سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فِي الرَّجُلِ يَعْتَرِفُ بِحَدٍّ وَلاَ يُسَمِّيهِ
باب: آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4381
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے (جرم قابل حد ہے)، مجھ پر حد قائم فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بھلا تو نے آتے وقت وضو کیا تھا؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے ہمارے ساتھ مل کر نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التوبة 7 (2765)، (تحفة الأشراف: 4878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/251، 262، 265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2765)
10. باب فِي الاِمْتِحَانِ بِالضَّرْبِ
باب: جرم کی تفتیش میں مجرم کو مارنا پیٹنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4382
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ" أَنَّ قَوْمًا مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ، فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ، فَأَتَوْا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْا النُّعْمَانَ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلَا امْتِحَانٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ، فَقَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَيْ لَا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلَّا بَعْدَ الِاعْتِرَافِ.
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4382]
ازہر بن عبداللہ حرازی سے روایت ہے کہ قبیلہ کلاع کے لوگوں کا کچھ مال چوری ہو گیا۔ انہوں نے کچھ جولاہوں پر اس کا الزام لگایا۔ ان لوگوں کو سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کو کئی دن قید میں رکھا اور پھر چھوڑ دیا۔ مال والے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”آپ نے ان لوگوں کو مارے پیٹے اور تحقیق و تفتیش کے بغیر ہی چھوڑ دیا ہے۔“ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم کیا چاہتے ہو؟ اگر چاہو تو میں انہیں مارتا ہوں، اگر تمہارا مال مل گیا تو بہتر، ورنہ اس کا بدلہ تمہاری پیٹھوں سے لوں گا۔ جس قدر ان کو مارا ہو گا تمہیں بھی ماروں گا۔“ انہوں نے کہا: ”کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کلاعی لوگوں کو اپنی اس بات سے ڈرایا تھا اور مقصد واضح کرنا تھا کہ ملزم کو اعتراف کے بعد ہی مارنا درست ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 2 (4878)، (تحفة الأشراف: 11611) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرم پر جب شبہ ہو تو اس کو پکڑنا صحیح ہے، مگر ناحق مار پیٹ سے اس سے اقبال جرم کرانا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر ظلم ہے، جیسا کہ آج کل میں لوگ کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4878)
في سماع أزهر الحرازي من النعمان بن بشير نظر وھو من الطبقة الخا مسة عند ابن حجر (تقريب التهذيب:308) وقال النسائي : ’’ ھذا حديث منكر،لا يحتج به،أخرجته ليعرف القصاص‘‘(السنن الكبري للنسائي : 7361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
نسائي (4878)
في سماع أزهر الحرازي من النعمان بن بشير نظر وھو من الطبقة الخا مسة عند ابن حجر (تقريب التهذيب:308) وقال النسائي : ’’ ھذا حديث منكر،لا يحتج به،أخرجته ليعرف القصاص‘‘(السنن الكبري للنسائي : 7361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
11. باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ
باب: چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟
حدیث نمبر: 4383
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں (چور کا ہاتھ) کاٹتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4383]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری میں چور کا ہاتھ کاٹا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 13 (6789)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1684)، سنن الترمذی/الحدود 16 (1445)، سنن النسائی/قطع السارق 7 (4920)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2585)، (تحفة الأشراف: 17920)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 7 (23)، مسند احمد (6/36، 80، 81، 104، 163، 249، 252)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6789) صحيح مسلم (1684)
حدیث نمبر: 4384
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،عَنْ عُرْوَةً، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4384]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جائے۔“ احمد بن صالح کے الفاظ میں ہے: ”ہاتھ کا کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الحدود 13 (6790)، صحیح مسلم/ الحدود 1 (1684)، سنن النسائی/ قطع السارق 7 (4621)، (تحفة الأشراف: 16695)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الحدود 7 (24)، دی/ الحدود 4 (2346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6790) صحيح مسلم (1684)
حدیث نمبر: 4385
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال میں جس کی قیمت تین درہم تھی (چور کا ہاتھ) کاٹا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4385]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 13 (6795)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1686)، سنن النسائی/قطع السارق 7 (4912)، (تحفة الأشراف: 8333)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 16 (1446)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2584)، موطا امام مالک/الحدود 7 (21)، مسند احمد (2/6، 54، 64، 80، 143)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2347) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6795) صحيح مسلم (1686)
حدیث نمبر: 4386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4386]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری میں ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا، جو اس نے عورتوں والے صفہ (عورتوں کے لیے مخصوص سایہ دار مقام جہاں وہ نماز وغیرہ پڑھا کرتی تھیں) سے چرائی تھی۔ اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحدود 1 (1686)، سنن النسائی/ قطع السارق 7 (4913)، (تحفة الأشراف: 7496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/145)، دی/ الحدود 4 (2347) (صحیح)» (اس میں عورتوں کے چبوترہ کا ذکر صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1686)
حدیث نمبر: 4387
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق،عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ رَجُلٍ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ دِينَارٌ أَوْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَسَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق بِإِسْنَادِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے (چرانے پر) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4387]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کے بدلے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس روایت کو محمد بن سلمہ اور سعدان بن یحییٰ نے ابن اسحاق سے اس کی سند سے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 7 (4954)، (تحفة الأشراف: 5884) (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
12. باب مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 4388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلَامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْكَثَرُ الْجُمَّارُ.
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”پھل اور جمار (کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا“ تو اس شخص نے کہا: مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا“ مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «کثر» کے معنیٰ «جمار» کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4388]
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا کہ ایک غلام نے کسی کے باغ سے کھجور کا ایک پودا چوری کر کے اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا۔ پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا اور اسے پا لیا۔ پھر اس غلام کا مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں پیش کر دیا جو ان دنوں مدینے کے امیر تھے۔ مروان نے غلام کو قید کر لیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دے۔ تب غلام کا مالک سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، وہ فرماتے تھے: ”(درختوں پر لگے) پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔“ تو اس آدمی نے کہا: ”تحقیق مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہوا ہے اور وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ اس کے پاس چلیں اور جو حدیث آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اسے بھی بتائیں۔“ چنانچہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ گئے اور مروان کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔“ چنانچہ مروان نے حکم دیا اور غلام کو چھوڑ دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اَلْكَثَرُ» سے مراد کھجور کی وہ نرم گری ہے جو اس کے تنے کے اوپر کنارے میں ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 19 (1449)، سنن النسائی/قطع السارق 10 (4964)، سنن ابن ماجہ/الحدود 27 (2593)، (تحفة الأشراف: 3581، 3588)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 11 (32)، مسند احمد (3/463، 464، 5/140، 142)، سنن الدارمی/الحدود 7 (2350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «جمار» کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے، اور کھایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3593)
أخرجه النسائي (4964) وھو في الموطأ (2/839) وصححه ابن الجارود (826) وابن حبان (1505) وزاد بعض الرواة في السند، واسع بن حبان ثقة وھو من المزيد في متصل الأسانيد
مشكوة المصابيح (3593)
أخرجه النسائي (4964) وھو في الموطأ (2/839) وصححه ابن الجارود (826) وابن حبان (1505) وزاد بعض الرواة في السند، واسع بن حبان ثقة وھو من المزيد في متصل الأسانيد
حدیث نمبر: 4389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ.
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4389]
محمد بن یحییٰ بن حبان نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور کہا کہ: ”مروان نے اس غلام کو چند کوڑے مارے اور چھوڑ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ،(تحفة الأشراف: 3581) (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صحيح محفوظ، وانظر الحديث السابق (4388)
صحيح محفوظ، وانظر الحديث السابق (4388)
حدیث نمبر: 4390
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ:" مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ الْجُوخَانُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4390]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ درختوں پر لگی کھجوروں کا کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ضرورت مند اپنے منہ سے کھا لے، لیکن پلو میں نہ باندھے تو اس پر کچھ نہیں، اور اگر کوئی کچھ لے کر نکلے تو اس پر اس کا دگنا جرمانہ اور سزا ہے، اور اگر کوئی کھلیان میں محفوظ کر دینے کے بعد چرائے اور اس کی قیمت ایک ڈھال کو پہنچے تو اس میں ہاتھ کا کاٹنا ہے، اور جو کوئی اس سے کم چرائے تو اس پر چوری شدہ کا دوگنا جرمانہ اور سزا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اَلْجَرِينُ» سے مراد «جَوْخَانُ» ہے، یعنی جہاں کھجور وغیرہ خشک اور ذخیرہ کی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 9 (4961)، سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2596)، (تحفة الأشراف: 8798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ان جريج تابعه عمرو بن الحارث وهشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسنده حسن) والنسائي (4962 مختصرًا، وسنده حسن)
ان جريج تابعه عمرو بن الحارث وهشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسنده حسن) والنسائي (4962 مختصرًا، وسنده حسن)