🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. بَابُ مَا رُوِيَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ»
باب: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان منقول ہے: ”دونوں کان سر کا حصہ ہیں“
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 355 ترقیم الرسالہ : -- 360
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، نا أَبُو مُسْلِمٍ ، ثنا أَبُو عُمَرَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . أَسْنَدَهُ هَؤُلاءِ عَنْ حَمَّادٍ، وَخَالَفَهُمْ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ حَافِظٌ.
ایک اور سند کے ہمراہ یہ بات منقول ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ راویوں نے حماد نامی راوی کے حوالے سے اسے اسی طرح نقل کیا ہے، تاہم سلیمان بن حرب نامی راوی نے مختلف بات نقل کی ہے۔ یہ صاحب ثقہ ہیں اور حافظ ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 360]
ترقیم العلمیہ: 355
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده حسن، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 134، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 37، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 444، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 312، 313، 314، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 357، 358، 359، 360، 361، 364، 365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22647»
«حسن، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 18) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 356 ترقیم الرسالہ : -- 361
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّهُ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَاقَيْهِ بِالْمَاءِ" . قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ، إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ أَبِي أُمَامَةَ، فَمَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَقَدْ بَدَّلَ، أَوْ كَلِمَةً قَالَهَا سُلَيْمَانُ أَيْ أَخْطَأَ. خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، رَوَاهُ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا تَوَضَّأَ غَسَلَ مَاقَيْهِ بِإِصْبَعَيْهِ"، وَلَمْ يَذْكُرِ الأُذُنَيْنِ.
شہر بن حوشب نامی راوی نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ بیان کیا تو یہ بات بیان کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو پانی کے ذریعے اپنی آنکھوں کے کناروں کا مسح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بیان کی ہے: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ سلیمان بن حرب نے یہ بات بیان کی ہے: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ یہ بات سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا ہے (یعنی اس کو حدیث قرار دیتا ہے) تو اس نے تبدیلی کی۔ یہاں پر سلیمان نامی راوی نے کوئی اور بات کہی تھی، جس کا مطلب یہی تھا: اس نے غلطی کی ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اس سے مختلف بات نقل کی ہے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو آپ اپنی انگلیوں کے ذریعے دونوں آنکھوں کے گوشوں کو دھویا کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے اس روایت میں دونوں کانوں کا تذکرہ نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 361]
ترقیم العلمیہ: 356
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 134، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 37، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 444، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 312، 313، 314، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 357، 358، 359، 360، 361، 364، 365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22647»
«وقال الدارقطني: هذا مرسل وروي عنه متصلا عن أبى أمامة عن النبى صلى الله عليه وسلم ولا يصح وأبو بكر بن أبى مريم ضعيف، سنن الدارقطني:، 363»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 356M ترقیم الرسالہ : -- 362
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: سَأَلْتُ مُوسَى بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ فِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَشَهْرٌ ضَعِيفُ، وَالْحَدِيثِ فِي رَفْعِهِ شَكٌّ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ أَبِي: سِنَانِ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو رَبِيعَةَ، مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ.
دعلج بن احمد بیان کرتے ہیں: میں نے موسیٰ بن ہارون سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور شہر نامی راوی ضعیف ہے اور اس حدیث کے ’مرفوع‘ ہونے کے بارے میں شک پایا جاتا ہے۔‘ ابن ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: ابوربیعہ سنان بن ربیعہ نامی راوی حدیث نقل کرنے میں اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 362]
ترقیم العلمیہ: 356M
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 134، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 37، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 444، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 312، 313، 314، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 357، 358، 359، 360، 361، 364، 365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22647»
«وقال الدارقطني: هذا مرسل وروي عنه متصلا عن أبى أمامة عن النبى صلى الله عليه وسلم ولا يصح وأبو بكر بن أبى مريم ضعيف، سنن الدارقطني:، 363»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 357 ترقیم الرسالہ : -- 363
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نا أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نا أَبُو حَيْوَةَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . هَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِيَ عَنْهُ مُتَّصِلا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يَصِحُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ.
سیدنا راشد بن سعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ یہ روایت مرسل ہے، اور یہ روایت متصل طور پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، لیکن یہ مستند نہیں ہے۔ اس روایت کا راوی ابوبکر بن مریم ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 363]
ترقیم العلمیہ: 357
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 363، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 358 ترقیم الرسالہ : -- 364
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَاشِدَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ.
راشد بن سعد، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 364]
ترقیم العلمیہ: 358
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 134، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 37، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 444، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 312، 313، 314، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 357، 358، 359، 360، 361، 364، 365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22647»
«وقال الدارقطني: هذا مرسل وروي عنه متصلا عن أبى أمامة عن النبى صلى الله عليه وسلم ولا يصح وأبو بكر بن أبى مريم ضعيف، سنن الدارقطني:، 363»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 359 ترقیم الرسالہ : -- 365
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالا: نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَابِرٍ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ اس روایت کا راوی جعفر بن زبیر متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 365]
ترقیم العلمیہ: 359
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 134، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 37، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 444، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 312، 313، 314، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 357، 358، 359، 360، 361، 364، 365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22647»
«وقال الدارقطني: هذا مرسل وروي عنه متصلا عن أبى أمامة عن النبى صلى الله عليه وسلم ولا يصح وأبو بكر بن أبى مريم ضعيف، سنن الدارقطني:، 363»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 360 ترقیم الرسالہ : -- 366
رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُرْجَانِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ ، نا عَفَّانُ بْنُ سَيَّارٍ ، نا عَبْدُ الْحَكَمِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ" . عَبْدُ الْحَكَمِ لا يُحْتَجُّ بِهِ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، مِنْ قَوْلِهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ. حَدَّثَنَا وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، مِنْ قَوْلِهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ اس روایت کے ایک راوی عبدحکم کو مستند نہیں سمجھا جاتا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 366]
ترقیم العلمیہ: 360
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 366»
«‏‏‏‏قال ابن حجر: عبد الحكم عن أنس وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 158)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 361 ترقیم الرسالہ : -- 367
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا يَزِيدُ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلِ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ:" وَاعْلَمُوا أَنَّ الأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ" .
عروہ بن قبیصہ نے ایک انصاری کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: تم لوگ یہ بات جان لو! دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 367]
ترقیم العلمیہ: 361
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 226، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 83، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 360، 1041، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 529، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 84، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 106، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 31، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 720، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 285، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 271، 308، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 35، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 407»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 362 ترقیم الرسالہ : -- 368
وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الأُذُنَيْنِ، فَقَالَتْ: مِنَ الرَّأْسِ، وَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ أُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا إِذَا تَوَضَّأَ" . الْيَمَانُ ضَعِيفٌ.
عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دونوں کانوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: یہ دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کانوں کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا وضو کرتے ہوئے مسح کیا کرتے تھے۔ اس روایت کا ایک راوی یمان ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 368]
ترقیم العلمیہ: 362
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 368»
«وقال الدارقطني: اليمان ضعيف، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: 441/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 363 ترقیم الرسالہ : -- 369
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا: نا زَائِدَةُ ، نا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ: جَلَسَ عَلِيُّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامِهِ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَطَسْتٍ وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا طَهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ" . وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمُ الْكَلِمَةَ، وَالشَّيْءَ وَالْمَعْنَى قَرِيبٌ.
عبدخیر بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد صحن میں آ کر بیٹھے، پھر آپ نے اپنے خادم سے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لے کر آؤ! خادم ایک برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، ساتھ ایک طشت لے آیا، ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہے تھے، انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر آپ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن کو پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا۔ عبدخیر نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہر مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہیں کیا، یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھو لیا تو پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور (اس کے ذریعے پانی لے کر) کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا دایاں بازو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس میں پانی بھر لیا، پھر اس میں جتنا بھی پانی تھا، اس پانی سمیت ہاتھ کو بلند کیا اور بائیں ہاتھ کے ذریعے اس ہاتھ کا مسح کیا اور پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اپنے بائیں پاؤں کے ذریعے تین مرتبہ اس کو دھویا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنی چلو میں تھوڑا سا پانی لے کر اسے پی لیا، پھر یہ ارشاد فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کو دیکھ سکے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ بعض راویوں نے اس کے بعض کلمات میں کمی و بیشی کی ہے، لیکن ان کا مفہوم قریب قریب ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 369]
ترقیم العلمیہ: 363
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5615، 5616، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 16، 147، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1056، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 91،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 44، 48،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 396، 404، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 298، 299، 300،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 939، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 593»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں