🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66.  باب فضل من يعول يتيما من أبويه 
ایسے یتیم کی کفالت کرنے کی فضیلت جس کے ماں باپ دونوں نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
101/135– عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"أنا وكافل اليتيم في الجنة هكذا" وقال بإصبعيه السبابة والوسطى.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
102/136 عن أبي بكر بن حفص (أن عبد الله كان لا يأكل طعاما إلا وعلى خوانه يتيم)
ابوبکر بن حفص روایت کرتے ہیں کہ عبداﷲ اپنے دسترخوان پر کسی یتیم کو ساتھ لئے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67.  باب كن لليتيم كالأب الرحيم 
یتیم کے لیے رحمدل باپ کی طرح کردار پیش کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
103/138 عن عبد الرحمن بن أبزى قال: قال داود:"كن لليتيم كالأب الرحيم، واعلم أنك كما تزرع كذلك تحصد، ما أقبح الفقر بعد الغنى وأكثر من ذلك أو أقبح من ذلك الضلالة بعد الهدى، وإذا وعدت صاحبك فأنجز له ما وعدته؛ فإن لا تفعل يورث بينك وبينه عداوة، وتعوذ بالله من صاحب إن ذكرت لم يُعِنْكَ، وإن نسيتَ لم يُذكرك".
عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہتے ہیں، داود کہتے ہیں، یتیم کے لیے ایسے ہو جاؤ جیسے مشفق باپ اور یہ بھی جان لو جیسا بیج ڈالو گے ویسی فصل کاٹو گے، دولت مند ہونے کے بعد محتاج ہونا کتنا برا ہے اور اس سے بھی برا یہ ہے یا اس سے بھی زیادہ سنگین یہ ہے کہ ہدایت ملنے کے بعد انسان گمراہ ہو جائے جب تم اپنے ساتھی سے وعدہ کرو تو جو وعدہ کرو پورا کرو اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے اور اس کے درمیان عداوت ڈال دی جائے گی اور ایسے ساتھی سے اللہ کی پناہ مانگو کہ اگر تمہیں یاد ہو تو وہ تیری مدد نہ کرے اور اگر تم بھول چکے ہو تو تمہیں یاد نہ کرائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
104/140 عن أسماء بن عبيد قال: قلت لابن سيرين: عندي يتيم؟ قال:"اصنع به ما تصنع بولدك ؛ اضربه ما تضرب ولدك".
اسماء بن عبید سے مروی ہے میں نے ابن سیرین سے کہا: میرے پاس ایک یتیم ہے۔ انہوں نے کہا: اس کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو اپنے حقیقی بیٹے سے کرتے ہو اور اس کو (ادب سکھانے کے لیے) اس چیز پر مارو جس پر اپنے بیٹے کو مارتے ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68.  باب أدب اليتيم 
یتیم کو ادب سکھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
105/142 عن شميسة العتكية قالت: ذُكر أدب اليتيم عند عائشة رضي الله عنها، فقالت:" إني لأضرب اليتيم حتى ينبسط".
شمیسہ عتکیہ کہتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے سامنے یتیم کو ادب سکھانے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں یتیم کو اتنا مارتی ہوں یہاں کہ وہ زمین پر لیٹ جاتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69.  باب فضل من مات له الولد 
جس کا بچہ فوت ہو گیا اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
106/143 عن أبي هريرة ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"لا يموت لأحدٍ من المسلمين ثلاثة من الولد، فتمسه النار، إلا تَحِلّة القسم" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی مگر قسم کو پورا کرنے لیے۔ (جو اس آیت میں ہے: «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا»[صحيح الادب المفرد/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
107/144 عن أبي هريرة، أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم بصبيّ فقالت: ادع [الله/147] له، فقد دفنت ثلاثة، فقال:"احتظرتِ بحظارِ شديد من النار" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ کو لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اس کے (زندہ رہنے کے) لیے دعا فرمائیں، میں تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم سے بچنے کے لیے بہت طاقتور باڑ بنا لی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
108/145 عن خالد العبسي قال: مات ابن لي، فوجدت عليه وجداً شديداً. فقلت: يا أبا هريرة‍‍‍! ما سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم شيئاً تسخي به أنفسنا عن موتانا؟ قال: سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم يقول:"صغاركم دَعاميصُ (3) الجنة".
خالد عبسی کہتے ہیں، میرا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، تو میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے دلوں کو اپنے مردوں کے غم سے تسلی دے سکیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے چھوٹے بچے جنت کے «دعاميص» ہیں۔ دعامیص کی وضاحت: ابن کثیر کہتے ہیں: «دعاميص» اصل میں «دعموص» کی جمع ہے۔ یہ ایک کیڑے پر بولا جاتا ہے جو کہ ایک ٹھہرے ہوئے پانی میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح «‏‏‏‏دعموص» کسی بھی جگہ گھس جانے والے کو بھی کہتے ہیں یعنی یہ بچے جنت میں بلا روک ٹوک گھومتے پھریں گے، گھروں میں داخل ہوں گے اور ان پر کہیں جانا منع نہیں ہو گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
109/146 عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"من مات له ثلاثة من الولد، فاحتسبهم دخل الجنة". قلنا: يا رسول الله! واثنان؟ قال:"واثنان" قلت لجابر: واللهِ! أرى لو قلتم واحدٌ لقال. قال: وأنا أظنه، والله!.
سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کر کے ثواب کی امید رکھے وہ جنت میں جائے گا۔ ہم نے کہا: یا رسول اﷲ! اور دو بچے (اگر فوت ہو جائیں)؟ فرمایا: اور دو بچے ّ بھی۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال ہے اگر آپ لوگ ایک بچہ کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بچہ بھی فرما دیتے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
110/148 عن أبي هريرة: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إنا لا نقدر عليك في مجلسك، فواعدنا يوماً نأتِك فيه، فقال" موعدكن بيت فلان". فجاءهن لذلك الوعد، وكان فيما حدثهن:" ما منكن امرأة يموت لها ثلاثة من الولد، فتحتسبهم، إلا دخلت الجنة"، فقالت امرأة: أو اثنان؟ قال:" أو اثنان". كان سهيل (4) يتشدد في الحديث ويحفظ، ولم يكن أحد يقدر أن يكتب عنده.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم آپ کی مجلس میں حاضر نہیں ہو سکتے، تو آپ ہمارے لیے الگ دن مقرر فرما دیں تاکہ اس دن ہم آپ کے پاس آ جائیں۔ فرمایا: تمہارا مقرر وقت فلاں کے گھر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کے ہاں گئے اور آپ نے کچھ ہدایت فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی: تم میں سے جس کے تین بچے مر جائیں اور وہ صبر کرے تو جنت میں جائے گی۔ ایک عورت نے کہا: اور دو بچے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور دو بچے بھی۔ اس روایت میں سہیل ہیں جو حدیث میں سختی کرتے تھے اور یاد کرتے تھے، اور کوئی ان کے سامنے لکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں