صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ فَضْلِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ:
باب: سورۃ قل ھو اللہ احد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5014
وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَخِي قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اور ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے «قل هو الله أحد» پڑھتے رہے۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (باقی حصہ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5015
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، وَالضَّحَّاكُ الْمَشْرِقِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا: أَيُّنَا يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحاک مشرقی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے؟ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ «الواحد الصمد» (یعنی «قل هو الله أحد») قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔ محمد بن یوسف فربری نے بیان کیا کہ میں نے ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ کے کاتب ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے (ابراہیم نے ابوسعید سے نہیں سنا) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابوسعید سے متصل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ:
باب: معوذات کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5016
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے (اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا) پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5017
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» (تینوں سورتیں مکمل) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ وَالْمَلاَئِكَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ:
باب: قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اور فرشتوں کے اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5018
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ:" بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَكَتَ، فَسَكَتَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ وَسَكَتَتِ الْفَرَسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ، فَلَمَّا اجْتَرَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَرَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ، اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا، قَالَ: وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ".
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے (تو بہتر تھا) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ مَنْ قَالَ لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ:
باب: اس کے بارے میں جس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن ترکہ میں چھوڑا وہ سب مصحف میں دو لوحوں کے درمیان محفوظ ہے، اس کا کہنا یہ صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 5019
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ لَهُ شَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ: أَتَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ:" مَا تَرَكَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ"، قَالَ: وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ:" مَا تَرَكَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآن کے سوا کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحی متلو) جو کچھ بھی چھوڑی ہے وہ سب کی سب ان دو گتوں کے درمیان صحیفہ میں محفوظ ہے عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو دفتیوں کے درمیان (قرآن مجید کی شکل میں) محفوظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ فَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلاَمِ:
باب: قرآن مجید کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر کس قدر ہے؟
حدیث نمبر: 5020
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا".
ہم سے ابوخالد ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ان سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5020]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5021
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَمَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَمَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا"، فَقَالَ:" مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتْ النَّصَارَى، ثُمَّ أَنْتُمْ تَعْمَلُونَ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ بِقِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا، وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ شِئْتُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! گزری امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور ان سے کہا کہ ایک قیراط مزدوری پر میرا کام صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ یہ کام یہودیوں نے کیا۔ پھر اس نے کہا کہ اب میرا کام آدھے دن سے عصر تک (ایک ہی قیراط مزدوری پر) کون کرے گا؟ یہ کام نصاریٰ نے کیا۔ پھر تم نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کیا۔ یہود و نصاریٰ قیامت کے دن کہیں گے ہم نے کام زیادہ کیا لیکن مزدوری کم پائی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہارا کچھ حق مارا گیا؟ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں اور جتنا چاہوں عطا کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5021]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ الْوَصَاةِ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
باب: کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى،" أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أُمِرُوا بِهَا وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے، کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا، کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی کریم نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا: پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی کہ مسلمانوں کو تو وصیت کا حکم ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی وصیت فرمائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5022]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ:
باب: اس شخص کے بارے میں جو قرآن مجید کو خوش آوازی سے نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: Q5023
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ سورة العنكبوت آية 51.
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «أولم يكفهم أنا أنزلنا عليك الكتاب يتلى عليهم» ”کیا ان کے لیے کافی نہیں ہے وہ کتاب اللہ جو ہم نے تم پر نازل کی جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: Q5023]