صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب إماطة الأذى
حدیث نمبر: 168
168/228 عن أبي برزة الأسلمي قال: قلت: يا رسول الله! دلني على عمل يدخلني الجنة، قال:"أمطِ الأذى عن طريق الناس".
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں پہنچا دے۔ فرمایا: ”لوگوں کی گزرگاہ سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹا دو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 169
196/229 عن أبي هريرة [رضي الله عنه] عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"مرّ رجل مسلم بشوك في الطريق، فقال: لأميطن هذا الشوك، لا يضر رجلاً مسلماً، فغفر له".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان شخص کانٹے دار ٹہنی کے پاس سے گزرا جو راستے میں تھی، اس نے کہا: میں ضرور ان کانٹوں کو (راستے سے) ہٹا دوں گا (تاکہ) کسی مسلمان آدمی کو تکلیف نہ دیں تو اس شخص کو معاف کر دیا گیا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 170
170/230 عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"عرضت علي أعمال أمتي – حسنها وسيئها- فوجدت في محاسن أعمالها: أن الأذى يماط عن الطريق، ووجدت في مساوئ أعمالها: النخاعة في المسجد لا تدفن".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں یہ پایا: تکلیف دہ چیز جس کو راستے سے ہٹایا جاتا ہے اور میں نے ان کے برے اعمال میں یہ پایا: وہ بلغم جو مسجد میں تھوکی گئی اور اسے دفن نہیں کیا گیا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: (صحيح)
103. باب قول المعروف
حدیث نمبر: 171
171/231 عن عبد الله بن يزيد الخطمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"كل معروف صدقة".
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 172
172/232 عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتي بالشيء يقول:"اذهبوا به إلى فلانة؛ فإنها كانت صديقة خديجة. اذهبوا به إلى بيت فلانة؛ فإنها كانت تحب خديجة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی چیز لائی جاتی تھی تو فرماتے تھے: ”یہ فلاں عورت کے پاس لے جاؤ، وہ خدیجہ کی دوست تھیں یہ فلاں عورت کے گھر لے جاؤ، وہ خدیجہ سے محبت کرتی تھیں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 173
173/233 عن حذيفة قال: قال نبيكم صلى الله عليه وسلم:" كل معروف صدقة".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: (صحيح)
104. باب الخروج إلى المبقلة وحمل الشيء على عاتقه إلى أهله بالزبيل
حدیث نمبر: 174
174/234 عن عمرو بن أبي قرة الكندي قال:" عرض أبي على سلمان أخته، فأبى وتزوج مولاة له يقال لها: بقيرة، فبلغ أبا قرة أنه كان بين حذيفة وسلمان شيء، فأتاه يطلبه، فأخبر أنه في مبقلةٍ له، فتوجه إليه، فلقيه ومعه زبيل فيه بقل؛ قد أدخل عصاه في عروة الزبيل- وهو على عاتقهِ – فقال: يا أبا عبد الله! ما كان بينك وبين حذيفة؟ قال: يقول سلمان:? وكان الإنسان عجولاً? [الإسراء: 11] ، فانطلقاً حتى أتيا دار سلمان، فدخل سلمان الدار، فقال: السلام عليكم، ثم أذن لأبي قرة، فدخل، فإذا نمط (3) موضوع على باب وعند رأسه لبنات، وإذا قرطاط (4) فقال: اجلس على فراش مولاتك التي تمهد لنفسها، ثم أنشأ يحدثه فقال: إن حذيفة كان يحدث بأشياء ؛ كان يقولها رسول الله صلى الله عليه وسلم في غضبه لأقوام، فأوتى فأسأل عنها؟ فأقول: حذيفة أعلم بما يقول، وأكره أن تكون ضغائن بين أقوام، فأتي حذيفة، فقيل له: إن سلمان لا يصدقك ولا يكذبك بما تقول! فجائني حذيفة فقال: يا سلمان ابن أم سلمان! فقلت: يا حذيفة ابن أم حذيفة! لتنتهين، أو لأكتبن فيك إلى عمر، فلما خوفته بعمر تركني، وقد قال رسول صلى الله عليه وسلم:" من ولد آدم أنا، فأيما عبدٍ من أمتي لعنته لعنة، أو سببته سبةً، في غير كنهه، فاجعلها عليه صلاة".
عمرو بن ابوقرۃ کندی کہتے ہیں، میرے والد نے سلمان رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی بہن کا رشتہ پیش کیا، تو انہوں نے انکار کیا اور اپنی آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کر لیا جس کا نام بقیرہ تھا۔ ابوقرہ کو یہ بات پہنچی کہ حذیفہ اور سلمان کے مابین کوئی بات (کوئی ناچاقی) ہے، وہ سلمان کو تلاش کرتے ہوئے آئے۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی ترکاریوں کی کیاریوں پر (اپنے کھیت میں) ہیں۔ وہ اسی طرف چلے تو سلمان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ایک ٹوکرا اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا جس میں سبزیاں تھیں اور اپنی لاٹھی ٹوکرے کے کنڈے میں ڈالی ہو ئی تھی، ابوقرہ نے کہا: اے ابوعبدللہ! آپ کے اور حذیفہ کے مابین کیا بات (ناچاقی) ہے؟ بیان کرتے ہیں: سلمان کہتے ہیں: «وَكَانَ الإِنْسَانُ عَجُولاً» ، انسان بڑا جلد باز واقع ہوا ہے، ہم دونوں (ابوقرہ اور سلمان) چلتے رہے یہاں تک کہ سلمان کے گھر پہنچے، سلمان اپنے گھر میں داخل ہوئے اور کہا: السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ پھر ابوبقرہ کو اجازت دی کہ اندر آ جائیں، تو وہ بھی اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دروازے پر چمڑے کا بستر رکھا ہو ا تھا اور اس کے کنارے پر کچھ اینٹیں تھیں اور تھوڑی سی زین کا کپڑا تھا، تو انہوں نے کہا: اپنی لونڈی کے بستر پر بیٹھیں یہ وہ بستر ہے جو وہ اپنے لیے بچھاتی ہے (یہ صحابہ کرام کی انتہائی سادگی کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ ایک چمڑے کا فراش بچھایا ہوا تھا، اینٹیں رکھی ہوئی تھیں اور اینٹوں پر ایک زین رکھی ہوئی تھی اسے تکیے کی صورت دی ہوئی تھی) وہاں ایک بستر پڑا ہے، سرہانے پر اینٹیں رکھی ہیں، کچھ ترکاری کے ٹکڑے پڑے ہیں، سلمان نے کہا کہ اپنی لونڈی کے بستر پر جو اس نے اپنے لئے بچا رکھا ہے بیٹھو، پھروہ ان کو بتانے لگے کہنے لگے: میرے اور حذیفہ کے درمیان جو ناچاقی کی وجہ بنی وہ یہ تھی کہ حذیفہ کچھ حدیثیں بیان کرتے تھے اور وہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں لوگوں سے کہتے تھے تو لوگ میرے پاس ان باتوں کے متعلق پوچھنے آتے کہ یہ کہنی جائز ہیں کہ نہیں۔ (حذیفہ کہتے تھے کہ یہ حدیثیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیں ہیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں جب کہ سلمان کا خیال تھا کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غصے میں کہا ہے اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے۔) میں کہتا: حذیفہ خوب جانتا ہے جو وہ کہتا ہے اسی کو پتا ہے، اور میں ناپسند کرتا تھا کہ لوگوں کے درمیان عداوتیں بڑھ جائیں۔ کچھ لوگ حذیفہ کے پاس گئے ان سے کہا گیا: سلمان نہ تو تیری تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تیری تکذیب کرتا ہے جو تو کہتا ہے، تو حذیفہ میرے پاس آئے (یعنی حذیفہ کا تقاضایہ تھا کہ سلمان میری تصدیق کرتا)۔ تو کہا: اے سلمان ام سلمان کے بیٹے! (یعنی سخت الفاظ کہے تو سلمان کہتے ہیں کہ مجھے بھی غصہ آ گیا) تو میں نے کہا: اے حذیفہ ام حذیفہ کے بیٹے! تم باز آ جاؤ ورنہ میں تیرے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ دوں گا، جب میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کو دھمکایا اس نے مجھے چھوڑ دیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدم کی اولاد میں سے ہوں، جس بندے کو میں نے ناجائز لعنت کی ہو یا اسے برا بھلا کہا: ہو۔ یا اللہ، اس کو اس پر رحمت بنا دے۔“ پھر باتیں کرنے لگے۔ کہا کہ حذیفہ وہ باتیں بیان کیا کرتے تھے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں پر غصے کی حالت میں فرمائیں تھیں، یہ باتیں میرے پاس لائی گئیں اور مجھ سے سوال کیا گیا تو میں نے کہہ دیا کہ حذیفہ جو بیان کرتے ہیں اسے وہی جانتے ہیں میں اسے ناپسند کرتا تھا کہ لوگوں میں کینہ پھیلے، حذیفہ سے لوگوں نے جا کر کہا کہ سلمان نہ تمہاری تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔ اس کے بعد حذیفہ میرے پاس اے اور کہا: اے سلمان بن ام سلمان! میں نے بھی کہا: اے حذیفہ بن ام حذیفہ! یا تو اس حرکت سے بعض آ جاؤ ورنہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجوں گاجب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ڈرایا تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اولاد آدم میں سے جس کسی شخص پر میں لعنت کروں یا اس کی ناپسندیدگی کے باوجود برا بھلا کہوں تو میں اس پر رحمت کر رہا ہوں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: (حسن)
105. باب الخروج إلى الضيعة
حدیث نمبر: 175
175/236 عن أبي سلمة قال: أتيت أبا سعيد الخدري – وكان لي صديقاً – فقلت: ألا تخرج بنا إلى النخل؟ فخرج، وعليه خميصة (1) له.
ابوسلمہ کہتے ہیں، میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، میں نے (ان سے) کہا: کیا آپ میرے ساتھ باغ کی طرف چلیں گے؟ وہ نکلے اور ان پر ایک کالے رنگ کا اون کا کپڑا تھا۔ اس وقت وہ سیاہ چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 176
176/237 عن علي صلوات الله عليه قال: أمر النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن مسعود أن يصعد شجرة فيأتيه منها بشيء، فنظر أصحابه إلى ساق عبد الله، فضحكوا من حموشة (2) ساقيه! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ما تضحكون؟ لَرجِلُ عبد الله أثقل في الميزان من أحد".
سیدنا علی صلوات اللہ علیہ کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیاکہ درخت پر چڑھ کر اس سے کوئی مسواک وغیرہ لائیں تو آپ کے ساتھیوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پنڈلی کو دیکھا اور ان کی دبلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس بات پر ہنستے ہو؟ عبداللہ کی ٹانگ میزان (حشر) میں احد (پہاڑ) سے بھی زیادہ بھاری ہو گی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)
106. باب المسلم مرآة أخيه
حدیث نمبر: 177
177/238 عن أبي هريرة قال:" المؤمن مرآة أخيه، إذا رأى فيه عيباً أصلحه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہے جب وہ اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے اسے ٹھیک کر دیتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)