🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ
باب: کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4391
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۱؎، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4391]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لٹیرے کا ہاتھ نہیں کٹتا اور جو علانیہ مال لوٹے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 18 (1448)، سنن النسائی/قطع السارق 10 (4975)، سنن ابن ماجہ/الحدود 26 (2591)، (تحفة الأشراف: 2800)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الحدود 8 (2356) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ (چرانے) کاا طلاق نہیں ہوتا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کر کے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جا سکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چوری کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آ جانے میں یہ زیادہ موثر ہو۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱۲؍۳۹)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3596)
ابن جريج صرح بالسماع عند الدارمي (2/175 ح2315) وتابعه المغيرة بن مسلم، وأبو الزبير تابعه عمرو بن دينار

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4392
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ".
اور اسی سند سے مروی ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4392]
اسی مذکورہ سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کٹتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2800) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4393
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، زَادَ وَلَا عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مَنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا اور مزید کہا: اچکے کا ہاتھ نہیں کٹتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ابن جریج نے ابوزبیر سے نہیں سنی ہیں۔ اور مجھے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ احادیث ابن جریج نے یاسین الزیات سے سنی ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ احادیث مغیرہ بن مسلم نے بھی بواسطہ ابوزبیر، جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4391)، (تحفة الأشراف: 2800) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب مَنْ سَرَقَ مِنْ حِرْزٍ
باب: جو شخص کسی چیز کو محفوظ مقام سے چرائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:" كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ، فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا؟ أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا قَالَ: فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ، قَالَ: نَامَ صَفْوَانُ، وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ، وَطَاوُسٌ أَنَّهُ كَانَ نَائِمًا فَجَاءَ سَارِقٌ، فَسَرَقَ خَمِيصَةً مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ وَرَوَاهُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَاسْتَلَّهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَاسْتَيْقَظَ فَصَاحَ بِهِ فَأُخِذَ وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأُخِذَ السَّارِقُ فَجِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کر لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4394]
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، مجھ پر ایک منقش اونی چادر تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، ایک آدمی آیا اور اس نے یہ چپکے سے مجھ سے بڑی جلدی سے نکال لی، پھر اس آدمی کو پکڑ لیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا بھلا صرف تیس درہم کے بدلے میں آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے اس کو فروخت کرتا ہوں اور قیمت کی ادائیگی ادھار کر لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت بسند «زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جُعَيْدِ بْنِ جُحَيْرٍ» زائدہ، سماک سے اور وہ جعید بن جحیر سے یوں ہے: سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سو گئے۔ طاؤس اور مجاہد کے الفاظ میں یوں ہے کہ وہ سوئے ہوئے تھے تو ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر ان کے سر کے نیچے سے چرا لی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ چادر سر کے نیچے سے سرکا لی تو وہ جاگ گئے اور شور مچایا تو اسے پکڑ لیا گیا۔ زہری نے صفوان بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سو گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے بطور تکیہ رکھ لیا، ایک چور آیا اور اس نے یہ چادر اڑا لی تو انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قطع السارق 4 (4882)، سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2595)، (تحفة الأشراف: 4943)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/401، 6/465، 466) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3598)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب فِي الْقَطْعِ فِي الْعَارِيَةِ إِذَا جُحِدَتْ
باب: منگنی (مانگے کی چیز) لے کر کوئی مکر جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4395
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ مَخْلَدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ زَادَ فِيهِ: وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: هَلْ مِنَ امْرَأَةٍ تَائِبَةٍ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَتِلْكَ شَاهِدَةٌ، فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَكَلَّمْ وَرَوَاهُ ابْنُ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ فِيهِ فَشَهِدَ عَلَيْهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی (مانگ کر) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4395]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر مکر جایا کرتی تھی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو جویریہ نے بواسطہ نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یا صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے روایت کیا تو اس میں مزید یوں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی، جبکہ وہ عورت سامنے موجود دیکھ رہی تھی، مگر نہ وہ اٹھی اور نہ وہ بولی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن غنج نے بواسطہ نافع، صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، اس میں ہے کہ پھر اس پر شہادت دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قطع السارق 5 (4902)، (تحفة الأشراف: 7549)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/151) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (4891 وسنده صحيح، 4892)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ تَعْنِي حُلِيًّا عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ فَبَاعَتْهُ فَأُخِذَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ".
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4396]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے کئی معروف لوگوں کے نام سے کچھ زیورات عاریتاً لیے جبکہ وہ خود کوئی معروف نہ تھی۔ پھر وہ زیورات اس نے بیچ ڈالے، تو پکڑ لی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا۔ اور یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ کہنا تھا کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏* تخريج:صحیح البخاری/الشہادات 8 (2648)، الحدود 15 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن النسائی/قطع السارق 5 (4906)، (تحفة الأشراف: 16694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2648) صحيح مسلم (1688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4397
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ زَادَ، فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی (مانگ کر) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4397]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بنو مخزوم کی ایک عورت مال مانگ کر لے جاتی اور پھر مکر جاتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور قصہ بیان کیا جو «قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ» کی (گزشتہ) روایت (4373) میں آیا ہے۔ مزید کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4374)، (تحفة الأشراف: 16643) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4398
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَكْبَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4398]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سویا ہوا حتیٰ کہ جاگ جائے، دیوانہ حتیٰ کہ عقلمند ہو جائے اور بچے سے حتیٰ کہ بڑا (بالغ) ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطلاق 21 (3462)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 101، 144)، دی/ الحدود 13 (2343) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3462) ابن ماجه (2041)
حماد بن أبي سليمان و إبراھيم النخعي مدلسان و عنعنا (حماد بن أبي سليمان : الفتح المبين ص 38،إبراهيم النخعي : تقدم : 2235)
وانظر حديث (ح 4399،4400)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4399
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، مُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، قَالَ: فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا بَالُ هَذِهِ؟ تُرْجَمُ، قَالَ: لَا شَيْءَ قَالَ: فَأَرْسِلْهَا قَالَ: فَأَرْسَلَهَا قَالَ: فَجَعَلَ يُكَبِّرُ"
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ تو انہوں نے اس کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور پھر حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس عورت کے پاس سے گزرے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو فلاں کی پاگل عورت ہے اور اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ تو انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اسے واپس لے جاؤ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلے آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نہیں جانتے کہ تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: پاگل مجنون حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے، سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور بچے سے حتیٰ کہ عقلمند (بالغ) ہو جائے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ کہا: تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مجنون عورت کو رجم کیا جانے لگا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (اب تو) اس پر کچھ نہیں ہو گا۔ کہا کہ: پھر اسے چھوڑ دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اور راوی نے کہا کہ پھر وہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے کہنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10196)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الحدود 1 (عقیب 1423)، مسند احمد (1/155، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4400
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ، وَقَالَ أَيْضًا: حَتَّى يَعْقِلَ، وَقَالَ: وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَفِيقَ، قَالَ: فَجَعَلَ عُمَرُ يُكَبِّرُ.
اس سند سے اعمش سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی «حتى يعقل» ہے اور «عن المجنون حتى يبرأ» کے بجائے «حتى يفيق» ہے، اور «فجعل يكبر» کے بجائے «فجعل عمر يكبر» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4400]
وکیع نے اعمش سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا اور کہا: (بچے سے قلم اٹھا لیا گیا ہے) حتیٰ کہ عقلمند ہو جائے اور مجنون سے بھی حتیٰ کہ افاقہ پا جائے۔ بیان کیا کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں