🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: {وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلاَ تَتَّقُونَ أَتَدْعُونَ بَعْلاً وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ اللَّهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الأَوَّلِينَ فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ إِلاَّ عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الآخِرِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الصافات میں) فرمان ”اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرنے سے) ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ تم بعل (بت) کی تو عبادت کرتے ہو اور سب سے اچھے پیدا کرنے والے کی عبادت کو چھوڑتے ہو۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادوں کا بھی، لیکن ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔ پس بیشک وہ سب لوگ (عذاب کے لیے) حاضر کئے جائیں گے۔ سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو مخلص تھے اور ہم نے بعد میں آنے والی امتوں میں ان کا ذکر خیر چھوڑا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3342
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُذْكَرُ بِخَيْرٍ سَلامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ سورة الصافات آية 130 إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ سورة الصافات آية 131 إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ سورة الصافات آية 132 يُذْكَرُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِلْيَاسَ هُوَ إِدْرِيسُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «تركنا عليه في الآخرين‏» کے متعلق کہا کہ بھلائی کے ساتھ انہیں یاد کیا جاتا رہے گا۔ سلامتی ہو الیاسین پر، بیشک ہم اسی طرح مخلصین کو بدلہ دیتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا۔ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الیاس، ادریس علیہ السلام کا نام تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3342]

5. بَابُ ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا}:
باب: ادریس علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا ”اور ہم نے ان کو بلند مکان (آسمان) پر اٹھا لیا تھا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3342
قَالَ عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ: لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: مَعَكَ أَحَدٌ، قَالَ: مَعِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، فَافْتَحْ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: لِخَازِنِهَا افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ: خَازِنُهَا مِثْلَ مَا، قَالَ: الْأَوَّلُ فَفَتَحَ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ إِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَ إِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ، وَقَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِإِدْرِيسَ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَيَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ، قَالَ: ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَا الَّذِي فَرَضَ عَلَى أُمَّتِكَ، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى بِي السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ".
عبدان نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی اور انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ نے، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر کی چھت کھولی گئی۔ میرا قیام ان دنوں مکہ میں تھا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اترے اور میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے کر چلے، جب آسمان دنیا پر پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو، پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جبرائیل، پھر پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پوچھا کہ انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ جواب دیا کہ ہاں، اب دروازہ کھلا، جب ہم آسمان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، کچھ انسانی روحیں ان کے دائیں طرف تھیں اور کچھ بائیں طرف، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے۔ انہوں نے کہا خوش آمدید، نیک نبی، نیک بیٹے! میں نے پوچھا، جبرائیل! یہ صاحب کون بزرگ ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ انسانی روحیں ان کے دائیں اور بائیں طرف تھیں ان کی اولاد بنی آدم کی روحیں تھیں ان کے جو دائیں طرف تھیں وہ جنتی تھیں اور جو بائیں طرف تھیں وہ دوزخی تھیں، اسی لیے جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے تھے، پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے اوپر لے کر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے، اس آسمان کے داروغہ سے بھی انہوں نے کہا کہ دروازہ کھولو، انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے جو پہلے آسمان پر ہو چکے تھے، پھر دروازہ کھولا، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے تفصیل سے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں پر ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو پایا، لیکن انہوں نے ان انبیاء کرام کے مقامات کی کوئی تخصیص نہیں کی، صرف اتنا کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا (پہلے آسمان پر) پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے پر اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام، ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا خوش آمدید، نیک نبی، نیک بھائی، میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انہوں نے بھی کہا خوش آمدید نیک نبی، نیک بھائی، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ تو بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا کہ خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں، ابن شہاب سے زہری نے بیان کیا اور مجھے ایوب بن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوحیہ انصاری رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے اوپر لے کر چڑھے اور میں اتنے بلند مقام پر پہنچ گیا جہاں سے قلم کے لکھنے کی آواز صاف سننے لگی تھی، ابوبکر بن حزم نے بیان کیا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نمازیں مجھ پر فرض کیں۔ میں اس فریضہ کے ساتھ واپس ہوا اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر کیا چیز فرض کی گئی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ پچاس وقت کی نمازیں ان پر فرض ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں، کیونکہ آپ کی امت میں اتنی نمازوں کی طاقت نہیں ہے، چنانچہ میں واپس ہوا اور رب العالمین کے دربار میں مراجعت کی، اس کے نتیجے میں اس کا ایک حصہ کم کر دیا گیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور اس مرتبہ بھی انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں پھر انہوں نے اپنی تفصیلات کا ذکر کیا کہ رب العالمین نے ایک حصہ کی پھر کمی کر دی، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں خبر کی، انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے مراجعت کریں، کیونکہ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے، پھر میں واپس ہوا اور اپنے رب سے پھر مراجعت کی، اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ فرما دیا کہ نمازیں پانچ وقت کی کر دی گئیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ہی باقی رکھا گیا، ہمارا قول بدلا نہیں کرتا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کہ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاہئے۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے اللہ پاک سے باربار درخواست کرتے ہوئے اب شرم آتی ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر آگے بڑھے اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لائے جہاں مختلف قسم کے رنگ نظر آئے، جنہوں نے اس درخت کو چھپا رکھا تھا میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے۔ اس کے بعد مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھول دی گئی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انھوں نے میرے سینے کو چاک کیا۔ پھر اسے آب زمزم سے دھویا۔ اس کے بعد سونے کا ایک تھال لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر چاک شدہ سینے کو بند کر دیا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان پر لے گئے۔ جب آسمانِ اول کے قریب آئے تو انھوں نے آسمان کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا: میں جبریل ہوں۔ اس نے پوچھا: آپ کے ہمراہ کوئی ہے؟ انھوں نے بتایا: میرے ہمراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟ کہا: ہاں، دروازہ کھولو۔ (اس نے دروازہ کھول دیا۔) جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو وہاں ایک شخص تھا جس کے دائیں بائیں کچھ لوگ تھے۔ جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنس پڑتا اور جب بائیں جانب نظر کرتا تو رو دیتا۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا: خوش آمدید! اے نبی محترم اور پسرِ مکرم! میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انھوں نے بتایا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں بائیں انسانی روحیں ہیں۔ یہ سب ان کی اولاد کی ارواح ہیں۔ ان میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے دوزخی۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف نظر کرتے ہیں تو انھیں رونا آجاتا ہے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام مجھے چڑھا کر اوپر لے گئے حتیٰ کہ ہم دوسرے آسمان تک پہنچ گئے۔ انھوں نے آسمان کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے وہی کہا جو پہلے آسمان کے نگران نے کہا تھا۔ پھر اس نے دروازہ کھولا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں پر حضرت ادریس، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات فرمائی لیکن انھوں نے ان انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مقامات کی کوئی تخصیص نہیں کی، صرف اتنا بتایا کہ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں دیکھا۔ نیز حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب حضرت جبریل علیہ السلام (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ) حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا: اے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور برادرِ محترم خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: خوش آمدید! اے نیک نبی اور نیک بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے بھی کہا: اے نیک نبی اور نیک بھائی، مرحباً! میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: مرحبا، اے نبی محترم اور پسرِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے ابن حزم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو حیہ انصاری رضی اللہ عنہ ذکر کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے اوپر لے جایا گیا اور میں اتنے بلند مقام پر پہنچ گیا کہ وہاں اقلام کی آواز سن رہا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نمازیں مجھ پر فرض کیں۔ میں اس فریضے کو لے کر واپس آیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ انھوں نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کی امت میں اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں واپس آیا اور اپنے رب سے نظرِ ثانی کی اپیل کی تو اللہ تعالیٰ نے کچھ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور نظرِ ثانی کی اپیل کریں، چنانچہ میں نے اپنے رب سے نظرِ ثانی کی اپیل کی تو اللہ تعالیٰ نے کچھ نمازیں کم کیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انھیں بتایا۔ (کہ اللہ نے نمازوں کا کچھ اور حصہ کم کر دیا ہے۔) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی۔ (اسی طرح بار بار آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا) بالآخر میں رب العالمین کے حضور گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نمازیں پانچ ہیں مگر ثواب پچاس نمازوں ہی کا باقی رکھا گیا ہے۔ ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کہ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاہیے۔ میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب کریم سے حیا آتی ہے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام میرے ساتھ ہم سفر ہوئے حتیٰ کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا ہے نہ معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ موتیوں کے گنبد ہیں اور اس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ}، وَقَوْلِهِ: {إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالأَحْقَافِ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو (نبی بنا کر) بھیجا انہوں نے کہا، اے قوم! اللہ کی عبادت کرو“ اور (سورۃ الاحقاف میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو احقاف یعنی ریت کے میدانوں میں ڈرایا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”یوں ہی ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم قوموں کو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3343-2
فِيهِ عَنْ عَطَاءٍ وَسُلَيْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس باب میں عطاء ابن ابی رباح اور سلیمان بن یسار نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3343-2]

6M. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ} شَدِيدَةٍ:
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الحاقہ میں) فرمایا ”لیکن قوم عاد، تو انہیں ایک نہایت تیز تند آندھی سے ہلاک کیا گیا، جو بڑی غضبناک تھی“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3343
قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَتَتْ عَلَى الْخُزَّانِ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا سورة الحاقة آية 7 مُتَتَابِعَةً فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ سورة الحاقة آية 7 أُصُولُهَا فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ سورة الحاقة آية 8 بَقِيَّةٍ.
‏‏‏‏ ابن عیینہ نے (آیت کے لفظ) «عاتية‏» کی تشریح میں کہا کہ ( «عتت على الخزان») یعنی وہ اپنے داروغہ فرشتوں کے قابو سے باہر ہو گئی جسے اللہ نے ان پر متواتر سات رات اور آٹھ دن تک مسلط کیا (آیت میں) لفظ «حسوما‏» بمعنی «متتابعة» ہے یعنی وہ پے در پے چلتی رہی (ایک منٹ بھی نہیں رکی) پس اگر تو اس وقت موجود ہوتا تو اس قوم کو وہاں یوں گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے پڑے ہیں، سو کیا تجھ کو ان میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3343]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3343
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (غزوہ خندق کے موقع پر) پروا ہوا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3343]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: باد صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو پچھم کی ہوا سے ہلاک کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3344
قَالَ: وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَرْبَعَةِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ، قَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، قَالَ: إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقٌ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَأْمَنُونِي فَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
(امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) کہ ابن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابن ابی نعیم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں (کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں) پھر ایک شخص سامنے آیا، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد! اللہ سے ڈرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ خالد بن ولید تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3344]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (خام) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا تو آپ نے اسے چار اشخاص میں تقسیم کر دیا: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فرازی، زید بن طائی جو بنو نبہان کا ایک آدمی تھا اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنو کلاب کا ایک فرد تھا۔ اس تقسیم پر قریش اور انصار غصے سے بھر گئے کہ آپ اہل نجد کے سرداروں کو عطیات دیتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں تالیفِ قلوب کے لیے دیتا ہوں۔ اس دوران میں ایک آدمی سامنے آیا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے، پیشانی اونچی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اور کون فرمانبرداری کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے تو مجھے اہل زمین پر امین بنایا ہے لیکن تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ ایک شخص نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی، میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نسل یا اس کے نسب سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کریم تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں انہیں پا لوں تو ضرور انہیں ایسے قتل کروں جیسے قومِ عاد نیست و نابود ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15".
ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے ان سے اسود نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ آیت «فهل من مدكر‏» کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3345]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 15] کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ قِصَّةِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ:
باب: یاجوج و ماجوج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3346-2
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ}.
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف میں فرمایا «قالوا يا ذا القرنين إن يأجوج ومأجوج مفسدون في الأرض‏» وہ لوگ کہنے لگے۔ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج لوگ ملک میں بہت فساد مچا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3346-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3346
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا فَاتَّبَعَ سَبَبًا} إِلَى قَوْلِهِ: {ائْتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ} وَاحِدُهَا زُبْرَةٌ وَهْيَ الْقِطَعُ {حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ} يُقَالُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْجَبَلَيْنِ، وَالسُّدَّيْنِ الْجَبَلَيْنِ {خَرْجًا} أَجْرًا {قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا} أَصْبُبْ عَلَيْهِ رَصَاصًا، وَيُقَالُ الْحَدِيدُ. وَيُقَالُ الصُّفْرُ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ النُّحَاسُ. {فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ} يَعْلُوهُ، اسْتَطَاعَ اسْتَفْعَلَ مِنْ أَطَعْتُ لَهُ فَلِذَلِكَ فُتِحَ أَسْطَاعَ يَسْطِيعُ وَقَالَ بَعْضُهُمُ اسْتَطَاعَ يَسْتَطِيعُ، {وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكًّا} أَلْزَقَهُ بِالأَرْضِ، وَنَاقَةٌ دَكَّاءُ لاَ سَنَامَ لَهَا، وَالدَّكْدَاكُ مِنَ الأَرْضِ مِثْلُهُ حَتَّى صَلُبَ مِنَ الأَرْضِ وَتَلَبَّدَ. {وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ}، {حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} قَالَ قَتَادَةُ حَدَبٍ أَكَمَةٍ. قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ السَّدَّ مِثْلَ الْبُرْدِ الْمُحَبَّرِ. قَالَ: «رَأَيْتَهُ» .
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا «ويسألونك عن ذي القرنين قل سأتلو عليكم منه ذكرا * إنا مكنا له في الأرض وآتيناه من كل شىء سببا * فاتبع سببا‏» اور آپ سے (اے رسول) ذوالقرنین (بادشاہ) کے متعلق یہ لوگ پوچھتے ہیں۔ (آپ فرما دیں کہ) ان کا قصہ میں ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے اسے زمین کی حکومت دی تھی اور ہم نے اس کو ہر طرح کا سامان عطا فرمایا تھا پھر وہ ایک سمت چل نکلا . اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ائتوني زبر الحديد‏» تم لوگ میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ، تک۔ «زبر» کا واحد «زبرة» ہے اور «زبرة» ٹکڑے کو کہتے ہیں یہاں تک کہ جب اس نے ان دونوں پہاڑوں کے برابر دیوار اٹھا دی۔ «صدفين‏» سے پہاڑ مراد ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ( «بين الصدفين‏» کی تفسیر میں منقول ہے) اور «السدين الصدفين‏» کی دوسری قرآت بھی «الجبلين» (دو پہاڑ) کے معنی میں ہے۔ «خرجا‏» بمعنی محصول اجرت، ذوالقرنین نے (عملہ سے) کہا کہ اب اس دیوار کو آگ سے دھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ بنا دیا تو کہا اب میرے پاس پگھلا ہوا سیسہ تانبا لاؤ تو میں اس پر ڈال دوں «أفرغ عليه قطرا‏» کے معنی ہیں کہ میں اس پر پگھلا ہوا سیسہ ڈال دوں ( «قطر» کے معنی) بعض نے لوہے (پگھلے ہوئے سے) کئے ہیں اور بعض نے پیتل سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا معنی تانبا بتایا ہے۔ پھر قوم یاجوج و ماجوج کے لوگ (اس سد کے بعد) اس پر چڑھ نہ سکے «يظهروه‏» بمعنی «يعلوه»، «أطعت له» سے استفعال کا صیغہ ہے۔ اسی لیے «أسطاع» «يسطيع» «يستطيع» بھی پڑھتے ہیں اور یاجوج ماجوج اس میں سوراخ بھی نہ کر سکے۔ ذوالقرنین نے کہا کہ یہ میرے پروردگار کی ایک رحمت ہے پھر جب میرے پروردگار کا مقررہ وعدہ آ پہنچے گا تو وہ اس دیوار کو «دكا‏» یعنی زمین کے ساتھ ملا دے گا، عرب کے لوگ اسی سے بولتے ہیں «ناقة دكاء» جس سے مراد وہ اونٹ ہے جس کی کوہان نہ ہو۔ اور «الدكداك من الأرض» کی مثال وہ زمین جو ہموار ہو کر سخت ہو گئی ہو، اونچی نہ ہو اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے اور اس روز ہم ان کو اس طرح چھوڑ دیں گے کہ بعض ان کا بعض سے گڈ مڈ ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑ پڑیں گے۔ قتادہ نے کہا کہ «حدب» کے معنی ٹیلہ کے ہیں۔ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اس دیوار کو دھاری دار چادر کی طرح دیکھا ہے جس کی ایک دھاری سرخ ہے اور ایک کالی ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی تم نے اس کو دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3346]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3346
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ: زَيْنَبُ ابْنَةَ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے، ان سے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ گھبرائے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، ملک عرب میں اس برائی کی وجہ سے بربادی آ جائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں، آج یاجوج ماجوج نے دیوار میں اتنا سوراخ کر دیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور اس کے قریب کی انگلی سے حلقہ بنا کر بتلایا۔ ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کے باوجود ہلاک کر دئیے جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب فسق و فجور بڑھ جائے گا (تو یقیناً بربادی ہو گی)۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3346]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے ان کے پاس آئے اور فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ عرب کی تباہی اس آفت کی وجہ سے ہونے والی ہے جو بالکل قریب آ لگی ہے۔ آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے سوراخ بنا کر اس کی مقدار بتائی۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم نیک لوگوں کی موجودگی میں ہلاک ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب برائی زیادہ پھیل جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں