صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب إذا نصح العبد لسيده
جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے
حدیث نمبر: 149
149/202 عن عبد الله بن عمر ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"إن العبد إذا نصح لسيده، وأحسن عبادةَ ربه، فله أجره مرتين".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر غلام نے اپنے آقا کی خیرخواہی کی اور اپنے پروردگار کی عبادت بھی اچھی طرح کی تو اس کو دہرا اجر ملے گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 150
150/203 عن أبي موسى قال: قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ثلاثة لهم أجران: رجل من أهل الكتاب آمن بنبيه، وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم فله أجران. والعبد المملوك إذا أدى حق الله، وحق مواليه، [وفي رواية: حق مليكه الذي يملكه/205] . ورجل كانت عنده أمة يطأها، فأدبها فأحسن تأديبها، وعلمها فأحسن تعليمها، ثم أعتقها فتزوجها، فله أجران". قال: عامر أعطيناكها بغير شيء، وقد كان يركب فيما دونها إلى المدينة.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں کا دہرا اجر ہے: اہل کتاب کا وہ آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا اس کے لیے دو اجر ہیں اور وہ زرخرید غلام جس نے اللہ کا حق اد اکیا اور اپنے آقاؤ ں کا (اور ایک روایت میں ہے: اپنے بادشاہ کا حق ادا کیا جو اس کا مالک ہے)۔ اور ایک آدمی کے پاس لونڈی تھی جس سے وہ وظیفہ زوجیت ادا کرتا تھا اس نے اس کو تادیب سکھائی اور اچھی تادیب سکھائی اور اس کو تعلیم“دی تو اچھی تعلیم دی۔ پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ عامر نے کہا: ہم نے یہ حدیث آپ کو مفت دے دی یعنی بغیر کسی چیز کے بدلے میں جبکہ اس سے کم درجے کی حدیث کے لیے مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: (صحيح)
91. باب العبد راع
غلام بھی ذمہ دار اور رکھوالا ہے
حدیث نمبر: 151
151/206 عن ابن عمر ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" [ألا] كلكم راع، وكلكم مسؤول عن رعيته؛ فالأمير الذي (1) على الناس راع، وهو مسؤول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسؤول عن رعيته، وعبد الرجل [ وفي طريق: والخادم/214] راعٍ على مال سيده، وهو مسؤول عنه، [والمرأة راعية في بيت زوجها] ، [وهي مسؤولة] ، [ سمعت هؤلاء عن النبي صلى الله عليه وسلم، وأحسب النبي صلى الله عليه وسلم قال: –"والرجل في مال أبيه"] ، ألا كلكم راعٍ، وكلكم مسؤول عن رعيته".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، وہ امیر جو لوگوں پر حکمران مقرر ہو وہ بھی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایاکے بارے میں سوال کیا جائے گا اور آدمی اپنے گھر والوں پر ذمہ دار ہے اور ا س سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور آدمی کا غلام اور ایک روایت میں ہے کہ خادم اپنے آقا کے مال پر ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے اور اس سے سوال کیا جائے گا۔“ میں نے یہ سب باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اور میرا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اور آدمی اپنے باپ کے مال کا بھی ذمہ دار ہے، خبردار تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب سے اس کی رعایاکے بارے میں حساب لیا جائے گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: (صحيح)
92. باب من أحب أن يكون عبدا
جو غلام ہونے کو پسند کرے
حدیث نمبر: 152
152/208 عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" العبد المسلم إذا أدى حق الله وحق سيده، له أجران". والذي نفس أبي هريرة بيده! لولا الجهاد في سبيل الله، والحج، وبر أمي، لأحببت أن أموت مملوكاً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان غلام جب اللہ کا اور اپنے آقا کا حق ادا کر دے تو اس کے لئے دو اجر ہیں، (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک آڑے نہ آتے تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ مجھے موت اس حال میں آئے کہ میں غلام ہوں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: (صحيح)
93. باب لا يقول: عبدي
غلام کو میرا بندہ نہ کہو
حدیث نمبر: 153
153/209 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"لا يقل أحدكم: عبدي، أمتي؛ كلكم عبيد الله، وكل نسائكم إماء الله، وليقل: غلامي، جاريتي، وفتاي، وفتاتي".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا بندہ، میری بندی تم سب اللہ کے بندے ہو اور تم سب کی عورتیں اللہ کی باندیاں ہیں اور چاہیے کہ یہ کہو: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان لونڈی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: (صحيح)
94. باب هل يقول: سيدي؟
حدیث نمبر: 154
154/210 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لا يقولن أحدكم: عبدي وأمتي، ولا يقولن المملوك: ربي وربتي، وليقل: فتاي وفتاتي، وسيدي وسيدتي، كلكم مملوكون والرب: الله عز وجل".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی میرا بندہ اور میری بندی ہرگز نہ کہے، اور غلام یہ نہ کہے: میرا رب اور میری مالکن، آقا کو کہنا چاہیے کہ میرا جوان مرد اور عورت اور غلام کو کہنا چاہیے: میرا سید اور میری سیدہ (میرا آقا اور میری آقا)، تم سب کے سب غلام ہو اور رب اللہ عزوجل ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 155
155/211 عن مطرف قال: قال أبي (1) : انطلقت في وفد بني عامر إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: أنت سيدنا قال:"السيد الله". قالوا: وأفضلنا فضلاً، وأعظمنا طَولاً. قال: فقال:" قولوا بقولكم، ولا يستجرينكم الشيطان" (2) .
مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں بنی عامر کے وفد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات میں گیا، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ ہمارے سید ہیں۔ فرمایا: ”سید تو اللہ ہے۔“ لوگوں نے کہا کہ آپ فضیلت میں ہم سے افضل ہیں، مال و دولت اور خرچ کرنے میں ہم سب سے بڑھ کر ہیں۔ فرمایا: ”جو کہو سو کہو مگر شیطان تم کو بہکا کر نہ لے جائے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: (صحيح)
95. باب الرجل راع فى أهله
حدیث نمبر: 156
156/213 عن أبي سليمان؛ مالك بن الحويرث قال: أتينا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شببة متقاربون، فأقمنا عشرين ليلة، فظن أنا اشتهينا أهلينا، فسألنا عن من تركنا في أهلينا؟ فأخبرناه – وكان رفيقاً رحيماً- فقال:"ارجعوا إلى أهليكم فعلموهم ومروهم، وصلوا كما رأيتموني أصلي، فإذا حضرت الصلاة، فليؤذن لكم أحدكم، وليؤمكم أكبركم".
سیدنا ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ ہم جوان تھے اور ہم عمر تھے۔ ہم آپ کے پاس بیس دن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا ہم اپنے گھر والوں سے اداس ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: ”ہم اپنے گھر والوں میں کن (رشتہ داروں) کو چھوڑ کر آئے ہیں؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے نرم دل اور مہربان تھے۔ فرمایا: ”اچھا اپنے اہل و عیال میں واپس جاؤ۔ ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو۔ اور تم نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک آدمی اذان کہہ دے اور تم میں سے جو بڑا ہے وہ جماعت کروائے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: (صحيح)
95B. باب المرأة راعية
عورت بھی ذمہ دار ہے
حدیث نمبر: 156M
أسند تحته حديث ابن عمر المتقدم برقم (151/206) .
96. باب من صنع إليه معروف فليكافئه
حدیث نمبر: 157
157/215 عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:"من صنع إليه معروف فليجزئه، فإن لم يجزئه فليثن عليه؛ فإنه إذا أثنى عليه فقد شكره، وإن كتمه فقد كفره، ومن تحلى بما لم يعط، فكأنما لبس ثوبي زور".
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ نیکی کی جائے اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے، اگر کوئی ایسی چیز نہ پائے جس سے بدلہ دے سکے تو اس کی تعریف کر دے، کیونکہ جب وہ اس کی تعریف کرے گا وہ اس کا شکر ادا کرے گا، اگر اس کے احسان کو چھپائے گا تو ناشکری کرے گا۔ اور جس نے اپنی وہ صفت بیان کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ ایسا ہے گویا کہ اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے ہیں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: (صحيح)