سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ
باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، فَخَلَا بِهِ عُثْمَانُ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: هَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَى؟، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ سِوَى هَذِهِ، أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَجِئْتُ وَهُوَ يَقُولُ: لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1845]
حضرت علقمہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں الگ لے گئے، میں پاس بیٹھا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ پسند فرماتے ہیں کہ میں ایک کنواری لڑکی سے آپ کی شادی کروا دوں جس سے آپ کو گزرے وقت کی کچھ باتیں یاد آ جائیں؟“ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں (جس کے لیے وہ انہیں الگ لے گئے تھے) تو مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں حاضر ہوا تو وہ فرما رہے تھے: ”اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو (اچھی بات ہی کی ہے کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ شادی کر لے، اس کی وجہ سے نظر نیچی رہتی ہے اور جسم (بدکاری سے) محفوظ رہتا ہے۔ اور جسے (نکاح) کی طاقت نہ ہو تو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ، خواہش کو کچل دیتا ہے۔“““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، النکاح 2 (5065)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1400)، سنن ابی داود/النکاح 1 (2046)، سنن الترمذی/النکاح 1 (1081تعلیقاً)، سنن النسائی/الصیام 43 (2241)، النکاح 3 (3209)، (تحفة الأشراف: 9417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/58، 378، 424، 425، 432)، سنن الدارمی/النکاح 2 (2212) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1846]
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میرا طریقہ ہے، اور جو شخص میرے طریقے پر عمل نہیں کرتا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ شادیاں کیا کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، جو (مالی طور پر) استطاعت رکھتا ہو وہ (ضرور) نکاح کرے اور جسے (رشتہ) نہ ملے، وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ خواہش کو کچل دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17549، ومصباح الزجاجة: 654) (حسن)» (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2383)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے“۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عيسي بن ميمون المدني ضعيف
و قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح ‘‘ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه
و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب ! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔))
(كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
عيسي بن ميمون المدني ضعيف
و قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح ‘‘ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه
و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب ! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔))
(كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5695، ومصباح الزجاجة: 655) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
2. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: کنوارا رہنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1848
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ:" لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1848]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بے نکاح رہنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم لوگ خصی ہو جاتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 8 (5073، 5074)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1402)، سنن الترمذی/النکاح 2 (1083)، سنن النسائی/النکاح 4 (3214)، (تحفة الأشراف: 3856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/175، 176، 183)، سنن الدارمی/ النکاح 3 (2213) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «تبتل» کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کر نے اور ازدواجی تعلق سے الگ تھلگ رہنے کے ہیں، نصاری کی اصطلاح میں اسے رہبانیت کہتے ہیں، تجرد کی زندگی گزارنا اور شادی کے بغیر رہنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ"، زَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَقَرَأَ قَتَادَةُ، وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد والی زندگی (بے شادی شدہ رہنے) سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» (سورة الرعد: 38) ”ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1849]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نکاح رہنے سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے (اس مسئلے کو واضح کرنے کے لیے) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً﴾ [سورة الرعد: 38] ”اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویوں اور اولاد والا بنایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 2 (1082)، سنن النسائی/النکاح 4 (3216)، (تحفة الأشراف: 4590)، مسند احمد (5/17) صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے یا کافروں کے اعتراض رد کرتا ہے کہ اگر آپ نے کئی شادیاں کیں تو اولاً یہ نبوت کے منافی نہیں ہے، اگلے بہت سے انبیاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کئی کئی شادیاں کیں، ان کی اولاد بھی بہت تھی، بلکہ بنی اسرائیل تو سب یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں جن کے بارہ بیٹے تھے، اور کئی بیویاں تھیں، اور ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں، ایک سارہ، دوسری ہاجرہ، اور سلیمان علیہ السلام کی (۹۹) بیویاں تھیں، الروضہ الندیہ میں ہے کہ مانویہ اور نصاری نکاح نہ کرنے کو عبادت سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں اس کو باطل کیا، فطرت اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نکاح کرے، اور اپنے بنی نوع کی نسل کو قائم رکھے، اور بڑھائے، البتہ جس شخص کو بیوی رکھنے کی قدرت نہ ہو اس کو اکیلے رہنا درست ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
3. بَابُ: حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ
باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟، قَالَ:" أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحْ، وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1850]
حضرت حکیم بن معاویہ اپنے والد حضرت معاویہ (ابن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”خاوند پر عورت کا کیا حق ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، چہرے پر نہ مارے، اسے برا بھلا نہ کہے اور گھر ہی میں (اس سے) علیحدگی اختیار کیے رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 42 (2142)، (تحفة الأشراف: 11396)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/447، 5/3) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوَطِّئَنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمُ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ، وَطَعَامِهِنَّ".
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: ”عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1851]
حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ (اس دوران میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ (اس میں آپ نے کئی باتیں ارشاد فرمائیں) پھر فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں خیر کی وصیت قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تمہیں ان پر اس کے سوا کوئی اختیار نہیں، الا یہ کہ وہ واضح بے شرمی کا کوئی کام کریں۔ اگر وہ ایسی حرکت کریں تو ان سے بستروں میں الگ ہو جاؤ، اور انہیں مارو لیکن سخت پٹائی نہ ہو۔ (اس تنبیہ کے نتیجے میں) اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگ جائیں تو ان پر (سختی کرنے کی) راہ تلاش نہ کرو۔ یقیناً تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے، اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہاری عورتوں پر تمہارا حق تو یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اسے نہ بٹھائیں جس (کے گھر میں آنے) کو تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں اس فرد کو آنے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ سنو! تم پر عورتوں کا یہ حق ہے کہ ان کے لباس اور خوراک کے بارے میں ان سے اچھا سلوک کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 11 (1163)، تفسیر 10 (3087)، (تحفة الأشراف: 10692) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔
۲؎: «لمن تكرهون» میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
۲؎: «لمن تكرهون» میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
4. بَابُ: حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَحْمَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَحْمَرَ، لَكَانَ نَوْلُهَا أَنْ تَفْعَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1852]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اگر کوئی مرد عورت کو حکم دے کہ سرخ پہاڑ سے (پتھر اٹھا کر) سیاہ پہاڑ پر لے جائے، اور سیاہ پہاڑ سے سرخ پہاڑ پر لے جائے تو عورت کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ یہ کام کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16120، ومصباح الزجاجة: 656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 76، 97، 112، 135) (ضعیف)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، صرف حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، الإرواء: 1998، 7/58، صحیح أبی داود: 1877)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الأول منه صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف
ولبعض حديثه شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف
ولبعض حديثه شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث نمبر: 1853
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ، سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا، وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ (سجدہ تحیہ) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے معاذ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1853]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! یہ کیا؟“ انہوں نے کہا: ”میں شام گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ مجھے اپنے دل میں یہ بات اچھی لگی کہ ہم لوگ آپ کے ساتھ (تعظیم اور احترام کا) یہ طریقہ اختیار کریں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (یہ کام) نہ کرو۔ اگر میں کسی کو اللہ کے سوا کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی، اگر وہ اونٹ کے کجاوے پر بیٹھی ہوئی ہو اور خاوند اس سے خواہش کا اظہار کرے تو اسے انکار نہیں کرنا چاہیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5180، ومصباح الزجاجة: 657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/3814) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ نیک اور دیندار عورت دنیاوی عیش و عشرت کا عنوان ہوتی ہے، اس کی صحبت سے آدمی کو خوشی ہوتی ہے، باہر سے کتنے ہی رنج میں آئے جب اپنی پاک سیرت عورت کے پاس بیٹھتا ہے تو سارا رنج و غم بھول جاتا ہے برخلاف اس کے اگر عورت خراب اور بدخلق ہو تو دنیا کی زندگی جہنم بن جاتی ہے، کتنا ہی مال اور دولت ہو سب بیکار اور لغو ہو جاتا ہے، کچھ مزا نہیں آتا، علی رضی اللہ عنہ نے «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً» (سورة البقرة: 201) سے دنیا کی نیکی سے نیک اور دیندار عورت اور آخرت کی نیکی سے جنت کی حور، اور آگ کے عذاب سے خراب اور بدزبان عورت مراد لی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1854]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش تھا تو وہ جنت میں جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 10 (1161)، (تحفة الأشراف: 18294) (ضعیف) (مساور الحمیری اور ان کی ماں دونوں مبہم راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن