سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4401
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَى عُثْمَانَ قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ فَخَلَّى عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے“ تو عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4401]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ اس عورت کو لے کر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور عثمان (عثمان بن ابی شیبہ) کی روایت (4399) کے ہم معنی بیان کیا، انہوں نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون جس کی عقل مغلوب ہو حتیٰ کہ افاقہ پا جائے، اور سویا ہوا حتیٰ کہ جاگ جائے، اور بچہ حتیٰ کہ بالغ ہو جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے بجا کہا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4399)، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن مھران الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
سليمان بن مھران الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
حدیث نمبر: 4402
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ. ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ هَنَّادٌ الْجَنْبيُّ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهَا، فَخَلَّى سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ، قَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ، وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَا لَا أَدْرِي".
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے“ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4402]
ابوظبیان الجنبی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے کہا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ۔“ وہ آئے اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ یقیناً جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے حتیٰ کہ بالغ ہو جائے اور سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور مجنون پاگل سے حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے۔“ اور یہ عورت بنو فلاں کی ہے اور پاگل ہے، شاید کہ جس نے اس کے ساتھ یہ یہ کیا ہے تو اپنی اسی کیفیت میں تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ نہیں جانتا (کہ یہ اسی کیفیت، یعنی پاگل پن میں اس کی مرتکب ہوئی ہے)۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جانتا تو میں بھی نہیں ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10196، 10078) (صحیح)» دون قولہ: «لعل الذی» سے آخر تک ثابت نہیں ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لعل الذي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
عطاء بن السائب اختلط
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
حدیث نمبر: 4403
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِيهِ وَالْخَرِفِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں ”کھوسٹ بوڑھے“ کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4403]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے، بچے سے حتیٰ کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے حتیٰ کہ عقلمند ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس روایت کو ابن جریج نے بواسطہ قاسم بن بزید، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے اور اس میں لفظ «الْخَرِفِ» کا اضافہ کیا۔“ یعنی وہ آدمی جو بہت زیادہ عمر کی وجہ سے عقل و شعور کی کیفیت پر قائم نہ رہتا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/116، 140) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
أبو الضحي لم يدرك عليًا رضي اللّٰه عنه
وصح موقوفًا كما تقدم (4400)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
السند منقطع
أبو الضحي لم يدرك عليًا رضي اللّٰه عنه
وصح موقوفًا كما تقدم (4400)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
17. باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ
باب: نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ:" كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ".
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، چنانچہ مسلمانوں نے دیکھنا شروع کیا، یعنی جس جس کے (زیر ناف) بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے قتل نہ کیا گیا، چنانچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، قطع السارق 14 (4984)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2542)، (تحفة الأشراف: 9904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 383، 5/312، 383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3974)
مشكوة المصابيح (3974)
حدیث نمبر: 4405
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَنْبُتْ، فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ.
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4405]
عبدالملک بن عمیر نے یہ روایت بیان کی، (عطیہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”انہوں نے میرے زیرِ ناف سے کپڑا ہٹایا اور پایا کہ میرے بال نہیں اگے ہیں تو مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9904) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4404)
انظر الحديث السابق (4404)
حدیث نمبر: 4406
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4406]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والے دن ان کا جائزہ لیا جبکہ ان کی عمر چودہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی تھی، اور پھر خندق والے دن ان کا جائزہ لیا جبکہ وہ پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2957)، (تحفة الأشراف: 8153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4097) صحيح مسلم (1868)
وانظر الحديث السابق (2957)
وانظر الحديث السابق (2957)
حدیث نمبر: 4407
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدُّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ.
نافع کہتے ہیں اس حدیث کو میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: یہی بالغ اور نابالغ کی حد ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4407]
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ بچے اور بڑے میں یہی عمر حد فاصل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الإمارة 23 (1868)، انظر حدیث رقم: (2957)، (تحفة الأشراف: 7923) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1868)
18. باب السَّارِقِ يَسْرِقُ فِي الْغَزْوِ أَيُقْطَعُ
باب: کیا جنگ میں چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4408
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، وَيَزِيدَ بْنِ صُبْحٍ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِسَارِقٍ يُقَالُ لَهُ: مِصْدَرٌ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَقَطَعْتُهُ".
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4408]
جنادہ بن ابوامیہ کہتے ہیں کہ ”ہم سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کی معیت میں ایک سمندری مہم میں جا رہے تھے کہ ایک چور کو لایا گیا۔ اس کا نام «مِصْدَرٍ» تھا (میم کی زیر کے ساتھ)، اس نے ایک بختی اونٹنی چرائی تھی، تو انہوں نے کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”سفر میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔“ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا۔“” [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 20 (1450)، سنن النسائی/قطع السارق 13 (4982)، (تحفة الأشراف: 2015)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3601)
مشكوة المصابيح (3601)
19. باب فِي قَطْعِ النَّبَّاشِ
باب: کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ مَا خَارَ لِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ، أَوْ قَالَ: تَصْبِرُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ يُقْطَعُ النَّبَّاشُ: لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيِّتِ بَيْتَهُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کو لازم پکڑنا“ یا فرمایا: ”اس دن صبر کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4409]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: ”میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مطیع و فرمانبردار ہوں!“ فرمایا: ”تیرا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو موت آئے گی اور ان حالات میں گھر ایک غلام کے بدلے میں ملے گا؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی: ”قبر۔“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں،“ یا کہا: ”جو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے پسند فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کرنا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن ابوسلیمان نے کہا: ”کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے، کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4261)، (تحفة الأشراف: 11947) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘ وانظر الحديث السابق (4261)
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘ وانظر الحديث السابق (4261)
20. باب فِي السَّارِقِ يَسْرِقُ مِرَارًا
باب: باربار چوری کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْهِلَالِيُّ، حَدَّثَنَا جَدِّي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، قَالَ: فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ فَقَالَ: اقْطَعُوهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو“ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4410]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (ہاتھ) کاٹ دو۔“ چنانچہ اس کا (ہاتھ) کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے دوبارہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (بایاں پاؤں) کاٹ دو۔“ چنانچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے تیسری بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (بایاں ہاتھ) کاٹ دو۔“ پھر چوتھی بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا (دایاں پاؤں) کاٹ دو۔“ پھر اسے پانچویں بار لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر ڈالا، پھر اسے گھسیٹ کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر مارے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 12 (4981)، (تحفة الأشراف: 3082) (ضعیف)» (اس کی سند میں مصعب کی نسائی نے تضعیف کی ہے، اور حدیث کو منکر کہا ہے، ابن حجر کہتے ہیں کہ اس بارے میں مجھے کسی سے صحیح حدیث کا علم نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر: 2088، شیخ البانی نے اس کو حسن کہا ہے: صحیح ابی داود 3؍ 58)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3603)
مصعب بن ثابت: حسن الحديث، وله شاھد عند النسائي (4980 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3603)
مصعب بن ثابت: حسن الحديث، وله شاھد عند النسائي (4980 وسنده صحيح)