🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: حریر (ریشم) پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے (تو اچھا ہوتا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4040]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی حلہ فروخت کیا جا رہا تھا۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود کے استقبال کے موقع پر جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں، زیب تن فرمایا کریں (تو بہت خوب رہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے حلے آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی ان میں سے ایک حلہ عنایت فرمایا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ عطا فرما رہے ہیں، حالانکہ آپ نے عطارد والے حلے کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں تمہارے اپنے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا، دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1076)، (تحفة الأشراف: 8335) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2612) صحيح مسلم (2068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ، وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، وَقَالَ: تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4041]
جناب سالم اپنے والد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کرتے ہیں انہوں نے ( «حُلَّةَ سِيَرَاءَ» کی بجائے) «حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ» کہا۔ (استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں) اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیباج (باریک ریشم) کا ایک حلہ بھجوایا اور فرمایا: اسے فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1077)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2054) صحيح مسلم (2068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4042
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا وَهَكَذَا أُصْبُعَيْنِ وَثَلَاثَةً وَأَرْبَعَةً".
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4042]
ابو عثمان النہدی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا ہے، الا یہ کہ اس قدر ہو، یعنی دو، تین، چار انگلی کے برابر۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن النسائی/الزینة 38 (5314)، سنن ابن ماجہ/ الجہاد 21 (3593) (تحفة الأشراف: 10597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 36، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5829) صحيح مسلم (2069)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4043
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَلَبِسْتُهَا فَأَتَيْتُهُ فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے (خود) پہنو آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4043]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار حلہ ہدیہ دیا گیا، جو آپ نے مجھے بھجوا دیا۔ میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لیے نہیں بھیجا کہ تم خود اسے پہن لو۔ چنانچہ آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن النسائی/الزینة 30 (5300)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد (1/90، 139، 153) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2071)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَنْ كَرِهَهُ
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ"،
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی (ایک ریشمی کپڑا) اور معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4044]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ «قَسِّيِّ» پہنا جائے (وہ ریشمی کپڑا جو مصر سے درآمد ہوتا تھا) یا زعفرانی زرد رنگ کے کپڑے پہنے جائیں یا سونے کی انگوٹھی پہنی جائے یا رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت کی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، اللباس 4 (2078)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (264) واللباس 5 (1725)، 13 (1737)، سنن النسائی/التطبیق 7 (1041)، والزینة 43 (5180)، الزینة من المجتبی 23 (5269، 5270)، سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3602)، 40 (3642)، (تحفة الأشراف: 10179)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد (1/80، 81، 92، 104، 105، 114، 119، 121، 123، 126، 127، 132، 133، 134، 137، 138، 146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2078)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4045
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ:" عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
اس سند سے بھی بواسطہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں رکوع اور سجدے دونوں میں قرآت کی ممانعت کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4045]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدے میں قراءت قرآن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10179) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4044)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4046
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا زَادَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ.
اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4046]
ابراہیم بن عبداللہ نے یہ روایت بیان کی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے) اس میں یہ مزید بیان کیا: میں یہ نہیں کہتا کہ تم لوگوں کو منع کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4044)، (تحفة الأشراف: 10179) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه ابن عبد البر في التمھيد (16/144 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4044)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4047
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس (ایک باریک ریشمی کپڑا) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4047]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آستینوں کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیج دیا۔ انہوں نے اسے پہنا اور آپ کی خدمت میں آئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں تمہارے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا: تو پھر میں اس کا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو۔ (یعنی شاہ حبشہ کے ہاں بھیج دو)۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1098)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/111، 229، 251) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد ضعيف
وأصله صحيح راجع مسند الحميدي بتحقيقي (1213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4048
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ، قَالَ: وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ"، قَالَ سَعِيدٌ: أُرَهُ، قَالَ: إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَاءَتْ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4048]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ رنگ کی ارغوانی زین پر سوار نہیں ہوتا، نہ زرد رنگ کا لباس پہنتا ہوں اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس کی آستینیں ریشم سے گاڑھی گئی ہوں۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے روایت بیان کرنے کے دوران میں اپنی قمیص کے دامن کی طرف اشارہ کیا اور مزید کہا: خبردار! مردوں کی خوشبو (زینت) میں مہک ہوتی ہے رنگ نہیں ہوتا اور خبردار! عورتوں کی خوشبو (زینت) میں رنگ ہوتا ہے مہک نہیں ہوتی۔ سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے کہا: محدثین کرام عورتوں کی خوشبو کے متعلق مذکورہ فرمان کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو ایسی خوشبو نہ لگائیں جو مہک والی ہو (کہ دوسروں کو ان کی طرف متوجہ کرے)، لیکن جب اپنے شوہر کے پاس ہو تو جیسی چاہے خوشبو لگا لے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10803)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 36 (2789)، مسند احمد (4/442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2788)
سعيد وقتادة والحسن مدلسون وعنعنوا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَدِفْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ.
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4049]
ابوالحصین ہیثم بن شفی کا بیان ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی، جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر سے تعلق رکھتا تھا، ہم روانہ ہوئے کہ بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھیں۔ ان دنوں ان لوگوں کا واعظ قبیلہ ازد کا ایک آدمی تھا جسے ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا اور وہ صحابی تھے۔ ابوالحصین نے کہا کہ میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد میں چلا گیا، میں اس کے بعد پہنچا اور اس کے ساتھ جا بیٹھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے ابوریحانہ کے وعظ سے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: (1) دانت باریک کروانے سے (ان میں قدرے خلا آ جائے اور خوبصورت نظر آئیں) (2) جسم گدوانے سے (کہ اس میں نقش و نگار بنائے جائیں یا نام وغیرہ لکھا جائے) (3) بال نوچنے سے (پلکوں اور چہرے کے کہ خوبصورت نظر آئے) (4) کسی مرد کا کسی دوسرے مرد کے ساتھ لپٹنے سے جبکہ انہوں نے کپڑے نہ پہنے ہوئے ہوں (5) کسی عورت کا دوسری عورت کے ساتھ لپٹنے سے جبکہ انہوں نے کپڑے نہ پہنے ہوں (6) عجمیوں (غیر مسلموں) کی طرح کپڑوں کے نیچے ریشمی استر لگانے سے (7) یا یہ کہ کوئی عجمیوں کی طرح اپنے کندھوں پر ریشمی چادر ڈالے (8) لوٹ مار کرنے سے (9) چیتوں کی کھال بطور گدی یا سیٹ استعمال کرنے سے اور (10) انگوٹھی پہننے سے سوائے اس کے کہ کوئی منصب دار ہو (تو اس کے لیے جائز ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 20 (5094)، 27 (5113، 5114، 5115)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 47 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الاستئذان 20 (2690) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5094) وغيره،ابن ماجه (3655)
أبو عامر المعافري الحجري : لم أجد من وثقه وھو : مجهول الحال كما في التحرير (8200)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں