🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ
باب: ہدی کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2493 ترقیم الرسالہ : -- 2526
نا الْقَاضِي بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَتَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا، قَالَ: فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدَتِ الْبَدَنَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، وَقَالَتْ:" هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ" .
قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کرتے ہیں: وہ قربانی کے دو جانور ساتھ لے کر (حج کے لیے) آئی تھیں، وہ دونوں گم ہو گئے، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی جگہ دو مزید جانور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھجوائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو ذبح کروا دیا، اس کے بعد ان کے پہلے والے جانور بھی مل گئے، تو سیدہ عائشہ نے انہیں بھی ذبح کروا دیا اور یہ بتایا: قربانی کے جانوروں کے بارے میں سنت یہی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2526]
ترقیم العلمیہ: 2493
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2925، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19263، 19264، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2526»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2494 ترقیم الرسالہ : -- 2527
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ثُمَّ ضَلَّتْ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْبَدَلُ إِلا أَنْ يَشَاءَ، وَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص قربانی کا جانور لے کر جائے اور پھر وہ گم ہو جائے، تو اب اس پر اس کا بدل دینا لازم نہیں ہو گا، البتہ اگر وہ چاہے، تو ایسا کر سکتا ہے، یہ اس وقت ہے، جب وہ نفلی طور پر ہو، لیکن اگر وہ نذر کا جانور ہو، تو اب اس پر بدل دینا لازم ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2527]
ترقیم العلمیہ: 2494
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1418، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2579، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1647، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10366، 10367، 10368، 10369، 10370، 19261، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2527، 2528، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 13362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2495 ترقیم الرسالہ : -- 2528
نا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو زَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ثُمَّ عَطِبَتْ، فَإِنْ شَاءَ بَدَّلَ، وَإِنْ شَاءَ أَكَلَ، وَإِنْ كَانَ نَذْرًا فَلْيُبَدِّلْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص نفلی طور پر قربانی کا جانور بھیجے اور پھر وہ جانور (گم ہو جائے یا مر جائے)، تو اگر وہ شخص چاہے، تو اس کے بدلے میں دوسرا جانور دے، تو اگر وہ چاہے، تو اسے کھا لے، لیکن اگر وہ جانور نذر کا ہو، تو اب اسے بدلے میں دوسرا جانور دینا پڑے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2528]
ترقیم العلمیہ: 2495
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1418، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2579، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1647، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10366، 10367، 10368، 10369، 10370، 19261، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2527، 2528، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 13362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2496 ترقیم الرسالہ : -- 2529
نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ، يَعْنِي ابْنَ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاقَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً عَنْ سَبْعِمِائَةِ رَجُلٍ".
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم دونوں حضرات یہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر سات سو آدمیوں کی طرف سے ستر اونٹوں کی قربانی دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2529]
ترقیم العلمیہ: 2496
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2529»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2497 ترقیم الرسالہ : -- 2530
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: عید الاضحی کے موقع پر ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے قربان کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2530]
ترقیم العلمیہ: 2497
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2530، 2531، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10330»
«قال ابن عدي: وهذا الحديث لا يرويه عن عطاء بن السائب غير أبي الجمل هذا وأبو الجمل لا أعرف له كثير شيء، الكامل في الضعفاء: (2 / 18)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2498 ترقیم الرسالہ : -- 2531
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا محَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا زهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. أَيُّوبُ أَبُو الْجَمَلِ ضَعِيفٌ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ غَيْرُهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کا ایک راوی ایوب ابوجمل ضعیف ہے اور عطاء کے حوالے سے اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2531]
ترقیم العلمیہ: 2498
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2530، 2531، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10330»
«قال ابن عدي: وهذا الحديث لا يرويه عن عطاء بن السائب غير أبي الجمل هذا وأبو الجمل لا أعرف له كثير شيء، الكامل في الضعفاء: (2 / 18)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2499 ترقیم الرسالہ : -- 2532
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا أَبُو قِلابَةَ ، نا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ وَالْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت مقرر کی ہے: گائے اور اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیے جائیں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2532]
ترقیم العلمیہ: 2499
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2532، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14817»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2500 ترقیم الرسالہ : -- 2533
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالُوا: نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لِيَشْتَرِكِ النَّفْرُ فِي الْهَدْيِ". لَفْظُ ابْنِ مَهْدِيٍّ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹ قربانی کیے تھے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا، اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: چند لوگ مل کر ایک جانور قربان کر لیں۔ روایت کے یہ الفاظ ابن مہدی نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2533]
ترقیم العلمیہ: 2500
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1557، 1568، 1570، 1651، 1785، 2505، 4352، 7230، 7367، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1213، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 755، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 957، 2534، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1457، 3791، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1677، 1697، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1785، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 817، 856 وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1008، 1074، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2533، 2577، 2578، 2579، 2580، 2598، 2599، 2600، 2601، 2602، 2603، 2604، 2605، 2606، 2614، 2615، 2616، 2682، 2683، 2696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2501 ترقیم الرسالہ : -- 2534
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ ، نا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ نُسُكِهِ أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا" . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مناسک حج میں سے کوئی بات بھول جائے یا اسے ترک کر دے، تو اسے قربانی دینا ہو گی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2534]
ترقیم العلمیہ: 2501
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1583، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9016، 9792، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2534، 2535، 2536، 2538»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2502 ترقیم الرسالہ : -- 2535
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2535]
ترقیم العلمیہ: 2502
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1583، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9016، 9792، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2534، 2535، 2536، 2538»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں