سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ
باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4371]
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ عمل احکامِ حدود نازل ہونے سے پہلے کا ہے، یعنی جو حدیثِ انس میں مذکور ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الطب 6 (5686)، (تحفة الأشراف: 19291) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5686)
حدیث نمبر: 4372
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة المائدة آية 33 ـ 34 نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض» سے «غفور رحيم» تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4372]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ- إِلَى قَوْلِهِ- غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة المائدة: 33-34] ”ان لوگوں کی سزا جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں، یا سولی چڑھا دیے جائیں یا الٹے طور سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے۔ ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر اختیار پا لو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والا ہے۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ تو جو ان میں سے قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے یہ آیت اس کے حق میں اس بات کی مانع نہیں ہے کہ جو جرم اس نے کیا ہے اس کی سزا اس پر لاگو نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاربة 7 (4051)، (تحفة الأشراف: 6251) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے: «فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالكفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه» ۔
۲؎: یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہو جاتا تھا۔
۲؎: یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہو جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4051 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (4051 وسنده حسن)
4. باب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ
باب: شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی۔
حدیث نمبر: 4373
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کر دیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہو سکتی ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہو جاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4373]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو بنو مخزوم کی اس عورت کی بہت فکر ہوئی جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: ”اس سلسلے میں کون بات کر سکتا ہے؟“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ کہنے لگے: ”اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ اور کوئی یہ جرات نہیں کر سکتا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں۔“ چنانچہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ! کیا اس حد میں سفارش کرتے ہو جو اللہ کی حدود میں سے ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اور فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے کہ ان میں سے جب کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ اور اللہ کی قسم! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 8 (2648)، الأنبیاء 54 (3475)، فضائل الصحابة 18 (3732)، المغازي 53 (4304)، الحدود 11 (6787)، 12 (6788)، 14 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن الترمذی/الحدود 6 (1430)، سنن النسائی/قطع السارق 5 (4903)، سنن ابن ماجہ/الحدود 6 (2547)، (تحفة الأشراف: 16578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، سنن الدارمی/الحدود 5 (2348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3732) صحيح مسلم (1688)
حدیث نمبر: 4374
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی)۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4374]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر ان سے مکر جاتی تھی۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور مذکورہ بالا حدیثِ لیث کے مانند قصہ بیان کیا۔ کہا: ”چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے یہ حدیث بواسطہ یونس، زہری سے روایت کی اور اسی طرح کہا جیسے کہ لیث نے بیان کیا کہ ”ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فتح مکہ کے دنوں میں چوری کر لی۔“ اور لیث نے بواسطہ یونس، ابن شہاب سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا: ”ایک عورت کوئی چیز مانگ کر لے گئی۔“ مسعور بن اسود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند روایت کیا، کہا: ”اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چوری کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ”ایک عورت نے چوری کر لی پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جا کر پناہ لے لی۔“ اور سفیان بن عیینہ نے اسے بواسطہ ایوب بن موسیٰ، عن زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا۔ اور سفیان سے روایت کرنے والوں میں الفاظِ روایت کا اختلاف ہے، ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ”وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی“ اور بعض کہتے ہیں کہ ”وہ چوری کرتی تھی،“ اور شعیب بواسطہ زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی“ اور آگے مذکورہ حدیث بیان کی۔ اور جب اسماعیل بن امیہ اور اسحاق بن راشد دونوں زہری سے بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چوری کی تھی“ اور باقی حدیث مذکورہ حدیث کی مثل بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، (تحفة الأشراف: 16643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، ویأتی برقم (4397) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3475، 3732) صحيح مسلم (1688)
حدیث نمبر: 4375
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4375]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت دار لوگوں کی لغزشیں معاف کر دیا کرو سوائے اس کے کہ شرعی حدود ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3569)
مشكوة المصابيح (3569)
5. باب الْعَفْوِ عَنِ الْحُدُودِ، مَا لَمْ تَبْلُغِ السُّلْطَانَ
باب: حاکم تک پہنچنے سے پہلے حد کو نظر انداز کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4376
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ (اسے معاف نہیں کیا جا سکتا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4376]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کے معاملات کو آپس ہی میں ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو، لیکن جو مقدمہ حد مجھ تک پہنچ گیا تو پھر اس کی تنفیذ واجب ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 5 (4889)، (تحفة الأشراف: 8747) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4890)
ابن جريج عنعن
والحديث الآتي (الأصل : 4394) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
نسائي (4890)
ابن جريج عنعن
والحديث الآتي (الأصل : 4394) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
6. باب فِي السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ
باب: حد والوں پر پردہ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4377
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ:" لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ".
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا: ”اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4377]
یزید بن نعیم اپنے والد (نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے چار بار اعتراف و اقرار کیا (کہ اس نے زنا کیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا اور ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر تو اس پر اپنے کپڑے سے پردہ ڈال دیتا تو تیرے لیے بہتر ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11651)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/217) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3567)
رواية يحيي بن سعيد القطان عن سفيان الثوري محمولة علي السماع
مشكوة المصابيح (3567)
رواية يحيي بن سعيد القطان عن سفيان الثوري محمولة علي السماع
حدیث نمبر: 4378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنْ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرَهُ.
ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور آپ کو بتا دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4378]
جناب ابن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے اور معاملے کی خبر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11729) (ضعیف)» (ابن المنکدر تابعی ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3567)
انظر الحديث السابق (4377)
مشكوة المصابيح (3567)
انظر الحديث السابق (4377)
7. باب فِي صَاحِبِ الْحَدِّ يَجِيءُ فَيُقِرُّ
باب: جس نے حد کا کام کیا پھر خود آ کر اقرار جرم کیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا بِهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ارْجُمُوهُ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، عَنْ سِمَاكٍ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا: ہاں اسی نے کیا ہے، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا (کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا: ”اس کو رجم کر دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4379]
جناب علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے ارادے سے نکلی تو راستے میں اسے ایک مرد ملا جو اس پر چڑھ بیٹھا اور اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کی، وہ چیخی چلائی اور وہ چلا گیا۔ پھر عورت کے پاس سے ایک اور آدمی گزرا تو وہ عورت بولی: ”یہی ہے وہ جس نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔“ مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گزری تو عورت نے کہا: ”بے شک اس آدمی نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔“ تو وہ گئے اور اسے پکڑ لائے جس کے بارے میں اس نے گمان کیا کہ اس نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے۔ وہ اسے پکڑ کر عورت کے پاس لائے تو اس نے کہا: ”ہاں، یہی ہے وہ۔“ پس وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا (یعنی حد لگانے کا) تو اصل مجرم، جو عورت کے ساتھ ملوث ہوا تھا، کھڑا ہو گیا اور بولا: ”اے اللہ کے رسول! اس کا مجرم میں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”تم جاؤ، اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔“ اور اس آدمی کے متعلق اچھے کلمات فرمائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یعنی اس آدمی کے متعلق جو (شبہے میں) پکڑا گیا تھا۔“ اور جو مرتکب ہوا تھا اس کے متعلق فرمایا: ”اسے رجم کر دو۔“ پھر فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے، اگر یہ (توبہ) اہل مدینہ کرتے تو بھی قبول کر لی جاتی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو اسباط بن نصر نے بھی سماک سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 22 (1454)، (تحفة الأشراف: 11770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله ارجموه والأرجح أنه لم يرجم
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3572)
أخرجه الترمذي (1454 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3572)
أخرجه الترمذي (1454 وسنده حسن)
8. باب فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ
باب: حد میں ایسی بات کی تلقین کا بیان جس سے حد جاتی رہے۔
حدیث نمبر: 4380
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ، قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا،، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے“ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو“ اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4380]
سیدنا ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ازخود اعتراف کیا، مگر مال اس کے پاس سے نہیں ملا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ تو نے چوری کی ہے۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں (یعنی کی ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔ پھر پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: «اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ» ”اللہ سے معافی مانگو اور توبہ کرو۔“ اس نے کہا: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُمَّ اتُبْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما لے۔“ تین بار فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو عمرو بن عاصم نے بواسطہ ہمام، اسحاق بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: ابوامیہ جو کہ انصاری آدمی تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 3 (4881)، سنن ابن ماجہ/الحدود 29 (2597)، (تحفة الأشراف: 11861)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4881) ابن ماجه (2597)
أبو المنذر لايعرف (ميزان الإعتدال 4 / 577)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
نسائي (4881) ابن ماجه (2597)
أبو المنذر لايعرف (ميزان الإعتدال 4 / 577)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155