صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ:
باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ:" بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ، يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ"، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7066]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں (میرا (ابو وائل) کا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث مرفوع بیان کی تھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کے دن ہوں گے۔ ان (دنوں) میں علم ختم ہو جائے گا جبکہ جہالت کا غلبہ ہوگا۔“ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» ”ہرج“ کے معنی ہیں، قتل۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7067
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْهَرْجِ، نَحْوَهُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ.
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7067]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ ہرج کے متعلق بیان فرمائی تھی؟“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں میں بدترین اور شریر وہ ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔“” [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ لاَ يَأْتِي زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ:
باب: ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بدتر آنا۔
حدیث نمبر: 7068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ:"اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7068]
حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حجاج سے پہنچنے والی تکلیفوں کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا: ”صبر کرو کیونکہ بعد میں آنے والا دور پہلے دور سے بدتر ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7069
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا، يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ، يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ لِكَيْ يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7069]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات گھبرا کر بیدار ہوئے تو فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ اس رات اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے خزانے اتارے ہیں اور کس طرح کے فتنے نازل کیے ہیں؟ کوئی شخص ہے جو ان حجروں میں محو استراحت (سوئی ہوئی) خواتین (آپ کی بیویوں) کو جگائے تاکہ یہ اٹھ کر نماز پڑھیں؟ بہت سی دنیا میں لباس پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ”جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7070
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7070]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7071]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہم مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7071]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ".
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن رافع) نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7072]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ (اس کے انجام کو) نہیں جانتا، ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے وار کرا دے، پھر وہ (اس وجہ سے) دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7072]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7073
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا، قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا ابو محمد! تم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب تیر لے کر مسجد میں سے گزرے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیر کی نوک کا خیال رکھو۔ عمرو نے کہا جی ہاں میں نے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7073]
حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اے ابو محمد! کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: ایک صاحب تیر لے کر مسجد سے گزرے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا» ”تیر کی نوک کا خیال رکھو۔““ عمرو رحمہ اللہ نے کہا: ”ہاں، میں نے سنا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7073]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7074
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَجُلًا مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ بِأَسْهُمٍ قَدْ أَبْدَى نُصُولَهَا، فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا لَا يَخْدِشُ مُسْلِمًا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب مسجد میں تیر لے کر گزرے جن کے پھل باہر کو نکلے ہوئے تھے تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی نوک کا خیال رکھیں کہ وہ کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7074]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر لے کر گزرا جن کے پھل باہر نکلے ہوئے تھے، اسے حکم دیا گیا کہ ”ان کے پھل پکڑ رکھو، ایسا نہ ہو وہ کسی کو زخمی کر دیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7074]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا، أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا، أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد میں یا ہمارے بازار میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہئیے کہ اس کی نوک کا خیال رکھے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے انہیں تھامے رہے۔ کہیں کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7075]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو ان کی نوک کا خیال رکھے۔“ یا فرمایا: ”انہیں اپنے ہاتھ میں تھامے رکھے، ایسا نہ ہو اس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7075]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة