سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: أَكْلِ الْبَلَحِ بِالتَّمْرِ
باب: کچی کھجور کو خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ , كُلُوا الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَب , وَيَقُولُ: بَقِيَ ابْنُ آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی کھجور اور خشک کھجور کو ملا کر کھاؤ، اور پرانی کو نئی کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اس لیے کہ شیطان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے: آدم کا بیٹا زندہ ہے یہاں تک کہ اس نے پرانی اور نئی دونوں چیزیں کھا لیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3330]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تازہ پکی ہوئی کھجور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرو۔ پرانے (پھل) کو نئے کے ساتھ ملا کر کھاؤ۔ (اس سے) شیطان کو غصہ آتا ہے اور وہ کہتا ہے: آدم کا بیٹا جیتا رہا حتی کہ اس نے نئی چیز کے ساتھ پرانی چیز بھی کھائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17334، ومصباح الزجاجة: 1148) (موضوع)» (یحییٰ بن محمد بن قیس کی احادیث ٹھیک ہیں، صرف چار احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک یہ حدیث بھی ان موضوع احادیث میں سے ہے، اس حدیث کو ابن جوزی نے موضوعات میں شامل کیا ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 231)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه أبو زكير يحيي بن محمد بن قيس وھو ضعيف ‘‘ وھو: ضعيف يعتبر به (التحرير: 7639)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه أبو زكير يحيي بن محمد بن قيس وھو ضعيف ‘‘ وھو: ضعيف يعتبر به (التحرير: 7639)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
41. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ قِرَانِ التَّمْرِ
باب: دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ".
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3331]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”آدمی اپنے ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر دو دو کھجوریں ملا کر کھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 14 (2455)، الشرکة 4 (2489)، صحیح مسلم/الأشربة 25 (2045)، سنن ابی داود/الأطعمة 44 (3834)، سنن الترمذی/الأطعمة 16 (1814)، (تحفة الأشراف: 6667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 44، 36، 60، 74، 81، 103، 131)، سنن الدارمی/الأطعمة 25 (2103) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ , وَكَانَ سَعْدٌ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يُعْجِبُهُ حَدِيثُهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ , يَعْنِي: فِي التَّمْرِ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3332]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی باتیں اچھی لگتی تھیں، ان سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو دو کھجوریں ملا کر کھانے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4452، ومصباح الزجاجة: 1149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/199) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
42. بَابُ: تَفْتِيشِ التَّمْرِ
باب: اچھی اچھی کھجوریں تلاش کر کے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3333
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ , فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3333]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پرانی کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (اندر سے) صاف کرنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 43 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
43. بَابُ: التَّمْرِ بِالزُّبْدِ
باب: مکھن کے ساتھ کھجور کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3334
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ , قَالَا:" دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً , لَنَا صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا , فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْيَ فِي بَيْتِنَا، وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا , وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3334]
حضرت عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ اور حضرت عطیہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے لیے (زمین پر) ایک چادر ڈال دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے۔ تب ہمارے گھر میں اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی فرمائی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور خشک کھجوریں پیش کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکھن بہت پسند تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی رحمتیں ہوں اور سلام ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 519، ومصباح الزجاجة: 1150)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 45 (3837) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
44. بَابُ: الْحُوَّارَى
باب: میدہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَقُلْتُ: فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا , حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ , كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ , وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3335]
حضرت ابو حازم (سلمہ بن دینار) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدے کی روٹی دیکھی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدے کی روٹی نہیں دیکھی تھی۔“ میں نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کے پاس چھلنیاں ہوتی تھیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک چھلنی نہیں دیکھی۔“ میں نے کہا: ”پھر آپ لوگ جو (جو کا آٹا) بغیر چھانے کیسے کھا لیتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں! ہم لوگ اس میں پھونک مار لیا کرتے تھے۔ جو (بھوسی یا چھان) اڑنا ہوتا، اڑ جاتا، اور جو رہ جاتا، ہم اسے بھگو لیتے (اور آٹا گوندھ کر روٹی پکا لیتے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4731، ومصباح الزجاجة: 1151)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 22 (5410)، سنن الترمذی/الزہد 38 (2364)، مسند احمد (5/332، 6/71) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور گوندھ کر روٹی پکا لیتے، غرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آٹا چھاننے کی اور میدہ کھانے کی رسم نہ تھی، یہ بعد کے زمانے کی ایجاد ہے، اور اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے، آٹا جب چھانا جائے، اور اس کا بھوسی بالکل نکل جائے، تو وہ ثقیل اور دیر ہضم ہو جاتا ہے، اور پیٹ میں سدہ اور قبض پیدا کرتا ہے، آخر یہ چھاننے والے لوگ اتنا غور نہیں کرتے کہ رب العالمین نے جو حکیم الحکماء ہے گیہوں میں بھوسی بیکار نہیں پیدا فرمائی، پس بہتر یہی ہے کہ بے چھنا ہوا آٹا کھائے، اور اگر چھانے بھی تو تھوڑی سی موٹی بھوسی نکال ڈالے لیکن میدہ کھانا بالکل خطرناک اور باعث امراض شدیدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3336
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ , أَنَّ حَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ , عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا , فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا , فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" , قَالَتْ: طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا , فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا , فَقَالَ:" رُدِّيهِ فِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ".
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (چھان کر نکالی گئی بھوسی) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3336]
حضرت ام ایمن (برکت) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے آٹا چھان کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یہ کھانا ہم اپنے علاقے میں بنایا کرتے ہیں۔ میرا جی چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس قسم کی ایک روٹی پکا دوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دوبارہ آٹے میں ڈال دو، پھر گوندھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18303، ومصباح الزجاجة: 1152) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3337
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ:" مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا مُحَوَّرًا , بِوَاحِدٍ مِنْ عَيْنَيْهِ , حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3337]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدے کی روٹی (کھانا تو درکنار) اپنی آنکھ سے بھی نہیں دیکھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس چلے گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1167) (ضعیف)» (سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير:ضعيف
وقتادة عنعن إن صح السند إليه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير:ضعيف
وقتادة عنعن إن صح السند إليه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
حدیث نمبر: 3338
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" زَارَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بَيِنَنَا , فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الْأُوَلِ , فَبَكَى , وَقَالَ:" مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ".
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی (چہ جائے کہ کھاتے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3338]
حضرت عطا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں سے ملنے (غالباً «یُنَا» بستی میں) گئے۔ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں پہلے پکی ہوئی بڑی بڑی روٹیاں پیش کیں تو آپ رو دیے اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی کبھی اپنی آنکھوں سے دیکھی بھی نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14205، ومصباح الزجاجة: 1153) (ضعیف)» (ابن عطاء یہ عثمان بن عطاء ہیں اور ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک روٹی نہیں دیکھی یعنی چپاتی کیونکہ یہ روٹی موٹے آٹے کی نہیں پک سکتی بلکہ اکثر میدے کی پکاتے ہیں، بلکہ آپ ہمیشہ موٹی روٹی وہ بھی اکثر جو کی کھایا کرتے، اور بے چھنے آٹے کی وہ بھی روز پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی، ایک دن کھایا، تو ایک دن فاقہ «سبحان اللہ» ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ حال تھا، اور ہم روز کیسے کیسے عمدہ کھانے خوش ذائقہ اور نئی ترکیب کے جن کو اگلے لوگوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کھاتے ہیں، اور وہ بھی ناکوں ناک پیٹ بھر کر وہ بھی اسی طرح سے کہ حلال حرام کا کچھ خیال نہیں، مشتبہ کا تو کیا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
حدیث نمبر: 3339
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ إِسْحَاق: وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ , وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: وَخِوَانُهُ مَوْضُوعٌ , فَقَالَ يَوْمًا: كُلُوا , فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ , حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ , وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ".
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے (اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا)، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3339]
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور آپ کا نان بائی کھڑا ہوتا اور (حدیث کے راوی) دارمی بیان کرتے ہیں کہ آپ کا دسترخوان بچھا ہوا ہوتا۔ ایک دن آپ نے فرمایا: ”کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اللہ کے پاس جانے تک“ کبھی پتلی چپاتی یا سالم بھنی ہوئی بکری اپنی آنکھوں سے دیکھی بھی ہو (کھانے کا تو کیا ذکر)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح