سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مَنْ كَرِهَهُ
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4050
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سرخ گدوں (زین پوشوں) سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4050]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سرخ ارغونی رنگ کے زین پوشوں سے منع کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4356)
وله شاھد صحيح عند النسائي (5183)
مشكوة المصابيح (4356)
وله شاھد صحيح عند النسائي (5183)
حدیث نمبر: 4051
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4051]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا: ”کہ میں سونے کی انگوٹھی پہنوں یا «الْقَسِيَّ» ”(ریشمی)“ لباس اختیار کروں یا سرخ رنگ کا زین پوش استعمال کروں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الأدب 45 (2808)، سنن النسائی/ الزینة 43 (5168)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 46 (3654)، (تحفة الأشراف: 10304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93، 104، 127، 132، 133، 137) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک ریشمی کپڑا جو مصر میں تیار ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4356)
رواية شعبة عن أبي إسحاق محمولة علي السماع
مشكوة المصابيح (4356)
رواية شعبة عن أبي إسحاق محمولة علي السماع
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَهْمٍ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَانِمٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا (یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4052]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منقش اونی چادر میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس کے نقوش پر پڑی تو جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری یہ منقش چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اس نے مجھے ابھی نماز کے دوران میں مشغول کر دیا تھا، میرے لیے سادہ (انبجانی چادر) چادر لے آؤ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوجہم بن حذیفہ، بنو عدی بن کعب بن غانم کے فرد تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (915)، (تحفة الأشراف: 16403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5817) صحيح مسلم (556)
حدیث نمبر: 4053
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ وَالْأَوَّلُ أَشْبَعُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4053]
عثمان بن ابی شیبہ اور ان کے دوسرے ساتھی بیان کرتے ہیں کہ سفیان نے بواسطہ زہری، عروہ سے، انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ اور مذکورہ بالا روایت زیادہ جامع ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (914)، (تحفة الأشراف: 16434) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (752) صحيح مسلم (556)
انظر الحديث السابق (914)
انظر الحديث السابق (914)
11. باب الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ وَخَيْطِ الْحَرِيرِ
باب: کپڑے پر ریشمی بیل بوٹوں اور ریشمی دھاگوں کا استعمال جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4054
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَأْمِيًّا فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرَ، فَرَدَّهُ فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ" يَا جَارِيَةُ نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةَ مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ".
عبداللہ ابوعمر مولی اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کر دیا تو میں اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ (اپنی خادمہ سے) بولیں بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی ۱؎ جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے ریشم ٹکا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4054]
عبداللہ ابو عمر سے روایت ہے اور یہ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کے غلام تھے، انہوں نے بیان کیا: ”میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بازار میں دیکھا کہ انہوں نے ایک شامی کپڑا خریدنا چاہا، پھر دیکھا کہ اس میں سرخ دھاگے پڑے ہیں تو انہوں نے واپس کر دیا۔ پھر میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں یہ واقعہ بتایا تو انہوں نے لونڈی کو بلایا اور کہا: ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آؤ۔“ تو وہ ایک طیلسان کا (موٹا اونی) جبہ لے آئی جس کا دامن، دونوں کف اور دونوں طرف کے چاک موٹے ریشمی دھاگے سے کڑھے ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 18 (3594)، مسند احمد (6/348، 353، 354، 355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک اونی منقش کپڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3594 وسنده حسن) وأصله عند مسلم (2069)
أخرجه ابن ماجه (3594 وسنده حسن) وأصله عند مسلم (2069)
حدیث نمبر: 4055
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَسَدَى الثَّوْبِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4055]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صرف اسی کپڑے سے منع فرمایا ہے جو خالص ریشمی ہو۔ لیکن اگر ریشمی دھاگے سے کڑھائی ہوئی ہو یا اس کا تانا ریشمی ہو تو اس کا کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313، 321) (صحیح) دون قولہ: ''فأما العلم...''»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فأما العلم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خصيف ضعيف وروي أحمد (313/1 وأطراف المسند 95/3) بإسناد صحيح عن ابن عباس قال :’’ إنما نهي رسول اللّٰه ﷺ عن (الثوب) المصمت حريرًا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
إسناده ضعيف
خصيف ضعيف وروي أحمد (313/1 وأطراف المسند 95/3) بإسناد صحيح عن ابن عباس قال :’’ إنما نهي رسول اللّٰه ﷺ عن (الثوب) المصمت حريرًا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
12. باب فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِعُذْرٍ
باب: عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4056
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4056]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی اجازت دی تھی جبکہ وہ سفر میں تھے اور انہیں خارش ہو گئی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 91 (2919)، واللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن النسائی/الزینة من المجتمع 38 (5312)، سنن ابن ماجہ/اللباس 17 (3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، مسند احمد (3/127، 180، 215، 255، 273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2919) صحيح مسلم (2076)
13. باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لیا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا، پھر فرمایا: ”بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، سنن ابن ماجہ/اللباس 19 (3595)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4394)
وله طريق آخر عند النسائي (5148 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4394)
وله طريق آخر عند النسائي (5148 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4058
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا سِيَرَاءَ"، قَالَ: وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: «سیراء» کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4058]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے «السِّيَرَاء» کی ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی، یعنی ”دھاری دار ریشمی چادر جس میں چار خانے سے بنے ہوئے تھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 30 (5842 تعلیقًا)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 30 (5299)، (تحفة الأشراف: 1533)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 19(3598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (5842) مختصرًا
رواه البخاري (5842) مختصرًا
حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي، قَالَ: مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4059]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم لڑکوں پر سے (ریشم) اتار لیا کرتے تھے اور بچیوں پر رہنے دیتے تھے۔“ مسعر کہتے ہیں کہ ”میں نے اس روایت کے بارے میں عمرو بن دینار سے دریافت کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2561) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح