سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
باب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 4020
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ إِمَّا قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ"، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا، قِيلَ لَهُ: تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4020]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا حاصل کرتے تو اس کا نام لیتے، یعنی قمیص یا پگڑی وغیرہ اور یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» ”اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے، میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔“ ابونضرہ رحمہ اللہ نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اسے یوں دعا دی جاتی: «تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى» ”اللہ کرے تم اسے خوب (استعمال کر کے) پرانا کرو اور اللہ اس کے بعد اور بھی عنایت فرمائے۔““ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 29 (1767)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (310)، (تحفة الأشراف: 4326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 50) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4342)
أخرجه الترمذي (1767 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4342)
أخرجه الترمذي (1767 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4021
اس سند سے بھی جریری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4021]
مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ”ہمیں عیسیٰ بن یونس نے بواسطہ جریری بیان کیا، انہوں نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4020)
انظر الحديث السابق (4020)
حدیث نمبر: 4022
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ.
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4022]
مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن دینار نے بیان کیا، بواسطہ جریری کے، انہوں نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”عبدالوہاب ثقفی نے اپنی سند میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔“ اور حماد بن سلمہ نے کہا: «عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”جریری سے، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”حماد بن سلمہ اور (عبدالوہاب ثقفی) ثقفی دونوں کا سماع ایک جیسا ہے (دونوں مرسل بیان کرتے ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4020)، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4020)
انظر الحديث السابق (4020)
حدیث نمبر: 4023
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا ”تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ نیز فرمایا: ”اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا ”تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4023]
جناب سہل اپنے والد سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھانا کھانے کے بعد یوں دعا کرے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”حمد اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری کسی کوشش و قوت کے مجھے یہ رزق عنایت فرمایا“ تو اس کے اگلے اور پچھلے سب گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ فرمایا: ”اور جو کوئی کپڑا پہنے پھر یہ دعا کرے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”حمد اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور بغیر میری کسی کوشش اور قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا“ تو اس کے اگلے اور پچھلے (سب) گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 56 (3458)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285)، (تحفة الأشراف: 11297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439)، سنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) دون زیادة: ’’وما تأخر‘‘ في الموضعین»
قال الشيخ الألباني: حسن دون زيادة وما تأخر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4343)
أخرجه الترمذي (3458 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3285 وسنده حسن) أبو مرحوم عبد الرحيم وثقه الجمھور وحسنه الحافظ في الفتوحات الربانية
مشكوة المصابيح (4343)
أخرجه الترمذي (3458 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3285 وسنده حسن) أبو مرحوم عبد الرحيم وثقه الجمھور وحسنه الحافظ في الفتوحات الربانية
2. باب فِيمَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
باب: نیا کپڑا پہننے والے کو دعا دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4024
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ الْجَرَّاحِ الْأَذَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ:" مَنْ تَرَوْنَ أَحَقُّ بِهَذِهِ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا، فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، ثُمَّ قَالَ: أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ: سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ وَسَنَاهْ فِي كَلَامِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ".
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟“ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام خالد کو میرے پاس لاؤ“ چنانچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دوبار فرمایا: ”پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو“ آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ”اے ام خالد! ” «سناه سناه» اچھا ہے اچھا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4024]
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی دھاری دار اونی چادر بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اس کا زیادہ حقدار کون ہے؟“ تو صحابہ خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔“ اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اسے اوڑھا دی۔ پھر فرمایا: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي» ”اللہ کرے تم اسے خوب پہنو اور پرانا کرو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو بار فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر کی سرخ یا زرد دھاریاں دیکھنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: «سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ» اور یہ لفظ حبشی زبان میں ”خوبصورت“ کے معنی میں آتا ہے۔ (یعنی بہت خوبصورت، بہت خوبصورت ہے، اے ام خالد!)۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 188 (3071)، المناقب 37 (3874)، اللباس 22 (5823)، الأدب 17 (5993)، (تحفة الأشراف: 15779)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/365) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سناہ حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5823)
3. باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ
باب: قمیص اور کرتے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4025
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4025]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں سے قمیص زیادہ پسند تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 28 (1763)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 8 (3575)، مسند احمد (306، 317، 318، 321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4328)
أخرجه الترمذي (1762)
مشكوة المصابيح (4328)
أخرجه الترمذي (1762)
حدیث نمبر: 4026
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:"لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4026]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے بڑھ کر اور کوئی کپڑا زیادہ پسند نہیں تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18169) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4027
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ:" كَانَتْ يَدُ كُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّصْغِ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص (کرتے) کی آستین پہنچوں تک تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4027]
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کی آستین (آپ کے) پہنچے (گٹے) تک ہوا کرتی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 28 (1765)، (تحفة الأشراف: 15765) (ضعیف)» (سند میں شہر بن حوشب حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1765 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (1765 وسنده حسن)
4. باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ
باب: قباء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، أَنَّ اللَّيْثَ يَعْنِيَ ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ مَخْرَمَةُ ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ"، قَالَ قُتَيْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُسَمِّهِ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مخرمہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا“ تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: ”مخرمہ خوش ہو گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4028]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں مگر مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہ دیا، تو مخرمہ نے کہا: ”اے بیٹے! چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلتے ہیں۔“ تو میں ان کے ساتھ چل پڑا، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: ”اندر جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ۔“ چنانچہ میں نے آپ کو بلایا تو آپ تشریف لے آئے اور آپ انہی قباؤں میں سے ایک اوڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ پس مخرمہ نے اسے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مخرمہ راضی ہے؟“ قتیبہ نے سند میں ”ابن ابی ملیکہ“ کہا اور اس کا نام نہیں لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 19 (2599)، الشہادات 11 (2127)، الخمس 11 (3127)، اللباس 12 (5800)، 42 (5862)، الأدب 82 (6132)، صحیح مسلم/الزکاة 44 (1058)، سنن الترمذی/الأدب 53 (2818)، سنن النسائی/الزینة 45 (5326)، (تحفة الأشراف: 11268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/328) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2599) صحيح مسلم (1058)
5. باب فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ
باب: شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الشَّامِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبًا مِثْلَهُ زَادَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ثُمَّ تُلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ ”پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4029]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”جس نے شہرت والا لباس پہنا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اسی جیسا لباس پہنائے گا۔“ ابوعوانہ سے مزید روایت ہوا ہے: ”پھر اس کے لیے اس میں آگ بھڑکے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس 24 (3606)، (تحفة الأشراف: 7464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92، 139) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4346)
أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد
مشكوة المصابيح (4346)
أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد