🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ إِذَا بَقِيَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ:
باب: جب کوئی برے لوگوں میں رہ جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا:" أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، قَالَ: يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ، فَيَبْقَى فِيهَا أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ، وَمَا أَظْرَفَهُ، وَمَا أَجْلَدَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَلَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامُ، وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، ان سے حذیفہ نے بیان کیا کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احادیث فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے۔ ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی تھی پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے سیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص ایک نیند سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرا لی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے، تم اس میں سوجن دیکھو گے لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا۔ پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر ایک زمانہ گزر گیا اور میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس کے ساتھ میں لین دین کرتا ہوں اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرے حق کے ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کے حاکم لوگ اس کو دباتے ایمانداری پر مجبور کرتے۔ لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں لوگوں سے ہی لین دین کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7086]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو احادیث بیان کی تھیں، ان میں سے ایک کا تو میں نے مشاہدہ کر لیا ہے اور دوسری کا انتظار ہے۔ ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں نازل ہوئی تھی، پھر انہوں نے اسے قرآن سے سیکھا، اس کے بعد سنت سے اس کی حقانیت کو معلوم کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس (امانت) کے اٹھ جانے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”آدمی ایک بار سوئے گا تو امانت اس کے دل میں (سے اٹھا لی جائے گی اور) اس کا اثر ابھرے ہوئے آبلے کی طرح رہ جائے گا، جس طرح آگ کے انگارے کو پاؤں پر لڑھکا دیا جائے اور وہ یوں اثر انداز ہو کر ابھرنے والا آبلہ بن جائے جس میں کوئی چیز نہ ہو۔ لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن ان میں کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا، پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے۔ کسی مرد کے متعلق کہا جائے گا وہ کس قدر عقل مند، خوش طبع اور دلاور آدمی ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا، یقیناً مجھ پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں پروا نہیں کرتا تھا کہ میں تم میں سے کس کے ساتھ خرید و فروخت کرتا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرا حق ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی ہوتا تو اس کا حکمران اسے ایمانداری پر مجبور کرتے لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں ہی سے لین دین کرتا ہوں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7086]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ التَّعَرُّبِ فِي الْفِتْنَةِ:
باب: فتنہ فساد کے وقت جنگل میں جا رہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7087
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ"، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، خَرَجَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ إلَى الرَّبَذَةِ، وَتَزَوَّجَ هُنَاكَ امْرَأَةً، وَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِلَيَالٍ، فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے۔ وہ برابر وہیں پر رہے، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7087]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجاج بن یوسف کے پاس گئے تو اس نے کہا: ”اے ابن اکوع! تم الٹے پاؤں پھر گئے ہو، تم نے آبادی سے باہر رہائش اختیار کر لی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ایسا نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی ہے۔“ یزید بن ابو عبید نے کہا: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ربذہ میں رہائش اختیار کر لی، انہوں نے وہاں ایک عورت سے شادی کی اور ان کے بچے بھی پیدا ہوئے، وہ ربذہ میں ہی رہے یہاں تک کہ اپنی وفات سے چند دن پہلے مدینہ طیبہ آگئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7087]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7088]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا، وہ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے (آبادی سے) بھاگ نکلے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7088]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ:
باب: فتنوں سے پناہ مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7089
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ،" فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُ لَكُمْ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي، فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ، فَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے سوالات کئے آخر جب لوگ باربار سوال کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سر اس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ سے کہ وہ رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ رسول ہیں راضی ہیں اور آزمائش کی برائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیر و شر آج جیسا دیکھا، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ بات اس آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم‏» کہ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری معلوم ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7089]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے اور جب سوالات کرنے میں مبالغے سے کام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔“ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص اپنا سر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑ دی، اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا والد کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا والد حذافہ ہے۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔“ «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ» ”ہم برے فتنوں سے پناہ مانگتے ہیں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خیر و شر جو آج دیکھا ہے، اس جیسا کبھی نہ دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت اور دوزخ کی صورت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو دیوار کے قریب دیکھا۔“ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث درج ذیل آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7090
وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: كُلُّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَوْءَى الْفِتَنِ.
اور عباس النرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7090]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو ہر شخص اپنے کپڑے میں سر لپیٹے رو رہا تھا اور فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا: ”میں فتنوں کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7091
وقَالَ لِي خَلِيفَةُ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَمُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ.
اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی، اس میں بجائے «سوء» کے «شر» کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7091]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی، اس میں ”فتنوں کی برائی“ کے بجائے ”فتنوں کے شر“ کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7092
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" قَامَ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: الْفِتْنَةُ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، أَوْ قَالَ قَرْنُ الشَّمْسِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا ”فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا سورج کا سینگ فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7092]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ منبر کے ایک جانب کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے، جدھر شیطان کا سینگ یا «قَرْنُ الشَّمْسِ» طلوع ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7092]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7093
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ، يَقُولُ: أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے ”آگاہ ہو جاؤ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7093]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”آگاہ رہو! فتنہ اسی طرف سے رونما ہوگا جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7093]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7094
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا؟، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يمننا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نجدنا؟، فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7094]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے ملک شام میں برکت دے۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے ملک شام میں برکت دے۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے ملک یمن میں برکت عطا فرما۔“ صحابہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اور ہمارے نجد میں بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں برکت دے۔ اے اللہ! ہمارے ملک یمن میں برکت عطا فرما۔“ میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: ”وہاں زلزلے اور فتنے رونما ہوں گے، نیز وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7094]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7095
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، قَالَ: فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7095]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی عمدہ حدیث بیان کریں گے۔ اس دوران میں ایک آدمی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا: ”اے ابو عبدالرحمن! ہمیں فتنے کے دور میں جنگ و قتال کے متعلق کوئی حدیث بیان کریں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔““ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تجھے تیری ماں روئے! کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو (فتنہ ختم کرنے کے لیے) مشرکین سے جنگ کرتے تھے، ان کے نزدیک مسلمانوں کا دین اسلام میں داخل ہونا فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری طرح ملک گیری کے لیے نہ تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7095]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں