میں خیمے میں داخل ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف! قیامت سے پہلے چھ واقعات رونما ہوں گے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ کون کون سے واقعات ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (1) اللہ کے رسول کی وفات۔ یہ سن کر سیدنا عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک ۔ میں نے کہا ایک ۔ (2) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس فتح ہو گا۔ کہو: دو، میں نے کہا دو ۔ (3) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اموات اتنی کثیر ہوں گی جیسے بھیٹر بکریوں میں وباء پھیلنے سے جانور مرتے ہیں، پھر فرمایا: کہو تین ، میں نے کہا تین ۔ (4) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی دولت کھول دی جائے گی، حتی کہ کسی کو سو درہم بھی ملیں گے تو ان 100 پر بھی راضی نہیں ہو گا۔ کہو چار ، میں نے کہا چار (5) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا جو ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گا۔ كہو پانچ ، میں نے کہا پانچ ۔ (6) پھر فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر کے درمیان مصالحت ہو گی، وہ 80 جھنڈوں کے ساتھ تمہاری حمایت میں آئیں گے، ہر جھنڈے کے تحت ۱۲ ہزار کا لشکر ہو گا، پھر وہ تمہارے ساتھ غداری کریں گے حتی کہ عورت کے حمل میں بھی غدار ہی پیدا ہو گا، راوی کہتے ہیں: جب عمواس کا طاعون آیا، تو لوگ یہ سمجھے کہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا تھا کہ قیامت سے پہلے چھ واقعات گن لینا، ان میں سے تین تو رونما ہو چکے ہیں اور تین باقی رہتے ہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی ایک مدت ہے۔ لیکن ان میں سے پانچ تو تم پر سایہ فگن ہیں، جو ان میں سے ایک بھی پائے، وہ اگر مر سکے تو مر جائے، منبروں پر ایک دوسرے پر لعن طعن عام ہو جائے گا، اور اللہ کا مال جھوٹ اور بہتان لگا کر حاصل کیا جائے گا، ناحق قتل ہوں گے، رشتہ داریاں مٹ جائیں گی، بندہ صبح کرے گا تو اس کو پتا نہیں ہو گا کہ وہ ہدایت یافتہ ہے یا گمراہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8509
أخبرنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْنيّ. وأخبرنا الحسن بن محمد بن حَلِيمٍ الدِّهْقانُ بمَرُو، أخبرنا أبو نصر أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري (3) ، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا أبو عمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذرٍّ، كيف تَصنعُ إذا جاع (4) الناسُ حتَّى لا تستطيعَ أن تقومَ من مسجدِك إلى فراشِك، ولا من فراشِك إلى مسجدِك؟" قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"تَعِفُّ" ثم قال:"كيف تَصنعُ إذا مات الناسُ حتَّى يكونَ البيتُ بالوَصِيف؟" قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"تَصبِرُ" ثم قال:"كيف تَصنعُ إذا أقبلَ الناسُ حتَّى تَغرقَ أحجارُ (1) الزيت بالدِّماء؟" قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"تأتي مَن أنت منه" قلت: فإِن أَبَى عليَّ؟ قال:"إِنْ خِفْتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فأَلْقِ طائفةَ ردائِك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِك وإثمِه فيكونَ من أصحاب النار" قلت: أفلا أَحمِلُ السلاح؟ قال:"إذًا تُشارِكَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد خرَّجه البخاري من حديث همّام عن أبي عِمران (3) ، وقد زاد حماد بن زيد في إسناده بين أبي عمران الجَوْني وعبد الله بن الصامت المشعَّثَ بن طَريف بزيادةٍ في المتن، وحمادُ بن زيد أثبتُ من حماد بن سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8304 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا، جب لوگ اس قدر بھوک میں مبتلا ہوں گے کہ تم جائے نماز سے اٹھ کر اپنی چارپائی تک نہیں پہنچ سکو گے اور نہ چارپائی سے جائے نماز تک نہیں پہنچ سکو گے، میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچ کر رہنا، پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب لوگ مر جائیں گے اور قبریں بھی غلام آباد کریں گے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب بڑے بڑے رتبے والے لوگ آگ خون کی ہولی کھیلیں گے، میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنوں کے پاس چلے جانا، میں نے کہا: اگر مجھ پر کوئی حملہ آور ہو جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں خوف ہو، کہ تلوار کی شعاع تیرا خون بہا دے گی، تو اپنے چہرے پر کافی ساری چادریں ڈال لینا،) پھر بھی اگر وہ تجھے قتل کرے گا تو (تیرے اور اپنے گناہ کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، وہ دوزخی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: کیا میں ہتھیار نہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تم نے بھی ہتھیار اٹھا لیا) تب تم میں اور اس میں فرق کیا رہ جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ہمام کے واسطے سے ابوعمران سے روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں ابوعمران الجونی اور عبداللہ بن صامت کے درمیان مشعث بن طریف کا اضافہ کیا ہے اور اس کے متن میں بھی کچھ الفاظ زائد ہیں۔ اور حماد بن زید، حماد بن سلمہ سے زیادہ معتبر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8510
أخبرنا الحسن بن حَليم، حَدَّثَنَا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمَّاد بن زيد، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيك يا رسول الله وسَعدَيك، قال:"كيف أنت إذا أصاب الناسَ جوعٌ؛ تأتي مسجدَك فلا تستطيعُ أن ترجعَ إلى فِراشِك، وتأتي فراشك فلا تستطيعُ أن تنهض إلى مسجدِك؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خارَ اللهُ لي ورسوله - قال:"عليك بالعِفَّة" ثم قال:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك، قال:"كيف أنت إذا أصاب الناسَ موتٌ يكون البيتُ فيه بالوَصِيف؟" يعني القبرَ، قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خار اللهُ لي ورسولُه - قال:"عليك بالصَّبرِ - أو قال: تَصبِرُ -" ثم قال:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك (1) ، قال:"كيف أنت إذا رأيتَ أحجارَ الزيتِ قد غَرِقَت بالدم" قلت: ما خارَ الله لي ورسولُه، قال:"تَلْحَقُ بمن أنت منه - أو قال عليك بمن أنت منه -" قلت: أفلا آخذُ سيفي فأضَعُه على عاتِقي؟ قال:"شاركتَ إذًا؟ قلت: فما تأمرُني؟ قال:"تلزمُ بيتَك" قلت: أرأيتَ إن دُخِلَ عليَّ بيتي؟ قال:"فَإِن خَشِيتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فألْقِ رداءَك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِه وإثمِك" (2) .
سیدنا عبداللہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب لوگ بھوکے ہوں گے؟ تم نماز پڑھو گے لیکن) کمزوری کی وجہ سے (واپس اپنے بستر پر جانے کی ہمت نہ ہو گی، اور تم بستر پر ہو گے تو نماز کی جگہ تک آنے کی طاقت نہ ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لئے منتخب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود کو بچا کر رکھنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے، جب تم احجارالزیت (مدینہ منورہ میں ایک مقام) میں خون ہی خون دیکھو گے؟ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول حکم دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے جا ملنا , جن سے تم تعلق رکھتے ہو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی تلوار پکڑ کر اپنے کندھے پر نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان جیسے ہو جاؤ گے۔ اور اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تلوار کی دھار تمہارا خون بہا دے گی، تو اپنی چادر اپنے منہ پر ڈال لینا اور تیرے قتل کا ذمہ دار وہی ہو گا جو تجھے قتل کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8511
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، أنه سمع أبا ثَعْلبة الخُشَنيّ يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لم (3) يُعجِزِ اللهُ هذه الأُمّةَ من نصفِ يوم" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8306 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن سے زیادہ دیر عاجز نہیں کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِيهِ إِلَّا مَنْ دَعَا دُعَاءَ الْغَرَقِ
تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں صرف وہی نجات پائے گا جو ڈوبنے والے کی طرح گڑگڑا کر دعا کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8512
ما أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا محمد بن المتوكَّل العَسْقلانيّ، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، أخبرنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي مريم، عن راشد بن سعد، عن سعد بن أبي وقَّاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال:" [لن] (1) يُعجِزَني عند ربِّي أن يُؤجِّلَ أمَّتي نصفَ يوم" قيل: وما نصفُ يوم؟ قال:"خمسُ مئةِ سنةٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے میرے رب کی بارگاہ میں ایسا عاجز ہرگز نہیں کیا جائے گا کہ میری امت آدھا دن تک پریشان رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم آدھا دن کی مقدار کتنی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8513
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (3) ، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص عن سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن عُمارة بن عُمير، عن حُذَيفة قال: يأتي عليكم زمانٌ لا يَنجُو فِيه إِلَّا مَن دعا دعاءَ الغَرَق (4) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8308 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہی نجات یافتہ ہو گا، جو اس طرح دعا مانگے گا جیسے کوئی غرق ہونے والا دعا مانگتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ دَنَتِ الزَّلَازِلُ
جب تم خلافت کو ارضِ مقدسہ (شام) میں اترتے دیکھو تو سمجھ لو کہ زلزلے قریب آ گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8514
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حبيب، أنَّ ابن زُغْب الإيادي حدَّثه، قال: نزل (1) علي عبد الله بن حَوَالةَ الأَزْدي، فقال لي وإنَّه لنازل عليَّ في بيتي -: لا أُمّ لك، أما يكفي ابنَ حَوَالة مئةٌ تجري عليه في كلِّ عام؟! ثم قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ حول المدينة على أقدامنا لِنَعْنَمَ، فَرَجَعْنا ولم نَغنَمْ وعَرَفَ الجَهْدَ في وجوهنا، فقام فينا فقال:"اللهم لا تكلهم إليَّ فأضعُفَ عنهم، ولا تَكِلْهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها، ولا تكلهم إلى الناس فيستأثروا عليهم"، ثم قال:"لتَفتَحُنَّ الشام وفارس - أو الروم وفارس - حتى يكون لأحدكم من الإبل كذا وكذا، ومن البقر كذا وكذا، وحتى يُعطى أحدكم مئة دينار فيَسخَطَها"، ثم وَضَعَ يَدَه على رأسي وعلى هامتي، فقال:"يا ابنَ حَوَالة، إذا رأيت الخلافة قد نزلت الأرض المقدَّسة، فقد دَنَتِ الزلازل والبلايا والأمورُ العِظام، للسَّاعةُ يومئذٍ أقرب للناس من يدي هذه من رأسك هذا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
ابن زغب ایادی فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن حوالہ الازدی کے پاس گیا، انہوں نے مجھے کہا: میں آپ کے پاس آنا ہی چاہتا تھا، تیری ماں نہ رہے، کیا ابن حوالہ کو وہ 100 (دراہم) کافی نہیں ہیں جو ہر سال ان کو جاری کئے جاتے ہیں، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ کے اردگرد بھیجا تاکہ ہم کوئی غنیمت لے کر آئیں، ہم بغیر کوئی غنیمت لیے واپس آ گئے، اور ہمارے چہروں سے تھکاوٹ کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں یوں دعا مانگی اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ اے اللہ! ان کو میرے آسرے پر نہ چھوڑنا کہ میں ان کا بوجھ نہ اٹھا سکوں، اور ان کو ان کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ یہ اس سے بھی عاجز آ جائیں گے، اور ان کو لوگوں کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ لوگ ان پر غالب آ جائیں گے۔ پھر فرمایا: تم ضرور ضرور شام اور فارس کو یا (شاید فرمایا) روم اور فارس کو فتح کر لو گے، حتی کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس اتنے اتنے اونٹ اور اتنی اتنی گائیں ہوں گی، حتی کہ کسی کو ایک سو دینار دیئے جائیں گے تو وہ اس (کے کم ہونے پر) ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت اس پاک سرزمین سے جا چکی ہے، تو سمجھ لینا کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات عنقریب ہونے والے ہیں، اس وقت قیامت لوگوں کے اس سے بھی زیادہ قریب ہو گی جتنا یہ ہاتھ اس سر کے قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالرحمن بن زغب الایادی معروف تابعی ہیں، اہل مصر میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8514]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - " لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ "
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جاؤ گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8515
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن صالح بن أبي عريب، عن كثير بن مُرَّة، عن عوف بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وأَقْناءُ مَعلَّقةٌ، وقِنوٌ منها حَشَفٌ، ومعه عصًا، فطَعَنَ بالعصا في القِنْو، قال:"لو شاءَ ربُّ هذه الصدقة فتصدَّق بأطيب منها، إنَّ صاحب هذه الصدقةِ يأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة"، ثم أقبَلَ علينا فقال:"أما والله يا أهل المدينة لَتدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعوافي" قلنا: الله ورسوله أعلم، ثم قال رسول الله ﷺ:"أتدرون ما العوافي؟" قالوا: لا، قال:"الطيرُ والسباع" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، کھجوروں کے گچھے، لٹک رہے تھے، ان میں سے ایک گچھہ ردی کھجوروں کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عصا مبارک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گچھے میں اپنا عصا مارا، اور فرمایا: یہ گچھہ جس نے صدقہ دیا ہے، وہ اگر چاہتا تو اس سے اچھا بھی دے سکتا تھا، اس کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مدینے والو! تو اس کو چالیس سال تک عوافی کے لئے کھلا چھوڑ دو گے۔ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پتا ہے کہ عوافی کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندوں اور درندوں کو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8515]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8516
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرُو، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يونس بن يوسف بن حِمَاس، عن عمّه، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"لتُترَكَنَّ المدينةُ على خيرِ ما كانت، العَوَافِي تأكلها؛ الطَّيرُ والسِّباعُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يخرجاه. فليعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ حذيفة بن اليَمَان صاحب سر رسول الله ﷺ، وكان يقول: كان الناسُ يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسأله عن الشرِّ مخافة أن أقع فيه (1) ، وقد يَخفَى على الأعلم مجلسٌ من العلم لبعض (2) عِلَّة ذلك الجنس، وقد خَفِيَ على حذيفة الذي يُخرِج أهل المدينة من المدينة وعَلِمَه غيره (3) . وقد اتفق الشيخان ﵄ على حديث شُعبة، عن عَدِيّ بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن حذيفة أنه قال: أخبرني رسول الله ﷺ بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فما منه شيء إلا وقد سألته عنه، إلا أني لم أسأله ما يُخرِجُ أهل المدينة من المدينة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8311 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مدینہ جس حالت پر پہلے تھا اس سے بھی اچھی حالت میں چھوڑا جائے گا، اس کو پرندے اور درندے کھائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس علم کے طلبگار کو جان لینا چاہئے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: لوگ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تاکہ مجھے اس کا پتا چل جائے اور میں اس میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤں، بعض اوقات علم کی کسی مجلس میں ہونے والی علم کی باتیں بعض وجوہات کی بناء پر رہ بھی جاتی تھیں اور سیدنا حذیفہ کو وہ خبر نہ ملی جس میں یہ تھا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے نکال دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے بہت سارے لوگوں کو یہ حدیث معلوم تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو قیامت تک ہونے والا ہے، اور یہ سب کچھ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، صرف ایک بات نہیں پوچھی تھی کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کیوں نکالا جائے گا؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں