سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4730
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا , فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، ثُمَّ قَامَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ أُرَاهُ، قَالَ: فَضَرَبَ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ , إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَيْنَاهُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتُهُ كُنْتُ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَةٌ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے“ ۱؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے“، اس نے کہا: ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چنانچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا جس کی گردن میں رسی تھی (مطلب یہ کہ ایک شخص دوسرے آدمی کو گلے میں تندی ڈال کر لایا)۔ اور (وہی لانے والا شخص) کہنے لگا: یہ اور میرا بھائی ایک کنواں کھود رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھائی اور میرے بھائی کے سر پر دے ماری اور اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے انکار کر دیا۔ اور پھر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں میں کھدائی کر رہے تھے تو اس نے کدال اٹھا کر اپنے ساتھی کے سر پر دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ کچھ دیر بعد پھر اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے۔ اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی کے سر پر مار دی اور اس کی جان نکال دی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر جا (لیکن یاد رکھ کہ) اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ وہ اسے لے کر چلا گیا حتیٰ کہ کافی دور نکل گیا۔ تو ہم نے اسے آواز دی کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں سنتا؟ وہ واپس آیا اور کہنے لگا: اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو اس جیسا ہو جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اسے معاف کر دے۔“ پھر (اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تو) قاتل اپنی تندی سمیت نکل بھاگا حتیٰ کہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4827 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہو جائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4731
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ , ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَتَلَ هَذَا أَخِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟"، قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: دُونَكَ صَاحِبَكَ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِ، فَقَالَ:" مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ , وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنْ ذَاكَ"، قَالَ: ذَلِكَ كَذَلِكَ.
وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟“، اس نے (لانے والے نے) کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا: ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے تم نے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو“، اس نے کہا: میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا: میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا: ”تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے“، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا: تمہارا برا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، یہ سن کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے؟“، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہی ہو گا“، اس نے کہا: تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو تندی (چمڑے کی رسی) کے ساتھ کھینچتا ہوا آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (دوسرے آدمی) سے پوچھا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ پہلا آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ نہ مانے تو میں گواہ پیش کروں گا۔ دوسرے آدمی نے کہا: ہاں، میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن کے لیے لکڑیاں کاٹ رہے تھے۔ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلا دیا تو میں نے کلہاڑا اس کے سر کی چوٹی پر دے مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اتنا مال ہے جو تو اپنی جان بچانے کے لیے ادا کرے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس تو میرے کلہاڑے اور میری چادر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے تیری قوم تجھے خرید لے گی؟ (تیری دیت دے کر تجھے بچا لے گی؟)“ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کم مرتبہ ہوں۔ آپ نے اس کی رسی پہلے آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا: ”لو اپنے قاتل کو سنبھالو۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ لوگ جا کر اس آدمی کو ملے اور کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ اس جیسا ہی ہوگا۔“ وہ آدمی واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”اگر اس (میں) نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ حالانکہ میں نے تو اسے آپ کے فرمان سے پکڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو نہیں چاہتا کہ یہ شخص تیرا اور تیرے مقتول کا گناہ سمیٹ لے۔ (تمہارے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے؟)“ اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر کہا: اگر یہ بات ہے تو میں معاف کر دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ اسی طرح ہے جس طرح میں نے کہا، یعنی وہ تیرے اور تیرے مقتول کے گناہ اٹھائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4732
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ , نَحْوَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4732]
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ایک دوسرے شخص کو کھینچتا ہوا لایا۔ باقی روایت مذکورہ روایت کے ہم معنیٰ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4733
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا , فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ يَقْتُلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجُلَسَائِهِ:" الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ تَرَكَهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حِينَ تَرَكَهُ يَذْهَبُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ، قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ بِالْعَفْوِ.
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے“ ۱؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4733]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مقتول کے ولی کے سپرد فرما دیا کہ (چاہے تو) قتل کر دے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے کہا: ”قاتل مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔“ ایک آدمی اس کے پیچھے گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خبر دی، جب اس نے اس کو یہ بتایا تو اس نے اسے چھوڑ دیا، جب اس نے چھوڑا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسی گھسیٹتے ہوئے بھاگا جا رہا تھا، «فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِحَبِيْبٍ فَقَالَ… الخ» ”میں نے یہ روایت حبیب سے بیان کی تو اس نے کہا: مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو معاف کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بات آپ نے خاص ان دونوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، کیونکہ اس میں نہ تو مذکورہ مقتول کا کوئی قصور تھا، نہ ہی اس کے ولی کا جو اس کو بدلے میں قتل کرتا بلکہ آپ نے ولی کو معافی پر ابھارنے کے لیے یہ جملہ فرمایا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ , فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا: ”دیت لے لو“، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ، اسے قتل کر دو، تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے (گناہ میں)“، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ”(اگر) اسے قتل کر دو، تم بھی اسی طرح ہو جاؤ گے“، چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کے قاتل کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا پھر اسے قتل کر دے، تو بھی اس جیسا ہی ہے۔“ وہ اسے لے گیا۔ پیچھے سے کوئی آدمی اسے جا کر ملا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے قتل کر دے، تو تو بھی اس جیسا ہی ہو گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ آدمی (قاتل) میرے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ رسی گھسیٹتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «قش/الدیات 34 (2691)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4735
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلِأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ: قَالَ:" فَأَعْنَفَهُ , أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے“، اس شخص نے اس سے کہا: اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا: ”سنو! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اس آدمی نے میرے بھائی کو قتل کر ڈالا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جا اسے قتل کر دے، جیسے اس نے تیرے بھائی کو قتل کیا ہے۔“ وہ آدمی (قاتل) کہنے لگا: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس سے تجھے بہت ثواب ملے گا اور یہ (معافی) تیرے اور تیرے بھائی کے لیے قیامت کے دن بہت اچھی ثابت ہوگی۔“ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل سے پوچھا تو اس نے مقتول کے وارث سے جو کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا (اور فرمایا:) ”تیرا قتل ہو جانا اس سلوک سے بہتر تھا جو مقتول قیامت کے دن تجھ سے کرے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھیے کہ اس نے کس بنا پر مجھے قتل کیا تھا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1951) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”بشیر“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
7. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ}
باب: اور (اس حدیث کے راوی) عکرمہ کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4736
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ قُرَيْظَةُ , وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنْ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ , فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 , وَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کر دیتا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ان لوگوں نے کہا: اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت: «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو“ (المائدہ: ۴۰) نازل ہوئی، «قسط» یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» ”کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں“ (المائدہ: ۵۰) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو قریظہ اور بنو نضیر (دو یہودی قبیلے تھے)۔ بنو نضیر، بنو قریظہ سے افضل شمار ہوتے تھے۔ اگر بنو قریظہ میں سے کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جاتا تھا لیکن جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور دے دیتا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے (مدینہ منورہ تشریف لائے) تو بنو نضیر کے ایک آدمی نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے مطالبہ کیا کہ قاتل ہمارے سپرد کرو تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ (ان کے انکار پر) بنو قریظہ نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ فرمائیں گے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت اتری: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] ”اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔“ اور انصاف یہی ہے کہ جان کے بدلے جان (مقتول کے بدلے قتل کیا جائے)۔ پھر یہ آیت اتری: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ [سورة المائدة: 50] ”کیا یہ اب بھی جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 1 (4494)، (تحفة الأشراف: 6109) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ”داود بن حسین“ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4494) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
حدیث نمبر: 4737
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ الَّتِي قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ إِلَى الْمُقْسِطِينَ سورة المائدة آية 42 إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الدِّيَةِ بَيْنَ النَّضِيرِ , وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ قَتْلَى النَّضِيرِ كَانَ لَهُمْ شَرَفٌ يُودَوْنَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَأَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ كَانُوا يُودَوْنَ نِصْفَ الدِّيَةِ، فَتَحَاكَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ فِيهِمْ، فَحَمَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَقِّ فِي ذَلِكَ , فَجَعَلَ الدِّيَةَ سَوَاءً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» سے «المقسطين»، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان ایک دیت کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں، وجہ یہ تھی کہ بنو نضیر کے مقتولین کو برتری حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی پوری دیت دے دی جاتی تھی اور بنو قریظہ کو آدھی دیت دی جاتی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان کے سلسلے میں نازل فرمایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سلسلہ میں حق کی ترغیب دلائی اور دیت برابر کر دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4737]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] ”آپ ان میں فیصلہ کریں یا نہ، (آپ کی مرضی ہے)۔۔۔ انصاف کرنے والوں کو (ہی پسند کرتا ہے)۔“ یہ آیات بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان دیت کے جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئیں اور وہ اس طرح کہ بنو نضیر کے مقتولین کو افضل خیال کیا جاتا تھا، اس لیے ان کی مکمل دیت (سو اونٹ) ادا کی جاتی تھی جب کہ بنو قریظہ کے مقتولین کی نصف دیت ادا کی جاتی تھی۔ وہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلہ لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بارے میں حق اختیار کرنے پر مجبور کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی دیت برابر قرار دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 10 (3591)، (تحفة الأشراف: 6074)، مسند احمد (1/363) (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3591) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
9. بَابُ: الْقَوَدِ بَيْنَ الأَحْرَارِ وَالْمَمَالِيكِ فِي النَّفْسِ
باب: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4738
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا , وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: لَا، إِلَّا مَا كَانَ فِي كِتَابِي هَذَا، فَأَخْرَجَ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ , فَإِذَا فِيهِ:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ , وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ , أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ بِعَهْدِهِ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ , أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں اور اشتر علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ہم نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی ایسی خاص بات بتائی جو عام لوگوں کو نہیں بتائی؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جو میری اس کتاب میں موجود ہے ۱؎ پھر انہوں نے اپنی تلوار کی نیام سے ایک تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا: ”سب مسلمانوں کا خون برابر ہے ۲؎، اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی ان سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے ۳؎ آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمہ داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4738]
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور اشتر نخعی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہم نے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خصوصی وصیت فرمائی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ فرمائی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ میری اس تحریر میں کچھ لکھا ہے، پھر انہوں نے اپنی تلوار کی میان سے وہ تحریر نکالی تو اس میں لکھا تھا: ”تمام ایمان والوں کے خون برابر ہیں اور وہ سب اپنے دشمن کے خلاف یکمشت ہیں، ان میں سے کم مرتبہ والا عام شخص بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ آگاہ رہو! کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ کسی ذمی کو جب تک وہ اپنے عہد (پناہ) میں ہے، جو دشمن بغاوت کرے گا، اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور جو شخص کسی باغی کو پناہ مہیا کرے، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 11 (4530)، (تحفة الأشراف: 10257)، مسند احمد (1/122) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر میرے لیے کوئی خاص بات ہوتی تو میری اس کتاب میں ضرور ہوتی، جب کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ میرے لیے خاص نہیں ہے بلکہ عام ہے، یہ اور بات ہے کہ اوروں کو چھوڑ کر مجھے اسے لکھنے کا حکم دیا گیا۔ ۲؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد آدمی اور غلام کے درمیان بھی قصاص کا حکم جاری ہو گا۔ ۳؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دیدے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4530) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
حدیث نمبر: 4739
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے مسلمانوں کا خون برابر ہے وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو جب تک وہ ذمہ میں رہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4739]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام مومنوں کے خون برابر ہیں اور وہ اپنے دشمن کافروں کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ہیں۔ ان میں سے عام شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ کسی ذمی کو قتل کیا جا سکتا ہے، جب تک اس سے معاہدہ قائم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10279)، مسند احمد (1/81، 119)، ویأتي برقم: 4749 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح