🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. فِدْيَةُ مَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ
باب: محرم کے فدیے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2516 ترقیم الرسالہ : -- 2549
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَزِيعٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنِي الأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظَّبْيِ شَاةً، وَفِي الضَّبُعِ كَبْشًا، وَفِي الأَرْنَبِ عَنَاقًا، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةً" . فَقُلْتُ لابْنِ الزُّبَيْرِ: وَمَا الْجَفْرَةُ؟ قَالَ: الَّتِي قَدْ فُطِمَتْ وَرَعَتْ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: ایک بکری کی قربانی دینی ہو گی۔ گوہ کے بارے میں دنبے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا، خرگوش کے بارے میں بکری کے بچے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا اور یربوع کے بارے میں بکری کے بچے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن زبیر سے دریافت کیا: لفظ جفرہ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ بچہ، جس کا دودھ چھڑایا جا چکا ہو اور وہ چل سکتا ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2549]
ترقیم العلمیہ: 2516
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1562، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9987،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2546، 2549، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 203»
«وله شواهد من حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، فأما حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري،أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3801، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3085، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1984، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3964، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2646»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2517 ترقیم الرسالہ : -- 2550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَيْضِ نَعَامٍ أَصَابَهُ مُحْرِمٌ بِقَدْرِ ثَمَنِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شترمرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: اگر حالت احرام والا شخص اسے نقصان پہنچا دے، تو اسے اس کی قیمت کے مطابق تاوان ادا کرنا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2550]
ترقیم العلمیہ: 2517
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10136، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2550، 2551، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8302»
«قال ابن حجر: وحسين ضعيف ورواه ابن ماجه والدارقطني من حديث أبي المهزم وهو أضعف من حسين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 521)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2518 ترقیم الرسالہ : -- 2551
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2551]
ترقیم العلمیہ: 2518
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10136، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2550، 2551، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8302»
«قال ابن حجر: وحسين ضعيف ورواه ابن ماجه والدارقطني من حديث أبي المهزم وهو أضعف من حسين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 521)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2519 ترقیم الرسالہ : -- 2552
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ ، نا أَبِي ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلا كَانَ مُحْرِمًا عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَتَى عَلَى أُدْحِيِّ نَعَامَةٍ، فَأَصَابَ مِنْ بَيْضِهَا فَسَقَطَ فِي يَدَيْهِ، فَأَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَشْتَرِيَ بَنَاتِ مَخَاضٍ فَيَضْرِبُهُنَّ، فَمَا أَنْتَجَ مِنْهُنَّ أَهْدَاهُ إِلَى الْبَيْتِ وَمَا لَمْ يُنْتِجْ مِنْهُنَّ أَجْزَأَ عَنْهُ، لأَنَّ الْبِيضَ مِنْهُ مَا يَصْلُحُ وَمِنْهُ مَا يَفْسُدُ، قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا أَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَالَ عَلِيُّ مَا قَالَ، فَهَلْ لَكَ فِي الرُّخْصَةِ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ فِي كُلِّ بَيْضَةِ نَعَامٍ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ أَوْ صَوْمُ يَوْمٍ" .
معاویہ بن قرہ ایک انصاری بزرگ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں اپنی سواری پر جا رہا تھا، وہ شترمرغ کے گھونسلے کے پاس پہنچا، اس نے وہاں سے انڈا لیا، جو اس کے ہاتھ سے گر گیا، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ بنات مخاض خریدے گا، انہیں جفتی کے لیے دے گا، پھر وہ جو بچوں کو جنم دیں گی، وہ شخص ان بچوں کو بیت اللہ کے لیے ہدیہ کر دے گا، اور اگر ان اونٹنیوں نے کسی بچے کو جنم نہ دیا، تو بھی اس شخص کا کفارہ ادا ہو جائے گا، کیونکہ بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نکل آتا ہے اور بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نہیں نکلتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اسے فتویٰ دیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی نے تو جو کہنا تھا، سو کہہ دیا، کیا تم کچھ رخصت حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک انڈے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلانا یا ایک دن کا روزہ رکھنا (کفارہ) ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2552]
ترقیم العلمیہ: 2519
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2520 ترقیم الرسالہ : -- 2553
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ ، نا شبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2553]
ترقیم العلمیہ: 2520
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2521 ترقیم الرسالہ : -- 2554
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ ، نا يَزِيدُ ، أنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ایک انصاری صحابی سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2554]
ترقیم العلمیہ: 2521
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2522 ترقیم الرسالہ : -- 2555
وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَأَتَى عَلِيًّا يَذْكُرُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضَرَبْتَ نَاقَةٌ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ:" قَدْ قَالَ عَلِيُّ فِيهَا مَا قَالَ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ" .
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا دے دیا، وہ شخص حالت احرام میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس کی بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو (جفتی کے لیے) دینا ہو گا یا ایک اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچہ دینا ہو گا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی نے تو اس بارے میں جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا ہے، لیکن تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ہر ایک انڈے کے عوض تم پر ایک دن کا روزہ رکھنا لازم ہو گا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2555]
ترقیم العلمیہ: 2522
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2523 ترقیم الرسالہ : -- 2556
نا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَحَامِلِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ، فَسَأَلَ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ، أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ:" قَدْ قَالَ مَا سَمِعْتَ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ: عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ" .
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا توڑ دیا، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو جفتی کے لیے دینا ہو گا یا اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچے کی ادائیگی کرنی ہو گی۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے جو کہا، وہ تم نے سن لیا، تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک دن کا روزہ رکھنا ہو گا اور ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2556]
ترقیم العلمیہ: 2523
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2524 ترقیم الرسالہ : -- 2557
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: شترمرغ کے ایک انڈے کے عوض (کفارے میں) ایک دن روزہ رکھنا ہو گا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2557]
ترقیم العلمیہ: 2524
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10132، 10133، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2557، 2558، 2559، 2560، 2561، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15443، 15444، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6804، وأبو داود فى "المراسيل"، 138»
«ليس بصحيح عندي ولم يسمع ابن جريج من أبي الزناد شيئا يشبه أن يكون ابن جريج أخذه من إبراهيم بن أبي يحيى، علل الحديث: (3 / 194)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2525 ترقیم الرسالہ : -- 2558
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2558]
ترقیم العلمیہ: 2525
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10132، 10133، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2557، 2558، 2559، 2560، 2561، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15443، 15444، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6804، وأبو داود فى "المراسيل"، 138»
«ليس بصحيح عندي ولم يسمع ابن جريج من أبي الزناد شيئا يشبه أن يكون ابن جريج أخذه من إبراهيم بن أبي يحيى، علل الحديث: (3 / 194)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں