🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83.  باب اكسوهم مما تلبسون 
غلاموں کو ویسا ہی لباس پہناؤ جیسا خود پہنتے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
139/188 عن جابر بن عبد الله قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يوصي بالمملوكين خيراً، ويقول:" أطعموهم مما تأكلون، وألبسوهم من لبوسكم، ولا تعذبوا خلق الله عز وجل".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت کرتے تھے، اور فرماتے تھے: ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور اپنے لباس سے ان کو لباس پہناؤ۔ اور اللہ عزوجل کی مخلوق کو سزا نہ دو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84.  باب سباب العبيد 
غلاموں کو گالی دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
140/189 عن المعرور بن سويد قال: رأيت أبا ذر وعليه حلة وعلى غلامه حلة، (وفي رواية: وعليه ثوب وعلى غلامه حلة، فقلنا: لو أخذت هذا، وأعطيت هذا غيره كانت حلة / 194) فسألناه عن ذلك؟ فقال: إني ساببت رجلاً فشكاني إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم:"أعيرته بأمه؟". قلت: نعم. ثم قال:" إن أخوانكم خولكم، جعلهم الله تحت أيديكم، فمن كان أخوه تحت يديه، فليطعمه مما يأكل، وليلبسه مما يلبس، ولا تكلفوهم ما يغلبهم فإن كلفتموهم ما يغلبهم فأعينوهم".
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان پر ایک حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی حلہ تھا (ایک روایت میں ہے: ان پر ایک کپڑا تھا اور ان کے غلام پر حلہ تھا تو ہم نے کہا: اگر آپ یہ لے لیتے اور اس کو کوئی اور چیز دے دیتے یہ آپ کا حلہ بن جاتا)۔ ہم نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: کیا تم نے اس کی ماں کو طعنہ دیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے بھائی تمہارے خادم ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت بنایا ہے۔ جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اسے چاہیے کہ جیسا خود کھائے ویسا اسے کھلائے اور جیسا خود پہنے ویسا اسے پہنا ئے اور ان سے ایسا کام نہ لو جو ان کے بس کا نہیں۔ اگر تم ان کو ایسے کام کی ذمہ داری ڈالو جو ان کے بس کا نہیں تو ان کی مدد بھی کرو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85.  باب هل يعين عبده ؟
کیا اپنے غلام کی مدد کرے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
141/191 عن أبي هريرة؛ أنه قال:" أعينوا العامل من عمله، فإن عامل الله لا يخيب"، يعني: الخادم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: کام کرنے والے کی اس کے کام میں مدد کرو، کیونکہ اللہ کا کام کرنے والا یعنی خادم کبھی نامراد نہیں ہوتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86.  باب لا يكلف العبد من العمل ما لا يطيق
غلام سے اس کی طاقت سے زائد کام نہ لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
142/192 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" للمملوك طَعَامه وكسوته، ولا يكلف من العمل ما لا يُطِيق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے (کا حق) اس کا کھانا اور لباس ہے اور یہ کہ اس پر اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ ڈالا جائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87.  باب نفقة الرجل على عبده وخادمه صدقة 
کسی شخص کا اپنے خادم اور غلام پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
143/195 عن المقدام، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" ما أطعمت نفسك فهو صدقة، وما أطعمت ولدك وزوجتك وخادمك فهو صدقة".
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو اپنے آپ کو کھلاؤ وہ بھی صدقہ ہے، جو اپنے بچوں کو، بیوی کو اور خادم کو کھلاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
144/196 عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"خير الصدقة ما بقي غنى، واليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول..." (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو کفایت کو باقی چھوڑے۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کرنے کا آغاز اس آدمی کے ساتھ کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
145/197 عن أبي هريرة قال: أمر النبي صلى الله عليه وسلم بصدقة، فقال رجل: عندي دينارٌ؟ قال:"أنفقه على نفسك". قال: عندي آخر؟ قال:"أنفقه على زوجتك". قال: عندي آخر؟ قال:"أنفقه على خادمك، ثم أنت أبصر".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو ایک شخص نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے۔ فرمایا: اس کو اپنی ذات پر خرچ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے، فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو، کہا: میرے پاس اس کے علاوہ ایک اور دینار بھی ہے، فرمایا: اس کواپنے خادم پر خرچ کرو اور اس کے بعد تم زیادہ سمجھ رکھتے ہو (کہ کون خرچ کا مستحق ہے)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88.  باب إذا كره أن يأكل مع عبده 
اگر کوئی اپنے غلام کے ساتھ کھانا پسند نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
146/198 عن ابن جريج قال: أخبرني أبو الزبير: أنه سمع [رجلاً] (1) يسأل جابراً عن خادم الرجل، إذا كفاه المشقة والحرّ؛ أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يدعوه؟ قال: نعم."فإن كره أحدكم أن يطعم معه، فليطعمه أكلةً في يده".
ابن جریج سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ اس نے ایک آدمی کو سنا وہ جابر سے آدمی کے خادم کے بارے میں سوال کر رہا تھا، جب وہ اپنے آقا کو کھانے پکانے کی مشقت سے اور اس کی حرارت سے کفایت کرتا ہے تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اسے کھانے پر بلائے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص خادم کے ساتھ کھانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیے کہ اس کے ہاتھ میں لقمہ ہی دے دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89.  باب هل يجلس خادمه معه إذا أكل؟
کیا جب آدمی کھانا کھانے بیٹھے تو اپنے خادم کو اپنے ساتھ بٹھا لے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
147/200 عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" إذا جاء أحدكم خادمه بطعامه فليجلسه، فإن لم يقبل فليناوله منه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لائے تو اسے چاہیے کہ خادم کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے کھانے میں سے کچھ نہ کچھ پکڑا دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
148/201 عن أبي محذورة قال:" كنت جالساً عند عمر رضي الله عنه إذ جاء صفوان بن أمية بجفنة، يحملها نفرٌ في عباءةٍ، فوضعوها بين يدي عمر، فدعا عمر ناساً مساكين وأرقاء من أرقاء الناس حوله، فأكلوا معه، ثم قال: عند ذلك: فعل الله بقوم- أو قال: لحا الله قوماً (1) – يرغبون عن أرقائهم أن يأكلوا معهم فقال صفوان أما والله! ما نرغب عنهم و لكنا نستأثر عليهم، لا نجد – والله! – من الطعام الطيب ما نأكل ونطعمهم".
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جب کہ صفوان بن امیہ ایک پیالہ لایا اسے کچھ لوگ ایک چوغے میں اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ مسکین لوگوں کو بلایا اور لوگوں کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو اپنے ارد گرد بلایا تو انہوں نے آپ کے ساتھ کھایا، پھر انہوں نے اس موقع پر فرمایا: اللہ اس قوم کے ساتھ یہ کرے یا فرمایا: اللہ اس قوم پر لعنت کرے جو اپنے غلاموں سے اس بات سے روگردانی کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کھائیں۔ صفوان نے کہا: خبردار، اللہ کی قسم! ہم ان سے روگردانی نہیں کرتے لیکن ہم اپنے آپ کو ان پر ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم عمدہ کھانے میں سے اتنا نہیں کھاتے کہ خود بھی کھائیں اور ان کو بھی کھلائیں۔ بلکہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم اچھی قسم کا کھاناکھاتے ہی نہیں جو خود کھائیں اور انہیں بھی کھلائیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں