🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
153. باب : ذكر عدد غسل اليدين قبل إدخالهما الإناء
باب: دونوں ہاتھ برتن میں ڈالنے سے پہلے انہیں کتنی بار دھویا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 245]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرم گاہ دھوتے، پھر اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک کو صاف کرتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وُضِعَ لَهُ الْإِنَاءُ، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، حَتَّى إِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ صَبَّ بِالْيُمْنَى وَغَسَلَ فَرْجَهُ بِالْيُسْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ صَبَّ بِالْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر (پانی) بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 244]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو آپ کے لیے برتن رکھا جاتا، آپ ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے ان پر پانی بہاتے۔ جب ہاتھ دھو لیتے تو پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالتے، پھر دائیں سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرم گاہ دھوتے۔ جب اس سے فارغ ہوتے تو دائیں ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈال کر دونوں ہاتھوں کو دھوتے، پھر تین دفعہ کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ دونوں ہاتھ بھر کر پانی ڈالتے، پھر (باقی) جسم پر بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، 15 (272)، صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (242)، سنن الترمذی/الطھارة 76 (103)، مسند احمد 6/ 96، 115، 143، 161، 173، موطا امام مالک/الطھارة 17 (67)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 245، 246، 247 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قال: أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَيَغْسِلُهُمَا، ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (پانی کا) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 246]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برتن لایا جاتا، آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی بہاتے، پھر انہیں دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ اور رانوں پر جو کچھ ہوتا اسے دھوتے، پھر اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک کو خوب اچھی طرح صاف کرتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر باقی سارے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 244، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ:" كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، قَالَ عُمَرُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے (عطا بن سائب) کہا: آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 247]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غسلِ جنابت بیان فرمایا، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پر تین دفعہ پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ اور دوسری لگی ہوئی رطوبت دھوتے، (راویٔ حدیث) عمر بن عبید کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق انھوں (استاذ) نے یہی کہا: پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر تین دفعہ کلی فرماتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھا کر اسے صاف کرتے، پھر اپنا چہرہ اور دونوں بازو تین دفعہ دھوتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی بہاتے، پھر اپنے (سارے جسم) پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 244، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الاسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہاتھ دو بار دھوئے، ایک تو شروع میں دوسرے نجاست صاف کرنے کے بعد۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 248]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر وضو فرماتے جس طرح نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے اور ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، (تحفة الأشراف: 17164)، موطا امام مالک/الطہارة 17 (67)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ كَانَ" يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کی بابت بیان کیا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور وضو فرماتے اور اپنے سر کے بالوں میں (گیلی) انگلیاں پھیرتے تھے (حتیٰ کہ بال گیلے ہو جاتے)، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17331)، مسند احمد 6/52، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) اپنے سر کے بالوں کو خلال سے اچھی طرح تر کر لیتے تھے، پھر سر پر تین چلو (پانی) ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16937)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 76 (104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 254
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قالت: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے لیے پانی قریب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو دو یا تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے زور سے رگڑا، پھر نماز والا وضو کیا، پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھ بھر بھر کر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے باقی (سارے) جسم کو دھویا، پھر اس جگہ سے ایک طرف ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (245)، سنن الترمذی/فیہ 76 (103)، سنن ابن ماجہ/فیہ 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/329، 330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (738)، 67 (774)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 408، 418، 419، 428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، قَالَتْ: هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور (وضو سے پہلے) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی (آپ کے) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 418]
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نماز والا وضو فرمایا مگر پاؤں نہ دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ اور لگ جانے والی آلودگی کو دھویا، پھر جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے پاؤں ایک طرف کر کے دھوئے۔ انہوں نے یہ فرمایا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَمْسَحُهَا ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ".
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 419]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو سب سے پہلے ہاتھ دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ دھوتے، پھر اپنا (بایاں) ہاتھ زمین پر مارتے، پھر اسے ملتے، پھر اس کو دھوتے، اس کے بعد اپنا نماز والا وضو فرماتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر ایک طرف کو ہوجاتے اور اپنے پاؤں دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 420
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 420]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو ہاتھ دھوتے، پھر نماز والا وضو فرماتے، پھر غسل شروع فرماتے، پھر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو تر کرکے اپنے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوجاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا چمڑا تر کرلیا ہے تو تین دفعہ پانی بہاتے، اس کے بعد باقی جسم دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل15(272)، (تحفة الأشراف 16969) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 422
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَاتَّسَقَتِ الْأَحَادِيثُ عَلَى هَذَا:" يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَيَصُبُّ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُ مَا هُنَالِكَ حَتَّى يُنْقِيَهُ، ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى التُّرَابِ إِنْ شَاءَ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يُنْقِيَهَا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ وَيُمَضْمِضُ وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ رَأْسَهُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْهِ الْمَاءَ". فَهَكَذَا كَانَ غُسْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذُكِرَ.
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث (عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی) متفق ہو جاتی ہیں کہ آپ (غسل) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کر دیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کر لیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل (جنابت) ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 422]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا اور احادیث اس بیان پر متفق ہیں (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): سب سے پہلے اپنے دائیں ہاتھ پر دو یا تین دفعہ (براہ راست برتن سے) پانی ڈالے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالے اور بایاں شرم گاہ پر ہو، اس سے اس کی آلودگی دھوئے حتیٰ کہ اسے بالکل صاف کر دے، پھر اگر چاہے تو اپنا بایاں ہاتھ مٹی پر ملے، پھر بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کر لے، پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھوئے اور کلی اور استنشاق کرے اور چہرے اور بازوؤں کو تین دفعہ دھوئے حتیٰ کہ جب سر تک پہنچے تو مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی ڈالے۔ ایسے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل ذکر کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 8247، 17787) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 423
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُخَلِّلُ رَأْسَهُ بِأَصَابِعِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہو جاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 423]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو اپنے ہاتھ دھوتے، پھر نماز والا وضو فرماتے، پھر اپنے سر کے بالوں میں انگلیاں تر کرکے داخل کرتے حتیٰ کہ جب سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا چمڑا اچھی طرح تر کرلیا ہے تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر سارا جسم دھوتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، (تحفة الأشراف 17108) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوِ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 424]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو اونٹنی کے دودھ والے برتن جیسا کوئی برتن منگواتے، پھر اپنی ہتھیلی میں پانی لیتے، پہلے سر کی دائیں جانب ڈال لیتے، پھر بائیں جانب، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لیتے اور اپنے سر پر ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 6 (258)، صحیح مسلم/الحیض 9 (318)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (240)، (تحفة الأشراف 17447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «حلاب» بروزن کتاب ایک برتن ہے جس میں دودھ دوہا جاتا ہے، خطابی نے کہا: «حلاب» وہ برتن ہے جس میں ایک اونٹنی کا دودھ سما جائے، یہی مشہو رہے، زہری نے کہا: «جُلاب» جیم معجمہ کے ضمہ اور لام کی تشدید کے ساتھ اس سے مراد گلاب ہے یعنی سر میں خوشبو لانے کے لیے آپ گلاب منگواتے، امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے یہی معنی مطابقت رکھتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ حائے مہملہ کے کسرہ کے ساتھ «حلاب» ہے جس کے معنی طرف کے ہیں مراد خوشبو کا طرف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 426]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 4 (255)، (تحفة الأشراف 2642)، مسند احمد 3/298، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 11 (329)، نحوہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 428]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسلِ جنابت فرمایا، چنانچہ آپ نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور اپنا ہاتھ زمین یا دیوار پر ملا، پھر نماز والا وضو فرمایا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہایا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں