صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب من صنع إليه معروف فليكافئه
حدیث نمبر: 158
158/216 عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من استعاذ بالله فأعيذُوهُ (1) ومن سأل بالله فأعطوه، ومن أتى إليكم معروفاً فكافئوه، فإن لم تجدوا، فادعوا له، حتى يعلم أن قد كافأتموه".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی پناہ چاہے، اسے پناہ دو اور جو اللہ کے نام پر مانگے اسے عطا کرو اور جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کا بدلہ دو اگر بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لئے دعا کرو تاکہ وہ جان لے کہ تم نے اس کا بدلہ ادا کر دیا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: (صحيح)
97. باب من لم يجد المكافأة فليدع له
حدیث نمبر: 159
159/217 عن أنس؛ أن المهاجرين قالوا: يا رسول الله! ذهب الأنصار بالأجر كله؟ قال:"لا. ما دعوتم الله له، وأثنيتم عليهم به".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مہاجرین نے عرض کیا، یا رسول اللہ! سارا اجر انصار لے گئے، فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ تم ان کے لئے دعا کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو تم کو بھی اجر ملے گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: (صحيح)
98. باب من لم يشكر للناس
حدیث نمبر: 160
160/218 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لا يشكر الله من لا يشكر الناس".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 161
161/219 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"قال الله تعالى للنفس: اخرجي. قالت: لا أخرج إلا كارهة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نفس سے فرمایا: نکل جا، اس نے کہا: میں نہیں نکلوں گی مگر نا چاہتے ہوئے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: (صحيح)
99. باب معونة الرجل أخاه
حدیث نمبر: 162
162/220 عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قيل: (وفي رواية عنه أنه سألَ رسول الله صلى الله عليه وسلم/226) أي الأعمال خير؟ (وفي الرواية الأخرى: أي العمل أفضل) ؟. قال:" إيمان بالله، وجهاد في سبيله". قيل: (وفي الأخرى: قال:) فأي الرقاب أفضل؟ قال:"أغلاها ثمناً، وأنفسها عند أهلها". قال: أفرأيت إن لم استطع بعض العمل؟ قال:" فتعين ضائعاً، أو تصنع لأخرق" (1) . قال: أفرأيت إن ضعفتُ؟ قال:" تدع الناس من الشر؛ فإنها صدقة تصدق بها على نفسك".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اعمال میں سے کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ اور ایک روایت میں ہے: اعمال میں سے کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کے راستے میں جہاد کرنا“، دوسری روایت میں ہے کہا گیا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ فرمایا: ”جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو اپنے مالکوں کے ہاں زیادہ عمدہ ہو۔“ عرض کیا: آپ فرمائیں اگر میں یہ کام نہ کر سکوں؟ فرمایا: ”کسی ضائع ہونے والے (جو ہنرمند نہ ہو) کی مدد کر دو یا بےہنر کے لیے کوئی چیز بنا دو۔“ عرض کیا: آپ بتائیں اگر میں کمزور پڑ جاؤں۔ فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر دور کر دو، یہ بھی صدقہ ہے جس کے ساتھ تم اپنے نفس پر صدقہ کرو گے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: (صحيح)
100. باب أهل المعروف فى الدنيا أهل المعروف فى الآخرة
حدیث نمبر: 163
163/221 عن قبيضة بن برمة الأسدي قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم، فسمعته يقول:" أهل المعروف في الدنيا، هم أهل المعروف في الآخرة (1) ، وأهل المنكر في الدنيا هم أهل المنكر في الآخرة" (2) .
سیدنا قبیصہ بن برمہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوے سنا: ”جو دنیا میں بھلائی کرنے والے ہیں وہی آخرت میں بھلائی کے سلوک کا حقدار ہوں گے اور جو دنیا میں برائی کرنے والے ہیں وہی آخرت میں برائی کے سلوک کے حقدار ہیں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)
حدیث نمبر: 164
164/223 حدثنا معتمر قال: ذكرتُ لأبي حديث أبي عثمان، عن سلمان؛ أنه قال:" إن أهل المعروف في الدنيا، هم أهل المعروف في الآخرة" فقال: إني سمعتهُ من أبي عثمان يحدثه عن سلمان، فعرفت أن ذاك كذاك، فما حدثت به أحداً قط. (وفي رواية عن أبي عثمان، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله) .
معتمر نے ہم سے حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے ابوعثمان کی حدیث بیان کی وہ سلمان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: دنیا میں بھلائی کرنے والے ہی آخرت میں اچھے سلوک کے حقدار ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے ابوعثمان سے سنا ہے اور وہ سلمان سے روایت کرتے تھے، تو میں نے جان لیا کہ یہ وہی ہے اور میں نے کسی سے یہ حدیث قطعاً بیان نہیں کی اور ایک روایت میں ہے: ابوعثمان سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی فرماتے تھے جیسا معتمر نے بیان کیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: (صحيح موقوفاً، وصحيح لغيره مرفوعا)
101. باب إن كل معروف صدقة
حدیث نمبر: 165
165/224 عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" كل معروف صدقة".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 166
166/225 عن أبي موسى قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" على كل مسلم صدقة". قالوا: فإن لم يجد؟.قال:" فيعتملُ بيديه، فينفع نفسه، ويتصدق". قالوا: فإن لم يستطع، أو لم يفعل؟ قال:" فيعين ذا الحاجة الملهوف". قالوا: فإن لم يفعل؟ قال:" فيأمر بالخير، أو يأمر بالمعروف". قالوا: فإن لم يفعل؟ قال:" فيمسك عن الشر؛ فإنه له صدقة".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اگر کوئی نہ پائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے۔“ لوگوں نے کہا: اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے یا ایسا نہ کر سکے۔ فرمایا: ”وہ شدید ضرورت مند کی مدد کرے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اچھی باتوں کا حکم دیا کرے“، یا (فرمایا) ”پسندیدہ باتوں کا حکم دیا کرے۔“ لوگوں نے عرض کیا: جو یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری باتوں سے رک جائے، یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 167
167/227 عن أبي ذر قال: قيل: يا رسول الله! ذهب أهل الدثور (1) بالأجور، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويتصدقون بفضول أموالهم؟ قال:" أليس قد جعل الله لكم ما تصدقون؟ إن بكل تسبيحة وتحميدة صدقة، وبضع أحدكم صدقة". قيل: في شهوته صدقة؟ قال:" لو وضع في الحرام، أليس كان عليه وزر؟ ذلك إن وضعها في الحلال كان له أجر".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! سرمایہ دار (دولت مند لوگ) سارا اجر لے گئے، وہ نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں اور (مزید یہ کہ) وہ اپنے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ نے تمہیں کچھ نہیں دیا جو تم صدقہ کر سکو؟ بیشک! ہر سبحان اللہ اور ہر الحمدللہ صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی ایک کا وظیفہ زوجیت ادا کرنا صدقہ ہے۔“ عرض کیا گیا: کیا خواہش پوری کرنے میں بھی صدقہ ہے؟ فرمایا: ”اگر وہ حرام کاری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہیں تھا؟ اسی طرح اگر وہ حلال کام کرے گا تو اس کے لیے اجر ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: (صحيح)