🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب كتابة العلم:
باب: (دینی) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ:" هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قُلْتُ، فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوجحیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 111]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہاں ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور وہ فہم ہے جو ایک مسلمان مرد کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدی کو چھڑانے کا بیان اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ، حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ، وَقَالَ:" ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَدْلٌ فِدَاءٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ہے اور کوئی چیز (شرعی احکام سے متعلق) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی (دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1870]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے سوا کچھ بھی نہیں، یا پھر یہ صحیفہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے (اس میں ہے کہ): مدینہ عائر پہاڑ سے فلاں جگہ تک قابل احترام ہے، لہذا جو شخص اس میں کوئی نئی بات (بدعت یا دست درازی) کرے گا یا بدعتی کو جگہ دے گا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس کی نہ کوئی نفل عبادت قبول ہوگی اور نہ کوئی فرض عبادت۔ نیز فرمایا: مسلمانوں میں پاس عہد کی ذمہ داری مشترکہ ہے، اب جو کوئی مسلمان کے عہد کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی نفل قبول ہوگا نہ فرض، اور جو شخص اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ موالات کرے گا اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، اس کی نہ نفل عبادت قبول ہوگی اور نہ فرض عبادت۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: «عَدْلٌ» کے معنی فدیہ کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3047
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وأن لا يقتل مسلم بكافر.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے مطرف نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ‘ آپ حضرات (اہل بیت) کے پاس کتاب اللہ کے سوا اور بھی کوئی وحی ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو (زمین) چیر کر (نکالا) اور جس نے روح کو پیدا کیا ‘ مجھے تو کوئی ایسی وحی معلوم نہیں (جو قرآن میں نہ ہو) البتہ سمجھ ایک دوسری چیز ہے ‘ جو اللہ کسی بندے کو قرآن میں عطا فرمائے (قرآن سے طرح طرح کے مطالب نکالے) یا جو اس ورق میں ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس ورق میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ دیت کے احکام اور قیدی کا چھڑانا اور مسلمان کا کافر کے بدلے میں نہ مارا جانا (یہ مسائل اس ورق میں لکھے ہوئے ہیں اور بس)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 3047]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کتاب اللہ کے علاوہ بھی وحی کا کچھ حصہ تمہارے پاس موجود ہے؟ انہوں نے فرمایا: «لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ» نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! مجھے تو کسی ایسی وحی کا علم نہیں، البتہ فہم و فراست ایک دوسری چیز ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن فہمی کے لیے عطا کرتا ہے یا جو اس دستاویز میں ہے۔ میں نے عرض کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل، قیدی کو رہائی دلانے کی فضیلت اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، انہیں ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں (دین میں) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 3179]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن لکھا اور جو کچھ اس صحیفے میں درج ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ جبل عائر سے فلاں پہاڑی تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کسی بدعت کو رواج دیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی پھٹکار ہے۔ اس کی نہ تو کوئی فرض اور نہ نفل عبادت قبول ہوگی۔ تمام مسلمان کسی کو پناہ دینے میں برابر ہیں، اس کے لیے کوئی کم تر آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے، لہذا جس شخص نے بھی کسی مسلمان سے بد عہدی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور جس نے اپنے آقاؤں کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا آقا ظاہر کیا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کی بھی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4172
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 , قَالَ: الْحُدَيْبِيَةُ , قَالَ أَصْحَابُهُ: هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَمَا لَنَا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 , قَالَ شُعْبَةُ: فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ , ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ , فَقَالَ: أَمَّا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ سورة الفتح آية 1, فَعَنْ أَنَسٍ , وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَعَنْ عِكْرِمَةَ".
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (آیت) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے (کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات‏» اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك‏» بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4172]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: فتح مبین سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: (اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) آپ کے لیے یہ مبارک ہے۔ ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5] اللہ تعالیٰ اہل ایمان ایسے مردوں اور خواتین کو باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے کوفہ میں آ کر حضرت قتادہ رحمہ اللہ کے حوالے سے اس پوری حدیث کو بیان کیا۔ پھر جب میں واپس آیا تو ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ «إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ» کا حصہ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور «هَنِيئًا مَّرِيئًا» کے الفاظ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل کردہ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6755
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6755]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ اور کوئی نوشتہ نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں۔ ہاں یہ ایک صحیفہ نکالا تو اس میں زخمیوں کے قصاص اور اونٹوں کی زکاۃ کے مسائل تھے۔ اس میں یہ بھی تھا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرم ہے۔ اس میں جس نے کسی بدعت کو ایجاد کیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں کیا جائے گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے موالات قائم کر لی، اس پر اللہ کی لعنت، نیز فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کا عہد ذمہ ایک ہی ہے۔ ادنیٰ مسلمان بھی اس کی تکمیل میں کوشش کرے۔ جس نے مسلمانوں کے عہد کو پامال کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل فرض یا نفل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6903
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ وَقَالَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟، فَقَالَ" وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6903]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ» قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ پھاڑا اور انسان کو پیدا کیا! ہمارے پاس قرآن مجید کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، ہاں ہمیں بصیرت ملی ہے جو قرآن فہمی کے لیے ہوتی ہے، نیز ہمارے پاس وہ کچھ ہے جو اس صحیفے میں ہے، میں نے کہا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: «الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ» دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے مسائل ہیں، نیز اس میں ہے کہ «لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ» مسلمان کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6915
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيٍّ. ح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟، قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے، کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں (یعنی مشہور مصحف میں) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6915]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو یا جو عام لوگوں کے پاس نہ ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے غلہ اگایا اور مخلوقات کو پیدا کیا! ہمارے پاس وہی ہے جو اس قرآن میں ہے۔ ہاں، وہ فہم و فراست ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کو قرآن کے متعلق عطا کرتا ہے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے کہا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام ہیں اور یہ (بھی ہے) کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7300
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا فَإِذَا فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَإِذَا فِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَإِذَا فِيهِ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَإِذَا فِيهَا مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں اینٹ کے بنے ہوئے منبر کر کھڑا ہو کر خطبہ دیا۔ آپ تلوار لیے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: واللہ! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوا اس صحیفہ کے۔ پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا۔ (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دئیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے۔ پس اس میں جو کوئی نئی بات (بدعت) نکالے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس سے کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو سکتا ہے پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت اور اس میں یہ بھی تھا کہ جس نے کسی سے اپنی والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7300]
یزید بن شریک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اینٹوں سے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا۔ ان کے پاس ایک تلوار تھی جس کے ساتھ صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کتاب اللہ کے علاوہ اور کوئی تحریر نہیں جسے پڑھا جا سکے مگر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت کے طور پر دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا اندراج تھا۔ اور اس میں یہ بھی تھا: مدینہ طیبہ عیر پہاڑی سے لے کر فلاں پہاڑی تک حرم ہے۔ جس انسان نے اس میں کسی بدعت کو ایجاد کیا، اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ اس میں یہ بھی تھا: مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہے، اسے ادنیٰ شخص بھی پورا کرنے کی کوشش کرے۔ جس کسی نے کسی مسلمان کا عہد توڑا، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اس میں یہ بھی تھا: جس نے اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے موالات کا تعلق قائم کیا، اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7300]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں