🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51.  باب من أغلق الباب على الجار 
جس نے پڑوسی پر دروازہ بند کر لیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 81
81/111 (حسن لغيره) عن ابن عمر قال: لقد أتى علينا زمانٌ – أو قال: حين- وما أحد أحق بديناره ودرهمه من أخيه المسلم، ثم الآن الدينار والدرهم أحب إلى أحدنا من أخيه المسلم، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" كم من جار متعلقٍ بجاره يوم القيامة، يقول، يا رب! هذا أغلق بابه دوني، فمنع معروفه!".
سیدنا ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا: ایک زمانہ، یا کہا: ایک وقت ہم پر وہ بھی آیا تھا کہ اس وقت ایک شخص اپنے درہم و دینار کا حقدار اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ کسی کو نہ سمجھتا تھا۔ اب وہ وقت آ گیا کہ درہم و دینار ہمارے نزدیک مسلمان بھائی سے زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہت سے ہمسایے قیامت کے دن اپنے ہمسایہ سے لٹکے (چپکے) رہیں گے۔ ہمسایہ کہے گا کہ اے میرے رب! اس شخص نے مجھ پر اپنا دروازہ بند کر رکھا تھا اور اپنا احسان مجھ سے روک لیا تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 81]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52.  باب لا يشبع دون جاره 
ہمسائے کو چھوڑ کر پیٹ بھر کر کھانا (پڑوسی بھوکا) ہو خود جی بھر کر نہ کھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 82
82/112 (صحيح) عن عبد الله بن المساور قال: سمعت ابن عباس يخبر ابن الزبير يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" ليس المؤمن الذي يشبع، وجارُه جائع".
عبداللہ بن مساور سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ سیدنا عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بتاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان وہ نہیں کہ جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 82]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53.  باب يكثر ماء المرق فيقسم فى الجيران 
شوربے میں پانی زیادہ کر لے پھر ہمسایہ میں تقسیم کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 83
83/113 (صحيح) عن أبي ذر قال: أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث:"أسمع وأطيع ولو لعبد مجدّع الأطراف، وإذا صنعتَ مرقة فأكثر ماءها، ثم انظر أهل بيتٍ من جيرانك، فأصبهم منه بمعروف. وصل الصلاة لوقتها؛ فإن وجدت الإمام قد صلى، فقد أحرزت صلاتك، وإلا فهي نافلة". (وفي رواية بلفظ:"يا أبا ذر إذا طبخت مرقة فأكثر ماء المرقةِ، وتعاهد جيرانك، أو اقسم في جيرانك"/114) .
سیدنا ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے: بات سنوں اور اطاعت کروں۔ اگرچہ کان کٹے غلام ہی کی بات ہو (خواہ ایسا غلام حکمران ہو جس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوں۔) جب تم شوربہ پکا ؤ تو شوربہ بڑھا لو تو اپنے ہمسایہ کے گھروں کو دیکھ لو اور اُن کو دے دو (اس شوربے کے ذریعہ سے ان کے ساتھ احسان کرو) اور نماز کو اول وقت پر پڑھ لو اور اس کے بعد اگر دیکھو کہ امام نماز پڑھا چکا ہے، تو تم نے اپنی نماز حاصل کر لی اور اگر ابھی امام نے نماز پڑھانی ہو تو اس کے ساتھ دوبارہ پڑھ لو یہ نفل ہو جائے گی۔ اور ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: اے ابوذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو شوربے کا پانی بڑھا لو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال کرو یا اپنے پڑوسیوں میں تقسیم کرو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 83]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54.  باب خير الجيران 
بہترین ہمسایہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 84
84/115 (صحيح) عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ؛ أنه قال:"خير الأصحاب عند الله تعالى خيرهم لصاحبه، وخير الجيران عند الله [تعالى] خيرهم لجاره".
سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین ساتھی اﷲ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسایہ کے لیے بہتر ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 84]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55.  باب الجار الصالح
نیک ہمسایہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 85
85/116 (صحيح لغيره) عن نافع بن عبد الحارث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من سعادة المرء المسلم: المسكن الواسع، والجار الصالح، والمركب الهنيء".
نافع بن عبدالحارث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کی خوش بختیوں میں سے یہ ہے: وسیع مکان، نیک ہمسایہ اور پسندیدہ سواری۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 85]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56.  باب الجار السوء 
برا ہمسایہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 86
86/117 (حسن) عن أبي هريرة قال: كان من دعاء النبي صلى الله عليه وسلم:" اللهم! إني أعوذ بك من جار السوء في دار المقام (1) فإن جار الدنيا يتحوّل".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامِ» اے اﷲ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں رہائش میں برُے ہمسایہ سے۔ کیونکہ دنیا کا پڑوسی نقل مکانی کر جاتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 86]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
87/118 (حسن) عن أبي موسى: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا تقوم الساعة حتى يقتل الرجل جاره وأخاه وأباه".
ابوموسیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ آدمی اپنے ہمسائے، اپنے بھائی اور اپنے باپ کو قتل نہ کرے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 87]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57.  باب لا يؤذي جاره 
ہمسائے کو دکھ نہیں دینا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
88/119 (صحيح) عن أبي هريرة قال: قيل للنبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! إن فلانة تقوم الليل وتصوم النهار، وتفعلُ، وتصدقُ، وتؤذي جيرانها بلسانها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا خير فيها، هي من أهل النار". قالوا: وفلانة تصلي المكتوبة، وتصدق بأثوار (1) ، ولا تؤذي أحداً؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"هي من أهل الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اﷲ! فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے، دن کو روزے رکھتی ہے، نیک عمل کرتی ہے، صدقہ دیتی ہے، اور اپنے ہمسایوں کو اپنی زبان سے دکھ پہنچاتی ہے۔ اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، وہ جہنم والیوں میں سے ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: فلاں عورت فرض نمازیں پڑھتی ہے، پنیر کے کچھ ٹکڑے ہی صدقہ کرتی ہے اور کسی کو دکھ نہیں پہنچاتی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت والیوں میں سے ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 88]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
89/121 (صحيح) عن أبي هريرة ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 89]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58.  باب لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة
کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو تحفہ دینا حقیر نہ جانے خواہ ایک پایہ ہی دینا پڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 90
90/122 (صحيح بما بعده) عن عمرو بن معاذ الأشهلي، عن جدته ؛ أنها قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:"يا نساء المؤمنات! لا تحقرن امرأة منكن لجارتها، ولو كراع شاة محرق".
عمرو بن معاذ اشہلی اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو تحفہ دینا حقیر نہ سمجھے۔ اگر چہ بکری کا جلا ہوا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 90]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں