🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58.  باب لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة
کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو تحفہ دینا حقیر نہ جانے خواہ ایک پایہ ہی دینا پڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
91/123 (صحيح) عن أبي هريرة: قال النبي صلى الله عليه وسلم:"يا نساء المسلمات! يا نساء المسلمات!لا تحقرن جارة لجارتها، ولو فرسن شاةٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمان عورتو! اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو تحفہ دینا حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 91]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59.  باب شكاية الجار 
ہمسائے کی شکایت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 92
92/124 (حسن صحيح) عن أبي هريرة قال: قال رجل يا رسول الله! إن لي جاراً يؤذيني، فقال:"انطلق. فأخرج متاعك إلى الطريق". فانطلق فأخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا: ما شأنك؟ قال: لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم فقال:" انطلق. فاخرج متاعك إلى الطريق" فجعلوا يقولون: اللهم! العنه، اللهمّ! أخزه، فبلغه، فأتاه فقال: ارجع إلى منزلك، فوالله! لا أوذيك.
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرا ایک ہمسایہ ہے جو مجھے دکھ پہنچاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اپنا سامان گھر سے نکال کر راستے پر رکھ دو۔ وہ گیا اور اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں رکھ دیا۔ لوگ اس پر جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے: آپ کو کیا ہوا۔ اس نے کہا: میرا ہمسایہ مجھے دکھ پہنچاتا ہے۔ جب میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دو۔ تو سب لوگ کہنے لگے: اے اللہ! اس پر لعنت کر، اے اللہ اس کو ذلیل کر۔ جب یہ بات ہمسایہ تک پہنچی وہ اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: اپنے گھر واپس چلے جاؤ۔ اللہ کی قسم اب میں کبھی تمہیں دکھ نہ پہنچاؤں گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 92]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
93/125 (حسن صحيح) عن أبي جحيفة قال: شكا رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم جاره، فقال:" احمل متاعك، فضعه على الطريق، فمن مر به يلعنُه". فجعل كل من مرّ به يلعنه، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما لقيت من الناس؟ فقال:" إن لعنة الله فوق لعنتهم". ثم قال للذي شكا:"كُفيت" أو نحوه.
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پڑوسی کی شکایت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سامان اٹھا لواور اسے راستے پر ڈال دو، جو وہاں سے گزرے گا اس پر لعنت کرے گا۔ تو جو بھی وہاں سے گزرتا تھا وہ اس پر لعنت کرتا تھا۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: لوگوں کی طرف سے مجھے کس سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ان کی لعنت سے بھی بڑی ہے۔ (جب تم بندوں کی لعنت کو برداشت نہیں کر رہے ہو تو جو پڑوسی پڑوسی کو تکلیف دے اس پر اللہ کی لعنت ہے)، پھر آپ نے اس آدمی سے کہا: جس نے شکایت کی تھی، تجھے کفایت کرتی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 93]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60.  باب من آذى جاره حتى يخرج 
جو آدمی اپنے پڑوسی کو تکلیف دے یہاں تک کہ وہ وہاں سے نقل مکانی کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
94/127 (صحيح الإسناد) – عن أبي عامر الحمصي قال: كان ثوبان يقول:" ما من رجلين يتصارمان فوق ثلاثة أيام، فيهلك أحدهما، فماتا وهما على ذلك من المصارمة، إلا هلكا جميعاً، وما من جارٍ يظلم جاره ويقهره، حتى يحمله ذلك على أن يخرج من منزله، إلا هلك".
ابوعامر حمصی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا ثوبان رضی اﷲ عنہ کہا کرتے تھے: جب کبھی دو آدمی ایک دوسرے سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کیے رکھیں تو ان میں سے ایک برباد ہو جاتا ہے۔ اور اگر دونوں اسی قطع تعلقی میں مر گئے تو دونوں ہی ہلاک ہوئے اور کوئی شخص اپنے ہمسایہ پر ظلم کرتا اور اس پر غالب آتا ہے اتنا کہ اسے اس کا گھر چھوڑنے پر مجبور کر دے تو ایسا شخص ہلاک ہو جاتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 94]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61.  باب جار اليهودي
یہودی ہمسایہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
95/128 (صحيح) – عن مجاهد قال: كنت عند عبد الله بن عمرو – وغلامه يسلخ شاة- فقال: يا غلام! إذا فرغت فابدأ بجارنا اليهودي. فقال رجل من القوم: آليهودي أصلحك الله؟! قال:" إني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يوصي بالجار، حتى خشينا أو رؤينا أنه سيورثه".
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کا غلام بکری کی کھال اتار ہا تھا۔ انہوں نے کہا: اے لڑکے! جب اس کام سے فارغ ہو جانا تو سب سے پہلے گوشت ہمارے ہمسایہ یہودی کو دینا۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ آپ کی اصلاح کرے۔ کیا یہودی کو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمسایہ کے بارے میں اتنی تاکید فرماتے تھے کہ ہم ڈرے یا ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 95]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62.  باب الكرم 
معزز اور فراخ دل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
96/129 (صحيح) – عن أبي هريرة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الناس أكرم؟ قال:"أكرمهم عند الله أتقاهم". قالوا: ليس عن هذا نسألك. قال:"فأكرم الناس (وفي رواية: إنه الكريم ابن الكريم ابن الكريم/896) : يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله". قالوا: ليس عن هذا نسألك. قال:"فعن معادن العرب (1) تسألوني؟". قالوا: نعم. قال:" فخياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام إذا فقهوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: لوگوں میں سے معززترین کون ہے؟ فرمایا: اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے یہ سوال نہیں کیا۔ فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز (ایک روایت میں ہے: معزز باپ کا بیٹا معزز اس کا بیٹا معزز): یوسف ہیں جو اللہ کے نبی ہیں اور اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں اور وہ اللہ کے خلیل کے بیٹے ہیں (جو خود نبی ہیں، نبی اﷲ کے فرزند ہیں، اور خلیل اﷲ کے پڑپوتے ہیں) (یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم)۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے، فرمایا: تو کیا تم عرب کے قبائل کے متعلق پوچھ رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: جو تم میں سے جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بہتر ہیں، بشرطیکہ دین میں سوجھ بوجھ بھی حاصل کر لیں۔ (مطلب یہ ہے کہ انسان طبعی طور پر فراخ دل اور معزز ہے اگر وہ جاہلیت میں ایسا ہے تو اسلام میں تو اور بھی اچھا ہو گا۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 96]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63.  باب الإحسان إلى البر والفاجر
نیک اور بد دونوں کے ساتھ احسان کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
97/130 (حسن الإسناد) – عن محمد بن علي – ابن الحنفية -:? هل جزاء الإحسان إلا الإحسن? [الرحمن: 60] قال:" هي مسجلة للبر والفاجر". قال أبو عبد الله: قال أبو عبيد: مسجلة مرسلة.
محمد بن علی بن حنفیہ سے اس آیت کی تشریح میں مروی ہے ‏: ‏ ‏ «‏هَلْ جَزَاءُ الإِحْسَانِ إِلاَّ الإِحْسَانُ» ‏ ‏، کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے؟ یہ آیت نیک اور فاجر سب کے لیے لکھی جا چکی ہے ابوعبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوعبید کا قول ہے: «مسجلة» یعنی یہ آیت بھیجی گئی ہے (نازل کی گئی) ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 97]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64.  باب فضل من يعول يتيما 
یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
98/131 (صحيح) – عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم:"الساعي على الأرملة والمساكين، كالمجاهد في سبيل الله، وكالذي يصوم النهار ويقوم الليل".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بیوہ اور مساکین کے لیے کما کے لانے والا، اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے یا اس کے برابر ہے جو دن کو روزہ رکھے اور رات کو تہجد پڑھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 98]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65.  باب فضل من يعول يتيما له
جو اپنے یتیم کی پرورش کرتا ہے اس کی کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
99/132 (صحيح) – عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت: جاءتني امرأة معها ابنتان لها، فسألتني فلم تجد عندي إلا تمرة واحدة، فأعطيتها، فقسمتها بين ابنتيها، ثم قامت، فخرجت، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته، فقال:" من يلي من هذه البنات شيئاً، فأحسن إليهن، كن له ستراً من النار".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت میرے پاس آئی، اس کے ساتھ دو لڑکیاں تھیں اس نے مجھ سے کچھ مانگا، میرے پاس اس وقت ایک کھجور کے سوا کچھ نہ مل سکا۔ تو میں نے اسے کھجور دے دی۔ اس نے دو ٹکڑے کر کے اپنی بچیوں کو دے دی۔ اس کے بعد اٹھی اور چلی گئی۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصّہ بیان کیا۔ فرمایا جو بھی ان بیٹیوں میں سے کسی کا ذمہ دار ہو گا تو وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے وہ ان کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 99]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66.  باب فضل من يعول يتيما من أبويه 
ایسے یتیم کی کفالت کرنے کی فضیلت جس کے ماں باپ دونوں نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
100/133 (صحيح) – عن أم سعيد بنت مرة الفِهري، عن أبيها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" أنا وكافل اليتيم في الجنة كهاتين، أو كهذه من هذه شك سفيان في الوسطى أو التي يلي الإبهام
امّ سعید بنت مرۃ فھری اپنے والد سے اور ان کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس طرح، یا یوں ہوں گے۔ سفیان کو شک ہے «كهكَهَاتَيْنِ» یا «كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ‏ .» ‏کے الفاظ بولے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اس سے اشارہ فرمایا)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 100]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں