🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ: سُجُودِ الْقُرْآنِ السُّجُودِ فِي ص
باب: سورۃ «‏‏‏‏ص» ‏‏‏‏ میں سجدوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَجَدَ فِي ص وَقَالَ: سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا، اور فرمایا: داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 958]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿صٓ﴾ [سورة ص: 1] میں سجدہ کیا اور فرمایا: داؤد علیہ السلام نے یہ سجدہ بطور توبہ کیا تھا اور ہم اسے شکرانے کے طور پر کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ: السُّجُودِ فِي {وَالنَّجْمِ}
باب: سورۃ النجم میں سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قال:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَسْلَمَ الْمُطَّلِبُ".
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سورۃ النجم پڑھی، تو آپ نے سجدہ کیا، اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے اپنا سر اٹھائے رکھا، اور سجدہ کرنے سے انکار کیا، (راوی کہتے ہیں) ان دنوں مطلب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 959]
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورۂ نجم تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور جتنے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ان سب نے سجدہ کیا، میں نے سر اٹھا لیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، اس وقت (راویٔ حدیث) حضرت مطلب رضی اللہ عنہ مسلمان نہ ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11287)، مسند احمد 3/420، 4/215، 6/400 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، جعفر بن المطلب مجهول الحال،روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده وقال: ’’من متقني أهل مكة وكان فاضلاً‘‘ (مشاهير علماء الأمصار: 621). والحديث الآتي (960) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ فِيهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی، تو اس میں آپ نے سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 960]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة النجم﴾ [سورة النجم] تلاوت فرمائی تو اس میں سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 4 (1067) مطولاً، مناقب الأنصار 29 (3853) مطولاً، المغازي 8 (3972) مطولاً، تفسیر ’’والنجم‘‘ 4 (4863)، صحیح مسلم/المساجد 20 (576)، سنن ابی داود/الصلاة 330 (1406) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9180)، مسند احمد 1/388، 401، 437، 443، 462، سنن الدارمی/الصلاة 160 (1506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ: تَرْكِ السُّجُودِ فِي النَّجْمِ
باب: سورۃ النجم میں سجدہ نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ. فَقَالَ:" لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 961]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: کسی چیز میں امام کے ساتھ قرأت نہیں۔ اور فرمایا: میں نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ [سورة النجم: 1] قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہو جائے۔ تلاوت کی تو آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072، 1073) (بدون قولہ في القرأة)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، سنن ابی داود/الصلاة 329 (1404) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 287 (576) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3733)، ح صحیح مسلم/5/183، 186، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ۲؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورۃ النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ: السُّجُودِ فِي {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ}
باب: «اذا السماء انشقت» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ بِهِمْ:" إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 962]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر (نماز میں) سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] پڑھی اور سجدہ کیا۔ جب (نماز سے) فارغ ہوئے تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت میں سجدہ فرمایا تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد اخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، (تحفة الأشراف: 14969)، موطا امام مالک/القرآن 5 (12)، مسند احمد 2/281، 413، 449، 451، 454، 466، 487، 529، سنن الدارمی/الصلاة 162 (1509) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ وَهُوَ مُحَمَّدٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 963]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] میں سجدہ فرمایا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14989)، مسند احمد 2/454 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 964]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور سورہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ تلاوت کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 285 (574)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 71 (1059)، (تحفة الأشراف: 14865)، مسند احمد 2/247، سنن الدارمی/الصلاة 162 (1511) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 965]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت حضرت قتیبہ نے بھی حضرت سفیان سے ہمیں اسی طرح بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ. وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 966]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے سورۂ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] میں سجدہ کیا، نیز اس شخصیت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بھی جو ان دونوں سے بہتر تھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14501) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: السُّجُودِ فِي {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ}
باب: «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 967
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 967]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور وہ شخصیت جو ان دونوں سے بہتر تھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )، ان سب نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور سورہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں