🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106.  باب المسلم مرآة أخيه 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
178/239 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" المؤمن مرآة أخيه، والمؤمن أخو المؤمن؛ يكف عليه ضيعته (1) ، ويحوطه من ورائه (2) ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہے اور ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتا ہے، اور اس کے پتہ پیچھے اس کی حمایت کرتا ہے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 179
179/240 عن المستورد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من أكل بمسلم أكلة (3) ؛ فإن الله يطعمه مثلها من جهنم، ومن كُسِيَ برجل مسلم، فإن الله عز وجل يكسوه من جهنم، ومن قام برجل مقام رياء وسمعة؛ فإن الله يقوم به مقام رياء وسمعة يوم القيامة".
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی برائی کرنے کے بعد کچھ کھا لے (یعنی حاصل کر لے) / جس نے کسی مسلمان کو کسی کھانے کا ذریعہ بنایا۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کی کسی سے لڑائی ہوتی ہے تو کوئی دوسرا آدمی اس کے پاس جاتا ہے اور اس سے اس آدمی کی برائیاں کرتا ہے جس کی اس سے لڑائی ہوتی ہے اور وہ اس کے خلاف باتیں کر کے اس کے ہاں اپنا مقام بناتا ہے تاکہ یہ مجھے پسند کرے کہ یہ میرے دشمن کا دشمن ہے اور اسی برائیاں بیان کرنے میں وہ اپنائیت کے طور پر اسے کچھ عطاء کرتا ہے۔) اللہ اسے اسی کی مثل جہنم سے کھلائے گا اور جسے کسی مسلمان سے برائی کے بدلے کچھ پہنایا گیا اللہ اسے جہنم سے کچھ پہنائیں گے اور جو کسی آدمی کی برائی کرنے کے سبب ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا (وہ دوسرے کی برائی اس لیے بیان کر رہا ہے تاکہ اسے شہرت مل جائے ایک مقام مل جائے) اللہ اسے قیامت کے دن شہرت اور ریاکاری کے مقام پر کھڑا کریں گے۔ جو کسی مسلم کا ایک نوالہ کھائے گا اللہ تعالیٰ ویسا ہی نوالہ اسے جہنم کا کھلائے گا، اور جو کسی مسلمان کا کپڑا پہن لے گا اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لباس پہنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کے مقابلے کے مقام پر کھڑا ہو گا، اللہ اسے اپنے مقابلے پر کھڑا کرے گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107.  باب ما لا يجوز من اللعب والمزاح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 180
180/241 عن عبد الله بن السائب عن أبيه، عن جده [ يزيد بن سعيد ] قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم – يعني – يقول:" لا يأخذ أحدكم متاع صاحبه لاعباً ولا جاداً؛ فإذا أخذ أحدكم عصا صاحبه، فليردها إليها".
عبداللہ بن سائب اپنے باپ سے، وہ اپنے دادا یزید بن سعیدسے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تم میں سے کوئی شخص اپنے دوست کی کوئی چیز نہ لے، نہ مذاق سے، نہ سنجیدگی سے، پھر اگر کوئی اپنے دوست کی چھڑی لے لے تو اسے واپس کر بھی کر دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
108.  باب الدال على الخير 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
181/242 عن أبي مسعود الأنصاري، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أبدع بي (1) فاحملني، قال:" لا أجد، ولكن ائت فلاناً، فلعله أن يحملك". فأتاه فحمله، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال:" من دل على خيرٍ فله مثل أجر فاعله".
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری سواری تھک ہار گئی آپ مجھے سواری پر سوار کرائیں (مجھے ایک سواری عطا کیجئے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو نہیں ہے لیکن تم فلاں کے پاس چلے جاؤ شاید وہ تم کو سواری دے دے۔ وہ اس کے پاس گیا، اس نے اسے سواری پر بٹھا دیا (اس نے سواری دے دی)، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھے کام کی راہ بتائی اس کو عمل کرنے والے کے برابر اجر ملے گا (جو نیکی کا راستہ بتاتا ہے اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109.  باب العفو والصفح عن الناس 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
182/243 عن أنس: أن يهودية أتتِ النبي صلى الله عليه وسلم بشاة مسمومة، فأكل منها فجيء بها، فقيل: ألا نقتلها؟ قال:"لا". قال: فما زلتُ أعرفُها في لهَوَات رسول الله صلى الله عليه وسلم.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر آلود بکری کا گوشت لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا گوشت کھایا، (وہ بات کھل گئی اور) اس عورت کو پکڑ کر لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ہم اس یہودیہ کو قتل نہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس زہر کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقوم (کوے) میں ہمیشہ دیکھتا تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
183/244 عن وهب بن كيسان قال: سمعتُ عبد الله بن الزّبير يقول على المنبر:? خذِ العفو (1) وأمر بالعرف (2) وأعرض عن الجاهلين? (3) [الأعراف: 199] قال:" والله! ما أمر بها أن تؤخذ إلا من أخلاق الناس، والله! لآخذنّها منهم ما صحبتُهم".
وھب بن کیسان کہتے ہیں، میں نے عبداللہ بن زبیر سے سنا آپ منبر پر ارشاد فرماتے تھے: معافی کی راہ اختیار کرو اور اچھے کام کا حکم دو اور جاہلوں سے درگزر کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے اس (درگزر) کا حکم نہیں دیا مگر یہ کہ لوگوں کے اخلاق سے لیا جائے۔ (مطلب یہ کہ لوگ ترش روئی سے کام لیں گے ان سے درگزر سے کام لیا جائے۔) اللہ کی قسم! میں اس کو لوگوں سے ضرور لوں گا جب تک میں ان کے ساتھ گھل مل کے رہوں گا (یعنی جب بھی لوگ بدتمیزی کریں گے میں درگزر کروں گا۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
184/245 عن ابن عباس قالَ: قالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم:" علموا، ويسروا [علموا ويسروا (ثلاث مرات) /1320] ، ولا تعسروا، وإذا غضب أحدكم فليسكت [مرتين] ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعلیم دو اور آسانی پیداکرو، یہ تین بار فرمایا۔ اور مشکل پیدا نہ کرو، اور جب تم میں سے کسی کو غصہ آ جائے تو چاہیے کہ چپ ہو جائے، یہ دو بار فرمایا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110.  باب الانبساط إلى الناس
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
185/246 عن عطاء بن يسار قال: لقيتُ عبد الله بن عمرو بن العاص، فقلتُ: أخبرني عن صفة رسول الله صلى الله عليه وسلم في التوراة، قال: فقال:" أجل، والله! إنه لموصوف في التوراة ببعض صفته في القرآن:?يا أيها النبي إنا أرسناك شاهداً (1) ومبشراً ونذيراً? [الأحزاب: 45] . وحرزاً للأميين، أنت عبدي ورسولي، سميتك: المتوكل، ليس بفظّ ولا غليظ، ولا صخّاب في الأسواق، ولا يدفعُ بالسيئة السيئة. ولكن يعفو ويغفرُ، ولن يقبضه الله تعالى، حتى يقيم به الملة العوجاء؛ بأن يقولوا: لا إله إلا الله، ويفتحوا بها أعيناً عمياً، وآذاناً صماً، وقلوباً غُلفاً".
عطاء بن یسار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف بتائیں جو تورات میں ہیں، انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ وہ صفات ہیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں: ‏ «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا‏» اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے۔) اور امی قوم کے لیے حفاظت کرنے والا، تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے، آپ نہ سخت طبیعت ہیں اور نہ سخت دل ہیں، نہ بازار میں شور بلندکرنے والے ہیں اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے ہیں بلکہ آپ معاف اور درگزر کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ انہیں دنیا سے اس وقت تک ہرگز نہ اٹھائے گا یہاں تک کہ ان کے سبب سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا کر دے یہ کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں اور اس کے ساتھ وہ اندھی آنکھیں، بہرے کانوں اور غلاف میں لپٹے ہوئے دلوں کو کھولیں گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
186/248 عن معاوية قال: سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم كلاماً نفعني الله به؛ سمعته يقول- أو قال-: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" إنك إذا اتبعت الريبة في الناس أفسدتهم" (2) . فإني لا أتبع الريبة فيهم فأفسدهم.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی ہے جس سے اللہ نے مجھے نفع پہنچایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا یا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب تم لوگوں کے عیبوں کی ٹوہ میں لگو گے تو انہیں بگاڑ دو گے، میں ان میں ان کے عیوب کی ٹوہ میں نہیں لگتا کہ انہیں بگاڑ دوں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
111.  باب التبسم 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
(250/1) /187 عن جرير قال: ما رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ أسلمت إلا تبسم في وجهي.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب سے مسلمان ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے مسکرائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں