مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38853 ترقیم الشثری: -- 40498
٤٠٤٩٨ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن حميد بن هلال قال: قال ابو ذر لعثمان: لو امرتني (ان) (١) اتعلق بعروة قتب، لتعلقت (بها) (٢) ابدا ⦗٤٣٧⦘ حتى (اموت) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: (بهذا).
(٣) في [هـ]: (أمرت).
(٤) منقطع؛ حميد لم يدرك أبا ذر، وأخرجه عبد الرزاق (٢٠٦٩٠).
حمیدبن ہلال سے منقول ہے کہ ابو ذر نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کجاوے کے حلقے کے ساتھ اپنے آپ کو معلق کرلوں اور پھر اسی سے بندھا رہوں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے (یعنی میں آپ کی ہر طرح اطاعت کے لیے تیار ہوں) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40498]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40498، ترقيم محمد عوامة 38853)
ترقیم عوامۃ: 38854 ترقیم الشثری: -- 40499
٤٠٤٩٩ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى عن ابن الحنفية قال: قال علي: لو سيرني عثمان إلى صرار (لسمعت) (١) له واطعت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سمعت).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٠٩١)، ونعيم (٢٠٨)، والخلال (٤١٦)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٦١.
ابن حنفیہ سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر حضرت عثمان مجھے اس گروہ (بلوائیوں) کی طرف جانے کا حکم دیتے تو میں ان کے اس حکم کو سنتا اور اطاعت کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40499]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40499، ترقيم محمد عوامة 38854)
ترقیم عوامۃ: 38855 ترقیم الشثری: -- 40500
٤٠٥٠٠ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ميمون بن مهران عن عبد الله بن سيدان عن ابي ذر قال: لو امرني عثمان ان امشي على راسي لمشيت (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن سيدان.
حضرت ابو ذر نے فرمایا کہ اگر حضرت عثمان مجھے حکم دیتے کہ میں سر کے بل چلوں تو میں ضرور چلتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40500]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40500، ترقيم محمد عوامة 38855)
ترقیم عوامۃ: 38856 ترقیم الشثری: -- 40501
٤٠٥٠١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ابي إسحاق عن عبيد بن عمرو (الخارفي) (١) قال: كنت احد النفر (الذين) (٢) قدموا فنزلوا بذي المروة، (فارسلونا) (٣) إلى نفر من اصحاب محمد ﷺ (٤) وازواجه نسالهم: انقدم او نرجع؟ وقيل لنا؟ اجعلوا عليا آخر من (تسالون) (٥) ، قال: فسالناهم فكلهم امر بالقدوم فاتينا عليا فسالناه فقال: سالتم احدا قبلي؟ قلنا: نعم، قال: فما امروكم ⦗٤٣٨⦘ به؟ (قلنا) (٦) : امرونا بالقدوم، قال: لكني لا آمركم، (اما لا) (٧) بيض (فليفرخ) (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الحارثي)، وفي [س، هـ]: (الخارقي).
(٢) في [ع]: (الذي).
(٣) في [جـ]: (مال سلونا).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ط، هـ]: (تسألون)، وفي [ع]: (تصلون).
(٦) في [ع]: (قال).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) أي: إن تقتلوه تهيجوا فتنة يتولد منه شر كبير، انظر: النهاية ٣/ ٤٢٤، الفائق ٣/ ١٠٩، ولسان العرب ٣/ ٤٢، وغريب الحديث للخطابي ٢/ ٢٠٣.
(٩) مجهول؛ عبيد بن عمرو اختلف في اسمه كثيرًا، لم يرو عنه إلا أبو إسحاق وهو مترجم في التهذيب باسم: (أبي المغيرة البجلي)، والخبر أخرجه الخطابي في غريب الحديث ٢/ ٢٠٤.
عبید بن عمرو خارفی سے منقول ہے کہ جو لوگ مدینہ آئے تھے ان میں سے میں بھی ایک تھا پس یہ قافلہ ذی مروہ میں ٹھہرا۔ قافلے والوں نے ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج مطہرات g کے پاس بھیجا کہ ہم ان سے یہ سوال کریں کہ ہم مدینہ آجائیں یا لوٹ جائیں اور ہم کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سب سے آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرنا ہے۔ پس ہم نے ان سے بات کی اور سوال کیا آنے یا واپس لوٹنے کے بارے میں۔ انہوں نے آنے کا مشورہ دیا پھر ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر ان سے سوال کیا تو انہوں نے پوچھا کیا تم لوگوں نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے یہ سوال کیا تو ہم نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا انہوں نے کیا حکم دیا ہے؟ ہم نے کہا آنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا یہ معاملہ ایسا ہے کہ اسکا انجام جلد ظاہر ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40501]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40501، ترقيم محمد عوامة 38856)
ترقیم عوامۃ: 38857 ترقیم الشثری: -- 40502
٤٠٥٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني رجل من اصحاب (الآجر) (١) (عن) (٢) شيخين من بني ثعلبة رجل وامراته قالا: قدمنا الربذة فمررنا برجل ابيض الراس واللحية اشعث، فقيل له: هذا من (اصحاب) (٣) رسول الله ﷺ (٤) ، وقد فعل بك هذا الرجل وفعل، فهل انت ناصب لنا راية (فناتيك) (٥) برجال ما شئت، فقال: يا اهل الإسلام! لا ترضوا علي اذاكم، لا تذلوا السلطان، فإنه من اذل السلطان اذله الله، والله (ان) (٦) لو صلبني عثمان على اطول (حبل) (٧) او اطول خشبة لسمعت واطعت وصبرت واحتسبت ورايت ان ذلك خير لي، ولو ⦗٤٣٩⦘ (سيرني) (٨) ما بين الافق إلى الافق، او (ما) (٩) بين المشرق إلى المغرب، لسمعت واطعت وصبرت واحتسبت ورايت ان ذلك خير لي (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الآخر)، وفي [هـ]: (الأخرس).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [جـ، س، ع].
(٤) في المراجع زيادة: (فأستاذناه أن نغسل رأسه فأذن لنا واستأنس بنا، فبينا نحن كذلك إذ أتاه نفر من أهل العراق فقالوا: يا أبا ذر: فعل بك هذا الرجل).
(٥) في [أ، ب]: (ونأتيك).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [س]: (جبل).
(٨) في [ع]: (سرني).
(٩) سقط من: [س، هـ].
(١٠) مجهول؛ لإبهام بعض رواته، أخرجه سعد ٤/ ٢٢٤، وابن عساكر ٦٦/ ٢٠١، وانظر: تاريخ الإسلام ٣/ ٤١٣، وسير أعلام النبلاء ٢/ ٧١.
آجر کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی سے منقول ہے وہ بنی ثعلبہ کے دو بوڑھوں سے روایت کرتا ہے یعنی ایک مرددوسری عورت دونوں کہتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام کے پاس سے گزرے وہاں ہم نے ایک سفید داڑھی اور سفید سر والے پراگندہ حال شخص کو دیکھا پس کہا گیا کہ یہ صحابی رسول ہیں (ایک وفد آیا اس نے حضرت ابو ذر کی حالت بہتر دیکھ کر کہا) یہ سلوک اس شخص نے کیا ہے؟ کیا آپ ہمارے لیے جھنڈا نصب کریں گے تا کہ آپ کے پاس لوگ آپ کی مدد کے لیے آئیں اگر آپ چاہیں تو انہوں نے کہا کہ اے لوگو! اپنی اذیت کو میرے اوپر پیش نہ کرو اور نہ امرا کو رسوا کرو کیونکہ جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے بھی ذلیل کرے گا۔ اللہ کی قسم اگر حضرت عثمان مجھے سب سے اونچے پہاڑ یا لکڑی پر سولی چڑھانا چاہیں تو میں ان کے اس حکم کی بھی اطاعت کروں گا اور اس پر صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا اور اس کو اپنے لیے باعث خیر جانوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک افق سے دوسرے افق تک چلنے کا حکم دیں یا مشرق سے مغرب تک چلنے کا حکم دیں تو ضرور اطاعت کروں گا اور صبر کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40502]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40502، ترقيم محمد عوامة 38857)
ترقیم عوامۃ: 38858 ترقیم الشثری: -- 40503
٤٠٥٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم قال: سمعت ابا وائل يقول: لما قتل عثمان قال ابو موسى: إن هذه الفتنة فتنة باقرة كداء البطن، لا ندري انى (تؤتى) (١) تاتيكم (من) (٢) مامنكم وتدع الحليم كانه ابن امس، قطعوا ارحامكم وانتصلوا رماحكم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يؤتى).
(٢) في [س، ع]: (عن).
(٣) ضعيف؛ لضعف عاصم في أبي وائل، وأخرجه نعيم (١٢٢)، وابن قتيبة في غريب الحديث ٢/ ٦٩، وابن عساكر ٣٢/ ٩١، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات (٨٧٤).
ابو وائل کہتے ہیں کہ جب عثمان کو شہید کیا گیا تو ابو موسیٰ نے فرمایا کہ بیشک یہ فتنہ پیٹ پھاڑنے والا ہے، پیٹ کی بیماری کی طرح ہم نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے۔ تمہارے پاس یہ تمہارے امن کی جگہ سے آیا ہے۔ بردبار انسان کو گزشتہ کل کے بچے کی طرح بناڈالے گا تم قطع رحمی کرو گے اور ایک دوسرے پر نیزوں کے وار کرو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40503]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40503، ترقيم محمد عوامة 38858)
ترقیم عوامۃ: 38859 ترقیم الشثری: -- 40504
٤٠٥٠٤ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن زيد بن علي قال: كان زيد بن ثابت ممن بكى على عثمان يوم الدار (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (قطر).
(٢) منقطع؛ زيد بن علي لم يدرك ذلك، أخرجه الآجري في الشريعة (١٤٣٦)، والخلال في السنة (٤٣٦).
زید بن علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت عثمان پر روئے تھے ان کے محاصرے کے دن۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40504]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40504، ترقيم محمد عوامة 38859)
ترقیم عوامۃ: 38860 ترقیم الشثری: -- 40505
٤٠٥٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابو (عبيدة) (٢) الناجي عن الحسن قال: اتت الانصار عثمان فقالوا: يا امير المؤمنين! (ننصر) (٣) الله مرتين، ⦗٤٤٠⦘ نصرنا رسول الله ﷺ (٤) (وننصرك) (٥) قال: لا حاجة (لي) (٦) في (ذلك) (٧) ارجعوا (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنا)، وسقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ]: (عبدة).
(٣) في [ب]: (ينصر).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ب]: (وينصرك).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [هـ]: (ذاك).
(٨) ضعيف جدًا، أبو عبيدة الناجي منكر.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ انصار حضرت عثمان کی خدمت حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ہم نے اللہ کی دو (اللہ کے راستے میں دو دفع اڑے) دفعہ مدد کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی مدد کی ہم آپ کی بھی مدد کریں گے تو انہوں نے کہا اس کی ضرورت نہیں تم لوٹ جاؤ۔ حضرت حسن فرماتے تھے اللہ کی قسم اگر انصار اپنے کمزوروں کے ذریعے بھی ان کو روکنے کا ارادہ کرتے تو آسانی سے ان کو (باغیوں) کو روک دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40505]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40505، ترقيم محمد عوامة 38860)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40506
٤٠٥٠٦ - (١) قال الحسن: والله لو ارادوا ان يمنعوه بارديتهم لمنعوه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (و).
(٢) أخرجه ابن شبه (٢٢٨٤).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40506، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38861 ترقیم الشثری: -- 40507
٤٠٥٠٧ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن ابي صالح قال: قال عبد الله بن سلام لما حصر عثمان في الدار (١) : لا تقتلوه فإنه لم (يبق) (٢) من اجله إلا (قليل) (٣) والله لئن قتلتموه لا (تصلوا) (٤) جميعا ابدا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (قال).
(٢) في [ب]: (تبق).
(٣) في [ع]: (القليل).
(٤) في [س]: (تقتلوا)، وفي [ط]: (تقاتلوا).
(٥) صحيح؛ سمع أبو صالح من عبد اللَّه بن سلام كما عند نعيم، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٦٩)، ونعيم في الفتن (٤٣٧)، والحلال في السنة (٤٣٩).
ابو صالح سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا تم حضرت عثمان کو قتل نہ کرو کیونکہ ان کی زندگی بہت کم باقی ہے اللہ کی قسم اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو پھر کبھی سب مل کر اکٹھے نماز ادا نہ کرسکو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40507]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40507، ترقيم محمد عوامة 38861)