صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب كلام الإمام والناس فى خطبة العيد، وإذا سئل الإمام عن شيء وهو يخطب:
باب: عید کے خطبہ میں امام کا اور لوگوں کا باتیں کرنا۔
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی، اس کی قربانی درست ہوئی۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت (کھانے کا) ہوا (قربانی نہیں) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے۔ کیا میری (طرف سے اس کی) قربانی درست ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 983]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عید الاضحیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے بعد خطبہ دیا، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے جیسی نماز پڑھی اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے ہمارے طریقہ قربانی کو حاصل کر لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو یہ ایک گوشت کی بکری ہے۔“ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر دی ہے اور میں نے سوچا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے اس لیے میں نے جلدی کی، خود کھایا، نیز اہل خانہ اور ہمسایوں کو کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہے (قربانی نہیں)۔“ میں نے عرض کیا: میرے پاس ایک ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے، کیا وہ مجھے قربانی سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن تیرے بعد کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں زبید بن حارث نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلا کام جو ہم آج کے دن (عید الاضحیٰ) میں کرتے ہیں، یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہمارے طریق پر چلا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 951]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”سب سے پہلی چیز جس سے ہم آج کے دن کا آغاز کریں وہ ہمارا نماز پڑھنا ہے، پھر گھر واپس جا کر قربانی کرنا ہے، جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 954
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز سے پہلے قربانی کر دے اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔ اس پر ایک شخص (ابوبردہ) نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی تنگی کا حال بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچا سمجھا اس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پیاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے اجازت دے دی کہ وہی قربانی کرے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 954]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کو ذبح کر لیا وہ دوبارہ قربانی کرے۔“ ایک شخص کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا کہ آج کے دن گوشت کی بہت خواہش ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی باتوں پر مہر تصدیق ثبت فرمائی۔ اس نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ راوی کہتا ہے کہ اب مجھے پتا نہیں کہ یہ اجازت اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی ہے یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا نُسُكَ لَهُ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلَاةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلَاةَ، قَالَ: شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْنِ أَفَتَجْزِي عَنِّي، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔ براء کے ماموں ابو بردہ بن نیار یہ سن کر بولے کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو بہت اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے بھی عزیز ہے، کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں لیکن تمہارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 955]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن نماز کے بعد ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے جیسی قربانی کرے تو اس کا فریضہ پورا ہو گیا اور جس نے نماز سے قبل قربانی کی تو وہ نماز سے پہلے ہونے کی بنا پر قربانی نہیں ہے۔“ اس پر حضرت براء رضی اللہ عنہما کے ماموں ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری نماز سے پہلے ہی ذبح کر دی ہے کیونکہ میرے علم میں تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میری خواہش تھی کہ سب سے پہلے میرے ہی گھر میں بکری ذبح کی جائے، اس بنا پر میں نے اپنی بکری ذبح کر دی اور نماز کے لیے آنے سے قبل کچھ ناشتہ بھی کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بکری تو صرف گوشت کی بکری ٹھہری (قربانی نہیں ہے)۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس بھیڑ کا ایک سالہ بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے کیا وہ میرے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو کافی نہ ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسْكِ فِي شَيْءٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ مَكَانَهُ، وَلَنْ تُوفِيَ أَوْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن پہلے نماز پڑھیں گے پھر خطبہ کے بعد واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کا ذبیحہ گوشت کا جانور ہے جسے وہ گھر والوں کے لیے لایا ہے، قربانی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ ایک انصاری رضی اللہ عنہ جن کا نام ابوبردہ بن نیار تھا بولے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو (نماز سے پہلے ہی) قربانی کر دی لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوندی ہوئی بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اچھا اسی کو بکری کے بدلہ میں قربانی کر لو اور تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 965]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلی چیز جس سے ہم آج کے دن کا آغاز کریں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر گھروں کو واپس ہوں اور قربانی کریں، جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کی تو وہ صرف گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا، قربانی نہیں ہے۔“ انصار کے ایک آدمی نے کہا جسے ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہما کہا جاتا تھا: اللہ کے رسول! میں تو قربانی کا جانور ذبح کر چکا ہوں، اب میرے پاس ایک سالہ بکری کا ایک بچہ ہے جو دو دانتے سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کی جگہ ذبح کر دو مگر تمہارے بعد کسی دوسرے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر (خطبہ کے بعد) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لو یا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 968]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”سب سے پہلے ہم جس کام سے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ نماز پڑھنا ہے، پھر واپس جا کر قربانی کرنا۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے، قربانی نہیں ہے۔“ میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی قربانی کو قبل از نماز ذبح کر دیا ہے اور میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دو دانتے سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پہلے کی جگہ پر کر دے، یا فرمایا، اس کی جگہ ذبح کر دے، لیکن تیرے بعد کسی دوسرے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر (نماز اور خطبے سے) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 976]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن نکلے اور دو رکعت نمازِ عید ادا کی، پھر ہماری طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”ہماری اس دن سب سے پہلی عبادت یہ ہونی چاہیے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر واپس ہوں اور قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کام کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے، قربانی نہیں ہے۔“ اس دوران میں ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو (نماز سے پہلے قربانی) ذبح کر دی ہے اور اب میرے پاس ایک سالہ بھیڑ کا بچہ ہے جو دو دانتے سے کہیں بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی کو ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِيرَانٌ لِي إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 984]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں حکم دیا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کی وہ دوبارہ کرے۔“ انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پڑوسی ہیں جو محتاج ہیں، یا کہا: فقیر ہیں، لہٰذا میں نے ان کی وجہ سے قبل از نماز اپنی قربانی کو ذبح کر دیا اور میرے پاس یک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے گوشت کی دو بکریوں سے محبوب تر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہی ذبح کرنے کی اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 985]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحیٰ کے دن نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور دورانِ خطبہ فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کیا تو اسے دوسرا جانور ذبح کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہیں کیا اسے چاہیے کہ اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بکریاں ان کے حوالہ کی تھیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان کو تقسیم کر دیں۔ ایک بکری کا بچہ باقی رہ گیا۔ جب اس کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تو قربانی کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 2300]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیں۔ تقسیم کے بعد بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کی تم قربانی کر لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دی تھیں کہ قربانی کے لیے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیں۔ پھر ایک سال کا بکری کا بچہ بچ گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا تو اس کی قربانی کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 2500]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیں، تقسیم کرتے کرتے صرف بکری کا ایک سالہ بچہ باقی رہ گیا جس کا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”صرف تمہیں اس کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5500
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَةً ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب بن سفیان بجلی نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5500]
حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کر ڈالی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت کے بعد واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو اسے اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرنی ہوگی اور جس نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہیں کی اسے چاہیے کہ وہ نماز کے بعد اللہ کے نام پر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ"، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً، فَقَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، قَالَ مُطَرِّفٌ:، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5545]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا کام جس سے ہم عید الاضحیٰ کے دن کی ابتدا کریں گے وہ نماز ہے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہمارے طریقے کے مطابق عمل کیا، لیکن جو شخص اس سے پہلے قربانی کرے گا اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے پہلے تیار کر لیا ہے، یہ کسی صورت میں قربانی نہیں ہو گی۔“ یہ سن کر حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی، کہنے لگے: ”اب تو میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو بھی پا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5545]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5546
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5546]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی، اس نے صرف اپنی ذات کے لیے اسے ذبح کیا۔ اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی، اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5547
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ:" قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، قَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5547]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں قربانیاں تقسیم کیں تو ایک یکسالہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا۔ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میرے حصے میں تو یکسالہ آیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی کی قربانی کرلو۔“” [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5547]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5549
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيُعِدْ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ جِيرَانَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ قَالَ: فَتَجَزَّعُوهَا".
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور (کہا کہ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے (ذبح کیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5549]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کی وہ دوبارہ قربانی کرے۔“ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! اس دن گوشت کی خواہش کی جاتی ہے“ اور اس نے اپنے ہمسایوں کی غربت کا ذکر کیا: ”اب تو میرے پاس یکسالہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رخصت دی کہ وہی ذبح کر دے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں؟ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مائل ہوئے اور انہیں ذبح کیا اور لوگ بھی بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں تقسیم کر کے ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5555
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ أَنْتَ بِهِ"
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5555]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بطور قربانی تقسیم کر دیں۔ انہوں نے تقسیم کیں تو یکسالہ بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کو تم ذبح کر لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5556
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ: أَبُو بُرْدَةَ، قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ، قَالَ: اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ"، تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَتَابَعَهُ، وَكِيعٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَقَالَ عَاصِمٌ، وَدَاوُدُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ، وَقَالَ زُبَيْدٌ، وَفِرَاسٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ: عِنْدِي جَذَعَةٌ، وَقَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنَاقٌ جَذَعَةٌ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مطرف نے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد (اس کی قربانی) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے (بیان کیا) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔“ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم کی پٹھیا۔“ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5556]
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے ماموں ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک یکسالہ گھریلو بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں ہوگا۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے (اپنی قربانی کو) ذبح کیا، اس نے صرف اپنی ذات کے لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نمازِ عید کے بعد قربانی ذبح کی، اس کی قربانی پوری ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔“ عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم سے روایت کرنے میں خالد بن عبداللہ کی متابعت کی ہے۔ اس کی وکیع نے بھی متابعت کی ہے، وہ حریث سے، وہ شعبی سے بیان کرتے ہیں۔ عاصم اور داؤد نے شعبی سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”میرے پاس بکری یا بھیڑ کا دودھ پیتا یکسالہ بچہ ہے۔“ زبید اور فراس نے شعبی سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میرے پاس یکسالہ بچہ ہے۔“ ابوالاحوص نے کہا کہ ہمیں منصور نے بتایا: ”میرے پاس یکسالہ جوان بچہ ہے۔“ ابن عون نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”میرے پاس دودھ پیتا یکسالہ بچہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْدِلْهَا، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: عَنَاقٌ جَذَعَةٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوجحیفہ نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک (اس روایت میں یہ لفظ ہیں) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5557]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اس کے بدلے کوئی دوسری قربانی ذبح کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس صرف ایک یکسالہ بچہ ہے میرے خیال کے مطابق وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کی جگہ اسی کو ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہوگا۔“ حاتم بن وردان نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”میرے پاس ایک یکسالہ جوان بچہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5560
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے زبید نے خبر دی، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے (عید کی نماز سے پہلے) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5560]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ہم آج کے دن کی ابتدا نماز سے کریں گے، پھر واپس آ کر قربانی کرنے کا فریضہ سر انجام دیں گے۔ جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہمارے طریقے کو پالے گا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے، وہ قربانی کسی درجے میں بھی نہیں۔“ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے، البتہ میرے پاس ابھی یکسالہ بکری کا بچہ ہے اور وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے بدلے میں اسی یکسالہ بچے کی قربانی کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5561
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَذَرَهُ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا ہو (انہوں نے یہ بھی کہا کہ) میرے پاس ایک سال کا ایک بچہ ہے اور بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5561]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عید سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔“ ایک آدمی نے عرض کی: ”اس دن لوگوں کو گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے“، پھر اس نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معذور خیال کیا۔ اس نے مزید کہا کہ: ”میرے پاس بکری کا یکسالہ بچہ ہے جو دو بکریوں سے بھی اچھا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے علم نہیں کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے تھی یا نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے یعنی ان کو ذبح کیا۔ اس کے بعد لوگ اپنی بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5562
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن قیس نے بیان کیا، کہا میں نے جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5562]
حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بڑی عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح کی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے اور جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح نہیں کی وہ اب نماز کے بعد ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5563
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ"، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلْتُ، فَقَالَ:" هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ آذْبَحُهَا، قَالَ:" نَعَمْ، ثُمَّ لَا تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، قَالَ عَامِرٌ: هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے فراس نے، ان سے عامر نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5563]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کی طرف متوجہ ہوا وہ قربانی نہ کرے حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں تو قربانی کر بیٹھا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام تو نے قبل از وقت کر لیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اب میرے پاس بکری کا یکسالہ بچہ ہے جو وہ دو دانتہ دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اسے ذبح کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ اجازت کسی اور کے لیے نہیں ہوگی۔“ (راوئِ حدیث) حضرت عامر رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6673
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ، عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ: لَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ، أَمْ لَا، رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 6673]
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ہاں کچھ مہمان ٹھہرے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ ”ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ مہمان اسے تناول کریں“، چنانچہ انہوں نے (عیدالاضحیٰ کی) نماز سے قبل اپنا جانور ذبح کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پینے والا ایک بکری کا بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ذبح کرنے کی اجازت دے دی۔) راویِ حدیث کہتے ہیں: ”مجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ مذکورہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف ان (حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ) کے لیے تھی۔“ اس روایت کو ایوب نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 6673]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6674
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 6674]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اس وقت موجود تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہیے کہ اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7400
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ" صَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 7400]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر دی، وہ اس کی جگہ اور قربانی کرے اور جس نے ابھی تک قربانی ذبح نہ کی ہو، تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة