صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3533
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ، وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے۔ مجھے وہ «مذمم» کہہ کر برا کہتے، اس پر لعنت کرتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3533]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور ان کے لعن و طعن کو مجھ سے کیسے دور کرتا ہے؟ وہ مذمم کو گالیاں دیتے اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں جبکہ میں تو محمد ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3533]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا۔
حدیث نمبر: 3534
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ، وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کر دیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3534]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اور پہلے انبیاء علیہم السلام کا حال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا، اس نے اسے مکمل اور خوبصورت تیار کیا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں داخل ہو کر اس کی عمدگی پر اظہارِ تعجب کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں: کاش! اس اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3534]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3535
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ، قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3535]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور اسے بہت خوبصورت تیار کیا مگر ایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب لوگ آ کر اس کے ارد گرد گھومتے ہیں اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 3536
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ"، وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ مِثْلَهُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3536]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔ (راوی حدیث) ابن شہاب نے کہا: مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ كُنْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک صاحب کی آواز آئی۔ یا اباالقاسم! آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے (معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی اور کو پکارا ہے) اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت مت رکھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3537]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص کی آواز آئی: "اے ابو القاسم!" نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے (تو وہ کسی اور سے مخاطب تھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام رکھ لیا کرو مگر کنیت مت رکھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3538
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3538]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3539]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام تو رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3539]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3540
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ جَلْدًا مُعْتَدِلًا، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا مُتِّعْتُ بِهِ سَمْعِي وَبَصَرِي إِلَّا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَالَتِي ذَهَبَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي شَاكٍ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ:" فَدَعَا لِي".
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3540]
حضرت جعید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے (94) سال کی عمر میں دیکھا جبکہ وہ اچھے خاصے طاقتور اور معتدل حالت میں تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے خوب معلوم ہے کہ میرے حواس، کان اور آنکھ اب تک کام کر رہے ہیں، یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے؛ واقعہ یہ ہے کہ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
22. بَابُ خَاتِمِ النُّبُوَّةِ:
باب: مہر نبوت کا بیان (جو آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ میں تھی)۔
حدیث نمبر: 3541
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَقَعَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتِمٍ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحُجْلَةُ: مِنْ حُجَلِ الْفَرَسِ الَّذِي بَيْنَ عَيْنَيْهِ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ: مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ".
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا بھانجا بیمار ہو گیا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا، پھر آپ کی پیٹھ کی طرف جا کے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت کو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان دیکھا۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «حجلة»، «حجل الفرس» سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں جو اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ہوتی ہے۔ ابراہیم بن حمزہ نے کہا: «مثل زر الحجلة» یعنی رائے مہملہ پہلے پھر زائے معجمہ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ رائے مہملہ پہلے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3541]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ نے میرے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی نوش کیا۔ پھر میں آپ کی پشت کی جانب کھڑا ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت کو دیکھا۔ (راویِ حدیث) ابن عبید اللہ کہتے ہیں کہ «الْحِجْلَةُ» «حِجْلَةُ الْفَرَسِ» سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں کہ جو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہوتی ہے۔ (ایک دوسرے راویِ حدیث) ابراہیم بن حمزہ نے کہا: وہ مہرِ نبوت مسہری کی گھنڈیوں جیسی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3541]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَا شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے (خوش ہو رہے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3542]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نمازِ عصر پڑھی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بچوں میں کھیلتے ہوئے دیکھا تو انہیں اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور فرمایا: میرا باپ ان پر قربان ہو! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر ہنس رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة