صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 848 ترقیم شاملہ: -- 1961
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ "، قَالَ طَاوُسٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ.
روح بن عباوہ اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ طاوس نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: میں یہ بات نہیں جانتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1961]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا، طاؤس کہتے ہیں: ”میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا، وہ خوشبو یا تیل استعمال کرے اگر اس کے گھر میں موجود ہو؟ انہوں نے جواب دیا، میرے علم میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 848 ترقیم شاملہ: -- 1962
وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
محمد بن بکر اور ضحاک بن مخلد دونوں نے بن جریج سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1962]
مصنف نے مذکورہ بالا حدیث ایک دوسری سند سے بھی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 849 ترقیم شاملہ: -- 1963
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ ".
طاوس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں (کم سے کم) ایک بار نہائے اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1963]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہر ہفتہ میں ایک بار نہائے، اپنے سر اور اپنے جسم کو دھوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1963]
ترقیم فوادعبدالباقی: 849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 850 ترقیم شاملہ: -- 1964
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
ابوصالح سمنان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن غسل جنابت (جیسا غسل) کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک مرغ اللہ کے تقرب کے لیے پیش کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا تقرب کے لیے پیش کیا اس کے بعد جب امام آ جاتا ہے تو فرشتے ذکر (عبادت اور امور خیر کی یاد دہانی) سنتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1964]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گو یا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا ایک مرغ قربان کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا صدقہ کیا کیونکہ جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ (یادہانی)سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب فِي الإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ:
باب: جمعہ کے دن خطبہ میں خاموش رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 851 ترقیم شاملہ: -- 1965
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ ".
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر نے حدیث بیان کی، ابن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے عقیل بن خالد سے خبر دی انہوں نے بن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو (اس وقت) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو تو تم نے فضول گوئی کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1965]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہا، چپ رہ، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے، تو تو نے لغو (بے جا) کام کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 851 ترقیم شاملہ: -- 1966
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَعَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
عبدالملک بن شعیب بن لیث نے کہا: مجھ سے میرے والد شعیب نے میرے دادا لیث سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھ سے عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ سے روایت کی نیز انہوں نے (ابن شہاب زہری) نے ابن مسیب سے بھی روایت کی ان دونوں (عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب) نے ان (بن شہاب) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔۔۔ (آگے اسی سند حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1966]
امام صاحب ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 851 ترقیم شاملہ: -- 1967
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ.
ابن جریج نے کہا: ابن شہاب نے مجھے اس حدیث کی دونوں سندوں کے ساتھ اس حدیث میں اسی کے مانند خبر دی البتہ ابن جریج نے (عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کے بجائے) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہا ہے۔ (امام مسلم نے نام کی درستی کے لیے یہ سند بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1967]
امام صاحب ایک اورسند سے یہی روایت بیان کرتےہیں، سند کے ایک راوی کے نام میں تھوڑا سا فرق ہے، کہ اس سے پہلی روایت میں عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہا گیا تھا اور اس میں ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ آیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 851 ترقیم شاملہ: -- 1968
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغِيتَ ". قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ فَقَدْ لَغَوْتَ.
ابوزناد نے عرج سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو (اس وقت) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو تو تم نے (خود) شور مچایا۔“ ابوزناد نے کہا: یہ (فقد لغیت) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (کے قبیلے) کی لغت ہے جبکہ (عام مروج لغت) (فقد لغوت) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1968]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے، کہا، چپ رہ تو تو نے بے جا اور غلط کام کیا۔“ ابوزناد کہتے ہیں، اصل لغت، ”فَقَدْ لَغَوْتَ“ ہے لیکن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لغت، ”فَقَدْ لَغِيتَ“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1969
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: " فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ". زَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا.
یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس انہوں نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس میں ایک گھڑی ہے اس (گھڑی) کی موافقت کرتے ہوئے کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دیتا ہے۔“ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما کر اس گھڑی کے قلیل ہونے کو واضح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1969]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا ذکر کرتے ہو ئے فرمایا: ”اس میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان بندہ نماز کی حالت میں پا لے وہ اللہ تعالی سے جو کچھ بھی مانگے گا اس کو مل جائے گا۔“ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس ساعت کی قلت کو بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 852 ترقیم شاملہ: -- 1970
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَال أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ "، وَقَالَ: بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا.
ایوب نے محمد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جمعے کے دن میں ایک گھڑی ہے کوئی مسلمان بھی کھڑا نماز پڑھتے ہوئے اس کی موافقت کر لیتا (اسے پا لیتا) ہے (اور) اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی (خیر) عطا کر دیتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اس کے قلیل اور کم ہونے کو بیان کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں ایک گھڑی ہے جسے مسلمان نماز میں کھڑا پا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے جس خیر کا سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہی دے دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اس کی قلت اور تھوڑا ہونے کو بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة