🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ"، وَقَالَ عَبَّادٌ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ يَعْنِي الْمِيضَأَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ.
اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ عباد کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 160]
سیدنا اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنے جوتوں اور قدموں پر مسح کیا۔ عباد بن موسیٰ نے (اپنی روایت میں) یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے «كظامة» پر آئے یعنی مقام وضو پر، مگر جناب مسدد نے (اپنی روایت میں) «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں کیا۔ پھر دونوں مشائخ (مسدد اور عباد بن موسیٰ حدیث کے باقی الفاظ بیان کرنے میں) متفق ہیں: آپ نے وضو کیا تو اپنے جوتوں اور قدموں پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 1739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء العامري مجھول الحال كما قال ابن القطان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَذَهَبْتُ أَتَبَاعَدُ، فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ (گھور) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا (اور وضو کیا) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (قریب) بلایا (میں آیا) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس (کھڑا) تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 23]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے کے ایک ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور (وضو کیا، اس وضو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (ان کے شیخ) مسدد نے کہا کہ راوی حدیث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (اس موقع پر) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا حتیٰ کہ میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گیا اور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 23]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 60 (224)، 61 (225)، 62 (226)، المظالم 27 (2471)، صحیح مسلم/الطھارة 22 (273)، سنن الترمذی/الطھارة 9 (13)، سنن النسائی/الطھارة 17 (18)، 24 (26، 27، 28)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 13 (305)، (تحفة الأشراف: 3335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/394)، سنن الدارمی/الطھارة (9/695) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو یہ کام جواز کے بیان کے لئے کیا، یا وہ جگہ ایسی تھی جہاں بیٹھنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ بیٹھنے میں وہاں موجود نجاست سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملوث ہونے کا احتمال تھا، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے میں کوئی بیماری تھی جس کے سبب آپ نے ایسا کیا، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (224) صحيح مسلم (273)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا تو اسے ٹھنڈ لگ گئی، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (وضو کرتے وقت) عماموں (پگڑیوں) اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 146]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک (جہادی) مہم بھیجی تو ان لوگوں کو سردی نے آ لیا، جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کر لیا کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 2082)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وللحديث علة غير قادحه، انظر نصب الرايه (1/ 165)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ، وَذَكَرَ فَوْقَ الْعِمَامَةِ"، قَالَ: عَنْ الْمُعْتَمِرِ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى نَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اپنی پیشانی پر مسح کیا، مغیرہ نے عمامہ (پگڑی) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 150]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) وضو کیا (تو) اپنے سر کے اگلے حصے پر مسح کیا۔ ساتھ ہی یہ کہا: پگڑی پر بھی۔ جناب معتمر کی روایت میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر، اپنے سر کے اگلے حصے اور اپنی پگڑی پر مسح کیا کرتے تھے۔ بکر کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت مغیرہ کے بیٹے سے براہ راست سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن الترمذی/الطہارة 74 (100)، سنن النسائی/الطہارة 87 (107)، (تحفة الأشراف: 11494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/255) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبِهِ وَمَعِي إِدَاوَةٌ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَضَاقَتْ فَادَّرَعَهُمَا ادِّرَاعًا، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنْزَعَهُمَا، فَقَالَ لِي: دَعِ الْخُفَّيْنِ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُ الْقَدَمَيْنِ الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ أَبِي: قَالَ الشَّعْبِيُّ: شَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ، وَشَهِدَ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل (چھوٹا برتن) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے آپ (کے ہاتھ) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے، جس کی آستین تنگ و چست تھی، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: موزوں کو رہنے دو، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ شعبی کہتے ہیں: یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 151]
جناب عروہ اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے، میرے پاس پانی کا برتن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی غرض سے نکلے، پھر ہماری جانب واپس آئے، تو میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر منہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو آستینوں سے نکالنا چاہے جبکہ آپ نے جبہ پہنا ہوا تھا، وہ رومی جبہ تھا اور اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نہ نکل سکے، تو آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے بازو نکالے۔ پھر میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتاروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑو میں نے اپنے پاؤں ان میں ڈالے تو یہ دونوں طاہر تھے۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔ (عیسیٰ بن یونس نے) کہا کہ میرے والد (یونس بن ابی اسحاق) نے کہا کہ شعبی نے کہا: مجھے عروہ نے اپنے باپ (مغیرہ) کے متعلق گواہی دی اور اس کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی۔ (اس توضیح سے مراد حدیث کی توثیق مزید ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث رقم: 149، (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (206) صحيح مسلم (274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ جَرِيرً بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَقَالَ:" مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ؟ قَالُوا: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، قَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ".
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (موزوں پر) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس پر لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 154]
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور کہا: میرے لیے مسح سے کیا چیز مانع ہے؟ جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ مسح کا حکم ﴿سورة المائدة﴾ [سورة المائدة: 6] کے نزول سے پہلے کا ہے، تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اسلام ہی ﴿سورة المائدة﴾ [سورة المائدة: 6] کے نزول کے بعد لایا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف: 3240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطھارة 22 (272)، سنن الترمذی/الطھارة 70 (94)، سنن النسائی/الطھارة 96 (118)، القبلة 23 (775)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (543)، مسند احمد (4/358، 363، 364) (حسن)» ‏‏‏‏ (مؤلف کی سند سے حسن ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (387) ومسلم (272) وغيرهما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 155]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ (بریدہ بن حصیب) راوی ہیں کہ نجاشی (والی حبشہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیاہ رنگ کے دو سادہ موزے ہدیہ بھجوائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا تو ان پر مسح کیا۔ جناب مسدد نے (احمد بن شعیب کی روایت کے بالمقابل «حدثنا» کی بجائے «عن» سے روایت کی اور) «عن دلہم بن صالح» کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت اہل بصرہ کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 55 (2820)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (549)، مسند احمد (5/352، (تحفة الأشراف: 1956) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2820)،ابن ماجه (549)
دلھم: ضعيف (تقريب التهذيب: 1830)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرُوِيَ هَذَا أَيْضًا، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، وَلَيْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلَا بِالْقَوِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ:عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 159]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) وضو کیا تو اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن مہدی اس حدیث کو روایت نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف روایت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح کیا۔ مگر یہ نہ متصل ہے نہ قوی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے بھی جرابوں پر مسح کیا ہے اور یہی بات سیدنا عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 74 (99)، سنن النسائی/الطھارة 96 (123)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 88 (559)، (تحفة الأشراف: 11534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/252) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: پاؤں میں پہنا جانے والا لفافہ اگر سوتی یا اونی ہو تو اسے «جورب» ، نیچے چمڑا لگا ہو تو «منعل» اوپر نیچے دونوں طرف چمڑا ہو تو «مجلد» اور اگر سارا ہی چمڑے کا ہو تو اسے «خف» کہتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام شمار کر دئیے جو جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ علامہ دولابی نے کتاب الاسماء و الکنی میں نقل کیا ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی اون کی جرابوں پر مسح کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ ان پر بھی مسح کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ «خفان» ہیں یعنی موزے ہی ہیں اگرچہ اون کے ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے صالح بن محمد ترمذی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے ابومقاتل سمرقندی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں حاضر ہوا، انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، جرابیں پہن رکھی تھیں، تو اپنی جرابوں پر مسح کیا اور کہا: میں نے آج ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہ کرتا تھا۔ میں نے غیر «منعل» جرابوں پر مسح کیا ہے۔ (یعنی ان پر چمڑا نہیں لگا ہوا تھا) تفصیل دیکھیں ( «تعلیق جامع ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر، باب ما جاء فی المسح علی الجوربین والنعلین» )
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (99)،ابن ماجه (559)
سفيان الثوري مدلس (تقدم: 130) وعنعن ومع ذلك قال الترمذي: ’’حسن صحيح‘‘
والمسح علي الجوربين ثابت بإجماع الصحابة،انظر الأوسط لابن المنذر (1/ 464،465) والمغني لابن قدامة (1/ 181 مسئلة: 426) والمحلي لابن حزم (87/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: ذَكَرَهُ أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے «على ظهر الخفين‏.‏» (موزوں کی پشت پر) مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 161]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ محمد بن صباح کے علاوہ (دوسرے مشائخ) نے کہا کہ آپ نے موزوں کی پشت (یعنی پاؤں کی اوپر والی جانب) پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 149، سنن الترمذی/الطہارة 73 (98)، (تحفة الأشراف: 11512) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (522)
قال الذهبي في عبدالرحمٰن بن ابي الزناد: ’’حديثه من قبيل الحسن‘‘ (سير اعلام النبلاء: 8/ 168، 169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 162]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر دین رائے اور قیاس پر مبنی ہوتا تو موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے کی بہ نسبت مسح کا زیادہ مستحق ہوتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں کے اوپر ہی مسح کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، سنن الدارمی/ الطھارة 43 (742) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں